زبان و ادب

آزاد نظم

: زین العابدین ندوی دارالعلوم امام ربانی، نیرل۔ مہاراشٹر

حقیقت اور شئ ہے شکل دکھلانے سے کیا ہوگا
محافل میں دلوں کو یار بہلانے سے کیا ہوگا

صداقت سامنے آکر رہے گی ایک دن آخر
کسی کے پاس رہ کر کان سہلانے سے کیا ہوگا

مناصب کے لئے لڑنا نہیں مومن کا شیوہ یہ
دو روزہ زندگی میں ان کو پا لینے سے کیا ہوگا

شرافت منزلت قدر ومروت خود خدا دے ہے
کسی کے سامنے پھر ہاتھ پھیلانے سے کیا ہوگا

تصنع سے تکلف سے نہیں ممکن جہانبانی
تو پھر اس دو رخے چہرے کو اپنانے سے کیا ہوگا

جہاں پر دین کے پردہ میں آسائش کا ساماں ہو
وہاں پر گفتگو اے زین دہرانے سے کیا ہوگا

زمانہ جانتا ہے سب معائب اور محاسن بھی
کسی کے راز کو محفل میں بتلانے سے کیا ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: