مضامین

آہ!استاذ الشعراءمولانا خلیل گوہرمبارکپوری

مکرمی! واقعی میں سن 2020 عام الحزن کے نام سے یاد کیا جاۓ گا ایک طرف کورونا وائرس کی مہاماری دوسری طرف اپنوں کی رحلت ایک غم سے ابھر نہیں پاتے کہ دوسرا غم دامن گیر ہوجاتا ہے ابھی ہم ڈاکٹر محمد خالد اشرفی کی تجہیز وتکفین سے فارغ بھی نہیں ہوپاۓ تھے کہ ایک اور اندوہناک خبر ملی کہ حضرت مولانا محمد خلیل گوہر مبارکپوری مصباحی اس عالم فنا سے عالم بقا کی طرف قضائے الہی تحت رخصت ہوگئے.اس جانکاہ خبر نے عوام وخواص سب کو نڈھال کردیا شہر کی فضا سوگوار ہوگئی بزمِ علم وادب سونی ہوگئی خلیل گوہر مبارکپور ی دبستان اردو ادب میں نعتیہ شاعری کے حوالے سے بہت ہی معتبر نام تھا.آپ عظیم نعت گو، عالم دین متین، استاذ الشعراء اور مبارک پور کی ادبی روایتوں کے حامل و امین تھے. بہت ہی خلیق، ملنسار، نیک اور مطبع شریعت تھے.اس گوہر نایاب کی ولادت مبارک پور کے محلہ پورہ رانی میں محمد اصغر بن رجب علی کے گھر 15 اپریل بروز منگل 1944ء میں ہوئی. ابتدائی تعلیم دار العلوم اشرفیہ مصباح العلوم میں حاصل کی. 1960ء میں جامعہ حمیدیہ رضویہ بنارس چلے گئے اور وہیں تعلیم حاصل کرتے رہے پھر 1965ء میں ازہر ہند دار العلوم اشرفیہ مبارک پور میں داخل ہوکر حضور حافظ ملت، علامہ عبدالرؤوف بلیاوی، بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی رحمہم اللہ جیسے جید اساتذہ کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ تہ کیا اور وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے. فراغت کے بعد ایک عرصہ تک گھر پر رہے پھر 1973ء کے قریب 3 سال تک الجامعۃ الاسلامیہ اشرفیہ سکھٹی میں تدریسی خدمات انجام دی. 1975ء سے تا حین حیات یتیم خانہ مدرسہ اسلامیہ اشرفیہ کے صدر المدرسین رہے.آپ سرکار کلاں سید مختار اشرف اشرفی الجیلانی علیہ الرحمۃ کے مرید خاص،مشیر اور ہمراز تھے.اس طرح سے آپ افق مصباحیت کے نیر تاباں اور عزیزی اشرفی فیضان کے حسین سنگم تھے. آپ کا ایک نعتیہ مجموعہ بنام "سامان آخرت” آج اہل عشق و ذوق سے خراج تحسین حاصل کر رہاہے. گوہر مبارکپوری نے ساٹھ ستر کی دہائی میں قصبہ مبارکپور میں پیر طریقت سید جیلانی میاں کی رفاقت میں دارالتصنیف والتالیف کے نام سے ایک حسین علمی انجمن قائم فرمائی تھی جس کے زیر اہتمام متعدد نعتیہ دیوان شائع ہوۓ جن میں مستند مبارکپوری شعراء کے علاوہ مشائخین خصوصاً مجدد اعظم، حضور محدث اعظم، سرکار کلاں اور حضور شیخ الاسلام کے کلام بھی شامل اشاعت ہوتے تھے ان مجموعوں میں "تجلیات” اور "جام نور” شہرت کے بام عروج پر پہنچے.
آپ کا وصال 13ذی الحجہ1441ھ بمطابق 4 اگست 2020ء بروز منگل بعد نماز عصر انہیں کی قیامگاہ پر حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ہوا اللہ تعالیٰ مولانا علیہ الرحمۃ کی مغفرت فرمائے اور لواحقین وپسماندگان کو صبر جمیل و اجر جزیل عطا فرمائے.
دارفانی سے کوچ کر بیٹھے،،،
وہ جو شعر وسخن کے گوہر تھے
محمد ہاشم اعظمی مصباحی نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: