ریاستی جمعیت علما کیسے بنائیں

Views: 206
Avantgardia

جمعیت کی ممبرسازی کیسے کریں مقامی، ضلعی، شہری، علاقائی اور ریاستی جمعیتیں کیسے بنائیں

محمد یاسین جہازی

قسط نمبر (5)

ریاستی جمعیت علما کیسے بنائیں

ضلع جمعیتوں کی مجالس منتظمہ کے اراکین، ریاستی جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے لیے ارکان منتخب کریں گے۔ ریاستی مجلس منتظمہ کی تعداد الگ الگ ریاستوں میں الگ ہے۔ اس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس میں کچھ صوبوں میں دس ہزار اور کچھ صوبوں میں پانچ ہزارسے زائد ضلعی اراکین منتظمہ ہونے کے بعد ہر ہزار ضلعی اراکین منتظمہ پر ایک شخص ریاستی مجلس منتظمہ کا رکن بن سکتا ہے۔تفصیل کے لیے دستور کا متن پیش ہے: ”(الف) اتر پردیش، بہار، بنگال، آندھرا، مہاراشٹرا، گجرات، راجستھان، آسام اور مدھیہ پردیش میں مجلس منتظمہ کے ارکان کی تعداد کم سے کم 51، اور باقی جھارکھنڈ، اترانچل، چھتیس گڈھ جیسے صوبوں میں مجلس منتظمہ کے ارکان کی تعداد کم سے کم 41ہوگی؛ لیکن اترپردیش، بہار، بنگال، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، گجرات، راجستھان، آسام اور مدھیہ پردیش کی تعداد جب دس ہزار سے زیادہ ہوجائے تو ہر ہزار ممبران پر ایک رکن اور باقی صوبوں میں ممبروں کی تعداد جب 5ہزار سے زیادہ ہوجائے تو ہر پانچ سو ممبر پر ایک رکن کا اضافہ ہوتا رہے گا۔ (ب) ممبروں کی وہی تعداد قابل اعتبار ہوگی، جن کی فیس ممبری کا کوٹہ بموجب دفعہ 65/ ادا ہوچکا ہوگا۔ (دفعہ31)دفعہ(32)ریاستی جمعیت کی مجلس منتظمہ میں کم از کم ایک چوتھائی علما کا ہونا ضروری ہوگا۔ دفعہ (33)ریاستی مجالس منتظمہ کو حق ہوگا کہ وہ اپنی ریاست کے صائب الرائے یا تعمیری پروگرام کے لیے سرگرم اصحاب میں سے دس افراد کو رکن نامزد کرے۔ یہ نامزدگی، ممبری سمجھی جائے گی۔ دفعہ (34)جس ریاست میں ریاستی جمعیت نہ ہو وہاں کی جمعیت کو حالات کے مطابق براہ راست مرکز کے ماتحت کیا جاسکتا ہے۔“ (دفعہ31) کے سیکشن (ب) میں ممبری فیس کے متعلق دفعہ 65/ کا تذکرہ آیا ہے، اس کا متن پیش ہے: ”دفعہ (65) مقامی جمعیت کی فیس ممبری اور رکنیت کی فیس کا ایک ثلث جمعیت علما ضلع کو، اور اسی طرح ضلع جمعیت اپنے وصول شدہ حصہ کا ایک ثلث ریاستی جمعیت کو اور ریاستی جمعیت اپنے وصول شدہ حصہ کا ایک ثلث جمعیت علمائے ہند کو ادا کرے گی اور رسید حاصل کرے گی……۔“ارکان منتظمہ ریاستی جمعیت علما کی سالانہ ممبری فیسدفعہ (66)کے مطابق ریاستی جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے ہر رکن کو پانچ رویے سالانہ فیس کے طور پر ادا کرنا ہوگا۔ اسی طرح دفعہ (67) کے مطابق چوں کہ ریاستی جمعیت کی منتظمہ کا ہر رکن جمعیت علمائے ہند کا نمائندہ (ڈیلی گیٹ) ہوگا، اس لیے پانچ روپے نمائندگی کی فیس جمعیت علمائے ہند کو ادا کرے گا۔ لیکن 12/ ستمبر 2019کی مجلس منتظمہ میں کی گئی ترمیم کے بعد ہر رکن کو دو سو روپیہ ادا کرنا ہوگا۔عہدیداران ریاستی جمعیت علما”دفعہ(35) ریاستی جمعیت کے حسب ذیل عہدے دار ہوں گے: صدر ایک، نائبین چار تک، ناظم اعلیٰ ایک، ناظم امور تعلیمی، ناظم تعمیر و ترقی، ناظم مالیات، آفس سکریٹری اور خازن ایک ایک ہوں گے۔دفعہ (36) (الف) ریاستی جمعیت کے صدر، نائبین صدر اور خازن کو ریاستی مجلس منتظمہ منتخب کرے گی۔ ناظم اعلیٰ کو صدر بمشورہ مجلس عاملہ اور ناظمین کو ناظم اعلیٰ بمشورہ صدر نامزد کرے گا۔ (ب) تمام عہدے داروں کا مجلس منتظمہ کا ممبر ہونا اور صدر اور ایک ناظم کا عالم ہونا ضروری ہوگا۔ نیز12/ستمبر 2019کی مجلس منتظمہ میں کی گئی نئی ترمیم کے بعد عہدیداروں کا ایکٹیو ممبر ہونا ضروری ہے، جس کے لیے سو ابتدائی ممبر بنانا اور سالانہ تین سو روپیے فیس ادا کرنا ضروری ہوگا۔دیگر ذیلی جمعیتوں کی طرح ریاستی جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے ساتھ مجلس عاملہ ہوگی، جس کے اصول و ضوابط پیش ہے: ”دفعہ (38) ریاستی جمعیت کی ایک مجلس عاملہ ہوگی، جس کے ارکان کی تعداد بشمول صدر و ناظم اعلیٰ و خازن اکیس ہوگی۔ دفعہ(39) مجلس عاملہ کے ارکان کو ریاستی جمعیت کا صدر نامزد کرے گا۔ دفعہ(40) ریاستی جمعیت کی مجلس عاملہ اپنی ریاست کے لیے جمعیت علمائے ہند کے دستور اساسی کی روشنی میں دستور العمل بنائے گی اور مرکزی جمعیت علمائے ہند سے اس کی منظوری حاصل کرے گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart