رمضان ، میڈیا اور سوشل میڈیا

محمد یاسین جہازی

میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا ، اسی طرح انٹرنیٹ؛ بالخصوص موبائل کے استعمال کے تعلق سے ہمارے اکابر رہنمائی فرماتے رہتے ہیں۔ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ وقت اور ایمان کے لیے زہر ہلال ہے، اس کا بالکلیہ استعمال چھوڑ دینا ضروری ہے۔ جب کہ کچھ حضرات انھیں نعمت بتاتے ہوئے مکمل استعمال کی اجازت دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک تیسرا نظریہ یہ پایا جاتا ہے کہ احتیاط اور خوف خدا کو پیش نظر رکھتے ہوئے استعمال کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ 
راقم کا بھی ماننا یہی ہے کہ کوئی بھی چیز فی نفسہ اچھی یا بری نہیں ہوتی، ہم اپنے استعمال سے اسے اچھی بری بناتے ہیں۔ اس فکر کی توضیح کرتے ہوئے سید سلیمان ندویؒ یہ مثال دیتے ہیں کہ اگر آگ سے کسی غریب کا کھانا پکادیں، تو یہ اچھی آگ ہے، لیکن کسی جھوپڑی کو جلا دیں، تو یہ بری آگ ہے۔ بعینہ یہی صورت ان چیزوں کی بھی ہے۔ اگر اچھے مقاصد کے لیے ان کا استعمال ہورہا ہے ، تو ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ایک مومن کا حق ہے۔ اور اگر استعمال پر قابو نہیں رکھ پا رہے ہیں، تو یہ ہمارے ایمان کے لیے مہلک اور سم قاتل بھی ہیں۔ 
رمضان کے لمحات کی عظمت وبرکت سے کون واقف نہیں، اس کی ایک ایک گھڑی کو نیک کاموں میں صرف کرنا ایک مسلمان ضروری سمجھتا ہے، لیکن جہاں ایک طرف میڈیا، سوشل میڈیا ، موبائل اور انٹرنیٹ وقت ضائع کرنے کا سب سے بڑا پلیٹ فارم بن چکا ہے، وہیں تقاضائے حیات کے بنیادی ضروریات میں بھی شامل ہیں، جن سے بچنا ناممکن ہے ۔ ؛لہذاایسی صورت حال میں رمضان میں کیا کیا جائے؟ یہ سوال ہر ایک شخص کے ذہن میں گردش کرتا ہے۔ درج ذیل سطور اسی کے جواب پر مشتمل ہیں ، ملاحظہ فرمائیں:
(۱) اگر ممکن ہو تو پورے رمضان انڈورائڈ موبائل کا استعمال ترک کردیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ بہت سارے افراد کے لیے یہ ممکن نہیں ہے، تو کم از کم سوشل میڈیا کا استعمال چھوڑ دیں۔ 
(۲) سوشل میڈیا میں بالخصوص فیس بک ایپ ڈیلیٹ کردیں۔ یا کم از کم پورے رمضان اسے نہ کھولیں۔ 
(۳) واٹس ایپ کا استعمال بقدر ضرورت کریں۔ بالخصوص گروپ سے ایگزٹ ہوجائیں، یا اس کے میسجیز دیکھنا بالکل بند کردیں۔ 
(۴) یوٹیوب کا استعمال بالکل نہ کریں۔ اگر عادت پڑجانے کی مجبوری ہوگئی ہو تو ، صرف اسلامی بیانات: حمد، نعت اور تقاریر ہی سنیں، یا کسی موضوع پر آپ تیاری کر رہے ہیں، اور اس سے متعلق ویڈیو دیکھنا ضروری ہے، تو صرف وہیں دیکھیں۔ اس کے علاوہ بالکلیہ کچھ نہ دیکھیں اور نہ سنیں۔ 
(۵) لوگوں سے رابطہ بالکل کم کردیں۔ بہتر ہے کہ اگر ممکن ہو تو رمضان میں رابطہ کے لیے کوئی وقت مخصوص کردیں اور اس وقت کے علاوہ کسی وقت موبائل کو پاس نہ رکھیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہوتو ، محض ضرورت کے بقدر رابطہ پر اکتفا کریں۔ بلا ضرورت نہ خود بات کرکے اپنا وقت ضائع کریں اور نہ ہی دوسروں کے ضائع کرنے کا سبب بنیں۔ 
(۶) یہ سب سے اہم بات ہے کہ ہمارے کچھ نوجوان ، جو جسمانی کام کرتے ہیں، یا گاڑی وغیرہ چلاتے ہیں، وہ وقت گذاری کے لیے میڈیا کا استعمال کرتے ہیں، جس میں یا تو ایف ایم سنتے رہتے ہیں، جس میں ہمہ وقت گانے ہی بجتے ہیں، یا پھر اسے گانے کی وجہ سے گناہ سمجھتے ہیں اور نہیں سنتے، لیکن سی ڈی ، ڈی وی ڈی پلیر لگالیتے ہیں اور اس میں قوالیوں کو ثواب سمجھ کر سنتے ہیں۔ ساری قوالیاں یا تو عورتوں کی آواز میں ہوتی ہیں، یا پھر میوزک کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اور آج کل کی اکثر قوالیاں دونوں حرام عناصر پر مشتمل ہوتی ہیں۔
یاد رکھیے ! میوزک کے ساتھ خواہ نعت اور حمد ہی کیوں نہ ہو سننا جائز نہیں، تو قوالی چہ معنی دارد؟ اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ ثواب سمجھ کر سننا!!! ایں چی بولعجبی است؟؟؟ ۔ اس لیے میوزک کے ساتھ قوالی سننے سے بالکلیہ پرہیز کریں۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ روزے کے تقاضے کو پورا نہ کرسکنے کی وجہ سے ہمیں صرف بھوکا پیاسا رہنے کی تکلیف ہو اور ثواب اور رمضان کی برکت سے بالکلیہ محروم ہی ہوجائیں۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان و احتساب کے ساتھ اور روزہ، تلاوت اور تراویح کی پابندی کے ساتھ رمضان گذارنے کی توفیق عطا فرمائے اور سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے سے ہماری حفاظت فرمائے، آمین۔ 

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں