آسام این آرسی کا نتیجہ ملک کے فرقہ پرستوں کیلئے شرمناک:مولانا محمد ولی رحمانی

Views: 29
Spread the love
Avantgardia

۴/ستمبر ۹۱۰۲ء
برسہا برس سے چل رہاآسام میں انسانوں کی شہریت کا معاملہ اب ایک منزل پرآگیا ہے اور سات ہزار کڑور روپئے سے زیادہ خرچ کرنے کے بعد این آر سی کے حوالہ سے یہ خبر آچکی ہے کہ آسام میں انیس لاکھ افراد این آر سی سے باہر ہیں یعنی انکی ہندوستانی شہریت مشتبہ ہے،امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی مدظلہ سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیرنے اپنے صحافتی بیان میں کہاہے کہ فرقہ پرست ذہن رکھنے والوں نے برسوں پہلے آسام میں شہریت کا معاملہ کھڑا کیا تھا اور ایسی فضا سازی کی تھی کہ آسام میں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے ایک کڑوڑ بیس لاکھ مسلم درانداز آسام کی تہذیب آسام کی اقتصادیات،اور سیاست کو بڑی طرح متائثرکر رہے ہیں آسام گن پریشد اور بی جے پی نے اس معاملہ کے خلاف زبردست تحریک چلائی اور اسوقت کے وزیر اعظم راجیوگاندھی سے ان لوگوں کا ایک معاہدہ ہؤا جسکے نتیجہ میں این آر سی پورے ملک میں جانا اور سمجھا گیا انہوں نے کہا افسوس یہ ہے کہ ملک میں بڑے عہدوں پر بیٹھے ذمہ دار لوگوں نے بھی ایک کڑوڑ بیس لاکھ سے زیادہ مسلم بنگلہ دیشی دراندازوں کی بات کہی اور باربار کہی حد یہ ہے کہ سپریم کورٹ بھی کسی تحقیق کے بغیر اس پروپگنڈہ سے متائثر ہؤا اور اس نے بھی ایسے فیصلے کیے جسمیں اس پروپگندہ کے اثرات صاف محسوس کئے جاسکتے ہیں۔حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی کہا کہ ان سارے مرحلوں سے گذرکر برسہابرس کی فرقہ پرستانہ کوششوں کے بعد جو حقیقت سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ انیس لاکھ سے کچھ زیادہ افراد این آر سی (نیشنل رجسٹرڈ آف سٹیزن)سے باہر رہ گئے ہیں یعنیٰ جنکی ہندوستانی شہریت مشتبہ ہے،یہ بھی ملک کے فرقہ پرستوں کیلئے بہت کڑوا سچ ہے کہ اس تعداد میں بڑی اکثریت غیر مسلموں کی ہے حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی نے اپنے بیان میں کہاکہ اس انیس لاکھ افراد میں ساڑھے چار لاکھ دنیا سے جاچکے ہیں اور تقریباً چارلاکھ افراد رفیوجی سرٹیفکٹ پر آسام میں رہ رہے ہیں انکا معامہ بھی کورٹ سے حل ہوجائے گا،اور ساڑھے چھ سے سات لاکھ افرادٹریبونل کی کاروائی سے گذر کر ہندوستانی شہری قرار پائینگے،کیونکہ انکے سلسلہ میں جوسرکاری فیصلہ ہؤا ہے وہ کھلے طور پر غلط ہے جیسے باپ کو ہندوستانی شہری قراردیا گیا اور بیٹا یا بیٹی کو مشتبہ قراردیا گیا،اسطرح تقریباً ساڑھے پندرہ لاکھ افراد کا معاملہ انشاء اللہ حل ہوجائے گا اور اسکے بعد ساڑھے تین لاکھ افراد (تقریباً)ایسے رہ جائینگے جنکی شہریت کسی وجہ سے مشتبہ رہیگی ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جوہندوستانی ہیں مگر اپنی ناسمجھی ناواقفیت اور بے توجہی کی وجہ سے ہندوستانی شہری ہونے کا ثبوت اور کاغذات محفوظ نہیں رکھ سکے اور ان ساڑھے تین لاکھ (تقریباً)میں مسلمان اچھی خاصی اقلیت میں ہیں اور بڑی تعداد غیر مسلموں کی ہے اس طرح این آرسی کے معاملہ میں فرقہ پرستوں کو شرمناک دھکا لگا ہے اسی لئے این آر سی کے متعلق ملک میں شور کم ہوگیا ہے،لیکن پورے ملک کو یہ سمجھنا چاہئے کہ این آر سی کا مسئلہ ختم نہیں ہؤا ہے خبر ہے کہ مرکزی حکومت نے ہر صوبہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ڈٹینشن سینٹر (عارضی قید خانہ)بنائے اور اسکے لئے صوبائی حکومتوں کو رقم بھی فراہم کردی ہے اس لئے ابھی بھی چوکنا رہنا چاہئے اور اپنے کاغذات درست کرنے چاہئیں،ستمبر کے حالیہ مہینہ میں الیکشن کمیشن کی طرف سے وٹر لسٹ کی اصلاح کا کام پورے ملک میں چل رہا ہے،اسمیں سبھوں کو پوری مستعدی کے ساتھ حصہ لینا چاہئے اور اپنے ہندوستانی ہونے کے ثبوت اور کاغذات جمع کر لینے چاہئیں۔اگلا مرحلہ یکم اپریل سے لیکر ۰۳/ ستمبر تک رہے گا جو مشکل ہوگا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart