پھر بھی ہم مسلمان ہیں ؟؟

Views: 366
Avantgardia

محمد یاسین جہازی، جمعیت علمائے ہند

غزوہ بنی مصطلق سے جب رسول اللہ ﷺ واپس مدینہ آنے لگے تو ایک مقام پر پڑاؤ کیا۔ اس غزوہ میں آپ کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ بنت ابی بکر بھی تھیں۔ حضرت عائشہ لشکر کی روانگی سے کچھ پہلے لشکر سے باہر رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئیں ، جب واپس ہوئیں تو دیکھا کہ ان کے گلے کا ہار کہیں گر گیا ہے۔ وہ دوبارہ اس ہار کی تلاش میں لشکر سے باہر چلی گئیں۔ ان کے واپس آنے  تک لشکر روانہ ہو گیا۔ آپ کا ہودج لادنے والوں نے خیال کیا آپ اند رتشریف فرما ہیں ،کیوں کہ آپ کا  وزن زیادہ نہیں تھا انہوں نے ہودج لاد دیا اور پورا قافلہ منزل سے روانہ ہو گیا۔ آپ منزل پر واپس آئیں تو کوئی آدمی موجود نہیں تھا ، آپ یہ سوچ کر وہیں  لیٹ گئیں کہ جب اگلی منزل پر مجھے نہ پائیں گے تو میری تلاش میں ضرور یہاں آئیں گے۔ آپ لیٹی لیٹی سو گئیں ایک صحابی صفوان بن معطل ہمیشہ لشکر کے پیچھے اس خیال سے چلا کرتے تھے کہ لشکر کا گرا ہوا سامان اٹھاتے چلیں ، جب اس مقام پر پہنچے تو حضرت عائشہ کو دیکھا چوں کہ آپ آیت پردہ سے پہلے ام المومنین کو دیکھ چکے تھے تو پہچان گئے اور انہیں مردہ سمجھ کر “انا للہ وانا الیہ راجعون” پڑھا۔ اس آواز سے حضرت عائشہ جاگ اٹھیں تو حضرت صفوان نے اپنے اونٹ کو ان کے قریب جا کر بیٹھا دیا جس پر آپ بغیر کوئی بات کیے سوار ہو گئیں اور حضرت صفوان  اونٹ کی مہار پکڑ کر پیدل چلتے ہوئے اگلی منزل پر حضور ﷺ کے پاس پہنچ گئے۔ 

منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی نے اس واقعہ کو حضرت عائشہ پر تہمت لگانے کا ذریعہ بنا لیا اور اس  کا خوب  چرچا کیا۔ اس میں  بعض مسلمان مثلاً حسان بن ثابت ، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش نے بھی کچھ حصہ لیا ، حضور اقدس ﷺ کو اس شر انگیز تہمت سے بے حد رنج و صدمہ پہنچا۔  ایک دن رسول اکرم ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر مسلمانوں سے فرمایا کہ اس شخص کی طرف سے مجھے کون معذور سمجھے گا یا میری مدد کرے گا جس نے میری بیوی پر بہتان تراشی کر کے میری دل آزاری کی ہے۔ خدا کی قسم! میں اپنی بیوی کو ہر طرح کی اچھی جانتا ہوں۔ اور ان لوگوں (منافقوں) نے (اس بہتان میں) ایک ایسے مرد (صفوان بن معطل) کا ذکر کیا ہے جس کو میں بالکل اچھا ہی جانتا ہوں۔

ایک دن رسول اللہ اچانک تشریف لائے اور فرمایا کہ اے عائشہ! تمہارے بارے میں ایسی ایسی خبر اڑائی گئی ہے اگر تم پاکدامن ہو اور یہ خبر جھوٹی ہے تو عنقریب خداوند تعالی تمہاری براءت بذریعہ وحی اعلان فرما دے گا۔ ورنہ توبہ و استغفار کر لو کیوںکہ جب کوئی خدا سے توبہ کرتا ہے اور بخشش مانگتا ہے تو اللہ تعالی اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ حضور کی یہ گفتگو سن کر حضرت عائشہ کے آنسو بالکل تھم گئے اور اور انہوں نے اپنے والد ابو بکر صدیق سے کہا کہ آپ نبی کریم کا جواب دیجیے۔ تو انہوں نے کہا فرمایا خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ حضور کو کیا جواب دوں؟ پھر انہوں نے ماں سے جواب دینے کی درخواست کی تو ان کی ماں نے بھی یہی کہا پھر خود حضرت بی بی عائشہ نے حضور کو یہ جواب دیا کہ لوگوں نے جو ایک بے بنیاد بات اڑائی ہے اور یہ لوگوں کے دلوں میں بیٹھ چکی ہے اور کچھ لوگ اس کو سچ سمجھ چکے ہیں اس صورت میں اگر میں کہوں کہ میں پاک دامن ہوں تو لوگ اس کی تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں برائی کا اقرار کر لوں تو سب مان لیں گے حالانکہ اللہ تعالی جانتا ہے کہ میں اس الزام سے بری ہوں اور پاک دامن ہوں اس وقت میری مثال حضرت یوسف (اسلام) کے باپ (حضرت یعقوب علیہ اسلام) جیسی ہے لہذا میں وہی کہتی ہوں جو انہوں نے کہا تھا یعنی فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ وَاللہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ۔ 

یہ کہتی ہوئی انہوں نے کروٹ بدل کر منہ پھیر لیا اور کہا اللہ تعالی جانتا ہے کہ میں اس تہمت بری اور پاک دامن ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی ضرور میری براءت کو ظاہر فرما دے گا۔

رسول اللہ ﷺ حضرت ابو بکر صدیق کے گھر میں موجود تھے اور ابھی تمام لوگ اپنی جگہ پر بیٹھے تھے کہ اچانک حضور پر وحی نازل ہونے لگی ۔ وحی اترنے کے بعد رسول اللہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اے عائشہ! تم خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی حمد کرو کہ اس نے تمہاری براءت اور پاکدامنی کا اعلان فرما دیا اور پھر آپ نے قرآن کی سورہ نور میں سے دس آیتوں کی تلاوت فرمائی جو آیت نمبر گیارہ سے شروع ہو کر بیس پر ختم ہوتی ہیں۔ ان آیات کے نزول کے بعد منافقوں کا منہ کالا ہو گیا اور ام المومنین عائشہ کی پاک دامنی کا آفتاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اس طرح چمک اٹھا کہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے دلوں کی دنیا میں نور ایمان سے اجالا ہو گیا۔

حضرت ابو بکر صدیق کو حضرت مسطح بن اثاثہ پر بڑا غصہ آیا۔ یہ آپ کے خالہ زاد بھائی تھے اور بچپن میں ہی ان کے والد وفات پا گئے تھے تو ابو بکر صدیق نے ان کی پرورش بھی کی تھی اور ان کی مفلسی کی وجہ سے ہمیشہ آپ ان کی مالی امداد فرماتے رہتے تھے مگر اس کے باوجود حضرت مسطح بن اثاثہ نے بھی اس تہمت تراشی اور اس کا چرچا کرنے میں کچھ حصہ لیا تھا اس وجہ سے ابو بکر صدیق نے غصہ میں یہ قسم کھا لی کہ اب میں مسطح بن اثاثہ کی کبھی بھی کوئی مالی امداد نہیں کروں گا ، اس موقع پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ:

وَلا يَأْتَلِ أُوْلُوا الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔ (النور، آیة 22)

اس آیت کو سن کر ابو بکر صدیق نے اپنی قسم توڑ ڈالی اور پھر مسطح بن اثاثہ کا خرچ بدستور سابق عطا فرمانے لگے ۔( سیرت مصطفی از علامہ عبد المصطفی اعظمی صفحہ از 311 تا 319)

اس واقعہ میں حضرت  مسطح بن اثاثہ کے حوالے سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قسم اور پھر قرآنی تنبیہہ کے بعدآپ کا سلوک ایک ایسا قابل تقلید پہلو ہے ، جس کو عملی طور پر اختیار کرلینے کے بعد ہمارے بہت سے سماجی، معاشرتی، اقتصادی اور عدالتی مسائل از خود حل ہوسکتے ہیں۔ اگر سماج میں افواہوں کو اہمیت نہ دے کر سچائی کا انتظار کیا جائے، تو اخلاق و کردار کو مشکوک کرنے والے بہت سے جھگڑے از خود رفع ہوجائیں گے۔ اور ایک بہترین معاشرہ تشکیل پاکر سماج امن و امان کا گہوارہ بن جائے گا۔ بالعموم اس قسم کے واقعات کی بنیاد عناد اور کردارکشی پر ہوتی ہے، جس کا آخری انجام عدالت کا چکر کاٹنا اور بسااوقات قتل ہوتا ہے اور دونوں صورتوں میں اقتصادی اور عدالتی الجھنیں جنم لیتی ہیں۔ لیکن ان تمام چیزوں سے قطع نظر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کردار اپنا لیا جائے اور معاشرہ میں اس قسم کی شرارتیں پھیلانے والے کو دشمن بنانے کے بجائے دوست بنالیا جائے، حتیٰ کہ ان کی مالی امداد بھی کی جائے ، تو بالیقین معاشرہ کی تصویر موجودہ تصویر سے بالکل برعکس نظر آئے گی۔

لیکن آج ہمارا حال کیا ہے  آئیے تھوڑا جائزہ لیتے ہیں

  1. اسلام نے غریبوں، یتیموں اور بے کسوں کے لیے کئی طرح کے فنڈ متعین کیے ہیں، جس میں زکوۃ، صدقات اور عطیات وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن آج مسلم معاشرہ کا کیا حال ہے اور کتنے افراد ایسے ہیں، جو ان تمام تقاضوں  کو پورا کرتے ہیں۔ بلکہ معاشرہ کی زمینی رپورٹ بتاتی ہے کہ لوگ فرض والے فنڈ میں بھی خرچ نہیں کرتے، جب کہ فرض کی ادائیگی ایک مسلمان کے لیے اور مسلمان برقرار رہنے کے لیے بہت ضروری ہے، لیکن اس کوتاہی کے باوجود ہم مسلمان ہیں۔
  2. اسلام میں وراثت کے حوالے سے ایک مکمل نظام اور دستور موجود ہے، جس میں پسماندگان اور لواحقین کے لیے  ان کی قرابت اور درجہ کے اعتبار سے حصے موجود ہیں ۔ اور یہ حصے ان کو دستور کے مطابق دینا فرض ہے، لیکن مسلم سماج کی سچائی  یہ ہے کہ بہنوں کو بالکل محروم کردیا جاتا ہے، زمین و جائداد کے لیے چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھائیوں بھائیوں میں مقدمات اور قتل تک کے معاملات سامنے آجاتے ہیں۔ جن کی صرف ایک بیٹی ہوتی ہے۔ شریعت کی رو سے اس کا حصہ دینے کے بعد عصبات کے حصے آتے ہیں، لیکن ، آج ہمارے معاشرہ میں کیا ایسا ہوتا ہے؟ یہ سب فرائض چھوڑنے کے بعد بھی ہم مسلمان ہیں۔
  3. شب و روز کے دورانیے میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اور یہ ایسا مسئلہ ہے جس سے تقریبا ہر مسلمان واقف ہے، اس کے باجود اس فرض کی ادائیگی کے حوالے سے مسلم معاشرہ کی کیا صورت حال ہے ، وہ جگ ظاہر ہے۔۔ اتنے اہم فرض کو چھوڑنے کے بعد بھی ہم مسلمان ہیں۔
  4. شریعت  نے ہر مرد و عورت کے لیے چوبیس گھنٹے کا نظام الاوقات بناکردے  دیا ہے، جس کی خلاف ورزی سراسر حرام ہے۔ اس کے مطابق  ایک صاحب ایمان کی صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے بارگاہ خداوندی میں سجدہ نیاز پیش کرکے ہونی چاہیے۔ لیکن آج مسلم معاشرے کا بالخصوص ہمارے نوجوانوں کی زندگی  کانقشہ کیا ہے، وہ سب جانتے ہیں، اس کے باوجود بھی ہم مسلمان ہیں۔
  5. سماجی مسائل، خانگی معاملات، بالخصوص نکاح و طلاق کے حوالے سے اسلام کے پاس مکمل نظام حیات موجود ہے، اس کے باوجود آج مسلمانوں کا سماج، گندگی، بد اخلاقی اور آپسی لڑائی جھگڑے کے لیے ضرب المثل ہے، اسی طرح ہندوانہ رسم و رواج کے مطابق نکاح کی تجارت، اور قرآن واحادیث کی ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے دھڑا دھڑ طلاق دینا کثیر الوقوع معاملہ بنتا جارہا ہے۔ پھر بھی الحمد للہ ہم لوگ مسلمان ہیں۔
  6. زندگی کے جتنے بھی شعبہ ہیں، ان کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے، تو مستحبات اور جوائز کو تو چھوڑ دیجیے ، فرائض و واجبات کی پامالی ہمارا شیوہ بن چکا ہے۔ حلال و حرام  کی تمیز تقریبا ختم ہوچکی ہے ۔ انا اور موچھ کی لڑائی معاملہ کی طرف داری کا جواز بن چکا ہے۔ اور یہ ایسا پہلو ہے، جس میں قریب  قریب عالم، علما، روشن خیال اور ان پڑھ؛ سب برابر ہوچکے ہیں۔ ان تمام چیزوں کے باوجود ہم مسلمان ہیں۔

ذرا غور فرمائیے ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نور نظر پر کردار کشی کا الزام لگایا گیا ہے۔جہاں کی غیرت جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ سرور کائنات ﷺ کی زوجہ مطہرہ ، حضرت صدیقہ پر تہمت لگائی گئی ہے، جن کی عظمت و عفت کی تقدیس دنیا و جہان سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس الزام تراشی میں وہ شخص بھی حصہ دار ہے، جن کی کفالت و پرورش  کی رگ میں خود حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی کمائی کا خون دوڑ رہا ہے۔ جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ آگے تعاون نہ کرنے کی قسم کھالینا دل  فطرت شناس ضمیر کی آواز ہے، اس کے باوجود قرآن یہ ہدایت کر رہا ہے کہ  تم تعاون نہ کرنے کی قسم  نہ کھأؤ، بلکہ انھیں معاف بھی کرو اور انھیں دینے کا سلسلہ بھی برقرار رکھو۔

غور فرمائیے ! کہ یہ تعاون واجبی تعاون نہیں تھا؛ بلکہ حسن اخلاق کا مظاہرہ تھا،  اس کے باوجود قرآن دینے کی ہدایت کر رہا ہے، تو ہم لوگ جو واجب اور فرائض کے فنڈ میں بھی نہیں دیتے، اور نہ ہی دیگر فرائض کو ادا کرتے ہیں، تو کیا ہم لوگ  ایک ایمان کی شان والا مسلمان  کہنے کہلانے کا حق رکھتے ہیں؟؟ کیا ہم نے کبھی اس پہلو سے اپنا محاسبہ کیا کہ  کیا واقعی ہم  مسلمان بھی ہیں یا نہیں؟؟  درجہ بالا اشارات تو ہمیں یہی آئینہ دکھاتے ہیں کہ ہم اپنے اعمال کے تناظر میں یہ دیکھیں کہ ان تمام خرابیوں کے باوجود کیا ہم پھر بھی مسلمان ہیں؟؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart