نئے اسلامی سال کی آمد پر ہم کیا کریں

Views: 52
Avantgardia

مفتی محمد سفیان القاسمی
استاذ مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی گڈا جھارکھنڈ

نیا اسلامی سال شروع ہونے جا رہا ہے. 1/ستمبر کو نئے اسلامی سال کا پہلا دن یعنی ماہ محرم کی پہلی تاریخ ہے. اس نئے سال کے موقع پر ہم کو کون کون سا کام کرنا چاہیے اور کون کون سا کام نہیں کرنا چاہیے، اس سلسلے میں بحث و مباحثہ کے بجائے آئیے ہم ایسا کام کرتے ہیں جو ہمارے مستقبل کو روشن و تابناک اور ہماری زندگی کو کامیاب بنانے والا ہے. بلا وجہ فضول بحثوں اور لایعنی کاموں میں اپنی انرجی ختم کرنے سے ہمیں کیا حاصل ہوگا؟

اس سلسلے میں جاننے کی بات یہ ہے کہ یہ نیا سال خواہ عربی کے حساب سے ہو یا انگریزی کے حساب سے، ہماری زندگی میں آتا کیوں ہے؟ اور اس کو جاننے کے لئے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسان کو زندگی میں جو وقت ملتا ہے اس کو سال، مہینہ اور ہفتہ کی شکل میں تقسیم کیوں کیا گیا ہے؟ اس کو ایک مثال سے سمجھئے. ایک انسان اگر کہیں کا سفر کرتا ہے تو راستے میں اس کو میل کے پتھر ملتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ ابھی سفر کا کتنا مرحلہ طے ہوا اور کتنا مرحلہ طے کرنا ابھی باقی ہے. کتنا کیلو میٹر گزرا اور کتنا کیلو میٹر ابھی اور بچا ہوا ہے. چنانچہ آدمی سفر کرنے سے پہلےراستے کی مسافت معلوم کرکے سواری اور زاد راہ کا انتظام کرتا ہے. تاکہ سفر میں کوئی دقت نہ ہو اور منزل مقصود تک آسانی سے پہنچ سکے. اگر راستے کی مسافت معلوم نہ ہو کہ ہزار کیلو میٹر ہے، سو کیلو میٹر ہے یا دس کیلو میٹر تو ایسے میں سفر کرنے والوں کو بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. ٹھیک اسی طرح انسان کو زندگی میں جو وقت ملتا ہے وہ بہت تھوڑا ہے. کتنی جلدی بچپن ختم ہو جاتا ہے اور جوانی آجاتی ہے اور جوانی کے بعد کتنی سرعت کے ساتھ بڑھاپا آجاتا ہے یہ کسی عمر رسیدہ بزرگ سے معلوم کر سکتے ہیں. اب آدمی کو تھوڑے وقت میں زیادہ کام کیسے کرنا ہے. اور وقت کا صحیح استعمال کیسے کرنا ہے، اس کے لئے وقت کو سال،مہینہ اور ہفتہ کی شکل میں بانٹ دیا گیا ہے تاکہ آدمی کوئی کام کرنے سے پہلے یہ دیکھ لے کہ یہ کام ہفتہ بھر کا ہے یا مہینہ بھر کا، اس میں ایک سال لگے گا یا کئی سال لگ جائیں گے . اور اس مدت میں وہ جائزہ لیتا رہے کہ یہ کام کتنا ہوا اور کتنا باقی ہے. اگر کام کی رفتار سست ہے تو تیزی کیسے لائی جائے. الغرض وقت کی یہ تقسیم اس لئے کی گئی ہے تاکہ انسان اپنے طویل مدتی کام کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے اس کو صحیح ڈھنگ سے پایہ تکمیل تک پہنچا سکے اور نیا سال اس لئے آتا ہے تا کہ آدمی کو بیدار کرے کہ اس نے اب تک کیا کیا اور اسے اب کیا کرنا ہے گویا نئے سال کا آنا آدمی کے لئے ایک طرح کا الارم ہے.

چنانچہ ہر نیا سال ہم سے دو باتوں کا تقاضہ کرتا ہے. ایک تو یہ کہ گزرے ہوءے سال کا جائزہ لیں کہ ہم نے اس میں کیا پایا اور کیا کھویا. گزرے ہوئے سال میں ہم کو کن چیزوں میں کامیابی ملی اور اور کن چیزوں میں ناکامی ہاتھ آئی اور اس کا سبب کیا ہوا تاکہ اس سبب کو جاننے کے بعد آئندہ اس سے بچنے کی کوشش کی جاءے. اگر آپ نے پچھلے سال منصوبہ بندی کی تھی تو دیکھئے کہ اس منصوبے کے مطابق کتنی کامیابی ملی اور کیا کمی رہی. نئے سال کا ہم سے دوسرا تقاضا یہ ہے کہ آنے والے سال کے لئے منصوبہ بندی کریں کہ اس سال میں ہم کو کون کون سا کام کرنا ہے، کیسے کرنا ہے اور اس کا طریقہء کار کیا ہوگا، ہم اس پر تفصیل کے ساتھ غور کریں.

اس بارے میں میرا مشورہ یہ ہے کہ اگر آپ مضمون توجہ سے پڑھ رہے ہیں تو اس کو صرف ذہن میں محفوظ رکھنے کے بجائے اس کو عملی جامہ پہنائیں اور اس کی شکل یہ ہے کہ صرف ذہنی طور پر سوچنے اور خاکہ بنانے کے بجائے ایک قلم اور کاپی لیں اور پہلے تحریری شکل میں گزرے ہوءے سال کا جائزہ لیں کہ آپ نے اس میں کون کون سا کام کیا اور کون سا کام کرنا چاہتے تھے مگر نہیں کرسکے. اس کی وجہ کیا ہوئی. اگر آپ نے سال گزشتہ کے لئے کوئی منصوبہ بنایا تھا تو اس کا بھی جائزہ لیں. اس میں کہاں تک کامیابی ملی اور کس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا . کمی کہاں رہی. وقت کا کتنا صحیح استعمال ہوا اور کتنا وقت ضائع ہوا اور کیسے، ان چیزوں کو نوٹ کرتے جائیں. اگر آپ چاہیں تو آپ اپنی اب تک کی پوری زندگی کا جائزہ لے سکتے ہیں. کیونکہ در اصل آئندہ کی زندگی میں کامیابی سے ہم کنار ہونے کے لئے پچھلے تجربات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے. اس لئے یہ نہ سوچیں کہ مضی ما مضی( جو گزر گیا سو گزر گیا). جب آپ گزرے ہوئے سال کے جائزے سے فارغ ہو جائیں تو اب آپ آنے والے سال کے لئے منصوبہ بنائیں،ہدف اور لائحۂ عمل طے کریں. آپ کام کو مہینے کی بنیاد پر بھی تقسیم کریں تاکہ آپ ہر مہینہ جائزہ لے سکیں کہ کام کس رفتار سے چل رہا ہے اور اس میں مزید تیزی کیسے لائی جا سکتی ہے بلکہ آپ ہفتہ واری اور یومیہ ہدف بھی طے کر سکتے ہیں. کم از کم ماہانہ جائزہ ضرور طے کریں. ہو سکتا ہے کہ آپ اس کو تحریری شکل میں لکھنا غیر ضروری سمجھتے ہوں اور ذہنی طور پر سوچ لینا ہی کافی سمجھتے ہوں مگر ماہرین بتاتے ہیں کہ تحریری شکل کی الگ ہی افادیت ہوتی ہے. تحریری شکل میں آپ ماضی کا جتنی گہرائی کے ساتھ اور صحیح تجزیہ کر سکتے ہیں اور مستقبل کے لئے جتنی بہتر اور صحیح منصوبہ بندی کر سکتے ہیں، محض خیالات کے سہارے آپ ایسا نہیں کر سکتے.

کوئی بھی انسان دنیا کے کسی بھی میدان میں اور زندگی کے کسی بھی شعبہ میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ماضی کا جائزہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی لازمی ہے. یہ دونوں چیزیں کسی بھی کامیابی کے لیے ایسا ہی ہے جیسے کوئی اونچی بلڈنگ بنانے کے لئے اس کا نقشہ اور اس کی بنیاد. جس طرح اونچی بلڈنگ کا تصور بغیر نقشہ اور بغیر بنیاد کے محال ہے اسی طرح بڑی کامیابی کا تصور بھی کاموں کے جائزہ اور اچھی پلاننگ کے بغیر محال ہے. اب یہ آپ کے اختیار میں ہےکہ اس کے لئے آپ نئے اسلامی سال، محرم کا انتخاب کرتے ہیں، نئے انگریزی سال، جنوری کا انتخاب کرتے ہیں یا پھر نئے تعلیمی سال شوال، و اپریل کا. نیز جب آپ خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں اس وقت بھی یہ کام کر سکتے ہیں تاہم یہ اسلامی سال نو کی شروعات ہے اگر اسی وقت یہ کام کرلیں تو کوئی حرج بھی نہیں.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart