سخاوت کی فضیلت

Views: 39
Avantgardia

حکام اچھے اور مالدار لوگ سخی ہوں تو زندگی بہتر ہے
]۹۷۱[ (۱) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَصقَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا:”اِذَا کَانَ اُمَرَاءُ کُمْ خِیَارَکُمْ، وَاَغْنِیَآءُ کُمْ سُمَحَاءَ کُمْ، وَ اُمُوْرُکُمْ شُوْرٰی بَیْنَکُمْ فَظَھْرُ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ بَطْنِھَا وَاِذَا کَانَتْ اُمَرَاءُ کُمْ شِرَارَکُمْ وَاَغْنِیَاءُ کُمْ بُخَلَاءَ کُمْ وَاُمُوْرُکُمْ اِلٰی نِسَاءِ کُمْ فَبَطْنُ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَکُمْ مِنْ ظَھْرِھَا“۔
(ترمذی:۲/۱۵؛رقم: ۶۶۲۲،ترغیب:۳/۹۵۲، مشکٰوۃ:۹۵۴)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ:جب تمہارے حاکم تمہارے بہترین لوگ ہوں، اور تمہارے دولت مند لوگ سخی ہوں، اور تمہارے معاملات باہمی مشوروں سے انجام پاتے ہوں (یعنی مسلمان اپنے تمام معاملات اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایک رائے ہوکر طے کرتے ہوں) تو اُس وقت زمین کی پشت تمہارے لئے زمین کے پیٹ سے بہتر ہے (یعنی ایسے مبارک زمانہ میں زندگی موت سے بہتر ہے کیونکہ اس صورت میں کتاب و سنت پر عمل کرنا اور دین کی راہ پر چلنا آسان ہوگا اور حدیثِ پاک میں ہے کہ: وہ لوگ بہت خوش نصیب ہیں جنہیں حسنِ عمل کے ساتھ طویل زندگی ملی ہو) اور جب تمہارے حاکم بدترین لوگ ہوں (یعنی افسران فاسق و فاجر اور ظالم و جابر ہوں) اور تمہارے دولت مند لوگ بخیل ہوں، اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں،تو اس وقت زمین کا پیٹ تمہارے لئے زمین کی پشت سے بہتر ہے (یعنی ایسے زمانے میں زندہ رہنے سے مرجانا بہتر ہے؛ کیونکہ ایسے ماحول میں زندہ رہنے میں کچھ مزہ ہی نہیں)۔ (ترمذی)
ف :- حدیث پاک کے دوسرے حصے کا مقصد؛ حکمرانوں کے ظلم، مالداروں کے بخل، اور معاملات میں عورتوں کی دخل اندازی کی برائی بیان کرنا ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ: ایسے زمانے میں آدمی خودکشی کرکے اپنی جان دے ڈالے۔
اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں: اس جملہ کا حاصل یہ ہے کہ: جس معاشرہ میں انتظامی ذمّہ داریاں عورتوں کے حوالے کردی جاتی ہیں وہ معاشرہ کامیاب نہیں ہوتا، طرح طرح کے انتشار و فساد سے دوچار رہتاہے کیونکہ عورتیں مردوں کے مقابلہ دین و عقل میں ناقص و کمزور ہونے کے باعث اِس طرح کی ذمّہ داریاں سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں ہیں اِسی لئے کہا گیا ہے: ”شَاوِرُوْھُنَّ وَخَالِفُوْھُنَّ “ کہ عورتوں سے مشورہ تو کر لیا کرو مگر عمل اُس کی رائے کے خلاف کرو۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”خَالِفُوا النِّسَاءَ فَاِنَّ فِیْ خِلَافِھِنَّ الْبَرَکَۃَ “۔ (تذکرۃ الموضوعات: ۸۲۱)
عورتوں کے مشورے کے خلاف عمل کرو کیونکہ اُن کے خلاف میں برکت ہے، تاہم ہوشمند عورت سے مشورہ کرنے اور اُن کے مشورہ پر عمل میں کوئی حرج نہیں خود آپ ا نے حدیبیہ میں حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہ سے مشورہ کر کے اُن کے مشورہ پر عمل کیا ہے۔ (تذکرۃ الموضوعات: ۸۲۱)
اسی طرح وہ مرد بھی عورتوں ہی کے حکم میں ہیں جن پر حب جاہ و حب مال کا ایسا غلبہ ہو کہ: اُنہیں پتہ ہی نہ چلے کہ: کیا چیز دین کو نقصان پہنچاتی ہے اور کس معاملہ کا کیا انجام ہوسکتاہے، ایسے مرد بھی دین و عقل ہر اعتبار سے عورتوں ہی کی طرح کمزور ہوتے ہیں، لہٰذا اُنہیں مقتدا بنا کر اپنے کام کی ذمّہ داری سونپ دینا بھی معاشرہ کو تباہی و بربادی سے دوچار کرنا ہے۔ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ: حدیث پاک کے پہلے جزء میں یہ فرمایا گیا کہ: ”تمہارے معاملات باہمی مشورے سے انجام پاتے ہوں“ تو ظاہری اسلوب کا تقاضا تھا کہ دوسرے جزء میں یوں اِرشاد ہوتا کہ: ”تمہارے معاملات باہمی اختلاف رائے کے شکار ہو جاتے ہوں“ مگر اِس کے بجائے یوں فرمایا گیا کہ ”تمہارے معاملات کی ذمّہ داری عورتوں کے سپر د ہو“ گویا اس تعبیر میں لطیف اِشارہ ہے کہ: باہمی اختلافات اور تنازعات عام طورپر عورتوں کی بات ماننے اوراُن کے مشورہ پر چلنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، مولائے کریم ہمیں صحیح سمجھ دے. آمین! (مرقات فیصل: ۹/ ۱۵۵، تحفۃ الاحوذی: ۶/۹۴۴)
سخاوت سے دین میں صلاح کی شان آتی ہے
]۰۸۱[ (۲) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ ا: اِنَّ اللہ َ اسْتَخْلَصَ ھٰذَا ال دِّیْنَ لِنَفْسِہٖ،فَ لَا یَصْلُحُ لِدِیْنِکُمْ اِلَّا السَّخَاءُ وَحُسْنُ الْخُلُقِ، اَلَافَزَیِّنُوْادِیْنَکُمْ بِھِمَارَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ فِی الْاَوْسَطِ وَ الْاَصْبَھَانِیُّ اِلَّا اَنَّہٗ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ ا: جَاءَ نِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ اِنَّ اللہ َ اسْتَخْلَصَ ھٰذَا الدِّیْنَ فَذَکَرَہٗ بِلَفْظِہٖ۔
(شعب الایمان:۷/۲۳۴؛رقم:۴۶۸۰۱،ترغیب:۳/۰۶۲)
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ: میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ:اے محمد! اللہ جل شانہٗ نے اِس دین کو اپنی ذات کے لئے منتخب فرمایا ہے:اس لئے آپ کے دین میں صلاح کی شان سخاوت اور حسنِ اخلاق کے بغیر حاصل نہیں ہوگی، لہٰذا اپنے دین کو سخاوت اور حسنِ اخلاق سے مزین کیجئے۔ (شعب الایمان)
حق تعالیٰ قوم کا بھلا چاہتے ہیں تو مال سخی لوگوں کو دیتے ہیں
]۱۸۱[ (۳) عَنِ الْحَسَنِ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا: ”اِذَا اَرَادَ اللہ ُ بِقَوْمٍ خَیْرًا وَلّٰی اَمْرَھُمُ الْحُکَمَاءَ،وَجَعَلَ الْمَالَ عِنْدَ السُّمَحَاءِ، وَ اِذَا اَرَادَ اللہ ُ بِقَوْمٍ شَرًّا وَلّٰی اَمْرَھُمُ السُّفَھَاءَ،وَجَعَلَ الْمَالَ عِنْدَ الْبُخَلَاءِ“. رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ فِیْ مَرَاسِیْلِہٖ. (ترغیب:۳/۹۵۲)
ترجمہ: حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایا کہ: حق تعالیٰ شانہٗ جب کسی قوم کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو حکومت کی باگ ڈور سمجھدار وں کے سپرد کرتے ہیں، اور مال سخی لوگوں کو عطا فرماتے ہیں، اور جب کسی قوم کے ساتھ بُرائی کا اِرادہ فرماتے ہیں: توحکومت کی باگ ڈور ناسمجھوں کے ہاتھ میں تھما تے ہیں اور مال بخیلوں کے قبضے میں دے دیتے ہیں۔ (ابو داؤد فی مراسیلہ)
ولی میں فطری سخاوت ہوتی ہے
]۲۸۱[ (۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنہُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہ ِ ا یَقُوْلُ:”السَّخَاءُ خُلْقُ اللہ ِ الْاَعْظَمُ“. رَوَاہُ اَبُو الشَّیْخِ ابْنُ حِبَّانِ فِیْ کِتَابِ الثَّوَابِ۔وَعَنْ عَاءِشَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْھَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا: ”مَا جُبِلَ وَلِیٌّ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا عَلَی السَّخَاءِ وَحُسْنِ الْخُلْقِ“ رَوَاہُ ابُو الشَّیْخِ اَیْضًا۔ (ترغیب:۳/۹۵۲)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: میں نے حضور اقدس ا کو فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ:سخاوت حق تعالیٰ شانہٗ کے بہت اونچے اخلاق میں سے ہے۔ ایک حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: حضور اقدس انے اِرشاد فرمایاکہ: اللہ تعالیٰ کا کوئی ولی ایسا نہیں ہوا جن میں اللہ نے دو عادتیں پیدا نہ کردی ہوں ایک سخاوت دوسری خوش اخلاقی۔ (ترغیب،ابن حبان)
سخی اِس اُمّت کا سردار ہے
]۳۸۱[ (۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْھُمَا قَالَ:”کُنْتُ قَاعِداً مَعَ النَّبِیِّ صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ ثَلَاثَۃَ عَشَرَ رَجُلاً عَلَیْھِمْ ثِیَابُ السَّفَرِ،فَسَلِّمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ لِلّٰہِ صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،ثُمَّ قَالَ:قَالُوْا:مَنِ السَّیِّدُ مِنَ الرِّجَالِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟قَالَ: ذَاکَ یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ“۔ قَالُوْا:مَا فِیْ اُمَّتِکَ سَیِّدٌ؟ قَالَ:”بَلٰی رَجُلٌ اُعْطِیَ مَالًاحَلَالاً، وَرُزِقَ سَمَاحَۃً، وَاَدْنَی الْفَقِیْرَ، وَقَلَّتْ شِکَایَتُہٗ فِی النّاسِ“. رَوَاھُ الْبَیْہَقِیُّ فِیْ شُعْبِ الْاِیْمَانِ وَاللَّفْظُ لَہُ وَالطَّبْرَانِیُّ فِی الْاَوْسَطِ۔
(شعب الایمان:۷/۰۴۴؛ رقم: ۸۹۸۰۱،ترغیب:۳/۰۶۲)
ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ:میں نبی اکرم ا کے ساتھ بیٹھا تھا کہ:اتنے میں تیرہ آدمی خدمت اقدس امیں حاضر ہوئے،جو سفر کے کپڑے پہنے ہوئے تھے،سب نے آکر حضور اقدس ا کو سلام کیا،پھر دریافت کیا کہ: یا رسول اللہ!مردوں میں سردار کون ہے؟ آپ انے فرمایاکہ:وہ تو حضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو خودبھی نبی ہیں،نبی کے بیٹے ہیں، نبی کے پوتے ہیں اور نبی کے پڑ پوتے ہیں، پھر پوچھا: کیا آپ کی اُمّت میں کوئی سردار نہیں؟ آپ ا نے فرمایاکہ: کیوں نہیں (ضرو ر ہے، میری اُمّت کا سردار) وہ شخص ہے جس کو حلال مال دیا گیا ہو، سخاوت کی خوبی سے نوازا گیا ہو، ناداروں کو (دادو دہش کے ذریعہ) قریب کرتاہو، اور لوگوں میں (خوش خلقی کی بنا پر) اس کی شکایت کم ہوتی ہو۔ (شعب الایمان)
جنت سخیوں کا گھر ہے
]۴۸۱[ (۶) عَنْ عَاءِشَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْھَا قَالَتْ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا: ”اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ بَیْتًا یُقَالُ لَہٗ بَیْتُ السَّخَاءِ“۔ رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ وَاَبُو الشَّیْخِ فِیْ کِتَابِ الثَّوَابِ اِلَّا اَنَّہٗ قَالَ:”اَلْجَنَّۃُ دَارُ الْاَسْخِیَاءِ“ قَالَ الطَّبْرَانِیُّ: تَفَرَّدَ بِہٖ جَحْدَرُبْنُ عَبْدِ اللہ ِ ۔ (ترغیب:۳/۰۶۲)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ:جنت میں ایک گھر ہے جس کو سخیوں کا گھر کہاجا تاہے، اور ایک روایت میں یہ ہے کہ: جنت سخیوں کا گھر ہے۔
سخی کے گناہ سے چشم پوشی کا حکم
]۵۸۱[ (۷) عَنْ عَبْدِ اللہ ِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّا قَالَ:”تَجَا فَوْا عَنْ ذَنْبِ السَّخِیِّ فَاِنَّ اللہ َ آخِذٌ بِیَدِہٖ کُلَّمَا عَثَرَ“ رَوَاہُ ابْنُ اَبِی الدُّنْیَا وَالْاَصْبَھَانِیُّ وَرَوَاہُ اَبُو الشَّیْخِ مِنْ حَدِیْثِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔
(شعب الایمان:۷/۳۳۴؛رقم:۷۶۸۰۱،ترغیب:۳/۰۶۲)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایا کہ:سخی آدمی کے گناہ سے چشم پوشی کرو کیونکہ جب اُس سے کوئی لغزش ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہٗ اُس کا ہاتھ تھام لیتے ہیں (کہ: یا تو لغزش ہونے ہی نہیں دیتے یا پھر معاف کردیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ (شعب الایمان)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart