اہم خبریںمضامین

کیا آل انڈیا مسلمان پارٹی نام رکھنا غلط ہے؟

محمد سفیان القاسمی گڈا جھارکھنڈ

کئی لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں کئی سیاسی پارٹیاں ایسی ہیں جن کے نام میں مذہبی شناخت موجود ہے جیسے شیو سینا اور اکالی دل وغیرہ، لہذا اگر مسلمان ایسی سیاسی پارٹی بناءے جس کے نام میں مسلمان لفظ ہو مثلاً آل انڈیا مسلمان پارٹی تو اس میں کیا حرج ہے؟

بلاشبہ اس طرح کا نام رکھنا شرعی اعتبار سے کوئی غلط نہیں اور اگر الیکشن کمیشن اس پارٹی کو منظوری دے دیتی ہے تو قانونی اعتبار سے بھی غلط نہیں ہے لیکن اس طرح کا نام رکھنا حکمت عملی کے اعتبار سے انتہائی غلط ہے اور کامیابی صحیح حکمت عملی اپنانے سے ہی ملتی ہے

سیاسی حکمت عملی یہ ہے کہ جس ملک یا ریاست میں الیکشن لڑنے کے لئے پارٹی قائم کرنا ہے وہاں کتنے مذاہب کے لوگ ہیں، اگر مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ ہوں تو وہاں پارٹی کا ایسا نام رکھا جائے جو تمام مذاہب والوں کے لئے قابل قبول ہو ایسا کوئی مذہبی شناخت والا نام نہ رکھا جائے جس کی وجہ سے دوسرے مذہب والوں کو اس کا ممبر بننے میں رکاوٹ ہوں کیونکہ اگر مذہبی شناخت والا نام رکھا جائے تو جس مذہب کی شناخت ہوگی صرف اسی مذہب سے وابستہ لوگ اس پارٹی سے جڑیں گے دوسرے مذہب کے لوگ اس پارٹی سے نہیں جڑنا چاہیں گے اکا دکا لوگ ہی جڑیں گے. اب اگر اس مذہب کے ماننے والے اکثریت میں ہیں تو پھر اتنا مضائقہ نہیں لیکن اگر کسی مذہب کے لوگ اقلیت میں ہوں اور اس اقلیت کی مذہبی شناخت والا نام رکھا جائے تو یہ کوئی حکمت عملی نہیں بلکہ سخت ترین غلطی ہے، کیوں کہ جب آپ نے نام ہی ایسا رکھا ہے تو دوسرے مذہب کے لوگ اس پارٹی کا ممبر بننا کیسے گوارہ کریں گے اور جب ممبر نہیں بنیں گے تو پھر کامیابی کیسے ملے گی، مثال کے طور پر اگر الیکشن لڑنے کے لئے قائم کی جانے والی سیاسی پارٹی کا نام آل انڈیا قریش پارٹی رکھا جائے تو اس پارٹی میں سید، شیخ اور انصاری وغیرہ کیوں شمولیت اختیار کریں گے اسی طرح اگر پارٹی کا نام آل انڈیا شیخ پارٹی ہو تو قریش اور سید وغیرہ اس پارٹی سے کیوں جڑیں گے

یہی وجہ ہے کہ جس جاتی یا برادری کے لوگوں کو کامیابی حاصل کرنا ہے وہ اپنی جاتی کے نام سے پارٹی کا نام نہیں رکھتے بلکہ اس کا ایسا نام رکھتے ہیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو جیسے راشٹریہ جنتا دل، جنتا دل یونائیٹیڈ، جھارکھنڈ مکتی مورچہ وغیرہ یہاں تک کہ جن سنگھ کے نام سے جو پارٹی بر سہا برس سے چلی آرہی تھی اس نے اپنا نام بھارتیہ جنتا پارٹی رکھ لیا تاکہ نام کی وجہ سے کسی دوسرے مذہب والے کو اس میں شامل ہونے میں رکاوٹ نہ ہو

لیکن مسلمان جو اقلیت میں ہے اس پر بضد ہوتا ہے کہ ہرگز نہیں، ہر حال میں پارٹی کا نام آل انڈیا مسلمان پارٹی ہی رہے گا، وہ یہ سمجھتا ہے کہ چودہ فیصد مسلمان اس نام سے خوش ہیں یہی کافی ہے اسی فیصد لوگوں کے لیے قابل قبول ہو یا نہ ہو اس سے ہمیں کیا لینا دینا، ظاہر ہے کہ صرف چودہ فیصد سے کیا ہوگا وہ بھی جب کہ منتشر ہو. اسی غلط حکمت عملی کی وجہ سے مسلمان ستر سالوں سے کوئی سیاسی مضبوطی حاصل نہیں کر سکے اور مسلمانوں سے کم تعداد رکھنے والی جاتی کے لوگوں نے کامیابی حاصل کی اور اقتدار بھی قائم کیا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: