دگھی گڈا میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ ضلع گڈا کی مجلس عاملہ کی میٹنگ انعقاد پذیر

Views: 466
Avantgardia

گڈا جھارکھنڈ گڈا جھارکھنڈ/ رپورٹ : مفتی محمد سفیان القاسمی

مدرسہ نظامیہ دار القرآن دگھی گڈا میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ ضلع گڈا کی مجلس عاملہ کی ایک اہم نشست منعقد ہوئی، جس کی صدارت رابطہ کے صدر اور مدرسہ اسلامیہ سین پور کے مہتمم مولانا محمد نعمان صاحب مظاہری نے فرمائی. اس نشست میں مدارس کی فلاح و بہبود کے لئے کئی اہم تجاویز پاس ہوئیں. قرآن پاک کی تلاوت سے مجلس کا آغاز ہوا. راشد القمر گڈاوی نے بارگاہِ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کئے. رابطہ کے ترجمان اور مدرسہ نظامیہ دار القرآن کے مہتمم مولانا شمس پرویز مظاہری نے اپنے تمہیدی کلمات میں کہا کہ اس وقت عوام کا رشتہ علماء سے کمزور ہے اور اس کی بڑی وجہ باطل طاقتوں کی سازش کے ساتھ ہماری اپنی کچھ کمیاں بھی ہیں. لہٰذا ہم علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے دینی و سماجی مسائل سے دلچسپی رکھنے کے ساتھ ان کو حل کرنے، ان کی رہنمائی کرنے اور ان سے زیادہ سے مربوط ہونے کی کوشش کریں. مفتی نور الدین قاسمی نے گزشتہ کارروائی کو پڑھ کر سنایا جس کی تائید و توثیق کی گئی. رابطہ کے جنرل سکریٹری مفتی محمد اقبال قاسمی نے نشست کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا. نیز انھوں نے بتایا کہ منظور کردہ نصاب کی جو کتابیں باہر سے منگوائی گئی ہیں وہ سب رکھی ہوئی ہیں ان کی قیمت ادا کرنا بھی باقی ہے. صرف دو تین مدارس والے ہی لے گئے ہیں چنانچہ طے پایا کہ اسی ماہ اکتوبر کے آخر تک تمام مدارس کے ذمہ داران یہاں سے کتابیں لے جائیں اور نصاب کے مطابق تعلیم کا نظم کریں. تاکہ تعلیمی معیار بھی درست ہو اور تمام مدرسوں میں ہم آہنگی ہو.

مجلس عاملہ نے حالات کی نزاکت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ قرار داد پاس کی کہ رابطہ سے منسلک تمام مدارس کے ذمہ داران اپنے اپنے مدارس کا رجسٹریشن جلد از جلد کرالیں اور اس کو لازمی سمجھیں. نیز یہ بھی طے پایا کہ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ ضلع گڈا کا بھی رجسٹریشن کروایا جاءے. اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف فرما مولانا حامد الغازی نے رجسٹریشن کے طریقہء کار پر روشنی ڈالی. رجسٹریشن کے سلسلے میں مدارس کے ذمہ داروں کی رہنمائی کے لئے ایک سہ رکنی کمیٹی کی تشکیل کی گئی جس کے لئے مولانا محمد نعمان صاحب مظاہری ،مولانا عبد العزیز قاسمی اور مولانا ریاض الدین قاسمی کا انتخاب عمل میں آیا. نیز اگر مولانا حامد الغازی وقت دیں تو ان سے بھی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے. اپنے مدارس کے حساب و کتاب کا سرکاری آڈٹ کرانے کی سفارش کی گئی تاہم اس سلسلے میں مزید معلومات حاصل کرکے رہنمائی کرنے کی ذمہ داری مذکورہ سہ رکنی کمیٹی کو دی گئی. نشست کا ایک اہم ایجنڈا رابطہ سے مربوط تمام مدارس میں پانچویں کلاس تک سرکار سے منظوری کا بھی تھا اس سلسلے میں قانونی نکات، نتائج اور مزید معلومات سے واقفیت حاصل کرنے کی غرض سے اس کو اگلی نشست کے لئے موقوف رکھا گیا.

سالانہ اجتماعی امتحان کے تعلق سے تین تجاویز پاس کی گئیں. ایک تو یہ کہ امتحان میں اول، دوم سوم اور امتیازی نمبرات کا معیار وہی ہوگا جو اسکول و کالج میں اور بہت سے مدرسوں میں ہے تاکہ کسی طالب علم کا نمبر معلوم ہونے کے بعد کسی کو بھی ادنی و اعلی کا اندازہ لگانے میں غلط فہمی نہ ہو. دوسری تجویز یہ کہ درجہء حفظ کے طلبہ کو تین کیٹگریز یعنی تین خانوں میں رکھا گیا، ایک سے دس پارہ، ایک سے بیس پارہ اور ایک سے تیس پارہ. اور ہر کیٹیگری میں الگ الگ، اول، دوم اور سوم پوزیشن رکھی گئی. چنانچہ پوزیشن لانے والے مجموعی طور پر نو ہوں گے. تیسری تجویز یہ کہ اس مرتبہ سالانہ امتحان کے لیے چار مراکز( سینٹرز )ہوں گے گڈا حلقہ کے لئے مدرسہ محمود العلوم اسن بنی ،بسنت راءے حلقہ کے لئے مدرسہ عربیہ اسلامیہ خرد سانکھی، مہرما و ٹھاکر گنگٹی حلقہ کے لئے مدرسہ محمودیہ مال پرتا پور اور مہگاواں حلقہ کے لئے مدرسہ اسلامیہ سین پور مرکز ہوگا . مفتی عبد الرحمن صاحب کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی. اس نشست میں مولانا عبد الستار رحمانی، مولانا سلیم الدین مظاہری ، مولانا محمد مبارک حسین قاسمی، مفتی محمد نظام الدین قاسمی، مفتی عباد الرحمن قاسمی ،مفتی محمد زاہد قاسمی، مفتی محمد سفیان قاسمی مولانا محمود صاحب، قاری فیروز، مولانا عبد اللہ قاسمی، مولانا ضیاء الدین قاسمی، حافظ زین العابدین، قاری مشتاق وغیرہ وغیرہ تھے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart