مضامین

آہ….. مولانا اسرارالحق قاسمی زندگی بھی قابل فخر. موت بھی قابل رشک

مولانا رضوان احمدصاحب قاسمی منوروا شریف سمستی پور بہار

7 دسمبر 2018 کی صبح تھی. جمعہ کا دن تھا. فجر سے پہلے ہی میرا موبائل آن ہوچکا تھا اورحضرت مولانا اسرارالحق قاسمی کے انتقال پرملال کی خبروں سے واٹس ایپ کے سارے گروپ بھرے پڑے تھے اس کے باوجود نہ جانے کیوں مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ واقعۃً مولانا کی وفات ہوچکی ہےاور دل گوارا ہی نہیں کررہا تھا کہ آپ نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی ہے مگر حقیقت تو حقیقت ہے. زیادہ دیر تک حقیقت پردہ میں نہیں رہ سکتی اور جھوٹی تسلیوں سے بہت دیر تک اپنے آپ کو بہلایا نہیں جاسکتا اس لیے ماننا ہی پڑا کہ حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی اب ہمارے درمیان نہیں رہے اناللہ وانا الیہ راجعون….. اس طرح 1942ء میں ولادت کے بعد جو نام (اسرارالحق) آپ کا تجویز ہوا تھا وہ تقریباً 77. 78 سالوں بعدمکمل پُر اسرار بن چکا. اور اب کبھی بھی وہ چہرہ ہمارے درمیان نہیں آسکتا.کیونکہ دائمی نیند کی چادر آپ نے اوڑھ لی ہے
قابل رشک موت…… مولانا کی قابلِ فخر زندگی پر تو لوگوں نے لکھا ہے اور خوب لکھا ہے لیکن آپ کی موت جس وقت واقع ہوئی اور جس رات میں یہ حادثہ پیش آیا اس رات اور وقت کو دیکھتے ہوئے بجاطور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح آپ کی زندگی قابلِ فخر تھی اسی طرح آپ کی موت بھی قابل رشک رہی. کیونکہ خبروں کے مطابق آپ نماز تہجد کے لیے تیارتھے.یومیہ معمول کے مطابق اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونے والے تھے اور نماز نفل کے ذریعہ بارگاہ خداوندی میں آیاہی چاہتے تھے کہ دل کا دورہ پڑا اور موت نے اچک لیا….. گویا ایک طرف اگر فرشتہ موت نے آپ کو لپکتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ برسوں سے آپ نے اس تقرب خاص کے وقت جو حاضری لگارکھی ہے وہ آج تک پردے کےپیچھے سے تھی.مگر وہ پردہ اب چاک کردیا گیا اور اب آپ براہ راست شرف باریابی سے ہم کنار ہیں . چلئے اپنے رب سے ملاقات کیجئے اور اپنی آہ سحر گاہی کا ثمرہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیجئے……. تو دوسری طرف خود حضرت مرحوم بھی زندگی کے جھمیلوں سے بیزار تھے اورانشاءاللہ خاں انشاء کے کلام میں معمولی ترمیم کے ساتھ یوں نغمہ سنج تھےکہ
کمرباندھے ہوئے چلنے کو یاں اسرار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے. ہم بھی تو اب تیار بیٹھے ہیں

نہ چھیڑ اے نکہتِ بادبہاری. راہ لگ اپنی
تجھے اٹھکھیلیاں سوجھی ہیں. ہم بیزار بیٹھے ہیں

تصور عرش پر ہے. اور سر ہے پائے ساقی پر
غرض کچھ اور دُھن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں
شب جمعہ کی موت……….. حدیث پاک میں آتا ہے کہ مامن مسلم یموت یوم الجمعۃ او لیلۃ الجمعۃ الاوقاہ اللہ فتنۃ القبر یعنی جو مسلمان بھی جمعہ کے دن یاجمعہ کی رات فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قبر کے فتنہ سے محفوظ رکھتا ہے (ترمذی شریف ج 1074) یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے اسی لئے محدثین نےاسے یا تو صحیح کہا ہے یا حسن قرار دیا ہے…. البتہ فتنہ قبر سے محفوظ ہونے کی مراد میں مختلف اقوال ہیں. لیکن مجھے ان اقوال سے ابھی کوئی سروکار نہیں. ابھی تو ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ حضرت مولانا کا انتقال بھی جمعہ کی رات میں ہوا ہے اور زبان رسالت نے جمعہ کی رات فوت ہونے والے کو فتنہ قبر سے محفوظ بتلایا ہے لہذا آپ بھی فتنہ قبر سے محفوظ ہیں اور یقیناً آپ کی موت قابلِ رشک ہے
علاوہ ازیں انتقال کرنے والوں کی عظمت کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ عظمت کبھی تو شخصیت کی وجہ سے ہوتی. کبھی عمل کی وجہ سے. کبھی مکان کی وجہ سے ہوتی اور کبھی زمان کی وجہ سے. مثلاً انبیاء کرام کی عظمت ان کی شخصیت کی وجہ سے ہے. شھداء جہاد کی عظمت عمل جہاد کی وجہ سے ہے. حرم پاک میں وفات پانے والے کی عظمت مکان مقدس کی وجہ سے ہے اور جمعہ یا رمضان میں انتقال کرنے والے کی عظمت وقت وزمان کی وجہ سے ہے.
حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی کا انتقال جس وقت ہوا وہ جمعہ کی رات اور تہجد کا مبارک وقت ہے اور جس عمل میں انتقال ہوا وہ نماز تہجد کی تیاری کا عمل ہے گویا آپ کی موت نہ صرف یہ کہ وقت کی وجہ سے قابل رشک ہے بلکہ عمل اور کام کی وجہ سے بھی قابل رشک ہے. ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء
نسبتِ قاسمیت کافروغ…………چونکہ دارالعلوم دیوبند کے مونو گرام پہ ایک مشہور حدیث انمااناقاسم واللہ یعطی.موجود ہے اس لیے دارالعلوم سے فارغ ہونے والے اپنے آپ کو قاسمی لکھتے ہیں اور نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے حسین ناموں میں سے ایک نام قاسم کی طرف اپنے کو منسوب کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں. مگر قابلِ ذکر علماء سے میں نے سنا ہے کہ آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے تک کوئی بھی اپنے آپ کو قاسمی نہیں لکھتا تھا. نسبت قاسمیت کا آغاز تو درحقیقت حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب کی ایک تقریر سے ہوا ہے اور پھر اس لفظ قاسمی کو فروغ دیا ہے حضرت قاضی مجاہدالاسلام صاحب قاسمی اور مولانا اسرارالحق صاحب قاسمی نے. کیونکہ ان دونوں نے بالالتزام اپنے نام کے ساتھ قاسمی لکھا بلکہ لکھنے کا خوب اہتمام فرمایا لہذا ان دونوں ہی بزرگ کی عالمی شہرت سے یہ نسبت بھی انٹر نیشنل انداز میں مشہور ہوگئی
یہ شنیدہ روایت کہاں تک صحیح ہے؟ اس کی تحقیق تو اہل علم پہ چھوڑئیے لیکن میں نے اپنے طور پر جب تھوڑا بہت غور کیا تو واقعۃً ستر پچھتر سال پہلے کا کوئی ایک نام بھی ایسا نہیں ملا جس کے ساتھ قاسمی کا لفظ بھی جڑا ہوا ہو البتہ حضرت مفتی نسیم احمد فریدی نے حضرت نانوتوی کے ایک شاگرد (سردست نام ذھن میں نہیں اور کتاب بھی موجود نہیں) کاتذکرہ کچھ اس انداز سے کیا ہےجس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے نام کے ساتھ قاسمی لگایا کرتے تھے. خیر اگر اسی شنیدہ روایت کو صحیح مان لیا جائے تو پھر یہ کہنا بجا ہوگا کہ مولانا اسرارالحق قاسمی کی وفات درحقیقت نسبت قاسمیت کو فروغ دینے والے کی وفات ہےاور آپ کے انتقال سے پورے طبقہ قاسمی کو رہتی زندگی تک ملال رہے گا کیونکہ قاسمیت کو جب آپ نے فروغ دیا ہے تو جب بھی کوئی قاسمی اپنے نام کے ساتھ یہ لفظ جوڑےگا تو بالیقین فروغ دینے والا بھی وہاں مستور ہوگا اور احساس رکھنے والا ضرور فروغ دینے والے کو بھی یاد رکھےگا
قابلِ فخر زندگی……… سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ بھی نہ ہونے کا تصور اگر کہیں ہوسکتا ہے تو ان میں سے ایک آپ کی ذات والا صفات بھی تھی.کہ ممبر پارلیمنٹ ہیں مگرہٹو بچو کی کوئی آواز نہیں. جلسوں میں حاضری ہے مگر ایک بھی باڈی گارڈ نہیں. ان کی دہلی رہائش گاہ پہ ایک مرتبہ جانا ہوا مگر کہیں کوئی چیکنگ نہیں. کیا موجودہ دور میں کسی بھی ایم پی کے لئے یہ تصور ہوسکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں. 2009 سے دسمبر 2018 تک آپ مسلسل ممبر آف پارلیمنٹ رہے مگر کیا مجال؟ کہ ممبری سے پہلے اور بعد کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نمایاں ہو. جلسوں میں جانے کا سلسلہ جو پہلے تھا وہ آج بھی رہا.اخبارات میں لکھنے کاجو معمول تھا وہ اپنی جگہ برقرار.خندہ پیشانی ومسکراہٹ کے ساتھ ملنے کا معاملہ بھی دونوں دور میں یکساں. ملت کی دکھتی رگوں پہ ہاتھ رکھنے کا امتیاز دونوں دور میں قائم. اور جس طرح پہلے یہ مزاج تھا کہ اپنے کو چھوڑ کر دوسروں کے لیے سب کچھ کردیا جائے یہ ٹیس اور کڑھن آج بھی موجود… کیونکہ میں نے تو آپ کا دونوں دور دیکھا ہے بلکہ بہت قریب سے دیکھا اور برتا ہے اس لیے آپ کی زندگی کا سب سے نمایاں وصف میرے نزدیک تو یہ ہے کہ آپ ایک انتہائی مفید اور بے ضرر انسان تھے. اہل علم آپ کی صلاحیت کے گن گائیں. عابد وزاھد آپ کی صالحیت کا اعتراف کریں. شہ سواران قلم آپ کی صحافت کا راگ الاپیں. قائدین ملت آپ کی قائدانہ شخصیت کو بیان کریں. متواضعین آپ کی تواضع وسادگی کے نمونے گنائیں. مفکرین ملت آپ کے تعلیمی افکار کو چھیڑاکریں. اور صلح کل کامزاج رکھنے والے آپ کو ہرمکتب فکر کا محبوب بتلائیں. یہ سب اپنی جگہ سوفیصد درست ہے مگر راقم سطور کے نزدیک آپ کا سبھوں کے لیے مفید ہونا اور ہرایک کے لئے بےضرر ہونا ایسےدو اوصاف ہیں کہ ان دونوں نے آپ کی زندگی کو قابل فخر بنادیا ہے
مگر آہ صد ہزار آہ…….کہ آپ نے بھی ہمیشہ کےلئے نیند کی چادر تان لی. اب تو آپ کو وہی اٹھائے گا جو آپ کا سب سے محبوب تھا. اور اب تو آپ کو وہی جگائے گا جسکی مخلوق سے آپ کو حددرجہ پیار تھا
_________

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: