شبِ قدر امت محمدیہ کے لئے عظیم تحفہ ہے!

Views: 19
Avantgardia

تحریر؛ فیاض احمد صدیقی انعام وہار ؛

             آج ہم آخرت سے بے نیاز ہو کر دنیا ئے فانی کی لذات و سلیئات. منکرات و مکروہات میں اس قدر ملوث ہو چکے ہیں کہ اچھائی و برائی کی تمیز ہمارے اندر سے ختم ہو تی جارہی ہے خواہشات نفسانی کی تکمیل ہماری زندگی کا واحد مقصد بن گیا ہے اسی لئے ہر اس چیز سے جس میں ہمیں دنیوی فائدے پہنچنے کی امید ہوتی ہے اس کے حسابات سے کبھی نہیں چو کتے بلکہ اس کے حصول کے لئے دوسروں کو یاد دہانی کی تلقین کرتے ہیں کہ ان فائدوں سے محروم نہ ہو جائیں اس لئے آلرم بھی لگا کر رکھتے ہیں مگر ابدی فوائد سے یکسر نابلد ہیں. بازاروں میں جب کوئی کمپنی قیمت میں کمی کر کے بطور آفر کوئی چیز پیش کرتی ہے تو اس کے حصول کے لئے لگی بھیڑ کا اندازہ نہیں لگا سکتے. جبکہ یہاں بسا اوقات ادھر سے کان پکڑو یا اُدھر سے دونوں برابر کے مانند کا مصداق ثابت ہوتا ہے اور جس میں زیادہ تر کمپنی کے فوائد مضمر ہوتے ہیں اور خریداروں کو بھیڑ بھاڑ کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ برابر کا سودا کرنا پڑھ تا ہے. مگر رمضان المبارک کے مہینہ میں شبِ قدر جلیسی لازوال نعمت جس کی ایک رات کی عبادت ہزار راتوں کی عبادات سے بہتر بلکہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی مرضی کے مطابق جو چاہتا ہے دیتا ہے نیز فرشتے ان کے حق میں طلوعِ فجر تک دعا کرتے رہتے ہیں جیسے عظیم آفر نابد اور ناواقف ہوچکے ہیں. یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینہ اپنے اوپر سایہ فگن ہونے کے باوجود ہمارے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی. اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیوں ہم چارون پہلے مسجد میں پہلی صف میں ہوا کرتے تھے اور آج پچھلی صف سے بھی غائب ہوگئے احباب و متعلقین کے ساتھ بیٹھ کر دن گزار رہے اور راتوں کو لہو لعب میں مشغول ہوگئے رات بھر سڑکوں پر دوڑ کر بازاروں میں گھوم کر اور سحری تک دھوم مچا کر کھانا کھا کر افطاری میں نوع بنوع لذیذ پکوان سے دسترخوان سجا لینا نہ روزہ کی شان ہے اور نہ ہی روزے داروں کی پہچان بزرگ مردو خواتین کو عبادت و ریاضت میں مشغول دیکھ کر ہم نے کوئی سبق نہیں لیا اور نہ انہیں دیکھ کر ہمارے لاشعور میں ذرہ برابر ہلچل مچی کہ ہم بھی انہیں کی طرح قیام اللیل کے لطف سے م ب محفوظ ہوں اور سیرت حقیقی سے سر فراز ہوں تاکہ اپنے دلوں کو سکون پہنچے لیکن ٹہریئے اگر آپ کا نفس لوامہ آپ کو ملامت کرتا ہے اور نیکو کا روں کے اعمال صالحہ آپ کو اپیل کرتے ہیں آپ کی چھوٹی اور ختم ہونے والی شان حقیقی اور ابدی و لازوال شان الہی سے مستفید ہوا چاہتی ہے تو آپ مایوس ہو کر دانتوں تلے انگلیاں نہ دبائیں اور ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ آپ کے لیے رحمت کا دروازہ بند ہو گیا کیونکہ اللہ رب العزت غفور رحیم ہے؛؛؛؛ ؛؛

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart