قربانی کرنے والے حضرات ایسی غلطی ہرگز نہ کریں

Views: 39
Avantgardia

مفتی محمد سفیان القاسمی
استاذ مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی گڈا جھارکھنڈ

قربانی پر اعتراضات کرنے والے جس طرح دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں اور قربانی پر پابندی کے مطالبہ کی آوازیں جس طرح اٹھنے لگی ہیں ، اس سے لگتا ہے کہ قربانی پر مکمل طور سے پابندی نہ سہی کچھ ایسا قانون آئندہ کبھی بھی آسکتا ہے جس سے قربانی کرنے میں لوگوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑے. اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار وہ قربانی کرنے والے مسلمان بھی ہوں گے جو قربانی کرنے کے ساتھ غیر اسلامی حرکت کا مظاہرہ کرتے ہیں. جس طرح طلاق کے غلط اور بیجا استعمال نے سرکار کو موقع فراہم کیا کہ وہ ظالمانہ قانون بناءے ٹھیک اسی طرح قربانی کے تعلق سے کچھ لوگوں کے غلط رویے کی وجہ سے کچھ پریشان کن مسائل سامنے آجائیں تو اس کو بعید از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا.

وہ غلط رویہ اور غیر اسلامی فعل یہ ہے کہ گھر کے آس پاس قربانی کرکے قربانی کا گوشت الگ کرنے کے بعد جو بقیات رہ جاتے ہیں ان کو وہیں چھوڑ دیا جاءے یا ان کو ایسی جگہ پھینک دیا جاءے جہاں سے چلنے پھرنے والے اور وہاں کے رہنے والے ان کی بدبو سے پریشان ہوں. یہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے خلاف ہے. یہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے خلاف ہے. جس طرح قربانی کرنا اللہ کا حکم ہے اسی طرح گندگی پھیلا کر یا کسی اور طرح سے کسی کو تکلیف نہ پہنچانا بھی اللہ کا حکم ہے. اگر کوئی گندگی پھیلا کر کسی کو تکلیف پہنچاتا ہے تو اس کو گناہ ہوگا. حدیث میں تو تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا صدقہ قرار دیا گیا ہے بھلا راستے میں تکلیف دہ چیز کو ڈالنا کیسے جائز ہو سکتا ہے. ایسی جگہوں سے گزرنے میں جب مسلمانوں کو دشواری پیش آتی ہے تو غیر مسلموں کو کیسا لگتا ہوگا آپ اس کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں چنانچہ ممکن ہے کہ ایسی گندگیوں کے خلاف غیر مسلم آواز اٹھائیں. اور یہ صرف امکان والی بات نہیں بلکہ اس طرح کی آواز اٹھنے لگی ہے کہ قربانی کی وجہ سے ماحولیات پر اثر پڑتا ہے، آب و ہوا خراب ہوتی ہے اور لوگوں کو دقتیں پیش آتی ہیں. اسی بنیاد کو لے کر ادھر حال ہی میں ممبئی ہائی کورٹ نے رہائشی احاطوں میں قربانی کرنا ممنوع قرار دیا ہے. ایسے میں مسلمانوں کا اپنے طرز عمل کو نہ بدلنا اور گندگیاں پھیلانا اس بات کو دعوت دیتا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے جائیں. گویا مسلمان خود اپنے غیر اسلامی رویہ کے ذریعہ قربانی کو مشکل بنانے والا قانون بنوانا چاہتے ہیں.

لہذا مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ قربانی کے خلاف قانون بننے کے ڈر سے نہیں بلکہ اللہ کے خوف سے اور اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے جہاں وہ قربانی کرتے ہیں وہیں وہ اللہ کے دوسرے حکم پر عمل کرتے ہوئے قربانی کے عمل کو اور قربانی کے بقیات کو کسی کو تکلیف پہنچانے کا ذریعہ نہ بنائیں اور علماء کرام اور ائمہ حضرات سے گزارش ہے کہ جہاں وہ قربانی کے تعلق سے اللہ کا حکم بیان کریں وہیں وہ کسی کو تکلیف نہ پہنچانے سے متعلق بھی اللہ کا حکم بیان کریں. اور اگر کوئی ایسی حرکت کرتا ہے تو اس کو سختی کے ساتھ روکیں ورنہ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کی بدعملی کی وجہ سے پوری قوم کے لئے مشکلات پیدا ہو جائیں.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart