اردو میں شامل دوسری زبانوں کے الفاظ کی شناخت

Views: 66
Avantgardia

اردو ایک مخلوط اور کل ہند رابطے کی زبان ہے، جس میں دوسری کئی زبانوں کے الفاظ شامل ہیں، جن میں بیشتر عربی، فارسی اورہندستانی الفاظ ہیں،اور ان کے علاوہ دیگر زبانوں کے بھی الفاظ پائے جاتے ہیں، لیکن یہ پتہ لگانا انتہائی مشکل کام ہے کہ اردو میں مستعمل الفاظ دوسری کس زبان سے تعلق رکھتے ہیں؟ تاہم کچھ ایسے بنیاد ی اصول وضع کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے اردو میں موجود دوسری زبانوں کے الفاظ کی شناخت کی جاسکتی ہے اور ان کی اصلیت کا پتہ لگا یا جا سکتا ہے۔
عربی الاصل پہچاننے کے اصول
اصول(۱):ایسے تمام الفاظ، جن میں ث،خ،ذ،ض، ظ اور غ میں سے کوئی ایک حر ف ہو؛تو وہ عربی الاصل ہوں گے، جیسے: وارث، خالد، ذلت، ضمانت، ظرافت،غباوت وغیرہ۔
اصول(۲):چوں کہ عربی الفاظ کے اکثر مادے عام طور پر سہ حرفی ہوتے ہیں، لہٰذا جس لفظ کا اصل مادہ سہ حرفی ہوگا،وہ عموماً عربی الا صل ہوگا،جیسے:منظر،منظور،اعظم،کریم وغیرہ کہ اس کااصل مادہ نَظَرَ،عَظَمَ اورکَرَمَ ہے۔
فارسی الاصل پہچاننے کے اصول
اصول (۱): فارسی کے اصلی حروف چارہیں: پ، چ، ژ اور گ۔ باقی دیگر حروف سامی اور عربی زبان کے ہیں۔ ان میں سے پ، چ اور گ ہندستانی زبان میں بھی استعمال ہوتے ہیں، لیکن حرف ’شصرف فارسی کے ساتھ خاص ہے، لہٰذ ا جس لفظ میں ’ش ہوگا، وہ فارسی الاصل ہوگا، جیسے: مِژْ گاں، ژالہ،پژمردہ، اژدہاوغیرہ۔
اصول (۲): جب کسی لفظ میں فارسی کے مذکورہ چاروں حرفوں میں سے کسی ایک کے ساتھ عربی کے حروف آجائیں؛ تو وہ بھی فارسی الا صل ہوگا، جیسے:چرخہ، خوانچہ وغیرہ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں حرف ’چ‘ ہونے کی وجہ سے عربی کا لفظ نہیں ہوسکتا؛کیوں کہ چار حروف عربی میں نہیں آتے: پ، چ، ژ، گ۔اورآٹھ حروف فارسی الاصل،نہیں ہیں:ث،ح،ص،ض،ط، ظ،ع،ق۔اورنوحروف اردو الاصل نہیں ہیں: ث،ح، ذ،ص، ض، ط، ظ، ع،ق۔بعض لوگوں نے ف اور خ کو بھی غیر اردو الاصل قرار دیا ہے۔
اصول (۳): جب خالص فارسی الفاظ: پ، چ،ژاور گ کے ساتھ ث،ح، خ،ص، ض، ظ، ع، ف اور ق میں سے کوئی ایک حرف آئے؛تو وہ فارسی الاصل ہوگا،جیسے:پائے تخت،پختہ،گفتگو، قینچی، ژرف، ژاژخا، پیدائش، چشم، گنبد و غیرہ۔
اردو الاصل پہچاننے کے اصول
اصول (۱): اردو میں عربی اور فارسی کی طرح ہندستانی زبان کے بھی ڈھیروں الفاظ شامل ہیں،لہذا جس لفظ میں ہندستانی الفاظ: ٹ،ڈ،ڑ اور ھ (دو چشمی)میں سے کوئی ایک حرف ہو، تو وہ اصل اردو کا لفظ ہوگا، جیسے:لڑکا، بیٹا، ڈنڈا،پنکھا،کھٹا، میٹھا وغیرہ۔
اصول(۲):جہاں کہیں دوزبانوں کے الفاظ ایک ساتھ آئیں، جن میں سے ایک ہندی اور دوسرا عربی یا فارسی کا ہو،تووہ الفاظ خالص اردو کے ہوں گے،جیسے:شادی بیاہ، دنگا فساد، دھن دولت، گھربار،دکھ سکھ وغیرہ۔
اصول(۳):اضافت سے بھی الفاظ کی اصلیت پہچانی جاتی ہے۔اضافت زیر،ہمزہ اور ے کے ذریعے کی جاتی ہے،جیسے: دشتِ غم،بیضہء طاؤس،تماشائے گلشن۔اردو میں اضافت عام طور پر اس وقت کی جاتی ہے جب کہ مضاف و مضاف الیہ میں سے کوئی ایک عربی ہو اور دوسرا فارسی ہو، جیسے: صدائے باز گشت،گنبدِ بیضاء، چر خِ کہن، عہدِ گذ شتہ وغیرہ۔
اصول(۴):جن لفظوں میں مکتوبی غیر ملفوظی (جو لکھا تو جائے، لیکن پڑھا نہ جائے)حروف ہوں گے،وہ اصل اردو کے الفاظ نہ ہوں گے، بلکہ کسی دوسری زبان کے الفاظ ہوں گے، جیسے: خواہش، درخواست۔یہ دونوں فارسی کے ہیں۔صلوٰۃ،زک وٰۃ۔دونوں عربی لفظ ہیں۔
اصول(۵):جن کلموں میں مکتوبی حرف اپنی نوعیت کے خلاف پڑھا جائے، تووہ بھی اصل اردو کے نہ ہوں گے،جیسے: موسیٰ،عیسیٰ،دعویٰ وغیرہ۔ ایسے الفاظ عموماً عربی کے ہوں گے۔
مذکورہ بالا اصولوں کی روشنی میں اردو میں مخلوط دیگر زبانوں کے الفاظ کی کسی حد تک شناخت کی جاسکتی ہے اور ان کی اصلیت کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart