مضامین

آزادی خواب کی ادھ کچری تعبیر

مولانا عبدالحمید نعمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت

ماہ اگست کا خیال آتے ہی ہمارے دل و دماغ میں میں ایک مسرت انگیز لہر دوڑ جاتی ہے اوردوڑے کیوں نہیں؟اس سے آزادی کی خوشگوار یادیں اور غلامی کی زنجیریں کٹنے کی آوازیں بھی وابستہ ہیں اور کون کمبخت ہیں اس روئے زمین پر جسے آزادی پسند نہیں۔ آزادی کے متولے تو پرندے تک ہوتے ہیں۔ ایک سوکھی ٹہنی پر بیٹھنے کو سونے کے پنجرے پرترجیح دیتے ہیں۔ انسان تو پھر انسان ہی ہیں، سب سے اشرف و برتر مخلوق ہے، پھر اسے آزادی کی فضا میں سانس لینا کیوں محبوب نہ ہوگا۔غلامی کے برتن اور باورچی خانے کے مرغن،خوش بودار اور لذیذ کھانے کی حیثیت ایک باغیرت اور آزاد انسان کے لیے بھس سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اسے تو جو کی روٹی ہی شاہانہ کھانے کا مزہ دے جاتی ہے۔
جو کی روٹی کھا مگر آزاد رہ (شاد عارفی)
آزادی کا ہر لمحہ ہر اندیشہ پیام ابدیت اور حقیقت سے منور ہوتا ہے ہے۔ اور محکومی و غلامی کا ہر لمحہ ہر اندیشہ نئی مرگ مفاجات کی علامت اور خرافات میں گرفتاری کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
آزاد کا ہر لمحہ پیام ابدیت
محکوم کا ہر لمحہ نئی مرگ مفاجات
آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور
محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات
(علامہ اقبال)
ایسا تو ہوتا ہے کہ وقتی طور پر حریت و آزادی کا جذبہ انسان میں کمزور ہو جائے لیکن بالکل ہی ختم ہو جائے؛ ایسا نہیں ہوتا۔ آزادی کی شمع دل کے کسی بھی گوشے میں ضرور جلتی رہتی ہے۔ چاہے پوری تابانی کے ساتھ جلے، چاہے مدہم مدہم۔
ہمارا ملک ہندستان آج سے 41 سال قبل انگریز کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا؛ لیکن اکابر و اسلاف کی عظیم جدوجہد اور جان و مال کی زبردست قربانیوں کے بعد وہ آزاد ہو گیا۔ اور صرف ہندستان ہی نہیں؛ بلکہ آہستہ آہستہ دوسرے ممالک بھی آزاد ہوگئے۔ آزادی کے بعد ملک بلاشبہ کچھ نوعیتوں اور حیثیتوں سے آگے بڑھاہے؛ لیکن آزادی سے جو توقعات ہندستانی باشندوں نے وابستہ کر رکھی تھیں؛ وہ اب تک پوری نہیں ہوئی ہیں؛ بلکہ یہ کہیے کہ ابھی تک ہم پورے طور پر آزاد ہی نہیں ہوئے ہیں۔ صرف چہرے اور حکمراں بدل گئے ہیں۔ چاہے ہندستان ہو خواہ دوسرے ممالک؛ سب کے سب آج بھی کسی نہ کسی حیثیت سے امریکہ، روس کے محتاج ہیں، دست نگر ہیں، کسی نہ کسی بہانے یہ دونوں طاقتیں اپنی حاکمیت ہمارے اوپر قائم کیے ہوئے ہیں۔ ذہن و فکر کے لحاظ سے تو ہم بالکل ہی غلام ہو کر رہ گئے ہیں۔
ہندستان ہو یا عرب ممالک وغیرہ؛ سب کا یہی حال ہے۔ حالاں کہ اصل آزادی تو فکر و ذہن کی آزادی ہے، جسمانی، سیاسی آزادی سے بڑھ کر۔ یہ تو آزادی کا پہلا قدم ہے۔دشوار ترین سفر تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ فکرو ضمیر ، ذہن و تہذیب کی آزادی کے بغیر ایک زندہ اور باحیثیت قوم اپنے آپ کو کبھی آزاد تصور نہیں کر سکتی۔
جناب ایس نور الحسن صاحب کہتے ہیں کہ’’ ہم نے تو نوآبادیاتی نظام کو جو سامراجیت کی بدترین شکل ہے، نا قابل برداشت بوجھ اتار کر پھینک دیا ہے، لیکن ہم کو اس سے زیادہ گہری صورتوں سے خبردار رہنا چاہیے کہ جو ہمارے خیالات اور عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں، کم خطرناک نہیں ہیں۔ (مقدمہ شہیدان آزادی ، ص؍ایک جلد دوم ایم ایف کی ذہنی اور 1، جلددوم)۔ یہ فکری، ذہنی اورتہذیبی غلامی سیاسی آزادی کو کھا جاتی ہے۔
ملک کو آزادی کے لحاظ سے بہت آگے جانا ہے ، بہت آگے۔ ملک کو آزاد ہونا چاہیے۔ ہر لحاظ سے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ 41 سال بعد بھی ہمیں آزادی کا انتظار ہے۔ ابھی تو ہم جدید ہندستان میں جہیز نہ لانے پر حوا کی بیٹیوں کو جلتے ہوئے دیکھتے ہیں۔اوپر سے لے کر نیچے تک ہمارے لیڈر، نیتا،پولیس افسران، محکمہ کے کارکنان؛ سب کے سب بے ایمانی، دھاندلی، رشوت خوری کی گندگی، کیچڑ میں لت پت ہیں ۔یہ کوئی آزادی ہے؟ کہ سماج دشمن عناصر انسانوں کے قاتل، گھر جلانے والے سہاگن کے سہاگن کو لوٹنے والے، پیارے پیارے اچھے اچھے بھولے بھالے بچوں کو یتیم بنانے والے کمزور اور بوڑھی بے سہارا ماؤں کو بے لال، بے سہارا بنانے والے پیاری بہنوں سے پیارے بھائیوں کو چھیننے والے پوری آزادی سے شہر شہر، گاؤں گاؤں سینہ تان کر گھوم رہے ہیں۔ گلی گلی دندناتے پھر رہے ہیں۔ انہیں کھلی چھوٹ ہے۔ کوئی ان کے گریبان کو پکڑنے والا نہیں۔
کوئی نہیں پوچھتا کہ تمھارے منھ میں کتنے دانت ہیں۔ ان کے لیے جیل نہیں، کوئی عدالت نہیں، کوئی سزا نہیں۔ وہ آزاد اور بے قید ہیں۔ اور جن کے بیٹے جان سے گئے، جن کے گھر جلے، وہ قید میں ہیں۔ وہ عدالت کے چکر میں ہیں۔ یہ کیسی آزادی !!۔
ہمارے یہاں اسکیمیں اور پروجیکٹ بنتے ہیں؛ لیکن عمل نہیں ہوتا۔ صحیح ڈھنگ سے عمل ہونا چاہیے۔ ملک اسی وقت آزاد خیال کیا جائے گا جب آزادی سے وابستہ ہندستانی باشندوں کی توقعات پوری ہو ں۔ ہند کے ہونہار فرزندوں نے جس سنہرے خواب کا سہارا لے کر آزادی کی جنگ لڑی، اس کی صحیح تعبیر ملے۔ تمام فرقوں کے دین دھرم، تشخص، امتیازات باقی رہیں۔ بے روزگاروں کو روزگار ملے۔ بے سہاروں کو سہارا ملے۔ مظلوموں کی داد رسی کی جائے۔ ان پر کوئی ظالم نہ ہاتھ اٹھا سکےاور نہ آنکھ دکھا سکے۔ ملک سے ہر طرح کی فرقہ پرستی ختم ہو۔ سب کے لیے روٹی ہو۔ ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے اسباب مہیا ہوں۔ کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔ سب کو صحیح انصاف ملے۔ لوگوں کی زندگی کے تحفظ کی گارنٹی ہو وغیرہ۔ اگر ان تمام چیزوں کو بر سر اقتدار حکومت روبعمل نہیں لاتی ہے، تو اس کو نکمی حکومت، بے جان سرکار کہا جائے گا۔
آج سے 58 سال پہلے برٹش دور حکومت میں گاندھی جی، پی سی جوشی، سبھاس چندر بوس اور موجودہ وزیر اعظم جناب راجیو گاندھی کے نانا جواہر لال نہرو کے دستخطوں سے ایک عہد نامہ شائع ہوا تھا جس کا مسودہ پنڈت نہرو نے تیار کرنے کے ساتھ (26 جنوری 1930)کو علی الاعلان پڑھ کر سنایا تھا۔ اس عہد نامہ میں یہ پرزوراعلان ملتا ہے۔
’’ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اگر گورنمنٹ ہندستانیوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھتی ہے، یا ظلم و ستم کا نشانہ بناتی ہے، تو عوام کو یہ حق پہنچاتا ہے کہ ایسی گورنمنٹ کو بدل ڈالے۔‘‘
اس مذکورہ اعلان کے الفاظ کو لاکھوں کروڑوں عوام نے سنا اور اپنی زبانوں میں دوہرایا۔ ضرورت ہے برسراقتدار سرکار اس بھلائے ہوئے عہد کو پھر سے دوہرائے۔
آزادی کے 41 سالوں میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا، اس سلسلے میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے؛ لیکن میں یہاں گاندھی جی کے ایک زندہ خواب پر ،(جو انھوں نے بیداری کی حالت میں دیکھا تھا) اپنی بات ختم کر دینا چاہتا ہوں۔
’’ میں آزاد بھارت میں ایک نئے دور کا آغاز چاہتا ہوں (یا بقول پنڈت نہرو نئے معاشرے کی تشکیل نو) میری خواہش ہے کہ ہر ہندستانی جسمانی و ذہنی طور پر آزاد ہو۔ میری دنیائے تخیل میں آزاد ہندستان آباد ہے اور میری چشمِ تصور ایک ایسے ہندستان کا مشاہدہ کر رہی ہے جو طبقاتی کشمکش میں مبتلا نہ ہو گا، جہاں کے باشندے چھوت چھات سے آزاد ہوکر کسی شخص کو ذات پات، امیری غریبی اور مذہب کی بنیاد پر حقیرنہیں سمجھا جائے گا، جس میں مختلف قومیں شیروشکر کی طرح رہیں گی اور اپنی تہذیب و تمدن، جان و مال اور ناموس کو محفوظ پائیں گی۔ اس نئے ہندستان میں ہندستانی قومیت کا تصور یہ ہوگا کہ ہم تمام انسانوں کو اپنا بھائی سمجھیں گے اور انسانوں کے درمیان کوئی فرق روا نہ رکھیں گے۔ اس میں وطن کی محبت ہماراجزو ایمان ہوگی۔ اس میں ہماری حب الوطنی مذہب کے تابع ہوگی نہ کہ مذہب الوطنی کے تابع ہوگا۔‘‘
ضرورت ہے کہ گاندھی جی کے اس زندہ خواب کی تعبیر نکالی جائے، سب کو مل جل کر حکومت عوام کے ساتھ، اور عوام حکومت کے ساتھ۔ اس کے بغیر آزادی کا سپنا بھی ادھورا رہے گا اور اس کی تعبیر بھی ادھوری۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آزادی کے بعد کچھ نہیں ہوا؛ بہت کچھ ہوا ہے؛ لیکن یہ ہمارے بزرگوں اور عوام کے دیکھے خوابوں کی ادھ کچری تعبیر ہے کہ مکمل!۔
(ہفت روزہ الجمعیۃ 9 اگست 1988)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: