جمعیۃ علماء کے خلاف لکھنے والوں سے چند سوالات

Views: 267
Avantgardia

مولانا محمد سفیان القاسمی مولانا محمد سفیان القاسمی گڈا جھارکھنڈ

کشمیر کا مسئلہ پیش آنے کے بعد سے جمعیۃ علماء ہند کے خلاف کئی ایسے افراد ہیں جو مسلسل لکھ رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ آئندہ بھی لکھتے رہیں گے. ان کی خدمت میں چند سوالات ہیں. اور سوال سے پہلے یہ وضاحت مناسب ہوگی کہ ہمارے خیال کے مطابق اگر کوئی مسئلہ دین سے متعلق نہیں بلکہ سیاست سے متعلق ہے تو اس میں ہر آدمی کچھ بھی راءے رکھنے میں آزاد ہے، وہ جس راءے کو ملک، قوم اور مسلمانوں کے حق میں بہتر سمجھے وہ قائم کرے. اور جس طرح آدمی راءے رکھنے میں آزاد ہے اسی طرح کسی راءے پر تنقید کرنے میں بھی وہ آزاد ہے. جو راءے اس کی نظر میں ملک، قوم اور مسلمانوں کے حق میں مضر معلوم ہو تو اس سے اختلاف کرے، اس پر تنقید کرے. لیکن جب معلوم ہونے لگے کہ اختلاف کا مقصد قومی مفاد نہیں بلکہ ذاتی مفاد یا عناد ہے اور تنقید کا مقصد تعمیر نہیں بلکہ تخریب ہے تو پھر تنقید و اختلاف کرنے والوں پر بھی تنقید ہوگی اور ان سے بھی سوالات کئے جائیں گے چنانچہ ذیل میں جو سوالات ہیں وہ اسی نوعیت کے ہیں

1. کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے کی ذمہ داری کسی ایک تنظیم کی نہیں بلکہ ہندوستان میں سارے مسلک کی جتنی چھوٹی بڑی تنظیمیں ہیں. یہ ہر تنظیم کی ذمہ داری ہے. اگر آپ کو کشمیریوں سے ہمدردی ہے تو آپ نے ان تنظیموں سے آواز اٹھانے کی گزارش کیوں نہیں کی؟ اور ان کو آمادہ کرنے کے لئے جھنجھوڑنے والے مضامین کیوں نہیں لکھے؟

2. جمعیۃ علماء نے ملک، قوم اور مسلمانوں کے حق میں جو بہتر سمجھا وہ تجویز و قرار داد پاس کی. اس تجویز میں یہ بھی ہے کہ کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالی کا سلسلہ بند کیا جاءے. مگر آپ اپنے مضامین میں ایسا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جمعیۃ نے کشمیریوں کے لئے آواز نہیں اٹھائی بلکہ جمعیۃ ان پر ہونے والے ظلم کو حق بجانب ٹھہراتی ہے جبکہ کشمیریوں کے لئے بھی جمعیۃ ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی ہے . کیا آپ کا اپنے مضامین میں ایسا تاثر دینا صریح بہتان نہیں ہے؟ کیا جمعیۃ کی بات کو توڑ موڑ کر پیش کرنا اور اس کا وہ مفہوم پیش کرنا جو جمعیۃ کا مفہوم نہیں ہے یا اس کو غلط پس منظر میں پیش کرنا کیا یہ اخلاقی بد دیانتی نہیں ہے؟ کیا یہ انصاف کا خون نہیں؟ اور کیا یہ بہتان اور بدگمانی کے دائرے میں نہیں آتا؟

3 اگر آپ کے قول کے مطابق جمعیۃ کی قرار داد حکومت کی ترجمانی ہے تو آپ نے دیگر تنظیموں کو کیوں نہیں آمادہ کیا کہ وہ ملت کی ترجمانی کرنے والی قرارداد پاس کریں، وہ آئیں کے مطابق احتجاج و مظاہرہ کریں؟ کیا ظلم پر خاموش رہنا بھی ظلم کی تائید نہیں ہے؟ تو پھر آپ نے خاموش رہنے والی تنظیموں کے خلاف مضامین کیوں نہیں لکھے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ خاموش رہنا مجبوری ہے تو یہ غلط ہے کیونکہ ہندوستان کے آئین نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے، مظاہرہ کرنے اور دھرنا دینے کی اجازت دی ہے. پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ خاموش رہنا مجبوری ہے. لہٰذا آپ نے خاموش رہ کر ظلم کی تائید کرنے والوں کے خلاف مضامین کیوں نہیں لکھے؟

4.آپ جمعیۃ کے موقف کو کو غلط بتانے میں پورا زور صرف کر رہے ہیں. یہ انسانی سوچ کا نتیجہ ہے لہذا اس کا غلط ہونا بعید از امکان نہیں ہے لیکن جس تنظیم کا موقف آپ کے مطابق صحیح ہے اس تنظیم کا نام کیوں نہیں بتاتے اور اس کی تشہیر آپ کیوں نہیں کرتے؟ تاکہ لوگ جمعیۃ سے علیحدہ ہو کر اس تنظیم کے ساتھ کھڑے ہو جائیں

5. اگر بہت سی تنظیمیں آواز اٹھا رہی ہیں صرف جمعیۃ آواز نہیں اٹھا رہی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اگر پچاس میں سے دو چار تنظیمیں آواز نہیں اٹھاتی ہیں تو اس سے کوئی حرج تو نہیں؟ پھر آپ نے آسمان سر پر کیوں اٹھا رکھا ہے؟

6. آپ کے بقول کشمیر جانا کشمیریوں کی ہمدردی کی علامت ہے. آپ کے خیال کے مطابق جمعیۃ کو ہمدردی نہیں اس لیے اس کے افراد نہیں گئے. مگر جب آپ کو کشمیریوں سے ہمدردی ہے تو آپ خو کشمیر کیوں نہیں گئے؟ نیز آپ نے کشمیریوں کے لئے احتجاج و مظاہرہ کی تحریک کیوں نہیں چلائی اور خود احتجاج و مظاہرہ میں آپ نے شرکت کیوں نہیں کی؟

7.جمعیۃ کے خلاف لکھنے اور بولنے والے کئ افراد ایسے ہیں جو خود ایک تنظیم کے ذمہ دار ہیں تو ان سے سوال ہے کہ آپ نے کشمیریوں کے لئے کون سا کام کیا.؟کون سی قرار داد پاس کی؟ اور اپنی تنظیم کے افراد کے ساتھ کہاں احتجاج و مظاہرہ کیا؟اور کہاں دھرنے پر بیٹھے؟8

8.کیا آپ کو کسی کی نیت پر حملہ کرنے کی اجازت ہے کہ جمعیۃ کے حامیوں کو اندھ بھکتی، حکومت کا ترجمان اور آر ایس ایس کا ترجمان وغیرہ وغیرہ کہیں؟ تو کیا اگر جواب میں آپ کو وہ لوگ ملک، قوم اور مسلمانوں کا دشمن کہیں. اس کی اجازت آپ دیں گے؟

یہ وہ سوالات ہیں جو بار بار ذہنوں میں کھٹکتے ہیں اور بارہا جواب طلب کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ہے .مجھے امید ہے کہ جمعیۃ کے خلاف لکھنے والوں تک یہ مثبت تحریر پہنچے گی اور اس کا جواب گالی گلوچ سے دینے اور الزامی جواب سے خاموش کرنے کے بجائے مثبت اور نمبر وار ہر سوال کا جواب دیں گے تاکہ جمعیۃ کے خلاف لکھنے والوں کے تئیں جو شبہات ہیں وہ ختم ہوں گے اور لگے گا کہ ان کا دوسری تنظیموں کو کچھ نہ کہنا، خود کچھ نہ کرنا اور صرف جمعیۃ کے خلاف لکھنا کشمیریوں کی بے انتہا ہمدردی و محبت کی وجہ سے ہے. اور اگر ان سوالوں کا جواب نہیں آتا ہے تو یہی سمجھا جاءے گا کہ ان کو کشمیریوں سے ہمدردی نہیں بلکہ ہمدردی کے نام پر علماء پر کیچڑ اچھالنے کا مقصد کچھ اور ہے.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart