قتل ناحق سنگین جرم ہے

Views: 44
Avantgardia

خون ناحق رحمت خداوندی سے محرومی کا سبب ہے
]۰۶۱[ (۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا:لَنْ یَّزَالَ الْمُؤْمِنُ فِی فُسْحَۃٍ مِنْ دِیْنِہِ مَا لَمْ یُصِبْ دَمًا حَرَامًا.
(بخاری:۲/۴۱۰۱؛رقم:۲۶۷۶، شعب الایمان:۴/۴۴۳؛رقم:۸۳۳۵، مشکوٰۃ:۹۹۲؛رقم:۷۴۴۳)
وَ فِی رِوَایَۃٍ عَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَّسُوْلِ اللہ ِاقَالَ:لَا یَزَالُ الْمُؤْمِنُ مُعْنِقًا صَالِحًا مَالَمْ یُصِبْ دَمًا حَرَامًا؛ فَاِذَا اَصَابَ دَمًا حَرَامًا بَلَّحَ. (ابوداؤد:۲/۷۸۵؛رقم:۰۷۲۴، مشکوٰۃ:۱۰۳)
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ: مومن ہمیشہ دینی کشادگی میں رہتا ہے، (یعنی انشراح صدر کے ساتھ دین کے کام کرتا رہتا ہے) جب تک کہ: ناحق کسی کا خون نہیں بہاتا ہے۔
(بخاری، شعب الایمان)
ایک حدیث میں حضرت ابو درداء ص سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایا کہ:مسلمان اُس وقت تک نیکی کی طرف بڑھتا رہتا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ اور اُس کے بندوں کے حقوق اداء کرتا رہتا ہے) جب تک کہ: وہ کسی کا ناحق خون نہیں بہاتا (کسی کو بے قصور قتل نہیں کرتا) اور جب ناحق کسی کا خون بہاتا (اور اُس کو مار ڈالتا ہے) تو وہ تھک جا تا ہے(اور نیک کام کی توفیق اُس سے چھین لی جاتی ہے)۔ (ابو داؤد)
ف:- یوں تو ہر گناہ انسان کی دینی اور اخلاقی زندگی کے زوال کا ذریعہ، اور غضب خداوندی کا باعث ہوتا ہے، مگر بے قصوروں کا قتل اتنا سنگین جرم ہے کہ: جب تک آدمی خون ناحق سے بچا رہتا ہے، رحمت خداوندی اُس کے ساتھ رہتی ہے، وہ مغفرت الٰہی کی وسعت کا امیدوار ہوتا ہے، اور اللہ کی طرف سے اُس کو برابر نیکی اور بھلائی کی توفیق ملتی رہتی ہے، لیکن جب وہ کسی کو ناحق قتل کر دیتا ہے تو اُس کا دل اُس کی نحوست سے سیاہ ہو جاتا ہے، اور اُس سے خیر و بھلائی کی توفیق چھین لی جاتی ہے۔ (اللھم احفظنا منہ)
مومن کی جان دنیا سے زیادہ قیمتی ہے
]۱۶۱[ (۲) عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا:”لَزَوَالُ الدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلٰی اللّٰہِ مِنْ سَفْکِ دَمِ اِمْرِیٍئ مَسْلِمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ“. (شعب الایمان:۴/۵۴۳؛رقم:۵۴۳۵، ابن ماجہ:۸۸۱؛رقم: ۹۱۶۲)
وَ فِی رِوَایَۃٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ النَّبِیَّا قَالَ:”لَزَوَالُ الدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلٰی اللّٰہِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ“
(ترمذی رشیدیہ:۱/۷۶۱؛رقم:۵۹۳۱، نسائی:۲/۲۶۱؛رقم:۲۹۹۳، مشکوٰۃ:۰۰۳؛ رقم:۲۶۴۳)
ترجمہ: حضرت براء بن عازب اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایا کہ: پوری دنیا کی تباہی اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کے نا حق قتل سے ہلکی ہے (یعنی مسلمان کا قتل اتنا بھاری گناہ ہے کہ: اُس سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی چیز نہیں ہے)۔ (شعب الایمان،ابن ماجہ، ترمذی، نسائی)
ف:- حق تعالیٰ شانہ نے پوری کائنات: زمین، آسمان، چاند، سورج، ستارے، جمادات و نباتات وغیرہ سب کچھ مسلمانوں کے لئے پیدا کی ہیں، تاکہ اہل ایمان رب کائنات کی بندگی کریں، اور دنیا کی چیزوں کو دیکھ کر حق تعالیٰ شانہ کی معرفت حاصل کریں، اور اُس کی قدرت کا یقین رکھیں، لہٰذا جس نے کسی مسلمان کو – جس کے لئے پوری دنیا پیدا کی گئی ہے – ناحق مارڈالا تو گویا اُس نے پوری دنیا کو ختم کر دیا، قرآن کریم میں اِسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے باری تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے: ”وَ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا“.(المائدہ: ۲۳) (جو کوئی کسی کو قتل کرے، جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لئے ہو؛نہ زمین پر کسی کے فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے اُس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا) آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ: ایک شخص کے خلاف قتل کا جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے، کیونکہ کوئی شخص کسی کو ناحق قتل اُسی وقت کرتا ہے، جب اُس کے دل سے انسان کے احترام کا احساس مٹ جاتا ہے، ایسی صورت میں اگر اُس کے فائدہ یاطبیعت یا انا اور دشمنی کا تقاضا ہوگا؛ تو وہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے نہیں چکے گا، اِس طرح پوری انسانیت اُس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی، اور جب اِس ذہنیت کا چلن عام ہو جائے گا، تو تمام انسان غیر محفوظ ہو جائیں گے، اِس لئے چاہے جس کو بھی ناحق قتل کیا گیا ہو، تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ: یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے، اور اِس کی روک تھام میں سب کو کمر بستہ ہو جا نا چاہئے۔ اللہ ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔
قیامت کے دن دربار الٰہی میں مقتول کی فریاد
]۲۶۱[ (۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُمَا قَالَ:یَجِیئُ الْمَقْتُوْلُ بِالْقَاتِلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ نَاصِیَتُہُ وَ رَأْسُہُ بِیَدِہِ، وَ اَوْدَاجُہُ تَشْخَبُ دَمًا، یَقُوْلُ: یَا رَبِّ! قَتَلَنِی حَتّٰی یُدْنِیَہُ مِنَ الْعَرْشِ.
(ترمذی فی التفسیر:۲/۷۲۱؛رقم: ۹۲۰۳، نسائی:۲/۳۶۱؛ رقم:۹۹۹۳، ابن ماجہ:۸۸۱؛رقم:۱۲۶۲، مشکوٰۃ: ۰۰۳؛ رقم:۵۶۴۳)
وَ فِی رِوَایَۃٍ عَنْ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ: حَدَّثَنِی فُلَانٌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یَجِیئُ الْمَقْتُوْلُ بِقَاتِلِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیَقُوْلُ: سَلْ ھٰذَا فِیْمَ قَتَلَنِی؟ فَیَقُوْلُ: قَتَلْتُہُ عَلٰی ”مُِلْکِ فُلَانٍ“ قَالَ جُنْدُبٌص: فَاتَّقِھَا.
(نسائی: ۲/۳۶۱؛ رقم: ۹۰۰۴، مشکوٰۃ:۲۰۳؛ رقم:۳۸۴۳)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھماسے روایت ہے کہ: قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو اِس طرح پکڑ کر لائے گا کہ: قاتل کی پیشانی اور اُس کا سر مقتول کے ہاتھ میں ہو گا، حال یہ ہوگا کہ: مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، اور وہ زبان سے کہہ رہا ہوگا کہ: پروردگار! اِس نے مجھے قتل کیا تھا (میری مدد فرما) یہاں تک کہ:مقتول اُس قاتل کو کھینچتا ہوا عرش الٰہی کے قریب تک لے آئے گا۔
(ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
ایک حدیث میں حضرت جندب ص سے روایت ہے کہ: مجھ سے فلاں صحابی نے بیان کیا کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایا کہ: مقتول قیامت کے دن اپنے قاتل کو اللہ جل شانہ کے حضور لے کر آئے گا، اور عرض کرے گا کہ: پروردگار! ذرا اِس سے پوچھئے کہ: مجھے کیوں قتل کیا تھا؟وہ جواب میں کہے گا کہ: فلاں کی حکومت کی خاطر قتل کیا تھا، (یہ ترجمہ مُلک بضم المیم کی صورت میں ہے، اگر مِلک بکسر المیم پڑھیں تو ترجمہ یہ ہوگا کہ: فلاں کی مملوکہ چیز کے سلسلے میں میرے اور اُن کے درمیان جھگڑا ہوا اِس لئے میں نے اُس کو قتل کر ڈالا تھا) پھر حضرت جندب صنے فرمایا کہ: (کسی کو قتل کرنے سے، یا کسی کی بے جا مدد کرنے سے، یا کسی اور کی چیز کے سلسلے میں ایسی لڑائی سے کہ: قتل کی نوبت آ جائے) بچنے کا اہتمام کرو۔ (نسائی)
دوسری حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ: اپنی یا کسی اور کی دنیا کے خاطر کسی کو قتل کرنے سے بچنے کا بے حد اہتمام کرناچاہئے، ورنہ قیامت کے دن کوئی جواب نہیں بن پائے گا،اور قتل کی سزا قاتل ہی کو بھگتنی پڑے گی، وہاں کوئی فلاں کام نہیں آئے گا۔
ف:- حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ: مقتول قیامت کے دن حق تعالیٰ شانہ سے اپنا پورا حق مانگے گا، اور اللہ جل شانہ اپنے عدل و انصاف کے ذریعے اُس کو مطمئن اور خوش کر دے گا۔
شارح مشکوٰۃ المصابیح علامہ طیبیؒ فرماتے ہیں کہ: حضرت جندب ص نے قتل یا بے جا مدد یا قتل تک پہنچانے والی لڑائی سے بچنے کی تاکید ایک ایسے شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمائی؛ جو اِن چیزوں کا ارادہ رکھتے تھے، اور اپنی بات کو مضبوط کرنے کے لئے دلیل کے طور پر یہ حدیث سنا کر فرمایا کہ: جب یہ حدیث سن لی تو اب قتل سے بچنے کا بے حد اہتمام کرو۔ و اللہ اعلم۔ (مرقاۃ فیصل:۷/۶۳)
تمام شرکائے قتل کو عذاب ہوگا
]۳۶۱[ (۴) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ وَ اَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُمَا عَنْ رَّسُوْلِ اللہ ِاقَالَ:”لَوْ اَنَّ اَھْلَ السَّمَاءِ وَ اَھْلَ الْاَرْضِ اِشْتَرَکُوْا فِی دَمِ مُؤْمِنٍ، لَاَکَبَّھُمُ اللّٰہُ فِی النَّارِ“.
(ترمذی:۱/۹۶۱؛رقم:۸۹۳۱، مشکوٰۃ:۰۰۳؛رقم:۴۶۴۳)
وَ فِی رِوَایَۃٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُمَا قَالَ: قُتِلَ بِالْمَدِیْنَۃِ قَتِیْلٌ عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّا لَمْ یُعْلَمْ مَنْ قَتَلَہُ، فَصَعِدَ النَّبِیُّ ا اَلْمِنْبَرَ، فَقَالَ: ”اَیُّھَا النَّاسُ! قُتِلَ قَتِیْلٌ وَ اَنَا فِیْکُمْ وَ لَا یُعْلَمُ مَنْ قَتَلَہُ؟ لَوِ اجْتَمَعَ اَھْلُ السَّمَاءِ وَ الْاَرْضِ عَلٰی قَتْلِ امْرِیئٍ؛لَعَذَّبَھُمُ اللّٰہُ، اِلَّا اَنْ یَّفَعَلَ مَا یَشَاءُ“. (شعب الایمان: ۴/۷۴۳؛رقم:۱۵۳۵)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ:حضور اقدس انے ارشاد فرمایا کہ:اگر بالفرض (خدا نخواستہ)آسمان و زمین والے سب کے سب کسی مومن کے قتل میں شریک ہوں،تو اللہ جل شانہ ان سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیں گے۔(ترمذی)
ایک حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ:مدینہ منورہ میں حضور اقدس اکے زمانے میں ایک شخص مارا گیا،جس کے قاتل کا کچھ پتہ نہیں چل سکا،تو آپ ا نے منبر پر سے تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:لوگو! میرے ہوتے ہوئے ایک شخص مارا جائے اور قاتل کا پتہ نہ چلے؟(کس قدر افسوس اور تعجب کی بات ہے،سنو!)اگر بالفرض(خدا نخواستہ)آسمان و زمین والے سب کے سب مل کر کسی مومن کو قتل کرڈالیں،تو اللہ سب کو سزا دیگا؛ہاں اگر اللہ کچھ اور کرنا چاہیں (کہ ا پنی طرف سے بدلا دے کر مقتول کو راضی کرلیں اور قاتلوں کو بخش دیں)تو پھر الگ بات ہے۔(شعب الایمان)

قتلِ ناحق، قاتل کو جنت میں جانے سے روک دے گا
]۴۶۱[ (۵) عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا:”مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ اَنْ لَّا یَحُوْلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجَنَّۃِ؛ مِلْءُ کَفٍّ مِنْ دَمِ امْرِیئٍ مُسْلِمٍ اَنْ یُّھْرِیْقَہُ کَاَنَّمَا یَذْبَحُ بِہِ دَجَاجَۃً، کُلَّمَا تَعْرِضُ لِبَابٍ مِّنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ حَالَ اللّٰہُ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَہٗ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ اَنْ لَا یَجْعَلَ فِی بَطْنِہِ اِلَّا طَیِّبًا؛ فَاِنَّ اَوَّلَ مَا یُنْتِنُ مِنَ الْاِنْسَانِ بَطْنُہُ“.
(شعب الایمان:۴/۷۴۳؛رقم:۰۵۳۵)
ترجمہ: حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ:جو شخص ایسا کر سکتا ہو کہ: اُس کے اور جنت کے درمیان ہتھیلی بھر خون آڑے نہ آئے، جو کسی مسلمان کا اِس طرح (نا حق) خون بہانے سے ہاتھ میں لگا ہو کہ:گویا اُس نے اُس کو مرغی کی طرح ذبح کیا ہو؛ تو ایسا کر گزرنے کی وجہ سے جب بھی وہ جنت کے کسی دروازے پر (داخل ہونے کے ارادے سے)پہنچے گا، تو خود اللہ جل شانہ اُس کے اور جنت کے درمیان آڑ بن جائیں گے (یعنی اللہ جل شانہ اُس کو جنت میں جانے سے روک دیں گے) اور جو شخص ایسا کر سکتا ہو کہ: اُس کے پیٹ میں پاکیزہ مال کے سوا کچھ نہ جائے تو ایسا کر گزرے، کیونکہ قبر میں سب سے پہلے انسان کا پیٹ ہی سڑے گا۔ (شعب الایمان)
ف:- محمد بن عَجْلان مدنی ؒ کہتے ہیں کہ:میں اسکندریہ میں تھا،وہاں اللہ سے ڈرنے والا ایک ولی صفت شخص تھا، اُس کی موت کا وقت قریب ہوا،اور سکرات شروع ہوئی، تو ہم نے اُس کو تسبیح، تحمید، اور کلمہ کی تلقین شروع کی، وہ ہماری تلقین پر ”سبحان اللہ، الحمدللہ“ تو اپنی زبان سے دہرا تا تھا، لیکن جب ہم ”لا الہ الا اللہ“ کہتے، تو وہ نہیں کہہ پاتا تھا، ہم نے عرض کیا کہ: اے شیخ! ہم لوگ تو آپ کو اللہ سے بہت زیادہ ڈرنے والا سمجھتے ہیں، پھر کیا بات ہے کہ: آپ ہماری تلقین پر ”سبحان اللہ؛ الحمدللہ“ تو کہتے ہیں، مگر ”لا الہ الا اللہ“ نہیں کہہ پاتے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ: بات یہ ہے کہ: میں نے جوانی میں ایک شخص کو (ناحق) قتل کر دیا تھا، تو میری تمام تر نیکی اور عبادت کے با وجود، اُس قتل کی نحوست مجھے اِس وقت ”لا الہ الا اللہ“ پڑھنے سے روک دیتی ہے۔ (شعب لایمان:۴ /۰۵۳؛رقم:۱۶۳۵)
قاتل کے لئے سزا اور مددگار کے لئے قید ہے
]۵۶۱[ (۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُمَاعَنِ النَّبِیِّا قَالَ:”اِذَا اَمْسَکَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَ قَتَلَہُ الْآخَرُ، یُقْتَلُ الَّذِی قَتَلَ، وَ یُحْبَسُ الَّذِی اَمْسَکَ“. (دار قطنی:۳/۰۴۱؛رقم:۷۶۱،مشکوٰۃ:۲۰۳؛رقم: ۵۸۴۳)
ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ: اگر ایک شخص نے کسی کو پکڑا اور دوسرے نے اُس کو قتل کیا، تو (اسلامی حکومت میں امن قائم رکھنے کی خاطر) قاتل کو قتل کیا جائے گا، اور پکڑنے والے کو قید کیا جائے گا۔
ف:- حدیث پاک کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ: جس طرح ایک شخص کسی عورت کو پکڑے، اور دوسرا شخص اُس سے زنا کرے، تو اسلامی حکومت میں حد صرف زانی پر جاری کی جاتی ہے، پکڑنے والے پر حد جاری نہیں کی جاتی ہے، اِسی طرح مقتول کو پکڑنے والے کو قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا، اُس کو تعزیر کے طور پر صرف قید کیا جائے گا، اور قید کی مدت حاکم و قاضی جو مناسب سمجھیں گے اپنی رائے سے طے کریں گے۔
قاتل کی ذرا سی مدد بھی رحمت سے محرومی کا ذریعہ ہے
]۶۶۱[ (۷) عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا: ”مَنْ اَعَانَ عَلٰی قَتْلِ مُؤْمِنٍ شَطْرَ کَلِمَۃٍ؛ لَقِیَ اللّٰہَ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ آءِسٌ مِنْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ“. (ابن ماجہ:۸۸۱؛رقم:۰۲۶۲، مشکوٰۃ:۲۰۳؛رقم: ۴۸۴۳)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ:جس شخص نے آدھا جملہ کہہ کر بھی کسی مومن کے قتل میں مدد کی (مثلا:”مارو“ کے بجائے صرف ”ما“کہا) تو وہ اللہ جل شانہ سے اِس حال میں ملے گا کہ: اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (ماتھے پر) لکھا ہو گا کہ: یہ شخص اللہ کی رحمت سے ناامید (محروم) ہے۔ (ابن ماجہ)
ف:- کسی مسلمان کو قتل کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ: گویا اِس حدیث میں اُس کو اشارۃً کفر کے مشابہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ رحمت خداوندی سے محرومی صرف کافر کے لئے ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:”اِنَّہُ لَا یَایْءَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ“ (یوسف:۷۸) (یقین جانو؛کہ:اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں) اور ماتھے پر ”اللہ کی رحمت سے ناامید“ لکھا ہوا ہونا اِس بات کی نشانی ہے کہ: یہ شخص خلائق کے درمیان رسوا ہوگا، یہ اُس شخص کے لئے سخت وعید ہے جس نے قتل مؤمن میں ذرا سی بھی مدد کی ہو، یا پھر یہ اُس شخص کے لئے سخت وعید ہے جو قتل مؤمن کے سلسلے میں مدد کرنے کو حلال سمجھتا ہو۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart