مضامین

آئی ایس آئی ایس کیخلاف ہندوستانی علماء کی ذمہ داری

محمد ہاشم چوڑیوالان، جامع مسجد، دہلی

مکرمی!
ہندوستانی علمائے کرام پر ان دنوں بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے۔ دنیائے اسلام میں مذہبی بنیادوں پر اشتعال انگیزی پھیلانے والی اسلامک اسٹیٹ نامی عالمی ممنوعہ تنظیم آئی ایس آئی ایس نے موجودہ دنوں ہندوستانی مسلمانوں اور خاص طو رپر نوجوانوں پر ڈورے ڈالنا شروع کردیا ہے۔ ممنوعہ تنظیم کے رسالے ’وائس آف ہند‘ کے دو تین ایڈیشنوں میں بار بار ہندوستانی مسلمانوں کو بھڑکانیوالے مضامین آرہے ہیں۔ حالانکہ ہندوستانی مسلمان آج تک ان کے جال میں نہیں پھنسے ہیں اور نہ ہی ایسے امکانات ہیں مگر اس وقت ضروری ہے کہ علمائے کرام اس پر توجہ فرمائیں اور اس کی بھرپور تردید کریں۔ تنظیم نے ہندوستانی مسلمانوں کو سامنے رکھتے ہوئے آن لائن پروپیگنڈہ مہم چلارکھی ہے تاکہ وہ اپنے دام میں نوجوانوں کو پھانس سکیں۔ان دنوں تنظیم اپنے رسالے ’وائس آف ہند‘ میں شہریت قانون، این پی آر اور این آ رسی جیسے قوانین کے پس منظر میں ہندوستانی مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
مذہبی عفریت کی شکل میں ابھرنے والی تنظیم کو پوری دنیا میں خون خرابہ چاہئے کیونکہ اسی صورت میں وہ معصوم انسانوں کا خون بہاسکتی ہے۔ ایسے میں ان کے سامنے ہندوستان ایک زرخیز علاقہ لگنے لگا ہے۔ وہ این آرسی، این پی آر اور شہریت قانون کیخلاف ہونیوالے احتجاجات کے پس منظر میں پروپیگنڈہ کررہی ہے کہ بھارتی حکومت تمہارے ساتھ ظلم کررہی ہے اس لئے تمہیں اس کیخلاف ہتھیار اٹھالیناچاہئے۔ یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ آج تک کی رپورٹس کے مطابق ہندوستانی مسلمان مذکورہ تمام قوانین یادیگر تنازعات کو اپنے ملک کے اندرونی معاملات بتاتے ہیں اور وہ کسی ایسے دام میں پھنسنے کیلئے تیار نہیں، تاہم فی الحال علماء کے اوپر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ نوجوانوں کو سمجھائیں کہ مذکورہ تنظیم نے مذہب کے نام پر اب تک کتنے خون خرابے کئے ہیں اور کتنی معصوم جانوں کو قبرمیں پہنچادیا ہے۔ہمارے علماء کو بتانا چاہئے کہ ہم فی الحال جس دنیا میں رہتے ہیں وہ ایک گلوبل ولیج ہے اور پوری دنیا ایک ایسا سماج ہے جو باہمدگر مربوط ہے،دنیاکا کوئی مذہب نہ تو تشدد کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہی مہذب دنیا میں ایسی خرافات رواج پاسکتی ہیں۔
مشرق وسطی اور خاص طورپر عراق اور شام میں لاکھوں معصوموں کی جانیں لینے کے بعد بھی اس تنظیم کا دل نہیں بھرا ہے۔ مشرق وسطی میں پرتشدد پھیلاؤ کے دنوں میں آئی ایس آئی ایس نے ’دبیق اور رومیہ جیسے رسالے اس لئے شائع کئے تاکہ وہ نوجوانوں کو خونی کھیل میں شامل کرسکیں لیکن اب جبکہ وہ اس میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے تو اس کا رخ ہمارے ملک عزیز ہندوستان کی طرف ہے۔یہاں کے پرامن مسلمانوں کو وہ مسلسل پروپیگنڈہ کرکے اکسارہے ہیں۔ اس کیلئے آن لائن پروپیگنڈہ تحریکیں شروع کردی ہیں۔ اس کے کارندے ’وائس آف ہند‘ میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے علماء مولانا ارشد مدنی، مولانا محمود مدنی اور سیاسی لیڈران اسدالدین اویسی اور کنہیا کمارکی باتوں میں نہیں آنا چاہئے کیونکہ یہ لوگ بے وقوف ہیں اور یہ لوگ مسلمانوں کو امن کی طرف بلاکران میں جمود وتعطل پھیلانا چاہتے ہیں۔
آئی ایس آئی ایس آن لائن پروپیگنڈہ میگزین ”وائس آف ہند“ کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حال ہی میں القتال میڈیا سینٹر کے ذریعہ تین ایڈیشن سامنے آئے ہیں جن میں جنودالخلافہ الہند وغیرہ نامی مضامین شائع ہوئے ہیں۔ ابھی تک، آئی ایس آئی ایس چند خود پسند بنیاد پرست افراد کے علاوہ ہندوستانی مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ موجودہ تین ایڈیشن کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ اس نے سنجیدگی سے ہندوستانی مسلمانوں کو دماغی طور پر جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ انشاء اللہ کامیاب نہیں ہوسکتی اور نہ ہونے والی ہے۔وہ بار بار پروپیگنڈہ میں ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کااحساس دلانے میں مشغول ومنہمک ہے۔ انہیں ہتھیار اٹھانے پر اکسانے کی کوشش کررہی ہے۔ 24 فروری کو جاری ’وائس آف ہند‘ کے پہلے ایڈیشن میں، آئی ایس آئی ایس نے،ہندوستان میں چند فرقہ پرست گروپوں کے ذریعہ مسلمانوں پر مظالم کا ذکر کیا ہے اور شہریوں میں ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) اور شہریوں کے قومی رجسٹر پر عوامی احتجاجات کے معاملے کو اجاگر کیا ہے۔یہ اور بات ہے کہ ہندوستانی مسلمان ایسی تمام چیزوں کو اپنا اندرونی ملکی معاملہ سمجھتے ہیں اور تمام رپورٹس کے مطابق بہکاوے میں آنے والے نہیں۔
آئی ایس آئی ایس نے حالیہ دنوں امریکہ سے معاہدہ امن کیلئے طالبان کو ’جہاد سے ارتداد تک‘ کا طعنہ دے ڈالا ہے۔ابھی 22اپریل کو جاری ہونیوالے میگزین کے تیسرے ایڈیشن میں مختلف باتوں کا ذکر کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں سے ’غزوۃ الہند‘ کی تیاری کیلئے اکسایا گیا ہے۔مسلمانوں کو ہجومی قتل اور مختلف سانحات کا ذکر کرتے ہوئے متوجہ کیاگیاہے کہ اب بدلہ لینے کا وقت آگیا اس لئے چپ بیٹھنے سے کچھ نہیں ہونیوالا نہیں، گرچہ ہندوستانی مسلمانوں ان کی نفرت انگیزی کو قبول نہیں کرسکتا لیکن اس وقف علماء اور دانشوران کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان حالات پر گہری نظررکھیں اور آئی ایس آئی ایس کی خطرناکیوں کو لوگوں کو سمجھائیں۔ حالانکہ اس سلسلے میں خصوصاً جمعیۃ علماء ہند اور اس طرح کی دوسری تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیاہے اور ممنوعہ تنظیم کی حرکتوں کی شدید مذمت کی ہے تاہم اب اجتماعی مذمت کا وقت آگیا ہے۔جہاں تک ہندوستان کے علما اور مسلم اسکالروں کا تعلق ہے، انہیں داعش کے پروپیگنڈے کو مسترد کرنے اور ان کی تردیدکیلئے آگے آنا ہوگا، انہیں بڑی ذمہ داری کے ساتھ اس کامقابلہ کرنا پڑے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: