اسلامیات

آپ کا رب کون ہے؟

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

قرآن میں مذکور ہے کہ دورانِ بحث فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا: ‘‘اے موسیٰ تمہارا رب کون ہے’’۔ (طٰہٰ 49 : 20 )۔ بالفاظ دیگر، اہم ترین سوال یہ ہے کہ خدا کون ہے۔ مذکورہ سوال موسیٰ علیہ السلام کے لئے ایک آزمائش تھا۔ فرعون کے اس سوال کے پس پشت اس کی ایک چال تھی۔ ‘‘کون’’ کے لفظ سے فرعون کی مراد تھی کہ خدا کوئی شخص ہے۔ لیکن خدا کوئی شخص نہیں ہے۔ وہ فی نفسہٖ موجود اور ماورا ہے۔ وہ تمام موجودات سے بالکل جدا اور مختلف ہے۔ اللہ نے خود اپنے بارے میں فرمایا ہے کہ اس کا مثل کوئی نہیں ہے۔ (الشوریٰ 42 : 11 )۔
البتہ اللہ کے اسماء ہیں۔ وحی کے ذریعہ اس نے اپنے ناموں کو آشکار اکیا ہے۔ فرعون کے مذکورہ بالا قصے سے قبل کی آیت میں اللہ فرماتا ہے: ‘‘اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے بہترین نام ہیں’’۔ (طٰہٰ 8 : 20 )۔ یہ اسماء انسان کو اللہ کی صفات کے بارے میں مطلع کرتے ہیں۔ حدیث میں رسول اکرم ؐ نے اللہ کے 99 اسماء بیان کئے ہیں (ترمذی اور ابن ماجہ)۔ البتہ قرآن میں اللہ کے تقریباً 150 اسماء مذکور ہیں۔ رسول اکرم ؐ نے جن 70 اسماء الہی کا ذکر کیا ہے وہ قرآن میں موجود نہیں ہیں۔ (غرضیکہ قرآن اور حدیث میں 220 اسماء الٰہی ملتے ہیں)۔ الغفور، العلیم اور العزیز اسماء الٰہی ہیں ان سے اللہ کی ذات اور صفات کا کچھ اندازہ ہوتا ہے اور اور اس کے افعال پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے مذکورہ بالا سوال اس لئے بھی کیا کہ یہ معلوم ہو کہ واقعۃً موسیٰ علیہ السلام کو حقیقی وحی موصول ہوئی یا نہیں۔ اس نے موسیٰ علیہ السلام سے اللہ کی صفات کے بارے میں استفسار کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو یہ جواب دیا: ‘‘ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی صورت عطا کی اور پھر ہدایت دی’’۔ (طٰہٰ 50 : 20 )۔ یہ مختصر جواب فرعون کے لئے غیر متوقع اور انوکھا تھا۔ لیکن یہ دراصل ایک اہم دینیاتی حقیقت کا بیان ہے۔ اس سے اللہ کی رحمت اور شفقت کی بنیادی صفات کا علم ہوتا ہے اس سے رحمت اور شفقت کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں وجود کا راز بھی پنہاں ہے۔
آئندہ صفحات میں ہم رحمت اور شفقت کی ماہیت اور اصل کے بارے میں گفتگو کریں گے۔
رحمت
عربی میں خدا کا نام اللہ ہے۔ البتہ قرآن کی رو سے اللہ کا نام اس کے ایک دوسرے نام الرحمان کے مساوی ہے۔ الرحمن سے مراد ہے انتہائی رحمت والا۔ اللہ کا فرمان ہے : ‘‘اس کو اللہ کے نام سے پکارو یا الرحمن کے نام سے پکارو۔ تم جو بھی نام سے پکارو، اللہ ہی کے لئے بہترین نام ہیں’’۔ (الاسراء 110 : 17)۔ اس سے مراد ہے کہ رحمت اللہ کی اصل ہے۔ اللہ نے قرآن میں ایک مقام پر فرمایا ہے : ‘‘اللہ نے اپنے اوپر رحمت لکھ لی ہے’’۔ (الانعام 54 : 6 )۔ رسول اکرم ؐ کا قول ہے : ‘‘جب اللہ نے تخلیق کا عمل انجام دیا تو اپنے عرش پر ایک مقام پر اس نے یہ لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھ کر ہے’’۔ (بخاری اور مسلم)۔
اللہ کی رحمت ہر شے کو محیط ہے (الاعراف 156 : 7 )۔ اللہ فرماتا ہے: ‘‘ہر ایک کو ہم یہ اور وہ عنایت کرتے ہیں۔ یہ تمہارے رب کی جانب سے عنایت ہے اور تمہارے رب کی عنایت محدود نہیں ہے (الاسرا 20 : 17)۔ انسانوں کی تخلیق اللہ کی رحمت کے باعث ہے۔ اللہ فرماتا ہے : ‘‘الرحمن نے قرآن سکھایا۔ اس نے انسان کی تخلیق کی اور اسے گفتگو کی قوت عطا کی’’۔ (الرحمن 1-4 : 55 )۔
قرآن رحمت الٰہی سے عبارت ہے۔ قرآن کی 114 سورتوں میں سے 113 سورتیں اس جملے سے شروع ہوتی ہیں: ‘‘بسم اللہ الرحمن الرحیم’’، اس سے واضح ہے کہ قرآن اور اسلام 99 فیصد سے زائد رحمت کے بارےمیں اور ۱ فیصد سے کم انتقامی انصاف کے بارے میں ہے۔ گو کہ یہ انصاف بھی دراصل رحمت کی ہی ایک شکل ہے۔ صرف سورہ التوبہ کا آغاز بسم اللہ کے بغیر ہے، اس میں قتال اور منصفانہ جنگ کا تذکرہ ہے۔ البتہ بسم اللہ سورۃ النمل کی آیت 30میں بھی مذکور ہے۔ غرضیکہ رحمت کا تذکرہ قرآن پر حاوی ہے۔ رحمت الٰہی میں تاخیر ممکن ہے لیکن اس سے کوئی محروم نہیں ہے۔ رحمت سے مراد یہاں براہ شفقت اور ازراہ خیر عطا اور بخشش ہے۔ نبی اکرم ؐ کی بعض احادیث اپنی اہمیت کے لحاظ سے الحدیث الاول سے موسوم ہیں اور اسلامیات کے طالب علم سب سے پہلے ان ہی کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ایک الحدیث الاول میں آتا ہے : ‘‘رحم دل لوگوں کو الرحمن عطا کرتا ہے۔ روئے زمین پر موجود تمام مخلوقات پر رحم کرو اور عالم بالا سے تمہارے اوپر رحمت عطا ہوگی’’۔ (ترمذی)۔
محبت
رحمت محبت کی ایک قسم ہے البتہ محبت خاص قسم کی رحمت ہے۔ قرآن میں الودود بہی اسم الٰہی مذکور ہے۔ اس کے علاوہ اس کے دوسرے نام بہی ہیں۔
اللہ ہی ہے بخشنے والا، محبت کرنے والا، عرش کا مالک اور بڑی شان والا۔ (البروج 14-15 : 85)
اللہ کی کرسی زمین اور آسمان کو محیط ہے (البقرہ 255 : 2 )۔ اللہ اشیاء اور کلیات بالخصوص مخلوقات پر اپنی رحمت برساتا ہے۔ رحمت عطیۂ الٰہی ہے۔ محبت اسی عطیہ الٰہی کی کلّی شکل ہے۔ رحمت کے باعث ہمیں اشیاء حاصل ہوتی ہیں اور محبت ایک ذاتی عطیہ ہے۔ اپنی ایک نظم Song of Experience (1794ء) میں انگریزی شاعر ولیم بلیک رقم طراز ہے: ‘‘محبت بے غرض ہوتی ہے اور وہ دوسروں کو راحت دیتی ہے اور شدید مایوسی کے عالم میں جنت کی مانند ہوتی ہے’’۔ اپنی مثنوی میں جلال الدین رومی (672ھ ۔ 1273ء) لکھتے ہیں: ‘‘اہل ثروت کی شان اپنی دولت عطا کرنا ہے جبکہ عاشق اپنی روح کا نذرانہ پیش کرتا ہے’’۔
رحم دل لوگ ایک دوسرے کے حق میں حتی کہ جانوروں اور پودوں کے حق میں بھی شفیق ہوتے ہیں۔ البتہ عشق کی صورت میں لوگ اپنا وقت، اپنا سب کچھ برضا و رغبت نچھاور کردیتے ہیں۔ عشق اور محبت میں یہ رویہ عام ہے۔ اپنی غزل میں کرسٹینا روزیٹی (م 1894ء) نے ان ہی جذبات کا اظہار کیا ہے: ‘‘عشق میں من و تو کا فرق معدوم ہوجاتا ہے۔ عشق میں گرفتار دو اشخاص ایک جان ہوجاتے ہیں۔ شدید عشق میں تیرے اور میرے کا فرق مٹ جاتا ہے۔ دونوں عشق کی بدولت قوی تر ہوجاتے ہیں کیونکہ عشق ان کو ایک جان دو قالب کردیتا ہے’’۔
عشق محبت کی ایک شدید شکل ہے اور یہ روحانی لحاظ سے فائدہ مند ہوتی ہے۔ نور الدین جامی (817ھ ۔ 897ھ/ 1414 ۔ 1492ء) رقم طراز ہیں: ‘‘تم خواہ کتنی ہی طبع آزمائی کرلو، عشق ہی تم کو تمہاری انا سے آزاد کرسکتا ہے۔ لہٰذا عشق سے فرار نہ ہو، گو کہ یہ عشق ارضی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ عشق تم کو عشق حقیقی کے لائق بناتا ہے’’۔ (یوسف اور زلیخا، مقدمہ)۔ ہر چند کہ باہمی عشق ایک شدید اور تند جذبہ ہوتا ہے لیکن یہ محبت کی اعلیٰ ترین شکل نہیں ہے۔ انسان کا عشق حقیقی صرف اللہ سے ہوسکتا ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے:
بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے برابر دوسروں کو بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسے اللہ سے محبت۔ لیکن اہل ایمان کو اللہ سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ (البقرہ 165 : 2 )۔
بہت سے لوگ شدید عشق میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن چند ہی افراد کو اللہ سے شدید محبت کا تجربہ ہوتا ہے جس کا ذکر مذکورہ بالا آیت میں ہے۔ اس کی تفہیم کے لئے ہمیں پہلے محبت کی ماہیت سمجھنا چاہئے۔
محبت ایک جذبہ ہے جس کی وضاحت الفاظ سے ممکن نہیں۔ نبی اکرم ؐ کا قول ہے: ‘‘اللہ جمیل ہے اسے جمال پسند ہے’’(مسلم)۔ اس سے مراد ہے کہ عشق حقیقی کا تعلق حسن سے ہے۔ حسن عاشق کو اپنی جانب بآسانی مائل کرتا ہے۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے:
سو جس نے دیا اور ڈرتا رہا اور نیک بات کو حق سمجھا تو ہم اس کو آسانی سے پہنچا دیں گے۔ (اللیل 5-7 : 92 )
حسن کی دو قسمیں ہیں : ظاہری اور باطنی۔ظاہری حسن کا تعلق شکل اور صورت سے ہوتا ہے جبکہ باطنی حسن روح سے متعلق ہے۔ نبی اکرم ؐ کا قول ہے: ‘‘اللہ تمہاری شکل و صورت کو نہیں دیکھتا نہ تمہارے مال و دولت کو بلکہ وہ تمہارے قلب اور تمہارے افعال کو پیش نظر رکھتا ہے’’ (مسلم)۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ ظاہری حسن کے بالمقابل باطنی حسن زیادہ قدر و قیمت کا حامل ہے۔ ظاہری حسن تبدیلی کی زد میں ہمیشہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ان آٹھ زمروں کا ذکر کیا ہے جو باطنی حسن کا حامل ہونے کے باعث اللہ کو عزیز ہیں۔
ان آٹھ زمروں میں متعدد صفات کا ذکر ہے بالفاظ دیگر یہ صفات باطنی حسن اور روح کے حسن کی عکاس ہیں۔ قرآن کے مطابق یہ آٹھ زمرے یہ ہیں : (۱) جو اللہ پر توکل کرتے ہیں (آل عمران 159 : 3)، (۲) جو اپنے آپ کو پاک صاف رکھتے ہیں (البقرہ 222 : 2 اور التوبہ 108 : 9)، (۳) جو توبہ کرتے ہیں (البقرہ 222 : 2 )، (۴) جو انصاف پسند ہیں (المائدہ 42 : 5 ، الحجرات 19 : 49 اور الممتحنہ 8 : 60)، (۵) جو اللہ کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند میں صف در صف لڑتے ہیں (الصف 4 : 61 )، (۶) جو صبر کرتے ہیں (آل عمران 146 : 3 )، (۷) جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں (آل عمران76 : 3 ، التوبہ 7&4 : 9 ) اور (۸) جو احسان کرتے ہیں (البقرہ195 : 2 ، آل عمران 148&134 : 3 ، المائدہ 93&13 : 5 )۔
ان تمام زمروں کا تعلق باطنی حسن سے ہے۔ اللہ کو یہی باطنی حسن عزیز ہے۔ غرضیکہ محبت مختلف اقسام کے حسن کے لئے ہونی چاہئے۔ نبی اکرم ؐ کے بقول اس محبت سے مراد حسن سے اشتغال ہے۔
رومانوی محبت میں لوگ ایک دوسرے سے باطنی اور ظاہری حسن دونوں کے باعث ملتفت ہوتے ہیں ان کو جسم اور روح دونوں سے محبت ہوتی ہے۔ ظاہری حسن فوری طور پر بڑا دلکش ہوتا ہے لیکن اگر اس کا تعلق اچھے شخص سے نہ ہو تو یہ محض ہوس ہے اور یہ محبت دیرپا نہیں ہوتی، یہ ایک فطری امر ہے۔ ظاہری حسن اور انسانی صفات محدود ہیں۔ اس کے برعکس خدا کا حسن غیر محدود اور لافانی ہے۔ اس کی صفات مکمل اور حسین ترین ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: ‘‘بہترین اسماء اللہ کے ہیں اس کو ان ہی سے پکارو’’۔ (الاعراف 8 : 7 )۔ حسن خداوندی انسانی حسن سے کہیں برتر اور بہتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان اللہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ محبت کرتے ہیں (البقرہ 165 : 2 )۔
نفرت بھی ایک شدید انسانی جذبہ ہے۔ کچھ لوگ اس کا مکمل طور پر شکار ہوجاتے ہیں۔ اپنی نظم “Fire and Ice” میں امریکی شاعر رابرٹ فراسٹ (م 1963ء) یہ اظہار کرتے ہیں : ‘‘کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دنیا آخر میں جل کر خاک ہوگی۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ برف سے ڈھک کر تباہ ہوگی۔ جہاں تک خواہشات کا تعلق ہے میں آگ کے خیال کی تائید کروں گا البتہ جہاں تک نفرت کا معاملہ ہے تو یہ دنیا اس سے دو مرتبہ نیست و نابود ہوسکتی ہے گو اس کو تباہ کرنے کے لئے برف بھی کافی ہے’’۔
البتہ محبت کے بالمقابل نفرت کبھی بھی ایسا شدید جذبہ نہیں ہوسکتی کیونکہ نفرت صفت الٰہی نہیں ہے۔ قرآن میں یہ کہیں نہیں آیا ہے کہ اللہ کسی سے نفرت کرتا ہے۔ قرآن یا حدیث میں نفرت کا ذکر بطور صفت الٰہی نہیں مذکور ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ بعض افعال ایسے شنیع ہیں جن سے اللہ بیزار ہے (الاسراء 38 : 17)۔ گناہ گاروں اور بدکاروں کی بعض اقسام کو اللہ پسند نہیں کرتا ۰تفصیل کے لئے دیکھئے میری کتاب Love in the Holy Quran اسلامک ٹیکسٹ سوسائٹی، کیمبرج)۔ البتہ اللہ نے کسی کے بارے میں یہ نہیں کہا ہے کہ وہ اس سے نفرت کرتا ہے۔ محبت نہ کرنا اور نفرت کرنا دو علیحدہ رویےّ ہیں۔ نفرت کرنا ایک منفی فعل ہے اور پسند نہ کرنا ایک غیر جانبدارانہ فعل ہے۔ مزید برآں، بعض قسم کے افراد کو فی نفسہٖ پسند نہیں کرتا۔ اس میں ایک بڑا سبق ہے۔ لوگوں کو برے کاموں سے نفرت کرنا چاہئے نہ کہ ان لوگوں سے جن سے یہ برے کام سرزد ہوں۔ انہیں گناہ گار سے نہیں بلکہ گناہ سے نفرت کرنا چاہئے۔ اللہ کا فرمان ہے:
ممکن ہے اللہ تمہارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان درستی کردے۔ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اللہ تم کو ان لوگوں سے بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے معاملے میں نہیں لڑے اور جنھوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (الممتحنہ 7-8 : 60 )۔
موسیٰ علیہ السلام کا قول ہے کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شئے کو اس کی مخصوص شکل عطا کی اور پھر اسے ہدایت دی (طٰہٰ 50 : 20 )۔ اس قول میں خدا کی رحمت اور محبت کا اظہار ہے۔ لوگوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق نہیں کیا ہے۔ ان کو اللہ نے تخلیق کیا ہے لہٰذا وہ اللہ پر منحصر ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: ‘‘اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو۔ جہاں تک اللہ کا تعلق ہے وہ اپنے آپ میں کافی اور ہر تعریف کا لائق ہے’’ (فاطر 15 : 35 )۔ خدا نے تمام مخلوقات کو وجود بخشا۔ یہ اللہ کا پہلا عطیہ ہے۔ اس نے ان کو نفس عنایت کیا۔ یہ عطیہ رحمت الٰہی کا مظہر ہے۔ پھر اللہ نے سب کو اپنی جانب رہنمائی کی اور اپنے آپ کو ان سے متعارف کرایا۔ یہ اللہ کا دوسرا عطیۂ خاص ہے اور یہ عطیہ اس کی محبت کا عکاس ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے یہی جواب فرعون کو اس کے اس سوال کے جواب میں دیا کہ ان کا رب کون ہے۔ اللہ کی شناخت اس کی دو بنیادی صفات محبت اور رحمت سے ہے۔ فرعون کے جواب میں موسیٰ علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ اللہ کون شخص ہے بلکہ انھوں نے اللہ کی رحمت اور محبت کی نشاندہی کی جو اللہ کو بخوبی ظاہر کرتی ہیں۔
اس کا علم کیوں ضروری ہے؟
یہ علم اس لئے ضروری ہے کہ اس سے تقویت اور تشفی ملتی ہے۔ آئندہ صفحات میں اس کی وضاحت کی جائے گی کہ اللہ نے یہ دنیا کیوں تخلیق کی۔ یہ اعادہ ضروری ہے کہ اللہ کی تمام صفات میں رحمت اور محبت بنیادی مقام کی حامل ہیں۔ وہ تمام اشیاء کا اصل الاصول ہیں۔ وہ اللہ کے افعال کا حقیقی مقصد ہیں اور ان ہی کو انسان کے اعمال کا بھی حقیقی مقصد ہونا چاہئے۔ یہی مقصد اسلام کے پس پشت بھی ہے۔ اللہ فرماتا ہے: ‘‘اب تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے کھلا ہوا ثبوت، ہدایت اور رحمت آگئی ہے’’ (الانعام 157 : 6 )۔ یہ علم کہ محبت اور رحمت تمام اشیاء کی غایت ہیں ہمارے لئے انتہائی طمانیت کا باعث ہے اور ہم کو یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ یہ دنیا بے مقصد نہیں ہے اور یہ درحقیقت حسین ہے۔
مزید برآں، یہ علم ضروری ہے کہ تمام صفات میں محبت اور رحمت اہم ترین ہیں کیونکہ یہ وہ معیار ہیں جن سے ہم کو اشیاء کے صحیح یا غلط ہونے کا علم ہوتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے جواب میں فرعون کو یہی بتایا۔ یہی نکتہ قرآن بھی ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا یہ جواب فرعون کے لئے کافی ثابت نہیں ہوا اور اس نے دریافت کیا: ‘‘یہ رب العالمین کیا ہے؟’’ موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان مندرجہ ذیل مکالمہ ہوا:
فرعون نے کہا: ‘‘رب العالمین کیا ہے’’؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا : ‘‘وہ زمین اور آسمان اور ان کے مابین جو کچھ ہے ان سب کا پروردگار ہے، اگر تم یقین کرو’’۔ فرعون نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے کہا: ‘‘کیا تم نہیں سنتے’’؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا ‘‘وہ تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا پروردگار ہے’’۔ فرعون نے کہا: ‘‘یہ پیغمبر جو تمہاری جانب بھیجا گیا ہے ضرور مجنون ہے’’۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ‘‘وہ پروردگار ہے مشرق اور مغرب کا اور جو کچھ ان کے مابین ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو’’۔ (الشعراء 23-28 : 26 )۔
فرعون کا یہ سوال غلط بھی تھا کیونکہ ‘‘کیا’’ کا اطلاق اللہ پر نہیں ہوتا۔ اللہ کوئی شئے نہیں ہے۔ لیکن چونکہ فرعون کے سوال میں شئے کا خیال مضمر تھا، موسیٰ علیہ السلام نے اسی حوالے سے جواب دیا۔ مخلوقات اللہ کا فعل ہیں۔ تخلیق اللہ کا فعل ہے۔ اللہ فرماتا ہے: ‘‘اللہ کی رحمت کی نشانیاں دیکھو، کیسے وہ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے’’ (الروم 50 : 30 )۔ بعض افراد کے مطابق اللہ کے افعال اس کی تخلیق کے ذریعہ ظاہر ہوتے ہیں جبکہ بعض افراد کی رائے میں ان پر حجاب حائل ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے یہی فرعون کو بتایا تھا۔
موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اللہ زمین، آسمان اور ان کے مابین جو کچھ بھی ہے، ان کا پروردگار ہے۔ خدا کا وجود اشیاء کے ظہور میں عکس ریز ہے۔ اس کے مشاہدے کے لئے البتہ ایقان لازمی ہے۔ اشیاء کا تنوع اللہ کے لامتناہی ہونے کے باعث ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو یہ بھی بتایا کہ اللہ اس کا اور اس کے باپ دادا کا پروردگار ہے۔ خدا کے لافانی ہونے کا ثبوت فانی وقت میں عیاں ہے اسی طرح فانی مخلوقات سے ازلی خالق اور رب کا اثبات ہوتا ہے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا کہ اللہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے مابین ہے ان سب کا پروردگار ہے۔ بالفاظ دیگر اللہ لامحدود ہے۔ اشیاء، افراد اور زمان و مکاں اللہ کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ تمام اشیاء اللہ کا اثبات کرتی ہیں۔ اشیاء مادے اور اشکال پر مشتمل ہیں۔ یہی کیفیت مخلوق افراد کی بھی ہے۔ زمان و مکاں ظروف ہیں۔ مادہ اللہ کے وجود کا مظہر ہے۔ شکلوں سے اللہ کی لامحدودیت کا اظہار ہوتا ہے۔ افراد سے ان کے خالق اور رب کی عکاسی ہوتی ہے۔ زماں اللہ کی ابدیت پر دال ہے۔ البتہ اس کے جواب میں اللہ کے وجود کا اثبات موجود ہے۔ یہاں مراد کائناتی، غایتی اور وجودی ثبوتوں سے ہے۔ ان کا جواب مابعد الطبیعاتی لحاظ سے بھی اہم ہے۔ کیونکہ اس جواب کے باعث فرعون غور و فکر پر مجبور ہوا اور مابعد الطبیعاتی نقطہ نظر سے اللہ کی حقیقت اور ماہیت کا زاویہ سامنے آیا، لیکن اس کے باوجود بھی فرعون ایمان نہیں لایا۔ اس نے موسیٰ علیہ السلام کو مجنوں قرار دیا جبکہ حقیقت میں وہ خود بے عقل تھا۔ ہر مخلوق اللہ کی صفات کی مظہر ہے۔ اپنے وجود کے ذریعہ اللہ کے وجود کا اثبات کرتے ہوئے تمام مخلوقات اللہ کی عظمت کی شہادت دیتی ہیں۔ اللہ کی رحمت اور محبت کی عکاسی کرتی ہوئی وہ اللہ کی حمد بیان کرتی ہیں۔ حمد و ثنا سے ان کی اپنی نیکی اجاگر ہوتی ہے۔ اللہ کا قول ہے:
ساتوں آسمان اور جو کوئی ان میں ہے اللہ کی حمد کرتے ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی حمد نہیں کرتی، لیکن تم ان کا یہ بیان نہیں سمجھتے۔ بے شک اللہ بڑا تحمل والا، بہت بخشنے والا ہے۔ (الاسراء 44 : 17 )۔
یہ علم ضروری بھی ہے اور مفید بھی۔ مسلمانوں کو اللہ کے بارے میں کیا علم ہونا چاہئے؟ ان کو کم از کم کیا معلوم ہونا چاہئے؟ ہم نے اسلام اور ایمان کے ارکان کا ذکر گزشتہ صفحات میں کیا ہے۔ یہ علم نجات کے لئے ضروری ہے۔ وہ کون سے عقائد ہیں جن کا علم ضروری ہے؟ کیا مسلمانوں کو دینیات اور فلسفے کا علم ہونا چاہئے؟
عقائد کی تلخیص متعدد مسلمانوں علماء اور فضلاء نے کی ہے۔ اس ضمن میں اولین ترین تصنیف امام ابو حنیفہ (م150ھ / 767ء) کی الفقہ الکبیر ہے۔ قرآن پر مبنی سنی دینیات کے عکاس عقائد کو ابو الحسن الاشعری اور ابو منصور الماتریدی (م 333ھ / 944ء) نے پیش کیا ۔ ان کے پیش کردہ عقائد معتزلہ دینیات اور عقلیت پسندی سے یکسر مختلف ہیں۔ اسلامی دینیات کی سب سے معروف اور مقبول تلخیص امام ابو جعفر الطحاوی (م 321ھ / 933ء) کی عقیدۂ طحاویہ اور برہان الدین اللقانی (م 1041ھ / 1631ء) کی منظوم جواہرات التوحید ہیں۔ ان میں درج ذیل عقائد کا بیان ہے:
اللہ تبارک و تعالیٰ واحد ہے، تعداد کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس اعتبار سے کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ نہ جنتا ہے اور نہ کسی نے اس کو جنا ہے۔ اس کا ثانی یا مثل کوئی اور نہیں۔ وہ تخلیق میں کسی سے مشابہ نہیں اور کوئی مخلوق اس جیسی نہیں۔ (ابو حنیفہ، الفقہ الکبیر، ص۔1)۔
قرون اولیٰ کے مسلمانوں کو یہ تصانیف دستیاب نہیں تھیں۔ دیگر مذاہب بالخصوص عیسائیت سے ربط ضبط کے بعد ان عقائد کی ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ دیگر مذاہب کے دینیاتی مسائل نے مسلمانوں کو غور و فکر کا سامان فراہم کیا۔ ابتدا میں مسلم عقیدہ دو بیانوں پر مشتمل تھا ان میں سے ایک انکار پر مشتمل تھا جبکہ دوسرا اثبات کا غماز ہے۔ یہ انکار اولین اور اہم ترین اسلامی عقیدہ ہے۔ یہ اس شہادت پر مشتمل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: ‘‘جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں’’۔ (محمد ۴۷:۱۹)۔ دوسری شہادت قرآن کی مختصر ترین سورہ الاخلاص میں مذکور ہے:
کہہ دیجئے کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ اس نے کسی کو نہیں جنا، نہ کسی نے اس کو جنا۔ اور اس کے برابر کوئی نہیں۔ (الاخلاص 1-4 : 112 )
قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا یہی عقیدہ تھا۔ درحقیقت یہ عقائد اسلامی کی بہترین تلخیص ہیں۔ ان میں اسلامی دینیات اور فلسفے کا مغز اور اصول ہیں۔ ان کا علم ہر مسلمان کو ہونا چاہئے۔ جو لوگ اسلام کا علم حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے بہت سہولت ہے۔ اسلام میں پیچیدہ اور عمیق حقائق کو بھی سمجھنا آسان ہے ان کا علم ہر شخص کی دسترس میں ہے۔ چونکہ ہر انسان کو حق کا علم ہونا چاہئے، اسلام نے حق کو سمجھنا آسان کردیا ہے۔

مزید دکھائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close