مضامین

ابوالمحاسن مولانامحمد سجادؒ کی علمی خدمات

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

تدریسی خدمات
حضرت مولانامحمدسجادؒ کی علمی خدمات کاسب سے اہم ترین باب زندگی کاوہ حصہ ہے جومدارس میں طلبہ کی تعلیم وتدریس میں گذرا،اور یہ حصہ آپ کی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے،اسی دورانیہ میں آپ کے علم میں پختگی اور مطالعہ میں وسعت پیدا ہوئی ، مختلف سوالات وجوابات کےتجربات ہوئے،نئےحالات ومسائل سے آگاہی ہوئی ،یہیں سے آپ کوکام کرنے والےافرادکی ٹیم میسر ہوئی ،ملک کے علماء واعیان سے آپ کے روابط قائم ہوئے،عوام میں آپ کی علمی وانتظامی صلاحیتوں کاتعارف ہوااور عوامی اعتماد کی راہ ہموار ہوئی ، لکھنے پڑھنے کے مواقع حاصل ہوئے،جن سے آپ کےعلمی ذخائروجود میں آئے،غرض آپ کی علمی ،فکری ،ملی اور سیاسی شخصیت کی تعمیر میں مدارس میں گذرے ہوئے لمحات کابڑاحصہ ہے،اورکسی بھی عالم دین کےلئے علمی وملی سیادت کےمقام تک پہونچنےکےلئےاس سے بہتر اورمعتبر راستہ کوئی نہیں ہے۔
ایک بڑی غلطی
لیکن ہوتایہ ہےکہ جب شخصیت بڑی ہوجاتی ہے،اور اس کاحلقۂ اثر وسیع ہوجاتاہے توقافلہ میں شامل ہونے والے نئے شہسوار پرانے خون کونظراندازکردیتے ہیں،اور شخصیت جہاں سے بن کرآتی ہے اسی کوفراموش کردیاجاتاہے،حضرت مولاناسجادؒ کے ساتھ بھی یہی ہوا،ان کی ساٹھ(۶۰)سالہ زندگی کابڑاعرصہ مدارس میں گذراہے،وہ خالص علمی اور درسی آدمی تھے،ان کوپڑھنے پڑھانے میں جولذت ملتی تھی وہ کہیں میسر نہ تھی ،مدرسہ ہی میں انہوں نے پڑھا،یہیں کی چٹائیوں پر ان کی شخصیت تیارہوئی ،یہیں سےپڑھےہوئے طلبہ نےہرمیدان میں ان کی جانشینی کی،لیکن ان کی بیس بائیس (۲۲)سالہ ملی وسیاسی زندگی کو جس قدر اہمیت دی گئی ،اور لکھنے والوں نے جس تفصیل اورتسلسل سےاس پرروشنی ڈالی کہ تاریخ کی نگاہ میں یہی زندگی ان کی اصل زندگی بن گئی،اورمدارس دینیہ میں گذرے ہوئے لمحات تاریکی میں چلےگئے،جیسےوہ عہدطفولیت ہواوریہ عہدشباب،وہ عہدظلمت ہواور یہ عہدنور،اوروہ دورجاہلیت ہواوریہ دورشعور،جب کہ حقیقت یہ ہےکہ مولاناکےہرقسم کے شباب ونورو شعورکی پرورش وپرداخت مدارس ہی کےماحول میں ہوئی،ہر رنگ یہیں پیداہوا اورہربلندی تک پہونچنےکی گذرگاہ یہی تھی۔
تدریسی ادوار
حضرت مولانامحمدسجادؒ کی تدریسی زندگی کوتین(۳)ادوارمیں تقسیم کیاجاسکتاہے:
٭ تدریس بہ عہد طالب علمی –زمانۂ قیام الٰہ آباد
(۱۳۱۸؁ھ تا۱۳۲۲؁ھ مطابق۱۹۰۰؁ء تا ۱۹۰۴؁ء – چار(۴) سال)
٭تدریس بہ عہد ملازمت تدریس– زمانۂقیام بہارشریف والٰہ آباد
( ۱۳۲۲؁ھ تا۱۳۲۹؁ھ مطابق ۱۹۰۴؁ء تا ۱۹۱۱؁ء –سات(۷) سال )
٭ تدریس بہ عہداہتمام – زمانۂ قیام گیا
(۱۳۲۹؁ھ تا۱۳۳۹؁ھ مطابق ۱۹۱۱؁ء تا ۱۹۲۱؁ء – دس(۱۰)سال )
علماء میں بہت کم ایسےخوش نصیب افراد ہیں جن کی زندگی میں یہ تینوں ادوارجمع ہوئےہوں ،حضرت مولانامحمدسجادؒنےبہت مختصر زندگی پائی لیکن ان کی زندگی کے دوسرے حصوں کی طرح ان کی تدریس میں بھی کافی تنوعات پائے جاتے ہیں۔

(دوراول)
تدریس بہ عہد طالب علمی
(۱۳۱۸؁ھ تا۱۳۲۲؁ھ مطابق۱۹۰۰؁ء تا ۱۹۰۴؁ء – چار(۴) سال)
زمانۂ طالب علمی مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد
حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ مدارس کےجس دورکی پیداوارہیں اس دور میں ذہین طلبہ سےنیچے کےطلبہ کی تدریس کاکام لیاجاناایک عام سی بات تھی،خود مولانامحمدسجاد صاحبؒ بھی اپنےعہدطالب علمی میں دوطالب علم اساتذہ(حضرت مولانامبارک کریم صاحبؒ اور حضرت مولاناسیدعبدالشکورآہ ؔصاحب ؒ )کےزیردرس رہ چکے تھے،لیکن حضرت مولانامحمد سجادصاحب ؒنے زمانۂ طالب علمی ہی سے جس تدریسی مہارت وقبولیت کامظاہرہ کیاوہ عام بات نہیں تھی۔
حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒکی تدریسی زندگی کاآغازالٰہ آبادمیں مدرسہ سبحانیہ کی عہدطالب علمی سے ہوا، جس کے کچھ احوال آپ کی عہدطالب علمی کےبیان میں آچکےہیں، اس عہد کاآنکھوں دیکھاحال آپ کے تلامذہ میں مولانااصغرحسین صاحب بہاریؒ نےبیا ن کیاہے،مولاناؒکی تدریسی صلاحیت کاجوہر اسی زمانے میں کھلنے لگاتھا،جس شہر میں حضرت مولانا عبدالکافی الٰہ آبادیؒ،حضرت مولاناعبدالحمیدجونپوری ؒ ،حضرت مولانامنیرالدین الٰہ آبادیؒ، اور استاذالقراء حضرت حافظ قاری عبدالرحمن مہاجرمکیؒ جیسے اساتذۂ فن موجود ہوں،وہاں ایک طالب علم کےاسلوب تدریس اور طریقۂ تفہیم کوایسی قبولیت حاصل ہونا کہ اساتذہ کے بجائے
طلبہ اپنی کتابیں اسی طالب علم سے پڑھنے کی تمناکریں،یہ بجائے خود علمی تاریخ میں ایک عظیم
واقعہ ہے،اوراس کوحضرت مولاناسجادؒ کی کرامات وخصوصیات میں شمارکیاجاناچاہئے،مولانا اصغرحسین صاحب ؒ کےالفاظ میں:
"اس کشش سے ظاہرہےکہ طلب علم ہی کے زمانہ سےآپ کی تعلیم میں
مقناطیسی اثرتھا ”
مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں حضرت مولانامحمدسجادؒ کاداخلہ ۱۳۱۷؁ھ مطابق ۱۸۹۹؁ء میں ہوا تھا،لیکن ظاہرہےکہ پہلےہی سال ان کی اس صلاحیت کاجوہرسامنےنہیں آیاہوگا، اورنہ تدریس کےمواقع میسرآئےہونگے،مولانااصغرحسین صاحب نے۱۳۱۹؁ھ و ۱۳۲۰؁ھ کے واقعات لکھےہیں، لیکن اندازہ یہ ہےکہ حضرت مولاناسجادؒ کویہ موقعہ ۱۳۱۸؁ھ مطابق ۱۹۰۰؁ء ہی سےمل گیاہوگا۔
ممتازتلامذہ
اس دورکےتلامذہ میں مولانافرخندعلی سہسرامی ؒبانی ومہتمم مدرسہ خیریہ سہسرام
مولانا حافظ عبدالرحمن بادشاہ پوری جون پوریؒ سابق مدرس اول مدرسہ امدادیہ دربھنگہ ،
اورجناب حکیم مولانامحمدیعقوب صاحب ؒساکن کڑا(گیا-موجودہ نام کاراضلع اورنگ آباد) قابل ذکرہیں ۔
(دورثانی)
تدریس بہ عہد ملازمت تدریس
( ۱۳۲۲؁ھ مطابق ۱۹۰۴؁ء تا ۱۳۲۹؁ھ مطابق ۱۹۱۱؁ء –سات(۷) سال )
مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد سےسندفراغت اور دستارفضلیت لےکر ۱۳۲۲؁ھ مطابق ۱۹۰۴؁ء میں حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ اپنے وطن واپس تشریف لےآئے،اس وقت تک الٰہ آباد سےآنے جانےوالے طلبہ اوردیگرواردین وصادرین کے ذریعہ آپ کی علمی وتدریسی صلاحیت کی گونج آپ کےاساتذہ کے کانوں تک بھی پہونچ چکی تھی،اورعلاقہ کو ایسے علماء اور مدرسین کی ضرورت تھی۔

مدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں تقرر
چنانچہ مولاناحافظ حکیم سیدوحیدالحق صاحب (اُس وقت کے) ناظم مدرسہ اسلامیہ بہارشریف کی طلبی اورمولانامبارک کریم صاحب مدرس اول مدرسہ اسلامیہ کےایماء پرآپ علاقہ کی سب سےمرکزی درسگاہ”مدرسہ اسلامیہ بہارشریف”سےوابستہ ہوگئے ۔
۔۔یہاں کے بزرگوں سےآپ کےخصوصی مراسم کےعلاوہ یہ مدرسہ آپ کی مادرعلمی بھی تھا،اس کےبانی حضرت مولاناسیدوحیدالحق استھانوی ؒ(متوفیٰ ۱۳۱۵؁ھ مطابق ۱۸۹۸؁ء )آپ کےاستاذ خاص ،رشتہ کےبہنوئی اورپھرخسر محترم بھی تھے،انہوں نےبڑی شفقت ومحبت کے ساتھ عہدطفلی میں آپ کی تربیت کی تھی ،یہ مدرسہ ان کی یادگارتھا،اس لئےآپ پر حق بنتاتھاکہ اس مدرسہ کی خدمت کریں۔
٭نیز یہ وطن سےقریب تھا،والدکاسایہ بچپن ہی میں سرسےاٹھ چکاتھا،شادی کے بعد اہل وعیال کی ذمہ داری بھی سرپرآگئی تھی،گھر سےقریب رہ کران ذمہ داریوں کوبحسن وخوبی انجام دیناآسان تھا،غالباًانہی وجوہات کےپیش نظرحضرت ابوالمحاسن ؒنےمدرسہ اسلامیہ میں خدمت کواپنی اولین ترجیح قراردیا ۔
مدرسہ اسلامیہ کے ایک نئے دورکاآغاز
حضرت مولاناسجادؒکےتشریف لاتے ہی مدرسہ نےایک نئی کروٹ لی،بقول حضرت مولاناسیدمنت اللہ رحمانی ؒ:
"اس وقت مولاناؒ کی عمر صرف ۲۳ سال کی تھی،لیکن آتےہی مدرسہ کا
رنگ بدل گیا،طلبہ کا شوق ،مدرسین کی جدوجہد ،اور مقامی حضرات کی توجہ
اوردلچسپی ہرچیزمیں اضافہ ہوگیا ۔
اورآپ کے شاگردرشیدحضرت مولانااصغرحسین صاحب کےالفاظ میں:
"مزاج کی نرمی،عفوودرگذرکی طینت،اور طلبہ کی ہمدردی کےساتھ جواپنی
طباعی اور انہماکی شان سے شب وروز درس و تدریس کی مہم شروع کی تو
تھوڑے ہی عرصہ میں مدرسہ کے تعلیمی قالب میں نئی روح پھونک دی ”
آپ نے تعلیمی نظام کی اصلاح پر پوری توجہ دی،طلبہ پر اجتماعی اور انفرادی دونوں سطح پر محنتیں کیں،کتابوں کی تفہیم وتدریس کاوہ معیار اختیار کیاجو انہوں نے کانپور ،دیوبنداور الٰہ آبادکی درسگاہوں میں دیکھاتھا،خودبھی مطالعہ کرتےاور طلبہ کوبھی محنت ومطالعہ کی عادت ڈلواتے،ان میں مشکلات کامقابلہ کرنے کاعزم بیدارفرماتے،طریقۂ تفہیم میں ایسی شیرینی اور سحرکاری تھی کہ طلبہ آپ کےدلدادہ ہوجاتے تھے،اس طرح آپ کی توجہات عالیہ سے مدرسہ میں ایک خوبصورت تعلیمی ماحول پیداہوا،طلبہ کاشوق فروزاں اورذوق فراواں دیکھ کر منتظمین کےحوصلے بلندہوئے،مدرسہ کےتعلق سےعوامی اعتماد میں اضافہ ہوا،ایک عرصۂ درازسےمدرسہ قائم تھا،لیکن اس کامعیارتعلیم شرح وقایہ، جلالین اورقطبی ومیرقطبی سے آگےنہیں بڑھ سکاتھا، ملاحسن ،رسالہ میرزاہد اور صحاح ستہ جیسی اعلیٰ کتابوں کی تعلیم کا تو یہاں تصوربھی نہیں تھا، طلبہ ٹھہرتے ہی نہیں تھے،بلکہ اعلیٰ تعلیم کےلئے کانپوراوردہلی کارخ کرتے تھے۔
مدرسہ اسلامیہ کاعہدعروج
حضرت مولانامحمدسجادؒ کی تدریسی مساعی اور ان کی شخصیت کی سحرکاری نے طلبہ کادل جیت لیا،اورنہ صرف یہ کہ طلبہ یہاں جمنے لگے،بلکہ دوسرےمدارس کوچھوڑچھوڑکریہاں آنے لگے،اور دیکھتے ہی دیکھتے یہاں منتہی درجات تک کی تعلیم ہونے لگی ،اورطلبہ یہاں سے سندفراغ بھی حاصل کرنے لگے،مولاناسیدمنت اللہ رحمانی ؒ کےالفاظ میں:
"یوں تومدرسہ ایک عرصہ سے قائم تھا،مگر نہ کبھی طلبہ کی تعداد زیادہ رہی،
اور نہ کبھی جلالین،شرح وقایہ، اور میرقطبی سے اونچے پڑھنے والے مدرسہ
میں آئے،لیکن ایک ہی سال میں مولاناکےدرس کاایساشہرہ ہواکہ طلبہ جوق
درجوق آنےلگے،اور دوسرے ہی سال عربی کے نصاب کی آخری کتابیں
ہونے لگیں ۔
مولانااصغرحسین صاحب حضرت مولاناسجادؒکےاسی تدریسی عہدشباب کی یادگارہیں ، اپناوہ دور یادکرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
"میں بھی میرزاہدرسالہ اور ترمذی شریف تک پہونچ گیا ”
اسی زمانہ میں ایک بار حضرت مولانامحمداحسن استھانویؒ تلمیذرشیدمولاناہدایت اللہ خان جونپوریؒ وعلامہ فضل حق خیرآبادیؒ مدرسہ میں امتحان کے لئے تشریف لائے،جوکسی زمانہ میں یہاں مدرس اول رہ چکے تھے،ان کےپاس جب طلبہ(مولانااصغرحسین اورمولاناعبدالرحمن جونپوری وغیرہ)رسالہ میرزاہد مع حاشیہ غلام یحییٰ بہاری لے کر امتحان دینے کے لئے پہونچے
توان کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں ، انہوں نے فرمایاکہ:
” آج عجیب منظردیکھ رہاہوں کہ بہارشریف میں ان کتابوں کے پڑھنے والے
طلبہ موجود ہیں”
پھرانہوں نےاپنی منطقیانہ شان سے جوسوالات کئے اور ان طلبہ کی طرف سے ان کے جوابات دئیے گئے،اس نے ان کےتحیرکوانتہاتک پہونچادیا ۔
اسی دور میں مولاناسیدشاہ محمداسمعیل صاحب استاذفقہ مدرسہ عالیہ کلکتہ بھی امتحان کے لئے بلائے گئے تھے،وہ ساری زندگی ان امتحانی مناظر کوفراموش نہ کرسکے ،جب ادھر آتے یایہاں کاکوئی طالب علم مل جاتا،توبہت لطف لےکر اس منظر کوبیان فرماتے تھے ۔
امتحانی مظاہرے
حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ نےایک طرف تدریس اورطلبہ کے جمانے پر پوری توجہ دی،دوسری طرف ناظم صاحب اور مدرس اول حضرت مولانامبارک کریم کے مشورہ سے طلبہ کےمعیار تعلیم اوربدلےہوئےحالات سے عام مسلمانوں کوآگاہ کرنے کامنصوبہ بنایا،وہ اس طرح کہ امتحان کےمواقع پر شہر کے معززین اور اصحاب علم کو مدرسہ میں مدعو کیاجائے،ان کی ضیافت کاانتظام ہواور امتحانات ومناقشات کا سارامنظر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے،اور عوام وخواص اپنی آنکھوں سے مدرسہ کی تعلیمی کارکردگی کامشاہدہ کریں۔۔۔۔
چنانچہ اس منصوبہ کےانتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئے،مدرسہ کی عظمت واہمیت کا
احساس دلوں میں بیدار ہوا،لوگوں کی آمدورفت سے مدرسہ میں چہل پہل رہنے لگی ،اصحاب خیرمدرسہ کے تعاون میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے لگے ،مدرسہ کی مالی حیثیت مستحکم ہوئی ، اورلوگوں کی ضیافت(صرف چائے بسکٹ )پر جومعمولی اخراجات ہوتےتھے،اس سے کہیں زیادہ مالی منافع مدرسہ کوحاصل ہونےلگے، اس کااثراساتذہ کی تنخواہوں پر بھی پڑا،تنخواہوں میں خاطرخواہ اضافےکئےگئے،اور خوش دل مزدوروں نے جی جان لگاکر محنت کی اور مدرسہ اپنی تاریخ کےنقطۂ ارتقاپر پہونچ گیا،دستاربندی کےجلسے ہونےلگےاور فضلاءمدرسہ کے سروں پردستارفضیلت باندھی گئی،درس نظامی کےفارغین کوسندتکمیل عطاکی گئی،اورتعلیم کے میدان میں بہارکےخودکفیل ہونےکی تاریخ ایک بارپھررقم کی گئی ۔
ایک جلسۂ دستاربندی
اسی طرح کےایک جلسۂ دستاربندی میں دیگربہت سےاکابرعلماء کےعلاوہ الٰہ آباد کےاستاذالعلماء حضرت مولانا منیرالدین الٰہ ٰبادیؒ(ناظم مدرسہ احیاء العلوم الٰہ آبادوتلمیذ رشید حضرت علامہ مولانااحمدحسن کانپوری ؒ)بھی بحیثیت مہمان خصوصی تشریف لائےتھے ، اور ان کے خادم کی حیثیت سے مولانااصغرحسین صاحب(جوان دنوں مدرسہ احیاء العلوم الٰہ آبادمیں زیرتعلیم تھے)بھی شریک ہوئے ،وہ اپنے تأثرات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
” بہارشریف میں مدرسہ قائم ہونےکے مدتوں بعدیہ پہلازریں موقعہ تھا،جس میں
درس نظامی کےفارغین کوسندتکمیل عطاہوئی،اوربیضاوی شریف میں امتحان لئے
جانےکےبعدان کےسروں پردستارفضیلت باندھی گئی،اس جلسہ میں عمائدین شہر
اورعوام بڑے ذوق وشوق سے شریک ہوئے،یہ حضرت سجادؒ ہی کی محنت وکاوش و
حسن تعلیم کانتیجہ تھا،۔۔۔۔خصوصاًعربی پڑھنے والےطلبہ بغیرکانپور،دہلی وغیرہ
سے فراغت کئے ہوئےعلماء معتبر کی صف میں جگہ نہیں پاتےتھے،ایسی صورت
میں طلبۂ عربی کوفراغت تک پہونچانایہ حضرت سجادؒکی کرامت تھی ۔
ممتازتلامذہ
اس دورکےتلامذہ میں جناب مولانااصغرحسین صاحب اورمولانا عبدالرحمن صاحب
جونپوریؒ،مولاناحافظ عبدالرحمن صاحب بہاری ؒ ،اورمولاناحکیم شرافت کریم صاحب برادرخوردمولانامبارک کریم صاحب ؒ خاص طورپرقابل ذکرہیں ۔

مدرسہ سبحانیہ الٰہ آبادمیں بحیثیت نائب صدرمدرس تقرر
مدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں حضرت مولاناسجادصاحبؒ کے قیام کوابھی صرف تین(۳)سال ہوئےتھےکہ حضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادی ؒ نےاپنےمدرسہ کی شدید ضرورت کےپیش نظرآپ کوالٰہ آبادطلب فرمالیااورآپ تعمیل حکم میں الٰہ آبادتشریف لے گئے، یکم محرم الحرام ۱۳۲۵؁ھ مطابق ۱۳/فروری ۱۹۰۷؁ءکومدرسہ سبحانیہ میں بحیثیت نائب مدرس اول(نائب صدر المدرسین) آپ کاتقرر عمل میں آیا ۔
مدرسہ سبحانیہ میں براہ راست نائب صدرالمدرسین کےعہدہ پرتقرر بجائے خودآپ کی علمی قابلیت اورحضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادیؒ کےنزدیک بے انتہا اعتمادواستناد کی دلیل ہے،مدرسہ سبحانیہ کی اس زمانہ میں جوشان تھی،اورالٰہ آباد کی علمی تاریخ میں اس کاجومقام تھا،اس کےپیش نظراسی مدرسہ کےایک پروردہ طالب علم کانائب صدر مدرس کےعہدہ پرراست فائز ہوناکوئی معمولی بات نہیں تھی،۔۔۔۔ لیکن حضرت مولاناسجادصاحبؒ کا تدریسی جوہر چونکہ الٰہ آباد کےزمانۂ طالب علمی ہی میں سامنےآچکاتھااورآپ کی تفہیم وتعلیم کاسکہ پڑھنےکےزمانے ہی میں بیٹھ چکاتھا،اس لئےکسی منتہی سےمنتہی جماعت کی کتاب آپ کےحوالہ کرنےمیں کسی تامل کی بات نہیں تھی،لیکن جہاں تک انتظامی صلاحیت کی بات ہےتومدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں جوخوشگوارتبدیلیاں آپ کے دم قدم سےپیداہوئی تھیں،حضرت مولانا عبدالکافی صاحبؒ یقیناًان سےبےخبرنہیں تھے،بلکہ ان کی طلبی کے پیچھے عجب نہیں کہ یہ بھی اس کابڑامحرک رہاہو۔
بہرحال حضرت مولاناسجاد صاحبؒ نےالٰہ آبادمیں اپناکام اسی شان کےمطابق شروع فرمایا،جس کی آپ کے اساتذہ اور مدرسہ کےذمہ داروں کوتوقع تھی،تھوڑےہی دنوں میں مدرسہ کی شہرت اورنیک نامی میں اضافہ ہوا،اورطلبہ کارجوع عام شروع ہوگیا،الٰہ آباد اور اطراف ہی سے نہیں بلکہ کانپورجیسے علمی مراکز سےبھی طلبہ کھنچ کھنچ کرمدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد کی طرف آنے لگے،اور یہیں سے سندفراغت بھی حاصل کرنےلگے ،مولاناسیدمنت اللہ رحمانی ؒ تحریرفرماتے ہیں :
"جب مولانابہارشریف سےمدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد تشریف لےگئےتوچند
ہی دنوں کےبعدآپ کےدرس کاایساچرچاہواکہ طلبہ کانپورچھوڑکرالٰہ آباد
آنے لگے، باوجودیکہ کانپور میں اچھے فضلاء موجود تھے ۔
یہی وہ دور ہے جب مولاناعبدالحکیم اوگانوی صاحبؒ کانپور میں زیر تعلیم تھے،اور مولانا کی شہرت سن کر الٰہ آباد چلے آئے تھے،خود لکھتے ہیں کہ :
"میں اس زمانے میں کانپورمیں پڑھتاتھا،جب یہ معلوم ہوا کہ مولاناالٰہ آباد
تشریف لےآئےہیں تومیں کانپورسےالٰہ آبادچلاآیااورمولاناکےسلسلۂ تلمذ
میں داخل ہوگیا ، اوراپنی بقیہ کتابیں مولاناہی سے تمام کیں ،اس لئےآج مجھے
یہ فخرحاصل ہےکہ میں مولانا کاشاگرد ہوں اگرچہ حقیراورکمترین ہوں” ۔
مولاناعبدالحکیم صاحب نےکانپورسےقبل حضرت مولاناسجادؒ کاذکرضرورسناہوگا ،شاید کہیں ملاقات بھی ہوئی ہو، لیکن آپ سےاخذواستفادہ کاموقعہ غالباًنہ ملاتھا،مگرجب وہ کانپورسےآپ کی شہرت سن کرالٰہ آبادپہونچے،اورآپ کی ہمہ گیرصلاحیت وجامعیت اورعلم بےکراں کامشاہدہ کیاتو محسوس ہواکہ اگر وہ کانپورچھوڑکر الٰہ آباد نہ آتےتوعلم کےبڑےباب سے محروم رہ جاتےاس لئےکہ:
"کانپور میں کوئی عالم آپ کے پایہ کانہ تھا،اور الٰہ آباد میں بھی بجزمولانا
منیرالدین مرحوم الٰہ آبادی کےکوئی مدرس عالم آپ کاہمسر نظر نہ آیا” ۔
الٰہ آبادسے بہارشریف واپسی
لیکن الٰہ آباد میں ابھی صرف چندماہ ہوئے تھے کہ مدرسہ اسلامیہ بہارشریف کی طرف سے آپ کی واپسی کامطالبہ ہونے لگا،اس لئےکہ آپ کی سعی جمیل سے مدرسہ کاجو تعلیمی معیار قائم ہواتھا،وہ اضمحلال کاشکار ہونے لگاتھا،چنانچہ ذمہ داران مدرسہ کےبے حداصرارپر چار(۴)ماہ کےبعدہی(جمادی الاولیٰ۱۳۲۵؁ھ/ جون ۱۹۰۷؁ء میں)آپ مدرسہ اسلامیہ بہار شریف واپس تشریف لے آئے،اورپھر ڈیڑھ سال یہاں خدمت انجام دی۔
دوبارہ بہارشریف سے الٰہ آباد-تعلیمی سلسلہ کاعہدزریں
ڈیڑھ سال کےبعد اہل الٰہ آبادکےمسلسل اصرارپرذی قعدہ ۱۳۲۶؁ھ مطابق اکتوبر ۱۹۰۸؁ءمیں آپ دوبارہ مدرسہ سبحانیہ الٰہ آبادمیں اپنی ذمہ داریوں پر واپس تشریف لےگئے، اور مسلسل ۱۳۲۹؁ھ مطابق ۱۹۱۱؁ء تک یہیں خدمت انجام دی،اس دوران آپ نےانہی تعلیمی خطوط کوتسلسل بخشا،جو آپ نے ایک ڈیڑھ سال قبل قائم کئے تھے،اور مدرسہ کی نیک نامی اورعلمی مرکزیت کواپنے نقطۂ عروج تک پہونچایا۔
الٰہ آباد میں آپ کا قیام تقریباً چار(۴) سال رہا،جوآپ کی تعلیمی وتدریسی زندگی کانہایت شاہکاردورہے،الٰہ آباد میں آپ نےجملہ علوم وفنون کی کتابوں کادرس دیا، بالخصوص منطق وفلسفہ ،بلاغت،علم ادب اور فقہ اسلامی کےاسباق نےشہرت دوام حاصل کی ۔
الٰہ آبادمیں بحیثیت مفتی شہر
الٰہ آبادمیں کتب فقہ کی تدریس کے علاوہ کارافتابھی آپ کے ذمہ تھا،مدرسہ سبحانیہ
کے اسی دورکے طالب علم اورحضرت مولانامحمدسجادؒکے شاگردرشیدحضرت مولاناعبدالصمد رحمانی ؒ کے بیان کے مطابق:
"اکثردن کےکھانےکےبعدکتب خانہ میں جودارالطلبہ کے نیچے کی منزل میں
تھا،تشریف لے آتے ،اوراہم استفتاءکاجواب تحریرفرماتےتھے” ۔
اسلامی قانون کی تشریح وتفہیم میں آپ کوکمال حاصل تھا،فقہی مسائل میں الٰہ آباد میں آپ کوایک مرجع کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی،اسی لئے جب آپ الٰہ آباد سے مستقل طورپر رخصت ہونےلگے،توعمائدین اوررؤساء شہرکی ایک بڑی جماعت اسٹیشن تک آپ کورخصت کرنےکےلئے آئی اور ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہی جملہ تھاکہ :
"آج الٰہ آبادسے "فقہ” رخصت ہورہی ہے”
الٰہ آبادمیں آپ کےطریقۂ تعلیم کی شہرت
آپ کےطرزتعلیم اوراسلوب درس سےمتأثرہوکرایک ذہین ترین شیعہ رئیس زادہ "زاہد حسین خان دریاآبادی (جوعلم ریاضی کےلئےسارےہندوستان کی خاک چھان چکا تھا،لیکن کہیں اسے اطمینان حاصل نہیں ہواتھا)بھی آپ کے حلقۂ تلمذمیں داخل ہوا ،وہ انگریزی زبان اور علوم عصریہ سےخوب واقف تھے،لیکن علوم معقولات اورریاضی کےلئے اسے کسی استاذکامل کی تلاش تھی وہ حضرت مولاناسجادؒکی شکل میں اسے مل گیا،وہ حضرت مولاناکی شخصیت،آپ کےطریقۂ تعلیم اورعلم کی گہرائی سے بے انتہامتأ ثر ہوا،وہ نہایت اہتمام اورعقیدت کےساتھ آپ کےدردولت پرحاضرہوتاتھا ،اس منظر کے عینی شاہدجناب قاری یوسف حسن خان صاحب ؒ(جواس وقت مدرسہ سبحانیہ میں زیرتعلیم تھے)لکھتے ہیں کہ:
"دوران قیام ایک شیعہ رئیس زادہ مولاناؒ سے ریاضی پڑھنے آتاتھا،وہ سارے
ہندوستان کی خاک چھان چکاتھا،لیکن کہیں اس کی تشفی نہیں ہوئی ،آخرمیں وہ
مولاناکے طریقۂ تعلیم پرفریفتہ ہوگیااور باوجود رئیس زادہ ہونےکےبرابرمولانا
ہی کی خدمت میں قیامگاہ پرتعلیم حاصل کرتا تھا ،اور اس کے والدین مولاناکو
پچیس(۲۵) روپےدیاکرتے تھے،مولاناؒ اس سے روپے لےکرطلبہ کی ذات میں
کل کاکل خرچ کردیاکرتے تھے اور اپنےلئے ایک پیسہ بھی نہیں رکھتے تھے” ۔
الٰہ آباد میں آپ کی وجہ سے بہار کےطلبہ کی بھی بڑی تعدادرہتی تھی، مولانا عبدالصمد رحمانیؒ کےبقول جب وہ کانپور سے الٰہ آباد حصول تعلیم کی غرض سے پہونچے تو "مدرسہ سبحانیہ کادارالطلبہ بہار کاایک گاؤں معلوم ہوتاتھا”
ممتازتلامذہ
یہاں جن تلامذہ نےآپ سےفیض پایاان میں حضرت مولاناعبدالحکیم اوگانوی ؒ، حضرت مولانا عبدالصمد رحمانیؒ ،مولاناقاری حکیم یوسف حسن خان صاحب ؒ اورمولانافضل الکریم صاحب خاص طور پر قابل ذکرہیں۔
(دورثالث)
تدریس بہ عہداہتمام – زمانۂ قیام گیا
(۱۳۲۹؁ھ تا۱۳۴۱؁ھ مطابق ۱۹۱۱؁ء تا ۱۹۲۳؁ء – بارہ(۱۲)سال )
الٰہ آباد سے گیاتشریف آوری
تدریس کاتیسرادور زمانۂ قیام گیاسے متعلق ہے اور مسلسل بارہ (۱۲)سالوں پرمحیط ہے ، اور اس پورے دور میں مدرسہ کے اہتمام وانتظام اور دیگر کئی ملی وقومی ذمہ داریوں کے ساتھ حضرت مولانامحمدسجاد ؒنے درسی خدمات انجام دی ہیں ،یہ بے حد ہماہمی اورمصروفیت کادور تھا، اسی دور میں حضرت مولاناسجادؒ کی ایک شخصیت سے دوسری شخصیت برآمدہوئی ،یہ انقلابات کادور تھا،ملک میں افراتفری مچی ہوئی تھی اورحضرت ابوالمحاسنؒ کے فکر وخیال میں بھی ارتعاش برپاتھا ، ایک پرت سے دوسری پرت نکل رہی تھی ،لیکن ان حالات میں بھی مولانامحمدسجاد صاحب ؒ کے اندر کامدرس پورے آب وتاب کے ساتھ جلوہ گرتھا،اورانہوں نے اپنادرسی اشتغال اور افرادسازی کاعمل برقراررکھاتھا۔
الٰہ آبادچھوڑنےکےاسباب
حضرت مولانامحمد سجاد صاحب نے الٰہ آباد کیوں ترک کیا؟ اور وہ کیااسباب تھے جن کی بناپر وہ الٰہ آبادچھوڑنے پرمجبور ہوئے؟آپ کے کئی تلامذہ نے اس کاجواب دینے کی کوشش کی ہے:
٭مولاناقاری حکیم یوسف حسن خان صاحب ان دنوں وہیں مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں زیرتعلیم تھے،انہوں نے اجمال کے ساتھ صرف اتنالکھاہےکہ :
"شروع رجب ۱۳۲۹؁ھ (مطابق ۱۹۱۱؁ء )میں مولانامرحوم کوچندناگزیرواقعات کی
بناپرالٰہ آبادچھوڑناپڑا” ۔
ممکن ہے کہ بعض خلاف مزاج واقعات سےمولاناؒکےدل پرچوٹ پہونچی ہواور مدارس کےکردارومعیار کے بارے میں آپ کوکچھ مایوسی ہوئی ہو،واللہ اعلم بالصواب۔
٭البتہ مولاناکےدوسرےتلمیذحضرت مولاناعبدالصمدرحمانیؒ بھی ان دنوں الٰہ آباد میں ہی تھے،انہوں نےکچھ تفصیل کےساتھ ان اسباب پرروشنی ڈالی ہے،جس کاخلاصہ دوباتیں ہیں :
(۱)مولاناہندوستان کےبدلتےہوئے پس منظرمیں اپنےوسیع ترتعلیمی نظریات کے لئے کسی کھلی تجربہ گاہ کی ضرورت محسوس کرتے تھے،جہاں وہ خود اختیاری کے ساتھ اپنے افکار ونظریات کےتجربات کرسکیں،اور روایت کے ساتھ جدت کوہم آہنگ کرسکیں ،یہ چیزان کو الٰہ آبادمیں میسر نہیں تھی۔
(۲)دوسراسبب مدارس کی زبوں حالی اورعلمی واخلاقی معیارکاروزافزوں تنزل تھا، بالخصوص بہار کے مدارس سب سے زیادہ گراوٹ کاشکارتھے،حضرت مولاناسجادصاحب ؒنے مسلسل مدارس پر محنت کی تھی،اور نسل نوکی تعمیر میں اپناخون جگرصرف کیاتھا،لیکن مادیت کے غلبہ اورنئےتعلیمی نظام کے نفوذ کی وجہ سےوہ مدارس کےلئےنئےامکانات کی تلاش کی بھی ضرورت محسوس کرتے تھے۔
٭مولاناعبدالصمد رحمانی صاحب ؒنے یہ بھی لکھاہےکہ کئی بہاری طلبہ مولاناؒکوایک معیاری اورنمونہ کامدرسہ قائم کرنے مشورہ دیتے تھے،اور کہتے تھے کہ جب تک نمونۂعمل کےطور پر آپ کوئی ادارہ قائم نہ کریں گے ،آپ کے تعلیمی نظام اورنظریات کی معنویت سمجھ میں نہیں آسکے گی اورنہ موجودہ مدارس کےلئےکوئی عملی نمونہ سامنے آئےگا ، قدرتی طور پر مولاناؒاس قسم کےتقاضوں سےمتأثر ہوئےاورتعلیمی میدان میں عملی اقدامات کا فیصلہ فرمایا ۔
٭مولاناسیدمنت اللہ رحمانی صاحب ؒ نےلکھاہےاس انقلاب کےپیچھے ان عالمی اورملکی احوال واطلاعات کابھی دخل تھاجوحضرت مولاناکے انگریزی داں شاگرد(زاہدحسین خان )کےذریعہ آپ کوپہونچتی تھیں ،وہ انگریزی اخبارات برابرلاکرسناتے تھے ،جن میں ممالک اسلامیہ کے بارے میں بےحد تشویشناک خبریں ہوتی تھیں،جن سے مولاناؒکے دل ودماغ بہت زیادہ متأثر ہوتے تھے،اسی تأثر نے مولاناؒکےغوروفکرکےموضوع کوبدلا،اوربال وپرکے لئےایک آزادآب وہواکی تلاش ہوئی ،جہاں نئی فکر ،نئی ترتیب اور نئے اعتماد کے ساتھ تعلیمی وتربیتی سفر کاآغاز کیاجاسکے ،اور یہی ضرورت ان کوالٰہ آبادسےگیا(بہار)لے گئی ۔
ایک جامع مرکزعلم وعمل کامنصوبہ
یعنی صرف کسی روایتی مدرسہ کےلئےآپ نےالٰہ آباد ترک نہیں کیابلکہ ایک ایسے جامع ادارہ کامنصوبہ لے کرآپ وہاں سےاٹھے جوہر طرح کی دینی ،ملی،قومی اورسیاسی تحریکات کامرکزبننے کی صلاحیت رکھے،جو ملک وملت کوہرصلاحیت کےافراددےسکے، جوصرف روایتی تعلیم گاہ نہ ہوبلکہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے لئے مناسب رجال کار تیار کرنے کاکارخانہ ہو،مولانا الٰہ آباد سےاسی عزم کےساتھ اٹھے،یہ محض ایک مدرسہ سےدوسرے مدرسہ کی طرف منتقلی نہیں تھی،بلکہ تاریخ کے ایک دور سے دوسرے دورکی طرف انتقال اورماضی سے مستقبل کی طرف کاایک سفرارتقاتھا۔
۱۳۲۹؁ھ مطابق ۱۹۱۱؁ء کےرجب کاآغازتھاجب حضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادیؒ کے مشورہ اوراجازت سےآپ نےالٰہ آباد ترک کرنےکافیصلہ کیا ۔
مگر” گیا”جانےسےقبل آپ نےپہلے حالات کاجائزہ لینے کے لئےایک دونفری وفدوہاں روانہ فرمایا،جس میں آپ کے دوتلامذہ مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ اور مولانااحمداللہ صاحب آبگلوی ؒ شامل تھے،ان حضرات نے پورے شہر کادورہ کیا،ایک ایک محلے میں گئے،خواص اوررؤسائے شہر سے ملاقاتیں کیں ،مولاناؒکے منصوبوں سے ان کوآگاہ کیا،ان کی آراء اور ممکنہ تعاون کا جائزہ لیا،اور بالآخر ایک مکان کومناسب سمجھ کر اس پر نشان انتخاب ڈالدیا،اوروہیں سےمولاناکو(غالباً ڈاک سے)تحریری رپورٹ ارسال کردی،رپورٹ ملنے کےپندرہ بیس(۲۰) دن کےبعدحضرت مولانا سجادؒکےقافلہ نےجس میں بہارکےپندرہ بیس طلبہ بھی شامل تھےالٰہ آبادسےگیاکی طرف کوچ کیا،الٰہ آباداسٹیشن پرآپ کوالوداع کہنے والوں کاہجوم تھا،جس میں بڑی تعدادشہرکےرؤساء اورعمائدین کی تھی،سب نے نم آنکھوں کے ساتھ آپ کو رخصت کیااورآپ اوائل شعبان ۱۳۲۹؁ھ مطابق اگست ۱۹۱۱؁ء میں بذریعۂ ٹرین شہرگیاجلوہ افروز ہوئے ۔
گیاکاتاریخی پس منظر
"گیا”بہارکاانتہائی قدیم تاریخی اورافسانوی اہمیت کاحامل شہرہے،اس کاذکر ہندؤں کی قدیم مذہبی کتابوں رامائن اورمہابھارت وغیرہ میں بھی ملتا ہے،یہ بہارکےبڑےسیاحتی مقامات میں سےایک ہے.گیا بہار کا دوسرا بڑا شہر ہے، جو دریائےفالگوکے کنارےپر آبادہے،یہ جین، ھندو،اوربودھ تینوں مذاہب کےلئےایک مقدس مقام کادرجہ رکھتاہے .یہ تین جانب میں چھوٹی پہاڑیوں(منگلا-گوروری،شریرا-شانان،رام- شیہ اور برہمونی) سے گھرا ہواہے،اورچوتھی(مشرقی)سمت میں دریائےفالگوہے.شہر قدرتی مناظر، اور خوبصورت عمارات سے آراستہ ہے ۔
ذراتاریخ میں اورپیچھے کی طرف جائیں توگیادنیابھرمیں لوگوں کےلیےجیاہ حج کی جگہ تھی.اور ہندوستانی برصغیر کی سرحدوں سےبھی پرےوسیع علاقوں پرمشتمل تھا. اس مدت میں گیامگڑعلاقے کاحصہ تھا.مایا میگڑ علاقہ سے بہت سے راجاؤں کےعروج وزوال کی داستانیں وابستہ ہیں .چھٹی صدی قبل مسیح سےاٹھارہویں صدی عیسوی تک اس پورے خطے کاثقافتی تاریخ میں ایک اہم مقام رہاہے،تہذیبی تاریخ میں ایک اہم جگہ حاصل کرنےکےبعد،بھیم بسارکےدور میں گوتم بدھ اوربھجن مہاویرنےاس علاقےکواپنی رزمگاہ بنایا.ناندہ خاندان کی مختصر حکمرانی کےبعد، گیا اور پورے مگھاہ کاعلاقہ بدھ مت کےاشوک (272 قبل مسیح – 232 ق.م.) کے ساتھ موریان کی حکومت کےتحت آگیا.۔۔۔۔گپت سلطنت کےدوران گیابہارکاہیڈکوارٹرتھاپھرگیاپالی سلطنت کا حصہ بن گیا،مورخین کاخیال یہ ہےکہ بوہیاکاموجودہ مندرگوپال کے بیٹے دھرمپل کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا.
بارہویں صدی عیسوی میں محمدبختیارخلجی نےحملہ کیا.اور یہ مغل سلطنت کا حصہ بن گیا ۔

گیاکاانتخاب
اس تاریخی پس منظر سے ظاہر ہوتاہےکہ گیاکوبین الاقوامی شہرکی حیثیت حاصل رہی ہے،اور آج بھی یہ شہر اپنی اہمیت برقرار رکھنے کی پوری جدوجہد کررہاہے،بہار کاانٹرنیشنل ایرپورٹ اسی شہر میں واقع ہے،ایک سیاحتی شہر کی حیثیت سے اس کی بین الاقوامی حیثیت آج بھی قائم ہے،دنیاکے مختلف ملکوں کے سیاح یہاں آتے ہیں ،خاص طور پربرما،جاپان اور چائناکےلوگوں کایہ مرکزہے،یہ شہر آج بھی بہت سی سہولیات سے مالامال ہے جوبہارکے دوسرے شہروں میں میسرنہیں ہیں۔
اور عجب نہیں کہ حضرت مولانامحمدسجاد صاحب نےانہی وجوہات سےاپنی تعلیمی ، ملی،دینی اور سیاسی سرگرمیوں کے لئے اس بین الاقوامی شہر کاانتخاب کیاہو،اوروہ گیامیں نالندہ کی تاریخی یونیورسیٹی کےطرزکاکوئی عالمی ادارہ قائم کرنےکےآرزومندہوں ،جومتنوع علوم وفنون اوردنیابھرکےارباب علم اوراصحاب کمال کامرکز رہ چکی تھی۔
گیاکے بعض اسلامی مدرسے
گیامیں بعض مدارس اسلامیہ حضرت مولانامحمدسجادؒکی آمدکے پہلےسےبھی قائم تھے ،مثلاً:
مدرسہ (قاسمیہ )اسلامیہ
٭ حضرت مولاناعبدالغفار خان سرحدی ؒ(متوفیٰ ۱۳۳۴؁ھ مطابق ۱۹۱۶؁ء) خلیفۂ ارشد قطب العالم حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی ؒ نے ۱۳۰۲؁ھ مطابق ۱۸۸۵؁ء سے قبل ہی ایک مدرسہ "مدرسہ اسلامیہ ” کے نام سے قائم کیاتھا،جو آپ کے دامادحضرت مولاناسیدخیرالدین گیاوی ؒ(متوفیٰ ۱۳۶۷؁ھ مطابق ۱۹۴۸؁ء)کےعہداہتمام میں مدرسہ قاسمیہ اسلامیہ کے نام سےمشہورہوا ۔
یہ مدرسہ حضرت مولانا محمدسجاد صاحب ؒ کی گیاتشریف آوری کے زمانہ میں بھی بالیقین جاری تھا،لیکن کوئی بلندحیثیت کاحامل نہیں تھا۔
مدرسہ انوارالعلوم (بناء اول)
٭اسی طرح ۱۳۲۷؁ھ مطابق ۱۹۰۹؁ء میں حضرت مولانامحمدسجاد ؒکےہم وطن اور استاذ مشہور منطقی عالم دین شمس العلماء حضرت مولاناعبدالوہاب فاضل بہاریؒ نےقاضی فرزنداحمد صاحب رئیس گیاکےتعاون سے قاضی صاحب کےصاحبزادےقاضی انواراحمد مرحوم کے نام پر”مدرسہ انوارالعلوم” کی بنیاد ڈالی تھی ،جس کےسالانہ جلسہ میں مولاناعبدالوہاب صاحب کی دعوت پرعلامہ شبلی نعمانی ؒ(ولادت:۱۸۵۷؁ء-وفات:۱۹۱۴؁ء)اورمولاناعبدالحق حقانی دہلوی ؒ(ولادت ۱۲۶۵؁ھ /۱۸۴۸؁ء- وفات :۱۹۱۶؁ء /۱۳۳۵؁ھ) جیسے مشاہیرہندتشریف لاچکے تھے ۔
لیکن ایک دوسال کے بعدہی حضرت مولاناعبدالوہاب بہاری ؒ کے چلے جانے کے بعد وہ مدرسہ بند ہوگیاتھا ،ظاہر ہے کہ ایک دوسال کے عرصہ میں مدرسہ کی اپنی عمارت ہونے کا بھی امکان کم معلوم ہوتاہے،بلکہ اندازہ یہ ہےکہ مدرسہ کسی عارضی عمارت میں رہا ہوگا ،جو بندہونےکے بعد صاحب ملکیت کے پاس واپس چلی گئی ہوگی۔
غرض حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ کی گیاتشریف آوری کے وقت یہاں کوئی بھی قابل ذکرمدرسہ نہیں تھا،اور غالباً آپ نےاپنی آمدسےقبل جووفد یہاں بھیجاتھا،اس کا مقصدحالات کاجائزہ لینے کےساتھ مدارس کی صورت حال اور کسی نئے مدرسہ کی فی الواقع ضرورت کاپتہ لگانا بھی تھا،مولانازکریافاطمی ندوی صاحب ؒ رقمطرازہیں :
"المختصرجس وقت آپ تشریف لائے،گیامیں کوئی مدرسہ نہیں تھا،اور
ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ کوئی عربی درسگاہ جاری کی جائے”
مدرسہ انوارالعلوم گیا کااحیاء
حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ نےنئے نام سےکوئی مدرسہ قائم کرنے کے بجائے مناسب محسوس کیا کہ حضرت مولاناعبدالوہاب صاحب والےمدرسہ ہی کااحیاکیاجائے،مدرسہ توختم ہوچکاتھا،نہ اس کی کوئی عمارت تھی اور نہ اس کابچاہواکوئی اثاثہ ،البتہ مدرسہ کا نام ابھی تک لوگوں کے ذہنوں سے محونہیں ہواتھااس نام نے ایک زمانہ میں لوگوں کاکافی اعتماد سمیٹاتھا،اس لئے اس نام کودوبارہ زندہ کرنے سےقدیم مخلصین ومعاونین خوشی محسوس کریں گے۔
٭نیزاس نام پر اس سےقبل ملک کےمشاہیر کی تشریف آوری ہوچکی تھی،اس لئے یہ نام ان کے ذہنوں کےکسی گوشہ میں بھی ضرور محفوظ ہوگااور اس سےمدرسہ کی تشہیرواشاعت میں مدد ملے گی ۔
٭ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ یہ نام ملک کےایک شمس العلماء کاتجویزکردہ تھا،جو حضرت مولانا محمدسجادصاحب ؒکے استاذ بھی تھے اور ہم وطن بھی ۔
٭اورغالباً اس نام کوباقی رکھنےکاایک بڑاسبب یہ بھی ہواکہ جب حضرت مولانا سجاد صاحبؒ قیام مدرسہ کےارادہ سے گیاتشریف لائے تویہاں کے مقامی لوگوں میں سےجن خاص لوگوں نےآپ کاپرتپاک خیرمقدم کیا،ان میں قاضی احمدحسین صاحب کی شخصیت سرفہرست تھی ،قاضی صاحب کی ایک خالہ جونیک کاموں میں دل کھول کرخرچ کرتی تھیں ،اورمخیرہ ہونےکی وجہ سےسرکارعالیہ کہلاتی تھیں ،قاضی صاحب کی سفارش پر انہوں نے
ایک بڑی رقم مدرسہ کھولنےکےلئےعنایت کی ، سرکارعالیہ کوکوئی اولادنرینہ نہیں تھی ،قاضی فرزنداحمدصاحب کےاکلوتے صاحبزادے قاضی انواراحمدصاحب (جن کاذکراوپرآیا) ان کےدامادتھے،اورعین جوانی میں دوبچوں کویتیم چھوڑکرانتقال کرچکےتھے،ممکن ہےکہ سرکارعالیہ کی خواہش رہی ہو کہ میرے دامادکانام زندہ رہے ۔
یہ بات خودقاضی احمدحسین صاحب کی سوانح حیات "حسن حیات "میں ان کے پھوپھی زادبھائی شاہ محمدعثمانی صاحب ؒ مہاجرمکی نےلکھی ہے ،اس سے قبل حضرت مولانا عبدالوہاب صاحب بہاری ؒ کاتعاون بھی قاضی انواراحمدمرحوم کےوالدقاضی فرزند احمد صاحب نے کیاتھا اوراب مولانامحمدسجادصاحبؒ کوبھی اسی کام کےلئےقاضی انواراحمد کی خوشدامن صاحبہ خطیرتعاون پیش کررہی تھیں،اس لئے قدرتی طور پروہی قدیم نام "انوارالعلوم”باقی رکھناہرلحاظ سےقرین مصلحت تھا۔
غرض یہ نام برکتوں اور دینی ودنیوی منافع سے خالی نہیں تھا،بس مولاناسجاد صاحب نے اسی نام سےشعبان المعظم ۱۳۲۹؁ھ مطابق اگست ۱۹۱۱؁ء میں ایک نئےادارہ کی بنیاد ڈالی، کرایہ پرایک دومنزلہ مکان "ظفر منزل "کےسامنےحضرت مولاناسجادصاحب ؒکی آمدسےقبل ہی لےلیا گیاتھا ،یہی دارالاقامہ بھی تھااور یہی درسگاہ بھی۔۔۔۔۔آپ نے ایک شاندارافتتاحی اجلاس کےذریعہ مدرسہ کاآغازفرمایا،جس میں اپنے استاذومربی حضرت مولاناعبدالکافی الٰہ
آبادی ؒ کو بھی مدعوفرمایا ۔
بےمثال صبروایثار
حضرت ابوالمحاسن ؒنے مدرسہ کی تعمیر وترقی کے لئے بے پناہ محنت کی،الٰہ آباد کی آمدنی سےجوکچھ بچاتھا سب مدرسہ کےطلبہ پر خرچ کردیا،اس کے بعد فاقہ تک کی نوبت آگئی ،مگر نہ مولاناکے پائے استقلال میں فرق آیااور نہ آپ کی برکت سے طلبہ مایوس ہوئے،مدرسہ کے ابتدائی دور میں بڑے مشکل حالات کاسامناکرناپڑا،اور سخت تکلیفیں اورصعوبتیں اٹھانی پڑیں ،بقول مولانا عبدالحکیم صاحب اوگانویؒ:
"یہ ایک داستان لرزہ خیزاور حیرت انگیزہے،جن کوکچھ میں ہی جانتاہوں
کیونکہ میں مولاناکارفیق اور ساتھی تھا ”
مولاناعبدالصمدرحمانی صاحب بھی یہاں شریک کاررہے ہیں ،وہ فرماتے ہیں کہ :
"یہاں پہونچ کر قیام کے بعدسب سے پہلااہم مسئلہ طعام کاتھا،جس کا
حل یہ کیاگیاکہ جس کے پاس جوکچھ تھا،وہ سب ایک جگہ جمع کردیاگیا،
اور اسی سے قوت لایموت کا یہ انتظام کیاگیاکہ اکثر کھچڑی اورکبھی
صرف خشکہ پکالیاجاتاتھااس کوسرخ مرچ کے بھرتہ کےساتھ جو آگ
پربھون لی جاتی تھی اوراس میں نمک ملادیاجاتا تھامولاناایک دسترخوان
پربلاتکلف طلبہ کے ساتھ بیٹھ کرکھالیتے تھے،اور مولاناکی پیشانی پرکبھی
شکن بھی نہیں پڑتی تھی ،مجھ کویاد ہےکہ ایک عید ایسی بھی گذری تھی
،کہ مولانامدرسہ کی ضرورت سے کہیں باہر تشریف لے گئے تھے،اس
روز کھانے کاکوئی سامان نہ تھا،صرف چندسیر گیہوں تھے،ان ہی کوبھون
کرصوم عید کی حرمت سے گلو خلاصی کرکےصبروشکر کےساتھ عیدکا
دوگانہ اداکیاگیاتھا۔
ان غیر معمولی حالات میں مولانا کومیں نے کبھی نہیں دیکھاکہ وہ اس
رنج ومحن کے کٹھن ایام میں کبھی مایوس ہوئے ہوں ، یایہ کہ ان کو
کبھی خیال ہواہوکہ بیٹھے بٹھائےکیوں الٰہ آباد کی طمانیت کی خوش عیش
اور خوشگوارزندگی کوچھوڑکراس دردسرکوخریدامولاناہمیشہ پرامیدرہتے
تھےاورطلبہ کوبھی پرامیدرکھتے تھےمشکلات سے نہ گھبراتےتھےنہ کام
کے ہجوم سے پریشان ہوتے تھے،ان ایام میں وہ تنہا سب کام انجام
دیتے تھے،خود ہی مدرسہ کے مہتمم بھی تھے،مدرس بھی تھے،سفیر بھی
تھے،اور طلبہ کے اتالیق بھی تھے،اوران کےغمگساراور مربی بھی تھے”
فتوحات کاآغاز
آخر حضرت مولاناؒکی محنت رنگ لائی ،آپ کی امیدوں کے شجر ہرے ہونے شروع ہوئے، خزاں کے دن رخصت ہونے لگے،بہار کی ہوائیں چلنے لگیں اور آپ کے صبر واخلاص کی گرمی نے اس سنگلاخ شہر کا جگر پگھلاکررکھدیا،شہر کےعمائدین متوجہ ہوئے،کئی اطراف سے مدرسہ کو تعاون ملنے لگا،مسماۃ بی بی مریم صاحبہ دخترمرزادوست محمددیوان ریاست ٹکاری گیانے زمین ،کئی مکانات اور جائیدادیں مدرسہ کے لئے وقف کیں، جس سے مدرسہ میں کافی سہولتیں پیداہوگئیں، مولاناطلبہ کےساتھ کرایہ کےمکان سےمنتقل ہوکر موقوفہ مکانات میں چلےآئے، ،
اس کےبعدحضرت مولاناؒنےمعقول سرمایہ کاانتظام کرکے اینٹ کابھٹہ لگوایا،اور احاطہ باغ (محلہ معروف گنج ) میں تعمیری کام کاآغازفرمایا،تعمیرکے دوران رات میں مولاناطلبہ کے ساتھ خود اینٹیں ڈھوڈھوکر مقام تعمیر تک پہونچاتے تھے،تاکہ مدرسہ زیادہ زیربارنہ ہو نیز تعمیری کام جلد مکمل ہوسکے،طلبہ میں بھی بڑاجوش وخروش تھا،ہر طالب علم بڑھ چڑھ کر حصہ لیتاتھا اور اس کو اپنے لئے سعادت تصور کرتاتھا ۔
منتہی درجات تک تعلیم
تعمیرات کے ساتھ مولانانے اس مدرسہ کی علمی بنیادیں بھی مستحکم کیں ،ایک ہی
چھت کے نیچے ابتدائی درجہ سےلےکر دورۂ حدیث تک کی تعلیم ہونے لگی،قریب وبعید کے طالبان علوم نبوت کارجوع عام ہوگیا،صرف بہار ہی نہیں بلکہ ملک کےدوسرے صوبوں سے بھی تشنگان علم وفن کی قطارلگ گئی ،اور جس عظیم اسلامی یونیورسیٹی کاآپ نے خواب دیکھااس کانقشہ سامنے آنےلگا،مدرسہ کے بڑےبڑے جلسےہونے لگے جس میں ملک کی ممتازشخصیتوں کی شرکت ہوتی تھی ،اور فضیلت حاصل کرنے والے طلبہ کودستار بھی عنایت کی جاتی تھی اورسند بھی ۔
ملی ،تعلیمی وقومی تحریکات کامرکز
علاوہ اس مدرسہ کی بڑی خصوصیت جس میں برصغیر کے کم مدارس اس کی ہمسری کرسکیں گےیہ تھی کہ حضرت مولانامحمدسجادؒ کی اکثر دینی ،ملی ،قومی اور سیاسی تحریکات کی جائے پیدائش یہی مدرسہ ہے،فکر سجادکی نشوونمااسی آب وہوا میں ہوئی اور حضرت ابوالمحاسنؒ کے افکاروخیالات اورامیدوں اورآرزؤں کااصل دارالسلطنت یہی ادارہ تھا،حضرت مولاناسید منت اللہ رحمانی صاحبؒ کےالفاظ میں:
"علماء کی تنظیم،جمعیۃ علماء کاقیام،تمام مدارس عربی میں ایک اصلاحی
نصاب کااجراء،امارت شرعیہ کی اسکیم وغیرہ یہ سب چیزیں مولاناکے
دماغ نے گیاہی میں پیداکیں اوراسی زمانہ میں مولانانےاپنی اسکیموں
کوعملی شکل بھی دیناشروع کردی” ۔
اس مدرسہ کے ممتاز فضلاء میں جنہوں نےیہاں حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ کے پاس دورۂ حدیث کی تکمیل کی،اور یہیں سے فراغت حاصل کی ،حضرت مولانامظہرعلی صاحب (مقام شمس پورتھانہ بیلا،ضلع گیابہار)بطور خاص قابل ذکر ہیں،اس خطہ میں ان کوخاصی شہرت حاصل ہوئی ۔
خوبصورت تسلسل
مدرسہ کی ایک مطبوعہ سند ہمیں دریافت ہوئی ہے جوحضرت مولانامحمدسجاد صاحب ؒ کے بعد طبع ہوئی تھی ،اس سے اندازہ ہوتاہے کہ مولاناسجاد ؒ کے بعد بھی دورۂ حدیث کے اسباق یہاں جاری تھے،اور طلبہ یہاں سے فارغ ہوتےرہے،حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ کےبعد اس مدرسہ کےمہتمم آپ کے شاگردرشیدمولاناعبدالحکیم صاحب اوگانوی ؒہوئے،جن کوخود حضرت مولاناؒنے اپنی گوناگوں مصروفیات کی بناپریہ ذمہ داری اپنی حیات ہی میں حوالے کردی تھی،ان کے دور میں بھی مدرسہ کی ہمہ جہتی ترقیات کاسفر جاری رہا،اوریہ اعلیٰ تعلیم کے مرکزکی حیثیت سے اپنی نیک نامی میں اضافہ کرتارہا، غالباً دورۂ حدیث کی یہ سندمولاناعبدالحکیم صاحب ہی کے زمانے میں طبع کرائی گئی تھی۔۔۔۔
زوال کی طرف
مولاناعبدالحکیم صاحبؒ کاانتقال حضرت ابوالمحاسنؒ کی وفات کےایک ہی سال کے
بعدہوگیا،مولاناعبدالحکیم صاحبؒ کے وصال کے بعدمدرسہ کی نظامت حضرت مولاناسجادؒ کے ایک اورتربیت یافتہ قاضی احمدحسین صاحب ؒ کے سپرد ہوئی،قاضی صاحب ؒنےاس مدرسہ کوترقی دینےکی بھرپورکوششیں کیں،وہ اعلیٰ درجہ کےاساتذہ کی تلاش میں سرگرداں رہے، اورکئی باصلاحیت اساتذہ کی خدمات انہوں نےحاصل کیں،انہی میں ایک ناموراستاذمولانا مظاہرامام صاحب بھی تھے،جوشیرگھاٹی گیاکےرہنےوالےتھے،ایک عرصہ تک بہارشریف میں پڑھاچکے تھے،علامہ سیدسلیمان ندویؒ بھی ان کی استعداد کی بڑی تعریفیں کرتے تھے،وہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ جیسی عظیم درسگاہ کا پرنسپل بننے کی لیاقت رکھتے تھے،لیکن انگریزی میں دستخط نہ کرسکنے کی بناپراس دوڑ میں پیچھے رہ گئے،۔۔۔جمعیۃ علماء ہنداورکانگریس کے حامی تھے،اور یہی چیزمدرسہ کےلئے فتنہ کاسبب بن گئی ،حضرت مولاناسجادؒکے بعد گیاکی ملی سیاست کانقشہ ہی تبدیل ہوگیاتھا،جوشہرجمعیۃ علماء ہند اور اس کےواسطے سے کانگریس کاگہوارہ رہ چکاتھا،جہاں ،خلافت ،جمعیۃ اورکانگریس کےبڑے بڑے تاریخی اجلاس ہوچکے تھے، حضرت مولاناؒ کےبعدملکی حالات کےتغیرات کےنتیجےمیں وہاں کی اکثریت کانگریس اورجمعیۃعلماء ہندسے بیزار ہوچکی تھی،مسلم لیگ کےپاکستان جیسےخوشنمانعروں کاجادو سرچڑھ کربول رہاتھا،شہر کےاکثرمسلمان مسلم لیگ کےحامی ہوگئے تھے،مولانامظاہرامام صاحب کاجمیعتی اورکانگریسی انتساب ان کوقطعی گوارانہیں ہوا،ناظم مدرسہ قاضی احمدحسین صاحب ان دنوں امارت شرعیہ پھلواری شریف میں مقیم تھے،ان کی غیرموجودگی میں مقامی لیڈروں نے مدرسہ پرقبضہ کرلیا،آگے کی رپورٹ قاضی صاحب کےپھوپھی زاد بھائی حضرت شاہ محمدعثمانی ؒ سےسنیئے:
"قاضی صاحب کوتاردیاگیا،وہ گیاتشریف لائے ،اورچاہتے تھےکہ
مقدمہ کی کاروائی کریں،لیکن ان کےچھوٹے بھائی نےمشورہ دیاکہ
لڑائی نہ کی جائے،انہوں نے کہا کہ مدرسوں کی کیااہمیت ہے،ملک
میں ہزاروں مدرسےہیں،اوران کوعلماء دین جو جمعیۃ علماء سےوابستہ
ہیں چلارہےہیں ایک مدرسہ نہ سہی،مولاناسجادکی یادگارصرف یہی
مدرسہ تونہیں،ان کی یادگار جمعیۃ علماء اور امارت شرعیہ بھی توہے،
ان کوچلایا جائے چنانچہ قاضی صاحب نےلڑنےکاارادہ ترک کردیا
،اور پھلواری شریف واپس تشریف لےگئے۔
اس کےبعدیہ مدرسہ مختلف دوروں سےگزرتارہامولاناابومحمدصاحب
مرحوم اورمولانااصغرحسین نے اس کے لئےبہت بڑی جائیدادبھی
حاصل کی،پھراس کاانتظام ان لوگوں کےقبضہ میں چلاگیاجن کامزاج
عربی مدارس کےچلانےکانہ تھاوہ کوئی اسکول البتہ اچھی طرح چلاسکتے
تھے” ۔
اس طرح ملت کایہ قیمتی تاریخی سرمایہ زوال پذیرہوگیا،اورباوجودبےپناہ جائداد موقوفہ کےاس مدرسہ کامعیارتعلیم گرتاچلاگیا،اب یہ درجات حفظ تک محدود ہوکررہ گیا ہے۔
آج کل یہ مدرسہ بہاروقف بورڈکے ماتحت ہے،سرکاری تنخواہ یاب ملازمین ہیں ، وسیع وعریض عمارتیں ہیں،بڑی جائیدادہے اور سب کچھ ہےمگرمولانامحمدسجادؒجیساکوہ کن کوئی نہیں ہے۔
؎ گرچہ ہیں تابدارابھی گیسوئےدجلہ وفرات
قافلۂ حجاز میں کوئی حسین ہی نہیں

مدرسہ انوارالعلوم گیا کاصدردروازہ

مدرسہ انوارالعلوم گیاکی قدیم مرکزی عمارت جواب کھنڈرات نظرآتی ہے

مدرسہ انوارالعلوم گیاکےکھنڈرات

مسماۃ بی بی مریم صاحبہ دخترمرزادوست محمددیوان ریاست ٹکاری گیا کی قبر جنہوں نے مدرسہ کے لئےاراضی وقف کی تھیں،یہ قبر مدرسہ کےاحاطہ میں موجود ہے۔

سندفضیلت مدرسہ انوارالعلوم گیاجوفارغ ہونے والےطلبہ کودی جاتی تھی
تدریسی امتیازات وخصوصیات
حضرت مولانامحمد سجاد صاحب ؒ بڑے عالم ہونے کے ساتھ کامیاب مدرس بھی تھے ، طالب علمی کےزمانہ ہی سے ان کواس میدان میں شہرت حاصل ہوگئی تھی،مختلف علوم وفنون پربے پناہ قدرت کےساتھ تفہیم کا جوملکہ اللہ پاک کی جانب سےان کوعطا ہوئی تھی اس کی بناپروہ طالب علم کے ذہن ودماغ پرچھاجاتے تھے،اور طالب علم محسوس کرتاتھاکہ علم اسےگھول کرپلایاجارہاہے،گوکہ مولاناؒ کازمانۂ تدریس بہت زیادہ طویل نہیں رہا، زمانۂ طالب علمی کی تدریس کو بھی شامل کرلیاجائے تو کل مدت تدریس بیس اکیس(۲۱) سال ہوتی ہے،اس مختصر سی مدت میں جس طرح آپ کی تدریس کےجوہرکھلے،اگر کچھ عرصہ اوربھی آپ کو موقعہ ملاہوتاتوشایدغیرمنقسم ہندوستان میں کوئی آپ کی ہمسری نہ کرسکتا،اوریہ خیال میرانہیں بلکہ آپ کوبہت قریب سےدیکھنےوالےاورپورےملک کےاداروں اور شخصیات پر گہری نظر رکھنےوالےماہرتعلیم اورمبصرحضرت مولاناسیدمنت اللہ رحمانی ؒ کاہے،تحریر فرماتے ہیں:
"ہندوستان میں بڑے فضلاء اورکامیاب ترین درس دینے والے گذرے
ہیں اورآج بھی کچھ موجود ہیں ،مگرکم لوگوں کویہ فخرحاصل ہے،کہ اس
قدر جلد علمی صفوں میں نمایاں ہوئے ہوں جس قدر جلد اور جتنی کم
سنی میں مولاناکے علم وتبحر کو اہل علم نے تسلیم کرلیا،اگر مولانانے اپنی
زندگی کارخ دوسری طرف نہ پھیردیاہوتا،اوروہ برابرپڑھنےپڑھانےمیں
مشغول رہتے ،توبلاخوف تردیدکہاجاسکتاہےکہ وہ ہندوستان کےسب سے
زیادہ کامیاب مدرس اورسب سے زیادہ شفیق استاذ ہوتے ۔
مولاناسیدمنت اللہ رحمانیؒ اپنےایک مکتوب میں تحریرفرماتے ہیں:
"میں نےایساتربیت دینےوالابھی نہیں دیکھا،میں پندرہ سولہ سال
ان کی خدمت وتربیت میں رہا،میں نےایساشفیق مربی نہیں دیکھا”
(مکتوب بنام مولاناعطاء الرحمن قاسمی،بتاریخ ۲۹/مارچ ۱۹۸۶؁ء)
اور یہ رائے تنہامولاناسیدمنت اللہ رحمانیؒ کی نہیں بلکہ مولاناکےتمام تلامذہ اس باب میں متفق الرائے ہیں،جس نےایک سبق بھی مولاناسےپڑھاوہ ساری زندگی کےلئےآپ کا گرویدہ ہوگیا،اوراس سعادت کواپنے لئےسرمایۂ فخرتصور کرنےلگا،آپ کے سب سے بڑے علمی وفکری جانشین مولاناعبدالحکیم صاحب نے پورے یقین کےساتھ لکھاہے کہ میں نے اپنی پوری علمی زندگی میں مولاناکے پایہ کانہ عالم دیکھااور نہ مدرس دیکھا،مولاناکی شاگردی پر اظہارفخر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
"آج مجھے یہ فخرحاصل ہے کہ میں مولاناکاشاگرد ہوں،اگرچہ حقیراور
کمترین ہوں۔۔۔۔۔۔مولاناکے درس وتدریس کایہ حال تھاکہ بڑی محنت اور
کاوش سےپڑھاتے تھے،اور کتاب کے مطالب مع مالہ وماعلیہ اس آسانی سے
طلبہ کے دماغ میں اتار دیتے تھے ،کہ دماغ چمک اٹھتا تھا ، مولاناکے طرز
تدریس کی بڑی شہرت اوردھوم رہی” ۔
مولاناؒکےمتعددتلامذہ نےمولاناؒکےدرس کی جوکیفیات لکھی ہیں،ان کی روشنی میں آپ کےدرس کی درج ذیل خصوصیات ابھرکرآتی ہیں:
٭مکمل مطالعہ وتیاری کےبعدپورے انہماک کے ساتھ آپ کتابوں کوسمجھاتے تھے ،نہ اس میں الفاظ کابخل ہوتاتھااور نہ وقت کی تنگ دامانی کاگلہ۔
٭اگرایک بارکی تقریرسےتشفی نہ ہوتی تودوبارہ سہ بارہ تقریر کرنے میں چیں بجبیں نہ ہوتے۔
٭اگر اوقات مدرسہ میں آسودگی نہ ہوتی توالگ سےوقت دینے میں دریغ نہ فرماتے۔
٭حدتویہ تھی کہ کسی طالب علم کوآپ کےبیان کردہ مطلب پراعتمادنہ ہوتاتو شروح وحواشی دکھلاکراس کی تشفی فرماتے۔
٭مشکل مقامات میں کسی طالب علم کوشبہ ہوتاتودوسرےصاحب علم وفضل کے سامنے مقام شبہ کی تقریر فرماکر طالب علم کومطمئن کرتے،اور اس میں ذرابھی اپنےلئے عار محسوس نہ کرتے اورنہ طالب علم سےبدگمان ہوتے ۔
طلبہ کی ضروریات کاخیال
٭طلبہ کی تمام ضروریات کاخیال رکھتے،پڑھنےلکھنےکےعلاوہ ان کے کھانےپینے رہنےسہنے،صحت وبیماری اور گھریلوحالات سےبھی واقف رہتے،اوراپنی اولادکی طرح ان کو ہرممکن سہولیات بہم پہونچانےکی کوشش کرتےتھے،مولانامنت اللہ رحمانی صاحب نے لکھا ہےکہ:
"مولاناؒکاسلوک طلبہ کے ساتھ اس درجہ بہتر تھا ،کہ ان دنوں اس کاتصور
مشکل ہےکھانے پینے،رہنےسہنے،پہننےاوڑھنےمیں مولانانےکبھی امتیاز
روانہ رکھا، یہ ناممکن تھا ،کہ مولانا کھائیں ،اور طالب علم بھوکارہ جائے،بیمار
طلبہ کے علاج کا نظم خود مولانا کیاکرتے تھے،حکیم کےیہاں لےجانا،دوا
لانا، دواپلانا،تیمارداری کرنا،ان میں سے زیادہ تر کام مولاناخوداپنے ہاتھوں
سے انجام دیا کرتے تھےاس کانتیجہ یہ تھاکہ طلبہ مولاناپراپنی جان قربان
کرنے کوتیار رہتے تھے ، آج بھی مولاناکے جو شاگرد موجود ہیں، وہ اس
وقت بھی مولانا کی شفقت اورمہربانیوں کوہمیشہ یادکرتے ہیں،اور انہیں
اس کااعتراف ہےکہ جتنی خدمت مولانانے ہماری کی ہوگی اتنی خدمت
ہم مولاناکی نہیں کرسکےہیں ۔
استاذکی محبت واحترام کےبغیرعلم دل ودماغ میں نہیں اترتا،طلبہ کے ساتھ مولاناکا یہ سلوک محض انسانی خدمت کے نقطۂ نظر سےنہیں تھابلکہ ان کےلئےعلم کی منزل کوآسان کرنابھی مقصودتھا،مولانااپنے حسن سلوک اورمحبت کے ذریعہ طلبہ پر علم کاایسانشہ چڑھادیتے تھےکہ حصول علم کے لئے ثریاتک کے لئے وہ آمادۂ سفر ہوجاتے تھے،بقول ڈاکٹرمحمداقبال ؔ:
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
تدریسی فنائیت
٭مولاناایک نہ تھکنےوالےمسافر علم تھے،ان کادرس فجر کی نماز سےقبل شروع ہو جاتاتھا،اور سونے کے وقت تک جاری رہتا،دوپہراور عصر کے بعد کاوقت بھی ان کاوقت خدمت علم ہی میں صرف ہوتاتھا ،ہندوستان میں استاذ الکل حضرت مولانااحمدحسن کانپوریؒ
کے بعد کسی بھی استاذ کی ایسی تدریسی فنائیت سننے میں نہیں آئی۔
چھٹیوں میں تعلیم
٭طلبہ کےاوقات کابڑاخیال رکھتےتھے،اورزیادہ سےزیادہ ان کوتعلیم میں مشغول رکھتے،مولانا اس کے لئے کبھی خود بھی زیربار ہوتے تھے لیکن ممکن حد تک اس کو گوارا فرماتے تھے،مثلاً مدرسہ میں لمبی چھٹیاں ہوجاتیں تو آپ کچھ طلبہ کواپنے گھر لے جاتے اور ان کوگھر پرتعلیم دیتے اوران کے اخراجات کی کفالت خود برداشت کرتے تھے، مولانا اصغر حسین صاحب بہاریؒ ان خوش نصیب طلبہ میں سےایک ہیں،جو تعلیمی چھٹیاں کاشانۂ ابوالمحاسنؒ پرگذارچکے ہیں ،تحریرفرماتے ہیں :
"طلبہ کےاسباق کااس قدراحساس تھا،کہ شہر کی آب وہواکی ردائت
کے باعث مدرسہ ہفتہ دوہفتہ کے لئے بندہوجاتاتوپندرہ بیس طلبہ کو
پنہسہ اپنے مکان لے جاتے،اور سب کے ناشتے کھانے کے خود کفیل
ہوکر مکان ہی پر درس میں مشغول ہوتے،مجھ کوبھی ایک مرتبہ ایسا
موقعہ ملاہے،اس وقت مولاناکےیہاں خوب کاشتکاری ہوتی تھی” ۔
طلبہ میں اعتمادکی روح پھونکنا
٭وہ طلبہ میں اعتماد کی روح پھونکتے تھے ،وہ کتاب کی تفہیم ضرور فرماتے تھے،لیکن چاہتے تھے کہ طلبہ کتاب کی عبارت سے بالاترہوکر نفس موضوع پربھی قابو پالیں،اور وہ مسئلہ پربراہ راست غور کرناسیکھ جائیں،تاکہ الفاظ کی ثقالت سے آزاد ہوکرکسی بھی مسئلہ میں صحت وسقم کافیصلہ کرنےکی ان میں صلاحیت پیداہوجائے، آپ کےشاگردرشیدحضرت مولانا عبدالصمدرحمانیؒ جوخود بڑے اعلیٰ درجہ کے عالم ،فقیہ اور مدرس ہوئےہیں ،اورجنہوں نے سب سےزیادہ تفصیل کے ساتھ اپنےاستاذکے طریقۂ تعلیم پر روشنی ڈالی ہے، تحریر فرماتے ہیں:
"استاذمرحوم فرمایاکرتےتھے،کہ پڑھنے والے کے سامنےدوباتیں رہنی
ضروری ہیں،ایک تویہ کہ جس مسئلہ کوتم کتاب میں پڑھ رہے ہوپہلے اس
کوکتاب سےسمجھوکہ صاحب کتاب اس کے متعلق کیاکہہ رہاہے،اور اس
سمجھنے میں جو کچھ سمجھواس کی عبارت سے سمجھوکسی خیال کواپنی طرف سے
زبردستی اس میں نہ ٹھونسو،اس کے سمجھ لینے کے بعددوسری چیز یہ ہےکہ
یہ سمجھوکہ اصل مسئلہ کی حقیقت ہے کیا؟اور جب اصل مسئلہ کی حقیقت
سمجھ لوتواس کے بعد یہ بھی دیکھوکہ صاحب کتاب سے اس حقیقت کے
سمجھنے میں چوک تو نہیں ہوئی ہے ، پس حضرت استاذ پہلے کتاب کی تفہیم
فرماتے ،پھر نفس مسئلہ کی طرف رہنمائی فرماتے ،اس طرح پڑھنے والے
میں تحقیق،تلاش،محنت،مطالعہ اور فکرکاجذبہ پیداکردیتے تھےاور پڑھنے
والے کےدماغ کی تربیت فرماتے تھے،حضرت استاذ طلبہ کونہ توبے محابا،بگ
ٹٹ،ایسارواں دواں دیکھناچاہتے تھے،کہ بے خبری میں ہر موڑاس کے لئے
خطرناک خندق بن جائے ،اور اس کے لئے مغلطہ کاباعث ہو،اور نہ وہ طلبہ کے
لئے یہ پسندفرماتے تھےکہ صرف کتاب کارٹوہوکررہ جائے اور دماغ اس جوہر
لطیف سے خالی رہے،جوعلم کامقصود ومطلوب ہے” ۔
ظاہر ہے کہ اس کے لئے وسیع علم ،گہرے مطالعہ اورطویل تجربہ کی ضرورت ہے اورلازم ہے کہ استاذ کتاب وفن دونوں پرپوری طرح حاوی ہو،مولاناسجادؒ کایہ طریقۂ تدریس ان کے بے پناہ علم وکمال اور تدریس کی مجتہدانہ صلاحیت کی علامت ہے،مولاناسجاد کوہرعلم وفن میں کمال حاصل تھا،اور ہرفن کی کتاب وہ اسی شان سے پڑھاتے تھے ،آج علم وفن کی درسگاہیں ایسے باکمال مدرسین سے خالی ہیں،بلکہ پہلے بھی خال خال ہی ایسے لوگ ہوئے ہیں۔
طلبہ کی نفسیات تک رسائی
٭ایک استاذ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہےکہ وہ انسانی نفسیات سے واقف اور طلبہ کانبض شناس ہو،تاکہ جہاں مرض ہووہیں سے علاج شروع کیاجاسکے،اور طالب علم میں کتاب سے محبت اور فن میں بصیرت پیداہو،مولاناسجادؒ کواس میں خصوصی امتیازحاصل تھا،مولانا عبدالصمدرحمانی صاحبؒ رقمطرازہیں :
"استاذ رحمۃ اللہ علیہ کے طریقۂ تعلیم کی ایک خصوصی خصوصیت یہ بھی
تھی کہ وہ اپنے عمیق تعلیمی تجربہ اور تبحر کی بناپراول نگاہ میں پڑھنے والے
کی صلاحیت ،اس کی استعداد،اس کی خامی اور اس کے نقص کوبھانپ لیتے
تھے، اور سبق کے وقت سب سے پہلے اس کی اس خامی کاازالہ فرمادیتے
تھے،جس کا ہونے والے سبق سے تعلق ہوتاتھا،تاکہ فہم سبق کی راہ
میں دشواری نہ رہےاوراس کےلئےایسالطیف پیرایہ اختیارفرماتے کہ
دوسرے ہم سبق کو اس کاپتہ بھی نہیں چلتاتھااوراس کے دل کی گرہ کھل
جاتی تھی” ۔
طریقۂتفہیم کی انفرادیت
٭حضرت مولانامحمدسجاد صاحب ؒہرمیدان کی طرح طریقۂ تدریس میں بھی ایک انفرادی شان کےحامل تھے ،وہ مروجہ طریقہائے تدریس کی پابندی کے بجائےایک مستقل طرز تدریس کےموجد تھے،ان کاطرزتدریس افراط وتفریط سے پاک اور عدل کامل کانمونہ تھا،آپ کے طریقۂ تعلیم کےسب سے بڑےمبصر مولانا عبدالصمد رحمانی صاحب آپ کے طرزتفہیم کی انفرادیت پرروشنی ڈالتے ہوئے اپناذاتی تجربہ بیان کرتےہیں:
"میں جس دور میں حضرت استاذ کے حضور میں حاضرہواتھا،طریقۂ
تعلیم میں عجب قسم کی افراط وتفریط تھی،جوتمام مدارس عربیہ میں
الاماشاء اللہ عام تھی ۔
٭درس کے وقت اساتذہ کامعمو ل یاتویہ تھاکہ پڑھنے والاایک انداز
کردہ مقدارمیں عبارت پڑھ جاتاتھااورپڑھانےوالااس کےمتعلق ایک
زوردار تقریرمیں اس کے مطالب کوپیش کردیتاتھا،اور اسی سلسلہ میں
اعتراض وجواب اوراس کی ضروری تنقیحات کوبیان کردیتااس کےبعد
پڑھنےوالاعبارت کاترجمہ کرتاتھااوراس طرح پروہ سبق ختم ہوجاتاتھا،
٭یایہ دستورتھا،کہ پڑھنےوالاہونے والے سبق کی ایک دوسطریں
پڑھ کر ترجمہ کرتاتھااورپڑھانےوالااس کامطلب بیان کرتا،پھراس
عبارت پرجوایراد و اعتراض ہوتا اس کو بیان کرکے جواب دیتا،پھر
اسی طرح دوچارسطریں پڑھی جاتیں،اور ان کاترجمہ اور مطلب اور
ایراد واشکال اسی طرح بیان کیاجاتا،یہاں تک کہ اندازہ کردہ مقدار
میں عبارت پوری ہوجاتی،اوریہاں پہونچ کرسبق ختم ہوجاتا۔
پہلی صورت میں عملاًیہ نقص ہوتاتھاکہ طلبہ میں محاکات اور نقل کی
استعدادتوتام ہوجاتی تھی اور کتاب کےہرمسئلہ پروہ ایک رواں دواں
تقریرکے عادی تو ہو جاتے تھے،مگرکتاب سےخصوصی مناسبت نہیں
ہوتی تھی اور نہ قوت مطالعہ قوی ہوتی تھی،اور بسااوقات پڑھنے والا
اس تفہیم پربھی قابونہیں رکھتاتھا،کہ وہ جوکچھ کہہ رہاہےعبارت اس
کی متحمل ہے یانہیں؟اور اگر متحمل ہے تواس کے لئے سبق کی کون
سی عبارت منشأ ومأخذ ہے؟پھر اس کے علاوہ اگراس کی محاکاتی تقریرپر
بیچ میں اگرکوئی اشکال پیش کردیاجاتا،تومیں نےدیکھاکہ یہ ساری تقریر
اس طرح الجھ کررہ جاتی تھی کہ اس کوسمجھنامشکل اور دشوارہوجاتاتھا
کہ اس کی تقریرکےجس ٹکڑےپریہ ایراد ہورہاہےیہ کیوں ہورہاہے؟
اور اس کاجواب خودعبارت میں موجود ہے یانہیں ؟
دوسری صورت میں عموماًعملاًیہ تومحسوس ہوتاتھاکہ طلبہ میں کتاب سے
کافی مناسبت بھی ہے،قوت مطالعہ بھی ہے،وہ عبارت کاصحیح مفہوم بھی
سمجھتاہے،مگر اسی کےساتھ یہ بڑی کمی دیکھنے میں آتی تھی،کہ وہ اپنے
دماغ میں کسی مسئلہ کے متعلق کوئی خاص روشنی نہیں رکھتاہےاور نہ
اس پر قدرت رکھتاہے ،کہ وہ کتاب سے الگ ہوکرایک سلجھی ہوئی
تقریرمیں اس چیزکی ترجمانی کرے ، جوصاحب کتاب کامقصد ہے،اور
جوخود اس کے پڑھنے کامطلوب ومقصودہے۔
حضرت استاذ کاطریقۂ تعلیم اس افراط وتفریط سےالگ بین بین تھا،وہ
طلبہ کوکتاب سے اخذمطلب پرزوردیتے تھے، اور اس طرح ان کی
قوت مطالعہ میں پختگی ہوجاتی تھی،اور کتاب سے خاصی مناسبت پیدا
ہوجاتی تھی” ۔
یہ حضرت ابوالمحاسن ؒکی تدریسی خدمات وامتیازات کےچنداجزاءپیش کئےگئے ہیں،تفصیل کےلئےدفتردرکارہے۔
طویل عمر ہےدرکاراس کےپڑھنےکو
ہماری داستاں اوراق مختصرمیں نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: