روزہ کے آداب پھٹا ہوا روزہ انسان کے کسی کام کا نہیں ہوتا

۔۔۔ محمد یاسین قاسمی جہازی 
رابطہ:9871552408

مشائخ نے روزہ کے چھ آداب تحریر کیے ہیں:
(۱) نگاہ کی حفاظت: کیوں کہ نگاہ ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ 
(۲) زبان کی حفاظت:جھوٹ ، چغلی ، غیبت اور بکواس سے روزہ پھٹ جاتا ہے، جس سے روزہ دار کو روزہ بہت دشوار معلوم ہوتا ہے۔
(۳) کان کی حفاظت: جھوٹ ، چغلی ، غیبت اور بکواس سننا بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے، جتنا کہ انھیں کرنا۔ اس لیے روزہ میں اس سے بچنا ضروری ہے۔
(۴)دیگر اعضائے بدن کی حفاظت: مثلا ہاتھ کو ناجائز پکڑنے سے، پیٹ کو حرام افطار سے ، قدم کو غلط سمت اٹھنے سے، نیت کو غلط ارادے سے، ذہن کو غلیظ سوچ سے وغیرہ۔
(۵) افطار میں احتساب: روزہ کا مقصد قوت شہویہ کو کمزور کرنا ہے، اس لیے افطار میں احتساب کے ساتھ کھائے پیے، کہ کہیں اس سے روزہ کا مقصد تو فوت نہیں ہورہا ہے۔ اسی طرح اس میں یہ پہلو بھی شامل ہے کہ ہمارے دسترخوان پر تو قسم قسم کی نعمتیں ہیں؛ لیکن آس پڑوس میں کوئی ایسا تو نہیں، جس کے افطار کے لیے پانی بھی میسر ہے کہ نہیں۔
(۶) امید وبیم: روزہ مکمل ہونے کے بعد ، اس کے قبول اور رد ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔ رحمت الٰہی سے یہ امید رکھے کہ کوتاہیوں کے باوجود ہمارا روزہ قبول ہوگیا ہوگا۔ لیکن اللہ سے ڈرتا بھی رہے کہ خدانخواستہ اگر قبول نہ ہوا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
ان آداب کے ساتھ جو بھی روزہ رکھے گا، اس کا روزہ اس کے لیے خود ڈھال بن کر بھوک پیاس اور پریشانی سے اس کی حفاظت کرے گا۔ اور جو کوئی ان کا خیال نہیں رکھے گا، تو اس کا روزہ پھٹ جائے گا۔ اور یہ روزہ اس کی کسی بھی پریشانی سے تحفظ فراہم نہیں کرسکے گا۔کیوں کہ حدیث شریف میں کہا گیا ہے کہ روزہ خود ڈھال ہے، جب تک کہ اس کو پھاڑ نہ دے۔ پوچھا گیا کہ یہ ڈھال پھٹتا کیسے ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ جھوٹ اور غیبت سے۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں ان آداب کے ساتھ روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں