مضامین

آہ ! مولانا سید ولی رحمانی **********

از _آفتاب عالم ندوی دھنباد
جھارکھنڈ
_____________________
خانقاہ رحمانی مونگیر کے زیب سجادہ ، امارت شرعیہ بہار اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے امیر شریعت ،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری جنرل ،رحمانی تھرٹی کے فاؤنڈر ،ممتاز عالم دین ، صاحب قلم خطیب , سیاسی سوجھ بوجھ کے مالک ، امت مسلمہ اور ہندوستانی اقلیتوں کے مسائل و مشکلات سے واقف ، صدیوں پر محیط دینی خدمات کا پس منظر رکھنے والے خاندان کے چشم و چراغ مولانا سید ولی رحمانی صاحب کا 3 اپریل 2021 بروز سنیچر بعد نماز ظہر انتقال ہوگیا ، ہم سب اللہ ھی کے بندے ھیں اور ہم سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے ، ادھر کئی روز سے لوگوں کی طرف سے سے ان کے لیے دعا صحت و شفاء کی ا پیلیں جاری ہو رہی تھیں ، درمیان میں کبھی امید افزا خبر آتی ، کبھی تشویشناک ، کھٹکا لگا ہوا تھا کہ آج ان کے سانحۂ وفات کی خبر نے چند منٹوں میں پوری دنیا میں کہرام مچا دیا ، ایسے وقت میں جب ملت اسلامیہ ھندیہ آزادی کے بعد انتہائی مشکل اور کٹھن دور سے گزر رہی ہو ، صرف کوئی تنظیم ،صرف کوئی خاص سرکاری مشینری ہی نہیں بلکہ خود حکومت اور اس کی سرپرستی میں غیر سرکاری بہت سی تنظیمیں ، ایک خاص کمیونٹی کا ایک با اثر بڑا طبقہ اور سرکاری ایجنسیاں مسلم اقلیت کو نشانہ بنا رہی ہو ں ، صدیوں کا انتقام لینے ،انہیں شناخت سے محروم کرنے ،معاشی اعتبار سے کمر توڑنے، آئین کو پس پشت ڈال کر اسلامی قانون کو بدلنے کی کی کوشش کر رھی ھوں ایسے مشکل وقت میں مولانا ولی رحمانی صاحب جیسے صاحب بصیرت اور نڈر وبے باک شخصیت کا اٹھ جانایقینا بہت بڑا نقصان ہے ، ایسا نقصان جس کی تلافی بظاہر موجودہ وقت میں ناممکن نظر آتی ہے ، یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ دنیا میں جو بھی آتا ہے اسے ایک دن اس دنیا کو چھوڑ کر جانا ہے ، اللہ کی طرف سے دنیا میں رہنے کا اس کا وقت بھی متعین ہوتا ہے ، ایک سیکنڈ نہ زیادہ رہ سکتا ہے اور نہ ایک سیکنڈ کم ، اس پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے ، ہزاروں لوگ ہر طبقے سے اور ہر عمر میں روز ہی اس دنیا سے جارہے ہیں ، لیکن ہر آدمی کا جانا ایسا نہیں ہوتا ہے کہ اعزاء و اقارب اور اہل خاندان کے علاوہ کسی کو دکھ ہوتا ہو ،کوئی متاثر ہوتا ہو ، لیکن انہی جانے والوں میں ایسے بھی ہوتے ہیں کہ پوری قوم ، پورا ملک اور جس طبقہ سے اس کا تعلق ہوتا ہے وہ پورا طبقہ ہل جاتا ہے ، ہزاروں لوگ سائے سے محروم ہو کر چلچلاتی دھوپ میں آجاتے ہیں ، آنکھیں رکنے کا نام نہیں لیتیں ،دل و دماغ سے اس کی جدائی کا صدمہ ھٹا ئے نہیں ہٹتا ، سید ولی رحمانی اسی طرح کی ایک ممتاز اور بلند مقام شخصیت کا نام ہے ،کتنے ھی ادارے ان کی سرپرستی اور براہ راست ان کی نگرانی میں رواں دواں اور پھل پھول رہے تھے ، اللہ ان کا نگہبان و محافظ ہو ، ان کی گفتگو اور تحریر دونوں دوٹوک واضح اور مدلل ہوتی تھی ،کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوتے ، کسی بھی موضوع پر گفتگو کرتے پوری طاقت اور وضاحت کے ساتھ کرتے ،گول مول اور گھما پھرا کر بات کبھی نہ کرتے ،تین طلاق کے مسئلے پر جب حکومت محض ضد اور ایک طبقے کو خوش کرنے کے مقصد سے بل پیش کر رہی تھی مولانا مرحوم نے سخت محنت کی ، اور پورے ملک کا دورہ کرکے اور ہر طرح کے وسائل استعمال کرکے کروڑوں کی تعداد میں خواتین کے دستخط حکومت کو بھجوا ئے ،خواتین کے بڑے بڑےجلوس نکلوائے ، مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے انہوں نے ملک کے لیے جو کام کیے ،بیماری کے باوجود جس طرح محنت کی اس کا صلہ انہیں آخرت میں بھرپور ملے گا انشاءاللہ ، مولانا مرحوم وقت کے تقاضوں کو خوب سمجھتے تھے ، موجودہ عھد ملت سے کیا چاھتا ھے انکےذھن میں واضح تھا ، انھیں یقین تھا کہ جبتک مسلمان تعلیم میں آگےنھیں بڑھینگے ، اعلی اور ٹیکنیکل تعلیم میں مسلم نوجوانوں کا تناسب نھیں بڑھے گااسوقت تک قوم کی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نھیں ھوسکتا ، مولانا صرف گفتار کے غازی نھیں تھے ،عملی طور منصوبوں کو زمین پر اتارنے اور خاکوں میں رنگ بھر نے کیلیے کتنے ھی مؤثر اقدامات کئے ، بیماری کا حملہ ھو نے سے ٹھیک پھلے جھارکھنڈ کا تا ریخی دورہ ہوا ، رانچی میں بڑی اہم میٹنگ ہوئیں ،اہل علم اور اہل ثروت کو عصری تعلیم کے لیے ادارے قائم کرنے اور اس میدان میں آنے کی ترغیب دی ، عمارت انٹرنیشنل کی اربارانچی میں بنیاد رکھی ، بعض اہل ثروت کو معیاری انگلش میڈیم اسکول قائم کرنے پر آمادہ کیا ،
جلسۂ سنگ بنیادکے بعد میں نے قیام گاہ پر ملاقات کی اجازت چاھی ،مولانا نے مغرب بعد کا وقت دیا ،راقم نے مغرب بعد ڈاکٹر مجید عالم صاحب کے یھاں ملاقات کی اورموجودہ صورتحال پر گفتگو کی ، میں نے عرض کیا کہ آزادی کے بعد سے ابتک ملی مسائل کو حل کرنے کیلئے جو طریقۂ کار اور حکمت عملی اپنائ جاتی رھی ھے کیا وہ اب بھی کار گر ھے ، یا حکمت عملی اور طریقۂ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے ،مولانا نے فرمایا تمھارے ذھن میں کیا ھے ،میں نے عرض کیا کہ میرے خیال میں تمام تنظیموں کے ذمہ داروں اور ملت کیلئے سرگرم لوگوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور باھم تبادلۂ خیال اور مشورہ سے لائحۂ عمل طے کرنا چاھئے ، پھر مولانا نے پوچھا کہ مثلا آپکی نظر میں کن لوگوں کے ساتھ بیٹھنا چاھئے ، میں نے کچھ نام ذکر کئے ،مولانا قدرے جلال میں آگئے ،فرمانے لکے فلاں صاحب نے حکومت کی فلاں موقع پر یوں تائید کی ،فلاں نے یوں ،،،،بورڈ کا حال یھ ھوگیا ھیکہ ادھر کوئ فیصلہ ھوتا نھیں ھیکہ ا سکی خبر حکومت تک پھنچ جاتی ھے ،۔
مولانا کی طاقتور شخصیت اور دل سے نکلنے والی صدا نے رانچی کے مسلمانوں میں روح پھونک دی ،کیا معلوم تھا کہ یہ صداہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی ، اس بلبل کو اب کبھی نہیں دیکھ پائیں گے ، ملت کی متعدد اہم باوقار محفلیں انکے جانے سے سونی ھوگئیں ، اللہ حکیم ھے ، قادر ھے ، مدبر ھے ،اللہ سے ھمیں دعاء کرنی چاھیےکہ اللہ انھیں جنت الفردوس میں اعلی مقام اور ملت کو ان کا نعم البدل عطا کرے ،،، آفتاب ندوی دھنباد جھارکھنڈ ،موبائل 8002300339

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: