مثالی زندگی کیلئے اسلامی احکامات

Views: 77
Avantgardia

عبدالرحمن، ترکمان گیٹ، دہلی

فانی زندگی میں تکالیف اور عیش وعشرت کی وجوہات کی وضاحت کرتے ہوئے مذہب اسلام نے مثالی انسانی زندگی کیلئے واضح رہنمائی بھی کی ہے۔آسمانی احکامات نے انسان کو پہنچنے والی تکلیفوں اور مشکلات کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کی ہے جن کی وجہ سے کچھ لوگوں کی زندگی تکلیفوں بھری گزرتی ہے جبکہ خدائی قانون نے وہ راستے بھی دکھادیئے ہیں جن کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیاوی مصیبتوں پر قابو کیاجاسکتا ہے اور ان فطری راہوں کا مسافر ہونے کامطلب ہوتا ہے کہ دوسری مخلوقات کے ساتھ میل جول سے زندگی گزاری جائے۔امن وامان، ہم آہنگی اور بقائے باہم کے اصولوں کے ساتھ رہناخوشگوار زندگی کے اہم وسیلے ہیں اور یہی ہر انسان کا پسندیدہ مقصد ہوتاہے۔ بودھ مت مذہب کی کہاوت آج بھی پرانی نہیں ہوئی جس میں مہاتمابدھ نے کہاہے کہ ’جو کچھ تم بوؤں گے وہی کاٹو گے‘بالکل اسی طرح جیسے سیب کی بیج سیب کے درخت پر پیدا ہوتی ہے، جو میٹھے سیب پیدا کرنے کا باعث ہوتی ہے۔ انسان کے منفی کردار غم وتکلیف کا باعث ہوتے ہیں اس لئے منفی کردار کبھی خوشی نہیں دے سکتے۔ اگر انسان کو خوشی چاہئے تو اسے خوشی کے بیج بونے چاہئیں جوامن، رحمدلی اور دوسری مخلوقات کے ساتھ خوشگوار میل جول سے ملتے ہیں۔ اس طرح کی بیجیں اصل سرمایہ کاری ہوتی ہیں، جو ابدی زندگی میں روحانی خوشیاں اور صحتمند حیات بخشتی ہیں۔ اس کے برعکس خواہشات کی غلامیبہت جلد ایک انسان کے اندرونی جسم کو کھاجاتی ہے، جس کے نتیجے میں آخرکار مایوسی اور تکلیف انسان کے ہاتھ لگتی ہے۔ حد سے زیادہ خواہش اور بے چینی کے بغیر جو انسانی کردار ہوتا ہے، کامیابی ہمیشہ اس کے قدمبوس ہوتی ہے اور اس سے روحانی زندگی بھی مالا مال ہوجاتی ہے جس سے سچی خوشی ملتی ہے۔ اس لئے تمام انسانوں کو چاہئے کہ وہ خواہشات کو لگام دیں اور سماجی زندگی میں ہم آہنگی کے ساتھ جئیں تاکہ اللہ تعالی کے ذریعہ دنیا میں عطاکردہ احسانات کا شکربجالایاجاسکے اور خدائے تعالی کی پاک وصاف خوشی حاصل ہو۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart