عدم تشدد کیا ہے ؟ گاندھی جینتی پر ایک مخصوص پیشکش

Views: 131
Avantgardia

محمد یاسین جہازی

”1901میں ایک انارکسٹ نے اٹلی کے بادشاہ پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت ٹالسٹائی نے انارکسٹ جماعت کے نام ایک کھلا خط شائع کیا، جس میں لکھا تھا کہ تشدد کا طریقہ اخلاقی اعتبار سے غلط اور سیاسی نقطہ نظر سے بے سود ہے۔ اگر ایک شخص قتل کیا گیا، تو ہمیشہ کوئی دوسرا اس کی جگہ لینے کے لیے مل جائے گا۔ درحقیقت تشدد کا نتیجہ ہمیشہ زیادہ سخت تشدد ہوا کرتا ہے۔ یونانیوں کی ایک داستان میں ہے کہ ہر سپاہی جو مارا جاتا تھا، اس کے خون کے چھینٹوں سے 999سپاہی پیدا ہوجاتے تھے۔ دراصل سیاسی مقصد سے قتل کرنا اپنے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔ ٹالسٹائی نے مشورہ دیا کہ اگر کسی جابر حکومت کو بے بس کرنا ہو تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ ٹیکس دینے سے انکار کردیا جائے، ملازمتوں سے استعفیٰ دے دیا جائے اور ان تمام اداروں کا بائکاٹ کیا جائے، جن سے حکومت کو سہارا مل رہا ہو۔ اسے یقین تھا کہ ایسا پروگرام کسی بھی حکومت کو ہتھیار ڈال دینے پر مجبور کردے گا۔“ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلددوم، ص/ 103) گاندھی جی نے اسی نظریے سے متاثر ہوکر عدم تشدد کی تحریک کی شروعات کی اور بالآخرانگریزوں کو  بھارت چھوڑنا ہی پڑا۔ آج بھی ہمارے بہت سے مسائل عدم تشددکا نظریہ اختیار کرنے سے حل ہوسکتا ہے۔  

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart