متن حق معلومات نمبر 14

Views: 9
Spread the love
Avantgardia

محمد یاسین جہازی خادم جمعیت علمائے ہند

14
(1) ذیلی سیکشن (3) کی تصریحات کے مطابق چیف انفارمیشن کمشنر یا انفارمیشن کمشنر کو اس کے نامناسب برتاو یا اس کی ناقابلیت ثابت ہونے کے بعد صرف صدر کے حکم سے ہٹایا جاسکتا ہے۔
صدر کے فیصلے کے مطابق، سپریم کورٹ انکوائری کرکے، اس طرح (نامناسب برتاو یا نااہلیت) کی بنیاد پر چیف انفارمیشن کمشنر یا کسی بھی انفارمیشن کمشنر (جو بھی ہو)کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مشورہ دینے کے بعد صدر کے حکم سے ہی ہٹایا جائے گا۔
(پہلے صدر جمہوریہ نامناسب برتاو یا نااہلیت کو ثابت کرے گا۔ پھر سپریم کورٹ صدر کے اس فیصلے پر اپنی انکوائری کرے گا۔ اور نامناسب برتاو یا نااہلیت کو بنیاد بناتے ہوئے یہ مشورہ دے گا کہ ایسے شخص کو عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔ پھر صدر سپریم کورٹ کے فیصلے کو نافذ کرتے ہوئے اسے عہدے سے ہٹا دے گا۔)
(2) صدر جمہوریہ چیف انفارمیشن کمشنر یا انفارمیشن کمشنر، جس کے بارے میں ذیلی سیکشن (1) کے تحت سپریم کورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے،کو اس کے دفتر سے اس وقت تک معطل کرسکتا ہے، یا ضرورت سمجھنے پر تفتیش کے دوران آفس میں آنے پر پابندی بھی لگاسکتا ہے جب تک کہ اس قسم کے حوالہ پر سپریم کورٹ کی رپورٹ پر صدر جمہوریہ حکم نہ جاری کردے۔
(صدر جمہوریہ سپریم کورٹ کے مشورے کے بعد اپنا فیصلہ سنانے سے پہلے پہلے تک چیف انفارمیشن کمشنر یا کسی بھی انفارمیشن کمشنر کو معطل یا آفس آنے پر پابندی لگاسکتا ہے)
(3) سب سیکشن (1) کے مشمولات میں شامل نہ ہونے کے باوجود، چیف انفارمیشن کمشنر یا کسی بھی انفارمیشن کمشنر کو درج ذیل وجوہات کی بنیاد پرصدر جمہوریہ اپنے حکم کے ذریعے اس کے عہدے سے ہٹا سکتا ہے:
(a) بے مقدور ہوگیا ہے (دیوالہ نکل گیا ہے)، یا
(b) کوئی ایساالزام اس پر ثابت ہوگیا ہے، جو صدر کی رائے میں اخلاقی گراوٹ ہے۔ یا
(c) اپنی ملازمت کے دوران، اپنی ملازمت سے تعلق نہ رکھنے والے دوسرے مالی فائدہ والے کام کرنے میں مصروف رہا ہے۔ یا
(d) جب صدر یہ سمجھتا ہے کہ بیماری یا دماغی یا جسمانی لحاظ سے معذور ہونے کی وجہ سے آفس کے کام کاج کے قابل نہیں رہا ہے۔ یا
(e) اس نے مالی یا دوسری قسم کے ایسے فوائد حاصل کیے ہیں، جس سے چیف انفارمیشن کمشنر یا انفارمیشن کمشنر کے کاموں کو بری طرح سے نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔
(4) اگر چیف انفارمیشن کمشنر یا کوئی بھی انفارمیشن کمشنر کسی بھی طریقے سے، حکومت ہند یا اس کی طرف سے کیے گئے کسی بھی معاہدہ یا اقرار نامہ سے تعلق رکھتا ہے یا دلچسپی لیتا ہے، یا کسی بھی طریقے سے اس کے متعلق منافع یا کسی بھی نفع میں حصہ لیتا ہے، یا ایک ممبر ہونے کے علاوہ طریقے سے اور ایک ادارہ کی حیثیت سے تشکیل کردہ کمپنی کے دوسرے ممبروں سے عمومی طور پر اوپر کی آمدنی بڑھ جاتی ہے، تو ذیلی سیکشن (1) کے مقاصد کے پیش نظر، یہ شخص نامناسب برتاو کا قصور وار سمجھا جائے گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart