علماء کرام کی خدمت اور انکا مقام و مرتبہ

Views: 62
Avantgardia

مولانا فیاض احمد صدیقی 

اس وقت پوری دنیا میں اسلام دشمن قوتیں اور اسلام دشمن عناصر اسلام اورشعائر اسلام کوجس پہلواور زاویے سے نقصان پہنچانے کی کوششیں کررہے ہیں ، ان میں سب سے کامیاب ترین اور آسان ترین پہلو یہ ہے کہ سادہ لوح مسلمانوں اور عوام الناس کو شعائر اسلام ( مدارس و مکاتب اور خانقاہوں) اور مقدس شخصیات (علماء کرام ، حفاظ عظام) کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلاء کرکے اور ان کی عظمت ،تقدس اور عزت ووقارکو ان سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں سے ختم کرکے انہیں کسی طرح دین و مذہب سے برگشتہ ومتنفر کیا جائے۔ موجودہ دور میںنہ صرف ہمارے ملک بھارت میں بلکہ پورے عالم اسلام میں ہرسُو پائی جانے والی مذہب بیزاری و خدا ناشناسی اور الحاد و لا دینیت کی عمومی فضا کو دیکھتے ہوئے یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ یہ دشمنانِ اسلام اور اسلام دشمن عناصر اپنی ان مذموم و قبیح سرگرمیوں میں نہ صرف خاطر خواہ بلکہ بے پناہ کامیاب بھی ہورہے ہیں ۔ اور اس دجالی عہد میں جب سے یہ سوشل میڈیا وجود میں آیا ہے تب سے تویہ کیفیت ہے کہ مسلمانوں کو شعائر اسلام، مقامات مقدسہ اور مقدس شخصیات اورخصوصا علماء و حفاظ اور مدارس و مکاتب سے بدگمان کرنے کے لئے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت ہی نہیں رہی ہے۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ ہمارے مسلم سماج اور معاشرے میں ایک بڑاطبقہ ایسا ہے جو سوشل میڈیا کے استعمال پر مہارت نہیں بلکہ صرف معمولی سی سدھ بجھ حاصل ہوتے ہی سب سے پہلے علماء و حفاظ کرام کی اصلاح کرنا اور انہیں راہ راست پر لانا اپنا سب سے بڑا دینی ایمانی اور اخلاقی وانسانی فریضہ سمجھتا ہے، اور پھر اس اصلاح کی خاطر وہ ان وارثینِ انبیاء کی شان میں گستاخی کرنا ، انہیں بے عزت کرنے کی کوشش کرنا، ان کی تحقیر و تذلیل کرنا، ان کا مذاق بنانا اور تمسخر کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھتا ہے ۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہی مصلحینِ اعظم ایک طرف تو خود اس بات کا زبانی اعتراف کرتے نہیں تھکتے کہ تا قیامت امت مسلمہ کی دینی ملی اور سیاسی و سماجی قیادت کا فریضہ صحیح طورپر قرآن وحدیث کی روشنی میں صرف علماء کرام ہی انجام دے سکتے ہیں! لیکن دوسری طرف عملی طور پر یہی طبقہ علماء و حفاظ کرام کے گریبان پر دست درازی کرنے اور ان کی توہین و اہانت کرنے میں سب سے زیادہ پیش پیش رہتا ہے ۔ کچھ افراد ان میں وہ ہوتے ہیں جو عمومی ماحول اورعام چلن کی وجہ سے محض اپنے آپ کو دانشور ، تعلیم یافتہ، اور مہذب وموڈرن باور کرانے کے شوق میں لاعلمی و ناسمجھی کی وجہ سے اس عاقبت نا اندیشی کے مرتکب ہوتے ہیں ،جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اُن علماء و حفاظ کرام پر جو ان کی سوچ و فکر ،خیالات و نظریات اور مکتب فکر سے متفق نہیں ہوتے ہیں یا دوسرے مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیںیا وہ ان کے کسی پیر ومرشد یا محبوب و پسندیدہ شخصیت سے کسی طرح کا فکری یا علمی اختلاف رکھتے ہیں لعن طعن کرنا، زبان درازی یا دست درازی کرنا، ان کی کردار کُشی کرنا، بلا تأمل انہیں علماء سوء کے کٹہرے میں کھڑے کرنا، انہیں کفاروں اور یہودیوں کا ایجنٹ قرار دینا، ان کی خانگی و گھریلو زندگی کی ٹوہ میں لگے رہنا اپنا سب سے بڑا مسلکی فریضہ اور کار ثواب سمجھتے ہیں ۔اور ہائے کیا کہوں اور کس طرح کہوں ، کاش آپ کو یہ بتانے سے پہلے میرا قلم خشک ہوجاتا اور وہ اس تکلیف دہ حقیقت کو رقم کرنے کے قابل نہ رہتا کہ وطن عزیز میں کچھ جماعتیں اور تنظیمیں ایسی بھی ہیں جواگرچہ دین و اسلام اور انسانیت کی خدمت کا دعوی کرتیں ہیں اور الحمدللہ ہمیں اس بات کا اعتراف بھی ہیں کہ وہ جماعتیں اور تنظیمیں مختلف میدانوں میں کافی گراں قدر و قابل ستائش خدمات انجام بھی دیتیں رہتیں ہیں ، تاہم اکثر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان سماجی طور پر متحرک و سرگرم جماعتوں اور تنظیموںسے وابستہ افراد کے دلوں کی نرم زمین اور کشتِ سادہ میں نائبینِ انبیاء اور وارثینِ نبی آخرالزماں ﷺ کی نفرت اور بغض کی تخم سازی کا ایمان سوز کام مسلسل کیا جاتا ہے۔ ان تنظیموں اور جماعتوں کی کوئی محفل اور نشست ایسی نہیں ہوتی ہے جس میں یہ خود ساختہ تعلیم یافتہ، مہذب اور موڈرن حضرات اپنی دانست میں علماء کرام کی جہالت، پسماندگی، ان کے ناکارہ پن، اور دین و مذہب کے نام پر قوم و ملت کو بے وقوف بنانے اور مدارس و مکاتب کے نام پر زکوۃ حاصل کرکے اپنے خفیہ محل تعمیر کرنے پر تبصرے نہ کرتے رہتے ہو۔ علماء وحفاظ کرام کے متعلق عوام کا یہ رویہ اور خودساختہ مہذب و موڈرن افراد کی یہ روش اور ان کا یہ طرز فکر و عمل کسی حد تک علماء و حفاظ کرام کے حقیقی منصب و مقام سے ناواقفیت کی وجہ سے بھی ہے۔ اس وقت ملت اسلامیہ ہندیہ جس صورت حال سے دوچار ہے اور اس کو جن فتنوں کا سامناہے اس سے ہر شخص واقف ہے، دیہاتوں اور قصبات میں بلکہ شہروں میں بھی متعدد باطل و گمراہ جماعتیں ، تنظیمیں، اور فرقے (غیر مقلدیت نام نہاد اہل حدیث، شکیلیت) غریب و سادہ لوح مسلمانوں کو عیش وعشرت کے اسباب فراہم کرکے اور پُرکشش وعدوں کے ذریعے اپنے دام مکر و فریب میں پھنسانے کی کامیاب کوششیں کررہے ہیں۔ ان حالات میں عوام کا علماء سے دور ہونا یا علماء کے متعلق بدگمان ہونا ، اور ان کے منصب و مقام سے نا واقف ہوکر ان کی اہانت و تخفیف کا مرتکب ہونا ملت کے لئے کسی بھی طرح سم ّ قاتل سے کم نہیں ہے۔ علماء و حفاظ کرام نہ صرف دین اسلام کی کشتی کے ناخدا اور کھیون ہار ہیں بلکہ وہ انبیاء کرام کی بیش بہا دولت و وراثت علوم دینیہ کے وارث و امین ہیں ، خالق کائنات نے اپنے دین کی حفاظت اس مقدّ س طبقہ کے ساتھ وابستہ کر رکھی ہے، اور سب سے اہم اور بنیادی بات یہ کہ علماء کرام امّت محمدیہ اورپیغمبر آخر الزماں محمد الرسول اللہ ﷺ کے درمیان انتہائی مضبوط و باوثوق واسطہ ہے ، امّت کے علماء سے تعلق، محبت اور حسن ظن میں جتنی کمی آتی جائیگی امّت کا نبی اکرم ﷺ سے بھی تعلق اتنا ہی کم اور کمزور ہوتا چلا جائیگا۔ خدا غریق رحمت کرے شاعر کو کہ اس نے علماء کے منصب و مقام کی کیا صحیح ترجمانی کی ہے :خدا یاد آوے جن کو دیکھ کر وہ نور کے پتلےنبوت کے یہ وارث ہیں یہی ظل رحمانیان ہی کی شان کو زیبا نبوت کی وراثت ہےان ہی کی اتقاء پر ناز کرتی ہے مسلمانییہی ہیں جن کے سونے کو فضیلت ہے عبادت پران ہی کا کام ہے دینی مراسم کی نگہبانیان تمام فضیلتوں کے باوجود علماء کرام کی اس بے توقیری ، عوام کی ان پر بے اعتمادی و بد گمانی اوران سے دوری کا اگر ایک بنیادی سبب عوام کی ان کے منصب و مقام سے عدم واقفیت اور اسلام دشمن عناصر کی کوششیں اور سازشیں ہیں 

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart