زکوٰۃ

مولانا علی احمد صاحب قاسمی





سوال: زکوٰۃ اسلام کا کونسا رکن ہے؟
جواب: زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔
سوال: زکوٰۃ کے کیا معنی ہیں؟
جواب: زکوٰۃ کے لغوی معنی ہیں : اپنے مال کو پاک کرنا یعنی آپ کے مال میں جو دوسروں کے حقوق مقرر ہیں ان کو ادا کرنا۔
سوال:اسلام میں زکوٰۃ کیا اہمیت ہے؟
جواب: یہ اسلام کا بنیادی فریضہ ہے جو قرآن مجید میں نماز قائم کرنے کے فورا بعد زکوٰۃ ادا کرو۔
سوال: زکوٰۃ کا مقصد کیا ہے ؟
جواب: (۱) مجبور، بے بس اور لاچار لوگوں کی غربت دور کرنا ۔
(۲) سماج کی مالی بدحالی کو دور کرنا۔
(۳) اللہ کے دیے مال و دولت میں ضرورت مندوں کے حقوق تسلیم کرنا۔
(۴) زکوٰۃ ادا کرکے بچے مال و دولت کو پاک کرنا۔
(۵) اللہ کی رضا حاصل کرنا اور اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنا۔
سوال: زکوٰۃ کب فرض ہوئی؟
جواب: زکوٰۃ ۲ ؁ ھ میں فرض ہوئی۔
سوال: زکوٰۃ کن لوگوں پر فرض ہے؟
جواب: زکوٰۃ ہر اس مسلمان آزاد عاقل بالغ پر فرض ہے جو اپنی ضرورت کے بعد صاحب نصاب ہو اور اس مال پر پورا سال گذر گیا ہو۔
سوال: صاحب نصاب کس کو کہتے ہیں؟
جواب: مال بقدر نصاب ہو (مثلا سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے۔)
سوال: قرآن مجید کے مطابق زکوٰۃ کے حق دار کون لوگ ہیں؟
جواب: (۱) فقرا :وہ لوگ جن کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہ ہو۔
(۲) مساکین: وہ لوگ جو نادار ہوں حاجت مند ہوں مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے۔
(۳) عاملین علیھا: وہ لوگ جو زکوٰۃ کی وصولی و تحصیل پر مقرر ہوں۔
(۴) مؤلفۃ القلوب: دلوں کو راغب کرنے و موڑنے میں خرچ کی جانے والی رقم ۔
(۵)فی الرقاب: غلاموں کو آزاد کرنے پر خرچ کی جانے والی رقم۔
آج کے پس منظر جو بے گناہ مسلمان جھوٹے مقدموں میں پھنسادیے جاتے ہیں ان کی گردن چھڑانے کے لیے مقدمے کے اخراجات اور جرمانے کی رقم ادا کرنے کے لیے ۔
(۶) الغارمین: مسلمان قرض داری کے قرض کی ادائیگی پر خرچ کی جانے والی رقم ۔
(۷) فی سبیل اللہ: اللہ کی راہ میں کیا گیا ہر کام جہاد فی سبیل اللہ پر خرچ کی جانے والی رقم۔
(۸) ابن السبیل: یعنی مسافر سفر کی حالت میں اگر ایک مسلمان محتاج ہوجائے تو اس کی مدد زکوٰۃ کی رقم سے کی جاسکتی ہے۔
سوال: اگر کوئی شخص زکوٰۃ نہ دے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: ایسا شخص گنہگار ہوگا۔
سوال: زکوٰۃ دینے کے کیا فوائد ہیں؟
جواب: (۱) زکوٰۃ دینے سے مال پاک و صاف ہوجاتا ہے۔
(۲) زکوٰۃ ادا کرنے سے مال بڑھتا ہے۔
سوال: زکوٰۃ دینے کی دعا کیا ہے؟
جواب:
أللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا مَغْنَماً وَ لَا تَجْعَلْھَا مَغْرَمَاً۔
ترجمہ: یا اللہ تو اسے فائدہ مند بنا اسے جرمانہ نہ بنا۔
سوال: کن چیزوں پر زکوٰۃ فرض ہے وہ کتنی قسم کی ہیں؟
جواب:وہ چھ قسم کی ہیں۔
سوال: وہ چھ قسم کون کون سے ہیں جن پر زکوٰۃ فرض ہے؟
جواب: (۱) سونا چاندی۔ (۲) ہر قسم کا مال تجارت۔ (۳) نقد روپیے۔ (۴) زمین کی پیداوار۔ (۵) مویشی جو تجارت کی غرض سے پائے جائیں۔ (۶) رکاز و معادن ( برآمد شدہ دفینہ اور معدنیات)
سوال: زکوٰۃ کا منکر کیا کہلاتاہے؟
جواب: کافر۔
سوال: زکوٰۃ دینے کے کیا اصول ہیں؟
جواب: ہر چیز کا چالیسواں حصہ فرض ہے جیسے سو روپیے میں ڈھائی روپیے۔
سوال: کیا زکوٰۃ میں نیت کرنی ضروری ہے؟
جواب: ہاں نیت کرنا ضروری ہے اگر کسی نے زکوٰۃ بغیر نیت دے دی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
سوال: زکوٰۃ کی رقم کن کو دینے سے زیادہ ثواب ملتا ہے ؟
جواب: زکوٰۃ کے مستحق رشتہ داروں کو ۔
سوال: کچھ ایسے رشتہ داروں کے نام بتائیے جن کو زکوٰۃ دینا افضل ہے؟
جواب: زکوٰۃ کے مستحق بھائی ، بہن، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا، بھانجی، چچا، پھوپھی، خالہ، ماموں وغیرہ۔




 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں