اہم خبریں

آفتاب ِحریت حضرت ٹیپو سلطان ؒ

طیب ظفر

8668705379
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی بیرونی ملک کے کسی بادشاہ نے ہندوستان پر حملہ کیا ہے تو ہمارے یہاں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے وطن کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔حالانکہ ہمارے یہاں بھی بہادر حکمرانوں کی کمی نہیں رہی ہے۔ جب کبھی ہمارے دیش کے حکمرانوں نے متحد ہوکر کوئی جنگ لڑی ہے اس میں انہیں کامیابی ملی ہے اور دشمن بھاگتا نظر آیا۔ہمارے وطن میں بھی شیواجی،پرتھوی راج چوہان،نظام حیدرآباد اور حیدر علی ایسے حکمراں ہوے ہیں جنہوں نے وطن کی حفاظت کی ہے اور دشمنوں کے پیرہندوستان میں جمنے نہیں دیئے ہیں۔ان میں میسور کے ٹیپو سلطان بھی ایک ایسے نواب ہوے ہے جس نے اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہوے اپنا تن من دھن سب کچھ نچھاور کردیا ہے۔
اے میرے پیارے ہندوستان میری محبت اور میرا دل تیرے لیے ہے۔میری حیات اور میرا وجود تیرے لیے ہے۔میرا خون اور میری جان تیرے لیے ہے۔یہ جملے ہے شہید ِ اعظم مجاہدِآزادی ٹیپوسلطان ؒکے۔محمود بنگلوری نے اس شیر ِ ہندوستان کو خراج ِ عقیدت پیش کرتے ہوے کہا تھا۔
اب بھی کانوں میں آتی ہے یہاں آوازِ شہید
قطرہ خونِ شہیداں میں ہے جانِ زندگی
حقیقت ہے کہ دوسوبیس سال گزرجانے کے بعد بھی اس مردِمجاہد کی بہادرانہ گرجدار آواز آج بھی ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے۔ٹیپو سلطان کی پیدایئش ۲۵۷۱؁ بروز منگل کو ہوئی۔یہ نواب حیدر علی کے بیٹے تھے۔حیدر علی بھی ہمیشہ انگریزوں کے ساتھ سینہ سپر ہوکر لڑتے رہے۔ حیدر علی نے اپنے فرزند ٹیپو سلطان کو اس طرح تربیت دی تھی کہ وہ انگریزوں کے لیے مردِ آہن ثابت ہوا۔ٹیپو میں غیرت،حمیت،خودداری،جواں مردی،دلیری،عزم و استقلال کے تمام اوصاف موجود تھے۔مصیبت میں گھبرانا ان کا شیوہ نہیں تھا۔وہ بڑی ہوش مندی اور دور اندیشی سے ہر مصیبت کا سامنا کرتا تھا۔اس کی زندگی کا بیشتر حصہ میدانِ جنگ میں ہی گزرا اور آخری دم تک وہ انگریزوں سے لڑتا رہا۔
حیدر علی اور ٹیپو سلطان کی زندگی میں چار پانچ بڑے معرکے انگریزوں سے ہوے۔ ۶۱۷۱؁ میں حیدر علی نے میسور کی باگ ڈورسنبھالی تھی۔اس وقت انگریز لگ بھک پوری طریقے سے ہندوستان میں پیر جما چکے تھے۔مدارس پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا قبضہ ہوچکا تھا۔ٹیپو سلطان نے انگریزوں سے پہلامقابلہ ۷۱سترہ سال کی عمر میں کیا اور انگریزوں کو دھول چٹایئ۔ٹیپو سلطان نے محمد فاتح کی روایت کو قایئم کیا کیوں کہ محمد فاتح نے بھی ۷۱ سال کی عمر میں ہی قسطنطیہ فتح کیا تھا۔دوسری لڑائی میں حیدرعلی نے اہم مورجو ں کے لیے اپنے شجیع وتلوار کے دھنی پسر ٹیپو سلطان کا انتخاب کیا۔اس وقت ٹیپوسلطان ۹۲برس کے تھے۔ٹیپو سلطان اور ہیلی کا مقابلہ بڑے زور وشور سے ہوا چنانچہ انگریز وں کے چھکے چھوٹ گیئے۔ اور حیدر علی کی فوج کا ویلور پر قبضہ ہو گیا۔سینکڑوں انگریز مارے گیئے اور دو ہزار کی تعداد میں مقید کر لیے گیئے۔جس وقت ٹیپو سلطان انگریزوں کے خلاف مورچہ بند ی سنبھالے ہوے حدرعلی بیمار ہو گیئے نیز ٹپو کو محاذِ رزم سے واپس آنا پڑا اور وہ ابھی راستے میں ہی تھے کہ حدرعلی جو اسمِ با مسمی تھا،ٰ انتقال فرما گیئے۔ ٹیپو کے لیے یہ مرحلہ بڑا ہی کشمکش کا تھا۔ایک طرف باپ کی موت تو دوسری طرف انگریزی فوجوں کا مقابلہ جو پورے ہندستان کو اپنا لقمہ تر بنانا چاہتے تھے مگر ٹپو سلطان کو یہ برداشت نا تھا کہ کوییئ بدیسی اس کے پیارے وطن پر قابض ہوجاے۔
چنانچہ وہ انگریزوں کے مقابلے کے لیے بھر جوش و خروش سے تیار ہوگیا جو تیغوں کے ساے میں پل کر جوان ہوا تھا،جس نے شباب کو وطن کی خاطر اپنی لہوکی آگ میں جھونک دیا تھا۔ پالکی میں شاہانہ طور پر بیٹھنا گوارہ نہ کر کے شمشیر و سناں کو اپنا بستر بنایا۔دریجوں اور بالا خانو ں کی ہوا خوری کے بجاے میدان ِ جنگ کے تپتے ہویئے ریگزاروں سے گزرنے والی دِسموم کو وطن کی آزادی کے لیے ترجیح دی۔ ۳۸۷۱؁ میں ٹپو کی فوجوں کا انگریزوں سے زبردست مقابلہ ہوا۔انگریزوں کی یہ فطرت تھی کہ جب ان کو شکست ہونے لگتی تو فوراََ صلح نامہ کی پیش کش کر بیٹھتے اور اس درمیا ن انہیں اپنی فوج کو مستحکم کرنے کا موقع فراہم ہوجاتا۔ سنتِ رسول اور شیوہ اسلام کے باعث ٹیپو کا حال اس شعر پر صادق آتا ہے۔
پھر سہو ہوگیں تری وعدہ خلافیاں
پھر انتظار ہے مجھے عہدِ جدید کا
اس جنگ اور صلح کے بعد انگریزوں سے تیسری رستاخز جنگ ہوئی جو میئ ۰۹۷۱؁ سے شروع ہوکر دسمبر ۰۹۷۱؁ تک جاری رہی۔ اس جنگ میں بنگلور پر انگریزوں کا قبضہ سلطان کے ساتھ کرشنا راؤ کی غداری کے سبب ہوا۔ ٹیپو کو جب یہ خبر ملی تو کرشنا راؤ کو گرفتار کرکے بھانسی کی سزا دے دی اور قمرالدین کو قیادت سونپ دی جس نے ابھی تک بے وفائی نہیں کی تھی چنانچہ یہ انگریزوں کے ساتھ بڑی جواں مردی سے لڑا اور دشمن کو پسپا ہونا پڑا۔انگریزوں کو ذلت،رسوائی اور شکست ہاتھ آئی۔
آخری جنگ بڑی قیامت انگیز اور لرزا خیز ہوئی۔اس جنگ میں سلطان کی تمام تدبیریں ناکام ہویں ناکامی کی وجہ سے سلطان کے کیئ میر تھے، وزیرعظم میر صادق،میر عالم،میر قمرالدین اور ان کا ساتھ دینے والے غلام علی لنگڑا اور پورنیا بھی تھے۔یہ سب ضمیر فروش ہو کر انگریزوں ساتھ مل گیئ ان میں میر صادق اپنے غدّارانہ کردار کے لیے سرِ فہرست ہے۔ان غدّاروں کی خفیہ سازش کی وجہ سے انگریزوں کو کامیابی ملتی رہی۔اقبال نے اپنے شعر میں میر صادق کو حقارت بھرے الفاظ میں پیش کیا ہے۔
جعفر از بنگال،صادق از دکن ننگ ملتِ دیں،ننگ وطن
۴ میئ ۹۹۷۱؁ کو ٹیپو سلطان کا قلعہ چاروں چرف سے گھیرے میں آچکا تھا۔سلطان کی فوج اور اہل و عیال سب خطرے میں آجکے تھے۔ گو سلطان کے پرایئوٹ سیکریٹر ی حبیب اللہ نے ٹیپو کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی جان اور اولاد پر رحم کھایئں۔ٹیپو نے بہادرانہ جواب دیا کی۔انسان کو موت صرف ایک ہی بار آتی ہے اور اس سے ڈرنا لا حاصل ہے۔ میں اپنی ذات اوراپنی اولاد کو دین ِ محمدی پر نثار کرنے کا فیصلہ کر چکا ہوں۔ انگریزوں نے چارو طرف سے حملے کردیے۔ ٹیپو سلطان دہلی دروازہ سے باہر نکلا اور انگریزی فوج کا مسلسل مقابلہ کرتا رہا اور جب سلطان نے دروازے سے اندر آنے کی کوشش کی تو ٹیپو کو واپس آتا دیکھ کر نمک حرام،منحوس میر صادق نے دروازے بند کرلیا۔ لگاتار لڑتے لڑتے سلطان کے جسم پر کیئ زخم لگ چکے تھے۔زمین سیکڑوں مجاہدوں کے خون سے لال زار ہوچکی تھی۔ سلطان کی حالت دیکھ کر ان کہ ایک نو مسلم خادم ایاز علی خاں نے مشورہ دیا کہ انگریزوں کے سامنے ہتھیار ڈالدیں سلطان نے قہر و جلال بھرے لہجہ میں کہا….گیدڑ کی صدسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی اچھی ہے۔
کچھ دیر کے بعد سلطان کے گھوڑے کو غولی لگی اور وہ زمین پر گر گیا سلطان پیاس سے بھی بیتاب تھا۔ جنگ کا میدان کربلا کا میدان بنا ہوا تھا اور حیدر علی کا فرزند،فاطمہ کا لختِ جگر،ہندوطن کا حسین ٹیپو سلطان پانی کے قطرے قطرے کے لیے ترس رہا تھا اور پیادہ ہی انگریزوں کے جتھے سے لڑتا رہا۔ متواتر فایئر کر کے پانچ فرنگیوں کو ٹھنڈ ا کیا۔ اسی اثنا میں ایک گولی ٹیپو کے سر میں لگی دوسری گولی مضروب ہاتھ میں لگی جس کی وجہ سے ٹیپو کا ہاتھ بیکار ہوگیا لیکن وہ پھر بھی کھڑا رہا اچھانک گولی دل پر لگی اور وہ شہید ہو گیا۔
تمام رات قلعہ میں قیامت انگیز طوفان برپا رہا۔ اگلے روز صبح ہوتے ہی سلطان کی لاش دوسری لاشوں سے ڈھونڈ کر نکالی گیئ۔ جنرل ہارس نے جب سلطان کی لاش دیکھی تو بے ساختہ پکار اٹھا … آج ہندوستان ہمارا ہے۔
سلطان کے شہید ہوتے ہی ہندستان کی آزادی کا خاتمہ ہوگیا اور پورے ملک پر انگریزوں کا تسلط قایم ہو گیا اور آہستہ آہستہ ایسا قبضہ جمایا کے ہندستان ڈیڑھ سو ساک بعد آزاد ہوسکا۔ہم اس کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرسکتے۔اس کا ذکر کیئ بغیر تاریخ کے اوراق ہمشہ ادھورے رہیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: