مضامین

*آزادئ ہند کی تاریخ اور مسلم علماء و عوام کی قربانیاں

محمد عامر کلواکرتی،* *متعلم عربی ششم،* *ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد

۱۵ اگسٹ ۲۰۲۰ بروز ہفتہ کو ہمارا آزاد ہندوستان اپنی عُمر کے تہتّرویں (۷۳) جشن آزادی منانے جارہا ہے، ۱۵ اگست کی تاریخ ملکِ ہند کی ایک یادگار اور اھم ترین تاریخ ہے، اسی تاریخ کو ھمارا یہ پيارا وطن عزیز انگریزوں کی غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوا، اسی دن انگریزوں کا سورج غروب ہوگیا، تقریباََ دو سو سال کی انتھک محنتوں ، مُسلسل قربانیوں اور جانفشانیوں کے بعد آزادی کا سورج اپنی ضیاء پاش کرنوں کے ساتھ طلوع ہوا،اور آج ہماری اطمینان وسکون کی زندگی یہ سب مسلم علماء و عوام کی دَین ہے ،اگر مسلمان میدانِ جنگ میں نہ اترتے اور علماء مسلمانوں کے اندر جذبۂ آزادی کو پروان نہ چڑھاتے تو پھر شاید كبھی یہ ہندستان غُلامی سے نجات نہیں پا سکتا تھا، یہ ایک تاریخی حقیقت اور نا قابلِ فراموش سچائی ہے کہ مسلمانوں نے ہی سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اس مُلک کو آزاد کرانے کی کوشش کی اور اپنے پیارے آنکھوں میں اپنے پیارے وطن کی آزادی کے خواب لئے جان وتن نچھاور کِیا،سخت ترين اذیتوں کو جھیلا ،خطرناک سزاؤں کو برداشت کیا، طرح طرح کی مصیبتوں سے دو چار ہوۓ ،حالات و آزمائشوں میں گرفتار ہوۓ ؛لیکن برابر آزادیِٔ ہند کا نعرۂ لگاتے رہے اور ہر ہندوستانی کو بيدار کرتے رہے، کبهی میدان سے راہِ فرار اختیار نہیں کی اور نہ ہی کِسی موقع پر ملک و وطن کی محبّت میں کمی آنے دی، اور انگریزوں کے آگے سینہ سپر ہوگئے :
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔

ایک عظیم مؤرخ لکھتے ہے کہ ھمارے آباء و أجداد نے ہندستان کی عظمت اور آزادی کو پامال کرنے والے ان تن کے گورے من کے کالے انگریزوں کواپنے رگوں کے خون کے آخری خطرے تک برداشت نہیں کیا، جسے شاعر نے یوں بیان کیا؛
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے۔
مسلمانانِ ہند ۱۸۵۷ کے بعد نصف صدی تک انگریزی سامراج کو شکست دینے کے لئے تنِ تنہا جنگِ آزادی میں زور آزمائی کرتے رہے اور اِس راہ میں اتنا خون بہایا کہ پوری جنگِ آزادی کے میدان میں دُوسرے مذاھب کے لوگوں نے اتنا پسینہ بهی نہی بہایا ہوگا ،ڈاکٹڑ مظفرالدین فاروقی لکھتے ہے کہ "۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں مسلمانوں نے بہ حیثیت مجموعی جس شدت سے انگریز مخالفت کا ثبوت دیا تھا اُس سے انگریزوں کی آنکھیں کھل گئیں انگریز اچّھی طرح جانتے تھے کہ ہندستان میں مسلمان سب سے بہتر قوم ہے ”
چنانچہ ڈاکٹر ہنٹر لکھتے ہے کہ ” حقیقت یہ ہے کہ جب یہ ملک ہمارے قبضے میں آیا تو مسلمان ہی سب سے اعلٰی قوم تھی وہ دل کی مضبوطی اور بازؤں کی توانائی میں برتر نہ تھے بلکہ سیاسیات اور حکمتِ عملی کے علم میں بھی سب سے افضل تھے ۔
الغرض مسلمانوں نے آزادی کی جنگ میں نا قابلِ فراموش کارنامے انجام دئے ،آئیے! ذرا مختصراً ہم اس تاریخ پر سرسری نظر ڈالتے ہیں کہ جنگ آزادی میں مسلمانانِ ہند نے کیا کارنامے انجام دئے؟:
(۱) انگریزوں کے خلاف پہلی باقاعدہ اور منظّم جنگ سن۱۷۵۴ میں بنگال کے نواب علی وردی خان نے لڑی اور انگریزوں کو شکست دي اس جنگ کو پہلی منظّم اور مسلّح جنگِ آزادی قرار دیا جاتاہے، علی وردی خان کے بعد ان کے نواسے نواب سراج الدولہ نے سن ۱۷۵۷ میں پلاسی اور ۱۷۶۴ میں بکسر کے مقام پر انگریزوں سے لوہا ليا اور انگریزوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا
(۲) میسور (کرناٹک) میں حیدر علی اور ان کے اُلو العزم فرزند فتح علی ٹیپو نے انگریزوں کو پریشان کرکے رکھ دیا،
۱۷۸۲ سے۱۷۹۹ تک ان باپ بیٹوں نے انگریزوں سے چار جنگیں لڑی،شہید ٹیپو کا یہ جملہ” شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے” اس عظیم مجاہد کی بہادری کی آج بھی ياد دلاتی ہے، جب جنرل ہیرس کو ٹیپو کی شھادت کی خبر ملی تو اُس نے یہ ألفاظ ادا کئے "آج سے ہندستان ہمارا ہے”یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ انگریزوں کے دل میں ٹیپو کا کتنا خوف تھا !
(۳)شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے خانوادے نے انگریزوں کے خلاف جہاد چھیڑ دیا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے ۱۸۰۳میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا ،تحریکِ شھیدیں کی قیادت کرتے ہوئے سیّد احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے بالا کوٹ میں اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا
(۴) ۱۸۵۷میں مولانا فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیاجس پر علماءِ دہلی کے دستخط لیے گئے اس فتوے کے آتے ہی علماء و عوام مل کر میدانِ جنگ میں کود پڑے اور ہزاروں کی تعداد میں اپنا لہو پیش کرکے اس سرزمین کو لالہ زار کیا
۱۸۵۷ میں شاملی کے محاذ پر حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ،مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمدؒ گنگوھی ،عظیم المرتبت شخصیات نے انگریزوں سے جہاد کیا اس محاذ پر کئی علماء شہید ہوگئے اور کئی علماء کو انگریزوں نے کالا پانی کی سزا سنائی،
۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں جنرل بخت خان احمداللہ شاہ مدراسی اور مولوی احمد اللہ شاہ فیض آبادی وغیرہ جیالوں نے سرگرم اور قائدانہ رول ادا کیا، مولوی احمد اللہ شاہ فیض آبادی کو انگریزوں نے اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دے کر ان کے سر پچاس ہزار روپیے انعام رکھا
(۵) ۱۹۱۹ میں جمعیت علمائے ہند قائم کی گئی جس کا مقصد انگریزوں کو اس ملک سے بھگانا تھا اس میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن مدنی، حسین احمد مدنی ،عطااللہ شاہ بُخاری، ثناءاللہ امرتسری ،مولانا محمد علی جوہر، اور مولانا آزاد رحمهم الله جیسی عظیم المرتبت شخصیات شامل تھیں۔
(۶) ۱۹۲۱ میں مولانا حسرت موہانی نے مکمل آزادی کا مطالبہ کیا یہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مکمل آزادی کا مطالبہ کیا تھا ،
اس کے علاوہ شاہ ظفر بیگم حضرت محل امجدی بیگم ، بیگم عزیزن ،مولانا برکت اللہ بھوپالی، مولانا عبید اللہ سندھی، علامہ شبلی نعمانی، شاعر اسلام ڈاکٹر علامہ اقبال رحمهم الله وغیرہ ہزاروں لاکھوں جیالوں نے ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں شاملی ،بالا کوٹ محاذ پر ۱۹۱۳ سے۱۹۲۰ تک چلنے والی ریشمی رومال تحریک، ۱۹۲۰ کی تحریکِ ترک موالات، ۱۹۲۱ کی خلافت تحریک، ۱۹۲۲ کی موپلا بغاوت، ۱۹۳۰ کی تحریک سول نافرمانی، ۱۹۴۲ کی ہندستان چھوڑو تحریک، ۱۹۴۶ میں ممبئ میں ہونے والی بحری بیڑے کی بغاوت کی ، حمایت میں ہونے والے مظاہرے اور ایسی مختلف تحریکوں میں قائدانہ رول ادا کیا جس کی پاداش میں ہزاروں مسلمان شھید کیے گئے اور ہزاروں مسلمانوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مورخین کے مطابق علماء کی تعداد ۳۰ ہزار سے پچاس ہزار کے قریب تھی، اتنی بڑی تعداد میں جانوں کا نذرانہ دے کرمسلمانوں نے اِس ملک کو آزاد کرایا
جب وقت پڑا گلستان پہ تو خون ہم نے دیا
جب بہار آئی تو کہتے ہیں تیرا کام نہیں
لیکِن افسوس صد افسوس جن مسلمانوں نے ہندستان كو آزاد کرانے میں سب سے بڑا رول ادا کیا یوں ہی مسلمانوں کے ساتھ آزادی کے بعد سے آج تک سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے ،اُن کی قربانیوں کو فراموش کیا جارہا ہے، جب بھی آزادی کی بات ہوتی ہے تو دو چار مسلمانوں کا ذکر کرکے خانہ پوری کردی جاتی ہے اور ان لاکھوں مسلمانوں کا ذِکر تك نہیں کیاجاتا ،جنہوں نے اس ملک کی آزادی کے لیے قُربانی دی، مُٹھی بھر فرقہ پرستوں کا وہ ٹولہ جس نے جنگ آزادی میں حصہ لینا تو در كنار انگریزوں کی غلامی کرتے ہوئے مجاھدین آزادی اور وطن سے بدترین غدّاری کا ارتکاب کیا وہی غدّار ٹولہ آج برسراقتدار ہے اور مسلمانوں سے حب الوطنی کا ثبوت مانگ رہا ہے، تاریخ کو یک طرفہ فرقہ وارانہ اور غیر منصفانہ انداز میں دوبارہ لکھنے کی مہم چلائ جارہی ہے ،اور مسلمانان ہند کو غددارِ وطن لکھنے اور ثابت کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، ان حالات میں ہم خودبھی آزادیِ ہند میں مسلمانوں کی قربانیوں سے واقف ہونے اور برادرانِ وطن کو بھِی اپنی تاریخ سے واقف کروانے کی ضرورت ہے ۔
(محمّد عامر)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: