مضامین

آئینۂ حیات مفکراسلام حضرت مولاناابوالمحاسن سیدمحمدسجادؒ-عہدبہ عہد

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

٭اسم گرامی: ابوالمحاسن محمدسجادؒبن مولوی حسین بخشؒ ابن
سیدفریدالدین ؒ
٭والدہ ماجدہ: بی بی نصیرن(نصیرالنساء)ؒ
٭نانابزرگوار: سیدداؤدعلیؒ
٭نسب : جاجنیری سادات
٭مقام ولادت: پنہسہ،بہارشریف نالندہ بہار
٭ولادت: صفر۱۲۹۹؁ھ/دسمبر۱۸۸۱؁ء
٭وفات والدماجد: ۱۳۰۴؁ھ/۱۸۸۶؁ء
٭آغازتعلیم: ۱۳۰۴؁ھ /۱۸۸۶؁ء
٭مدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں داخلہ:شوال ۱۳۱۰؁ھ/اپریل۱۸۹۳؁ء
٭روانگی کانپوراوردارالعلوم کانپورمیں داخلہ:شوال المکرم ۱۳۱۴؁ھ/مارچ۱۸۹۷؁ء
٭دیوبندکاسفراوردارالعلوم دیوبندمیں داخلہ:شوال المکرم ۱۳۱۶؁ھ /مطابق فروری ۱۸۹۹؁
٭دیوبندسےوطن واپسی اورنکاح : ربیع الاول ۱۳۱۷؁ھ مطابق جولائی ۱۸۹۹؁ء
٭مدرسہ سبحانیہ الٰہ آبادمیں داخلہ: غالباًشوال المکرم ۱۳۱۷؁ھ مطابق فروری۱۹۰۰؁ء
٭مدرسہ سبحانیہ سےفراغت : شعبان المعظم۱۳۲۰؁ھ مطابق نومبر ۱۹۰۲؁ء
٭شادی اوررخصتی : ۱۳۲۰؁ھ /۱۹۰۲؁ء
٭حضرت قاری سیداحمدشاہجہاں پوری نقشبندیؒ سےبیعت: ۱۳۲۰؁ھ /۱۹۰۲؁ء
٭مدرسہ سبحانیہ میں دستاربندی: ۱۷تا۱۹/ربیع الاول ۱۳۲۲؁ھ/۳تا۵/جون۱۹۰۴؁ء
٭مدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں تقرر: ۱۳۲۲؁ھ/۱۹۰۴؁ء
٭مدرسہ سبحانیہ الٰہ آبادمیں بحیثیت نائب صدرمدرس تقرر:یکم محرم الحرام ۱۳۲۵؁ھ
/۱۳/فروری۱۹۰۷؁ء
٭الٰہ آبادسےمدرسہ اسلامیہ بہارشریف واپسی:جمادی الاولیٰ۱۳۲۵؁ھ / جون ۱۹۰۷؁ء
٭دوبارہ بہارشریف سےمدرسہ سبحانیہ الٰہ آبادتشریف آوری:ذی قعدہ ۱۳۲۶؁ھ/ اکتوبر
۱۹۰۸؁ء تا ۱۳۲۹؁ھ مطابق ۱۹۱۱؁ء
٭سیاسی فکرکاآغاز: ۱۳۲۶؁ھ /۱۹۰۸؁ء
٭الٰہ آبادسے گیاواپسی: شعبان ۱۳۲۹؁ھ/اگست ۱۹۱۱؁ء
٭مدرسہ انوارالعلوم گیاکی تاسیس(نشأۃ ثانیہ):شعبان ۱۳۲۹؁ھ /اگست ۱۹۱۱؁ء
٭انجمن علماء بہارکی تاسیس: ۳۰/صفرالمظفر۱۳۳۶؁ھ مطابق۱۵/دسمبر ۱۹۱۷؁ء
٭انجمن علماء بہارکاپہلااجلاس: ۵، ۶/شوال ۱۳۳۶؁ھ مطابق۱۴، ۱۵/جولائی ۱۹۱۸؁ء
٭دوسرانکاح : ۱۳۳۶؁ھ مطابق ۱۹۱۸؁ء
٭تحریک خلافت کاآغاز: ۱۳۳۶؁ھ/۱۹۱۸؁ء
٭بمبئی میں دفترخلافت کاقیام: ۱۶/جمادی الثانیہ ۱۳۳۷؁ھ /۲۰/مارچ ۱۹۱۹؁ء
٭گیامیں خلافت کمیٹی کاقیام: رجب ۱۳۳۷؁ھ /اپریل ۱۹۱۹؁ء
٭آل انڈیامسلم کانفرنس لکھنومیں شرکت اور قیادت:۲۱/ ذی الحجہ ۱۳۳۷؁ھ /۱۸ستمبر۱۹۱۹؁ء
٭خلافت کمیٹی کاپہلےاجلاس دہلی میں شرکت: ۲۸/صفرالمظفر ۱۳۳۸؁ھ /۲۳نومبر ۱۹۱۹؁ء
٭جمعیۃعلماء ہندکی تاسیس: ۲۸/صفرالمظفر ۱۳۳۸؁ھ مطابق۲۳/نومبر ۱۹۱۹؁ء
٭خلافت کمیٹی کادوسرےاجلاس امرتسرمیں شرکت: ۵/ربیع الثانی ۱۳۳۸؁ھ مطابق ۲۸/
دسمبر ۱۹۱۹؁ء
٭ جمعیۃ علماءہندکاپہلااجلاس اورمجلس منتظمہ کی باقاعدہ تشکیل :۵تا۹/ربیع الثانی ۱۳۳۸؁ھ
مطابق ۲۸/دسمبر۱۹۱۹؁ءتایکم جنوری ۱۹۲۰؁ء
٭جمعیۃ علماء بہارکادوسرااجلاس : ۲۵/شعبان المعظم ۱۳۳۸؁ھ مطابق۱۴/مئی ۱۹۲۰؁ء
٭جمعیۃ علماء بہارکےتحت دارالقضاکاقیام: ۲۵/شعبان المعظم ۱۳۳۸؁ھم ۱۴/مئی ۱۹۲۰؁ء
٭جمعیۃ علماء ہندکےاجلاس خاص کلکتہ میں شرکت: ۲۲/ذی الحجہ ۱۳۳۸؁ھ مطابق ۶/ستمبر
۱۹۲۰؁ء
٭جمعیۃ علماء ہندکادوسرااجلاس عام دہلی : ۷تا۹/ ربیع الاول ۱۳۳۹؁ھ م۱۹تا۲۱/نومبر
۱۹۲۰؁ء
٭امارت شرعیہ کی تاسیس وبحیثیت نائب امیرشریعت انتخاب:
۱۸،۱۹/شوال ۱۳۳۹؁ھ م۲۵، ۲۶/جون ۱۹۲۱؁ء
٭دفترامارت شرعیہ کاقیام: ۹/ذی قعدہ ۱۳۳۹؁ھ م۱۵/ جولائی۱۹۲۱؁ء
٭گیامیں عظیم الشان جمعیۃ وخلافت کانفرنس : ربیع الثانی ۱۳۴۱؁ھ /دسمبر ۱۹۲۲؁ء
٭حزب اللہ کاقیام: ۹/ذی قعدہ ۱۳۴۱؁ھ م ۲۳/جون ۱۹۲۳؁ء
٭قومی تعلیمی مرکزکاقیام : جمادی الثانیۃ ۱۳۴۳؁ھ مطابق دسمبر۱۹۲۴؁ء
٭اجلاس جمعیۃ علماء ہندمرادآبادکی صدارت: ۱۵/جمادی الثانیۃ۱۳۴۳؁ھ م۱۱/جنوری
۱۹۲۵؁ء
٭جمعیۃ علماء ہندکےادارۂ حربیہ کےسربراہ : ۳۱/مارچ تایکم اپریل ۱۹۳۱؁ء (کئی سال تک)
٭آزادہندکے دستوراساسی کی تسوید: ۱۸/ربیع الاول ۱۳۵۰؁ھ م۳/اگست ۱۹۳۱؁ء
٭جواں سال اکلوتےفرزندمولاناحسن سجاد(فاضل دیوبند)کاانتقال:۱۳۵۳؁ھ/۱۹۳۴؁ء
٭یونیٹی بورڈ لکھنؤکے جلسہ میں شرکت اورتجاویزکی ترتیب:۱۳۵۱؁ھ/۱۹۳۲؁ء
٭بہارمسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی کی تاسیس: ۲۵/اگست ۱۹۳۵؁ء م۲۴/جمادی الاولیٰ
۱۳۵۴؁ھ
٭پارٹی کی پہلی صوبائی کانفرنس اورعہدہ داران کاانتخاب:۱۲، ۱۳/ستمبر۱۹۳۶؁ءم۲۵، ۲۶
/جمادی الثانیۃ ۱۳۵۵؁ھ
٭انڈی پنڈنڈنٹ پارٹی کی حکومت سازی:۱۹/محرم الحرام ۱۳۵۶؁ھ /یکم اپریل ۱۹۳۷؁ء
٭مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی کی حکومت کاخاتمہ:۱۹/جولائی ۱۹۳۷؁ء م۱۰/جمادی الاولیٰ ۱۳۵۶؁ھ
٭نظارت امورشرعیہ کامسودہ : ۱۳۵۶؁ھ مطابق ۱۹۳۷؁ء
٭مدح صحابہ ایجی ٹیشن لکھنؤکی قیادت: ۱۳۵۷؁ھ /۱۹۳۸؁ء
٭بحیثیت ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء ہندانتخاب: یکم جمادی الاولیٰ۱۳۵۹؁ھم۹/ جون ۱۹۴۰؁ء
٭وفات حسرت آیات: ۱۷/شوال المکرم ۱۳۵۹؁ھ /۱۸نومبر۱۹۴۰؁ء بروزسوموار
مدفن: قبرستان خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ
تصنیفات:
٭فتاوی امارت شرعیہ جلداول(محاسن الفتاویٰ)٭حکومت الٰہی ٭مقالات سجاد٭قضایاسجاد٭مکاتیب سجاد٭قانونی مسودے٭خطبۂ صدارت اجلاس مرادآباد
٭امارت شرعیہ- شبہات وجوابات٭تذکرۂ جمعیۃ علماء ہند٭دستورامارت شرعیہ
٭متفقہ فتویٰ علماء ہند٭ وغیرہ ۔
کل مدت حیات: ٭بلحاظ سن ہجری قریب انسٹھ(۵۹)برس دس (۱۰)ماہ
٭اوربلحاظ سن عیسوی قریب اٹھاون (۵۸)برس دس
(۱۰)ماہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: