مضامین

ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد بہاری:‌علوم قرآنی

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

علوم قرآنی
قرآن کریم سےآپ کوطبعی مناسبت تھی:
تدبر قرآنی
آپ کاقرآنی مطالعہ بے حد گہراتھا، قرآن سامنے ہوتاتوبالکل کھوجاتے تھے،بقول مولاناعبدالصمدرحمانی صاحبؒ :
"وہ (مولانامحمدسجادصاحبؒ)مجھ سےاکثرفرمایاکرتے تھے،کہ میں جب قرآن
مجیدتلاوت کرنے بیٹھتاہوں توبمشکل گھنٹہ آدھ گھنٹہ میں ایک صفحہ کی تلاوت
کرپاتاہوں ،قرآن کی بلاغت،اس کاعمق،پھراس کےاحکام ،پھراحکام کی روح
،اور اس کامناط، پھراس کے ماتحت اس کےفروع،پھران فروع کےتنوعات،
پھران میں باہمی تفاوت کی بوقلمونی اس طرح ایک ساتھ سامنے آنے لگتی ہیں
کہ میں اس میں کھوجاتا ہوں اوراکثرایک ہی دوآیت میں وقت ختم ہوجاتاہے،
اورتھک کرتلاوت ختم کردیتاہوں” ۔
قرآن کریم سے ان کووہ کچھ ملتاتھاجس کے سامنے تخت وتاج اورساری دولت دنیا
ہیچ نظرآتی تھی،حافظ محمدثانی صاحب اپنامشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ:
"مولاناقرآن پاک کی تلاوت فرمارہے تھے ،اور ان پرایک کیفیت
طاری تھی،میری طرف مخاطب ہوکرفرمایا،کہ دنیا دار دنیاوی دولت
پرغروروفخر کیاکرتے ہیں ،مگراللہ پاک نےاپنی مہربانیوں سےکلام پاک
کی جودولت مجھے عطافرمائی ہےاس کے مقابلہ میں دولتمندوں اوران کی
دولت کی میری نظروں میں کوئی حقیقت نہیں ” ۔
قرآن کریم سےمسائل کااستنباط
آیات کریمہ میں اسی تعمق کانتیجہ تھاکہ وہ اسلامی قانون کے ایک ایک جزئیہ کو ان آیات میں موجودپاتے تھے،ہرمسئلہ میں ان کاذہن بڑی تیزی کےساتھ قرآن کریم کی طرف منتقل ہوتاتھااورکوئی نہ کوئی آیت کریمہ ان کی رہنمائی کے لئے سامنے آجاتی تھی ،اس کااظہار انہوں نے خود ایک بار فرمایا،مولاناعبدالصمدرحمانی صاحب ؒ تحریرفرماتے ہیں :
"ایک دفعہ فرمانے لگے کہ جب یہ مسموم ہواچلنے لگی کہ ہرمسئلہ کا
ثبوت قرآن سےطلب کیاجانے لگا،تواس زمانہ میں تلاوت کےوقت
جزئیات فقہ اور فروع اسلامی کےمأخذکےاخذکی طرف ذہن کاامالہ
ہوگیا،توکچھ دنوں کےمطالعہ کےبعدخداکی جانب سےیہ نوازش ہوئی
کہ جب میں فقہ کےکسی باب کےفروعی مسائل کےثبوت کی طرف
توجہ کرتاتوآسانی سےمأخذکی طرف رہنمائی ہوجاتی” ۔
مولانامنت اللہ رحمانی صاحبؒ اپنےایک مکتوب میں تحریرفرماتےہیں :
"مولانافقیہ النفس تھے،اصول پربڑی گہری نظرتھی،آیات واحادیث
سےبےتکلف استنباط مسائل کرتے”
یہ مقام اجتہادہرایک کومیسر نہیں آسکتاتھا،اس کےلئےمسلسل اشتغال قرآنی کے ساتھ فضل ربانی کی بھی ضرورت ہے،ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذو
الفضل العظیم ۔
چنانچہ بظاہر ایسے مسائل وحوادث میں بھی جن کےلئےقرآنی ثبوت کابظاہر تصوربھی نہیں کیاجاسکتاتھا،مولاناان کامأخذ قرآن کریم میں تلاش کرلیتے تھے ۔
اوقاف پرزرعی ٹیکس کامسئلہ
اس کی ایک مثال اوقاف پرزرعی ٹیکس کامعاملہ ہے،اس کاعدم جوازمولاناؒنے قرآن کریم سے ثابت کیا،مولاناعبدالصمدرحمانی صاحب ؒلکھتے ہیں کہ:
"اسمبلی میں زرعی بل کے موقعہ پر جب یہ مسئلہ زیربحث آیاکہ اوقاف
پرشرعاً زرعی ٹیکس عائد نہیں کیاجاسکتاہے،تومیں نےپوچھاکہ حضرت!
اس کےلئےقرآن مجیدمیں کیامأخذہے؟مولاناؒنےفرمایاکہ اس کامأخذہے
فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللَّهَ
سَمِيعٌ عَلِيمٌ
کیونکہ کسی طرح کی تبدیلی جب وصیت میں جائز نہیں ہے جومرض
الموت کی حالت میں لوجہ اللہ کرتاہے،توپھر وقف میں بدرجۂ اولیٰ
جائزنہیں ہوگی،جوصحت اورطمانیت کی حالت میں خدا کی راہ میں وقف
کرتاہے ۔
وہ اصول فقہ اور قواعد فقہیہ کوبھی اسی طرح قرآن کریم پرمنطبق کرتے تھے،اسی
مسئلہ میں فقہی ضابطہ”شرط الواقف کالنص”کووہ اسی آیت کریمہ سے اخذ کرتے تھے ۔
قرآنی دقائق ونکات پرنگاہ
قرآنی نکات ودقائق پران کی نگاہ بہت گہری تھی،مولاناعبدالصمدرحمانی صاحبؒ کی روایت ہےکہ :
"ایک دفعہ فرمایاکہ مغضوب اورضالین کی جماعت جس سے یہودونصاریٰ
مرادہیں ،کفاربت پرست کےمقابلہ میں ان سے تبری کو اس قدر اہمیت
کیوں دی گئی ہےکہ سورۂ فاتحہ کااس کوجزو قراردیاگیاجس کورات دن میں
۳۲ مرتبہ ہم نمازمیں پڑھتے ہیں،پھر فرمایاکہ وجہ یہ ہےکہ قرآن کی نظر
میں ان کی جماعتی فطرت یہ ہےکہ ان میں حق کے قبول وانفعال کی استعداد
نہیں ہے ، اور مشرکین کی جماعتی فطرت میں حق کےقبول وانفعال کی
استعداد ہے،یہودونصاریٰ کےمتعلق توقرآن کانظریہ یہ ہےکہ:
وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ
یہودونصاریٰ تم سے ہرگزراضی نہ ہونگےجب تک تم ان کے دین کے
پیرونہ ہوجاؤ۔
اورمشرکین کے متعلق قرآن کریم کانظریہ یہ ہےکہ:
وَدُّوالَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ وہ چاہتے ہیں کہ اگرتم نرم ہوتووہ
بھی نرم ہوجائیں” ۔
مولاناعبدالصمدرحمانی صاحب ؒ ہی بیان فرماتے ہیں:
"ایک دفعہ میں نے عرض کیاکہ:
فَإِنْ زَلَلْتُمْ مِنْ بَعْدِمَاجَاءَتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُواأَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ
حَكِيمٌ کےمتعلق علامہ زمخشری ؒ نےیہ واقعہ لکھاہےکہ کسی
نےغلطی سے”عزیزحکیم”کی جگہ "غفوررحیم”پڑھ دیا،
توایک بدوی نے سن کر کہاکہ یہ خداکاکلام نہیں ہوسکتا،وجہ اس کی
علامہ زمخشری ؒنے یہ بیان کی ہےکہ زلت ولغزش کے بعد ارباب
دانش رحم ومغفرت کا ذکر نہیں کرتےہیں،کیونکہ یہ اس کوگناہ پر
جری بنانے کومستلزم ہوگا۔
حالانکہ قرآن مجید کی دوسری آیتوں میں رحم و مغفرت کاذکر خطا
کاروں کی خطاکاری کےبعدمذکور ہے،مولاناؒنے فرمایا،بدوی کے انکار
کی وجہ یہ نہ تھی،بلکہ وہ "فاعلموا "کا بلیغ تیور ہے، جو اس جگہ رحم و
مغفرت کے ذکر کے منافی ہے،مولاناؒ کی اس بلاغت پر بے اختیار
زبان سے نکل آیا۔
؎ توئی چناں کہ توئی ہرکسے کجادانند ۔
یہ مثالیں آپ کی فکرقرآنی کی بلندیوں کوسمجھنےکےلئے کافی ہیں۔
علم حدیث
علم حدیث میں بھی آپ کاپایہ بےانتہابلندتھا،اورکئی جہتوں سے ان کاقداپنے ہم عصروں سے ممتازنظرآتاہےمثلاً:
ہرحدیث قرآن سےمربوط ہے
٭ان کاخیال تھاکہ ہرحدیث قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت سے مربوط ہے،اور ہرروایت مشکوٰۃ نبوت کی اس تنویر سے ماخوذ ہے جوقرآن کریم کے مطابق بمااراک اللہ کے تحت آپ کوحاصل تھی،یہی وجہ ہےکہ رسول اللہ ﷺ سے آیات قرآنی کی جوتشریحات منقول ہیں ان میں زیادہ ترقرآنی الفاظ کی طرف اشارات ملتے ہیں ،جس طرح کہ مجتہدین مدارحکم کے اشارات آیات منصوصہ میں تلاش کرتے ہیں ،اور پھران پر قیاس کی بنیاد رکھتے اور مسائل کااستخراج کرتے ہیں،اسی لئے مولاناؒاس پربہت زور دیتے تھے کہ درس حدیث کے وقت حتی الامکان یہ واضح کیاجائےکہ اس حدیث کاتعلق قرآن کریم کی کس آیت سےہے؟
اسی طرح مسائل پرغور کرتے وقت قرآن سے جتناثابت ہے پہلے وہ سامنے لانا چاہئے ،پھر حدیثوں سے جورہنمائی ملتی ہے اس کوظاہرکیاجائے،اس کے بعد درجہ آتاہے فقہاء امت کے اجتہادات کا،اور پھر واضح کیاجائے کہ فقہاء کرام نے یہ احکام قرآن وحدیث سے کس طرح اخذ کئے ہیں؟اوراس باب میں ان کی خدمات کتنی وقیع ہیں؟اس سےفرق مراتب
کابھی پتہ چلےگااورفقہی مجتہدات کی علمی معنویت کابھی اندازہ ہوگا ۔
ظاہر ہے کہ یہ بات لکھنے اور بولنے میں جس قدر آسان ہے عملی طورپراس کوبرتنا اتناہی مشکل ہے،اس کےلئےقرآن وحدیث کے گہرے علم فہم ،فراست ربانی اور مجتہدانہ بصیرت کی ضرورت ہے،ایسی درسگاہیں نہ پہلےعام طورپرپائی جاتی تھیں اورنہ آج ان کاتصور کیاجاسکتاہے۔
احادیث کااختلاف اختلاف احوال اورمراتب احکام پرمبنی ہے
احادیث میں جوباہم اختلاف نظرآتاہے،مولاناؒ کانقطۂ نظر یہ تھاکہ یہ اختلاف نسخ نہیں ہے کہ ایک نے دوسرے کومنسوخ کردیاہو،بلکہ یہ اختلاف اباحت یااختلاف رخصت وعزیمت ہے،یعنی دونوں شکلیں مباح ہیں ،یاایک عزیمت پرمبنی ہے اور دوسری رخصت پر، اسی لئےآپ فرماتے تھےکہ معمول بہ احادیث کے علاوہ دوسری مختلف احادیث پر بھی زندگی میں ایک بار عمل کرلیناچاہئے مثلاًنماز کی جومختلف صورتیں احادیث صحیحہ سےثابت ہیں،ایک ایک مرتبہ سب پرعمل کرلیناچاہئے،تاکہ کسی سنت کی برکت سےمحرومی نہ رہ جائے ۔
یعنی مولاناکے نزدیک کوئی حدیث منسوخ نہیں تھی ،بلکہ ہرحدیث کاایک محمل مقررہے اوروہ کسی نہ کسی درجہ میں معمول بہ ضرورہے،قرآن کریم کے بارے میں بھی مولانا کاموقف یہی تھا،جس کاعکس جمیل آپ کے علمی جانشین حضرت مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ کی کتاب "قرآن محکم "میں نظرآتاہے،یہ وسیع نقطۂ اتفاق حضرت مولاناسجادؒکی عبقریت،طبعی سلامتی اور قرآن وحدیث پران کی گہری نظر کی علامت ہے۔
نکتہ رسی
حدیث سے ان کےشغف کااندازہ اس سےبھی ہوتاہےکہ عین حالت مرض الموت میں بھی جب وہ ہوش میں آتےتو بڑی دقیق باتیں فرماتےتھے،مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ کابیان ہے کہ ”
"ایک دفعہ مجھ کویادہےفرمانےلگےکہ اس کی وجہ سمجھتے ہو کہ بیمار
پرسی کےلئےحدیث شریف میں”عیادت”کالفظ کیوں حضورﷺ
نےفرمایا،اس کی تعبیرمیں "لقاء مریض ،زیارت مریض ،یااس طرح
کےدوسرے الفاظ کیوں نہیں ارشادفرمائے؟پھرفرمایاکہ نکتہ یہ ہےکہ
اس تعبیرسےذہن میں یہ بات ڈالنی ہےکہ مریض اس کامحتاج ہےکہ بار
باراس کی خبرگیری کےلئےاس کےپاس پہونچاجائےکیونکہ عیادت کامادہ
"عود”ہے۔۔۔۔۔۔مولاناؒ اس وقت جب یہ فرمارہے تھے،تکلیف سے
مضطرب تھے” ۔
علم بدیع
بلاغت ،معانی،اورعربی زبان وادب میں بھی آپ کوحیرت انگیز مہارت حاصل تھی،آپ عربی زبان میں بھی برجستہ شاعری پرقدرت رکھتےتھے ،مولاناعبدالصمد رحمانی ؒ فرماتےہیں کہ:
"مجھ کویادہےکہ داراگنج مدرسہ کےملاحظہ کےلئےجس کومولانانے داراگنج
کی وسیع وعریض پرشوکت شاہی مسجدمیں جولب دریاواقع ہےقائم کیاتھااور
ارادہ یہ تھا کہ اس کوتعلیم کےساتھ صنعتی مدرسہ بنایاجائے) جب ایک جج
صاحب (جن کانام نامی شاید”کرامت حسین "یااسی طرح کاکوئی دوسرانام
تھا)تشریف لائے تھےاورمولاناؒکوان کی تشریف آوری کی اطلاع کل پندرہ
بیس منٹ پہلے ہوئی تھی ،اور اس لحاظ سے کہ وہ ذی علم تھے اورعربی ادب
سےخاص ذوق رکھتے تھے،مولاناؒنے ارتجالاً(برجستہ)عربی میں ایک بلیغ
قصیدہ لکھاتھا،جس کوسن کرجج صاحب مرحوم بے حدمتأثرہوئے ۔
علمی جامعیت
حضرت مولاناسجاد صاحبؒ مختلف علوم وفنون کے جامع تھے،اور کسی بھی علم وفن میں ان کاپایہ اپنے کسی ہم عصر سے کمتر نہیں برتر ہی تھا،بقول حضرت علامہ مناظراحسن گیلانی ؒ :
"ان کے علمی رسوخ ،سیاسی شعور،اور دینی اخلاص کے جوتجربات
ہوتے تھے،وہ مجھے حیرت میں ڈال دیتے تھے،حالانکہ حق تعالیٰ نے
اپنے فضل وکرم سےعلم ودین کی بڑی بڑی شخصیتوں تک پہونچنے کا
مجھے موقعہ عطافرمایا،لیکن ان تینوں شعبوں کی جامعیت اور وہ بھی اس
پیمانہ پر،یہ واقعہ ہےکہ اپنے جاننے والوں میں کسی کے اندرنہیں پاتا،
وہ جب منطق وفلسفہ کےنکات پربحث کرتےتوپتہ کی ایسی بات کہتے
کہ مسئلہ کی گرہ کھل جاتی تھی،پھرجب فقہی جزئیات کاذکرآتاتوایسے
نوادر جزئیات کاپتہ دیتےکہ میں حیران رہ جاتا،لیکن جب کتاب کھلتی
توجوکچھ مولاناؒفرماتےاس کی توثیق کرنی پڑتی تھی،اور سیاسی مہارت جو
ان کوحاصل تھی اس کاتجربہ تو مجھ سےزیادہ ان لوگوں کوہوتارہاجن
کی عمر گذری تھی اسی دشت کی سیاحی میں ۔
"حقیقت سجاد”کےپیش لفظ میں علامہ گیلانی ؒ ہی لکھتےہیں:
"علوم اسلامیہ اورمغلیہ دورکےعقلی علوم میں مولاناؒکوجودسترس
حاصل تھا،خلاف معمول اس سلسلہ میں ان سے ہمیشہ مرعوب
رہا،خصوصاً فقہی جزئیات پر ان کی وسعت نظری پرہمیشہ اعتماد
کرتاتھا،اسی کےساتھ علاوہ دماغ کےمولانامرحوم کےسینےمیں
دردسےبھرا ہواجودل تھا،جس سے کم ہی لوگ واقف ہونگے
اس باب میں ان کاگویا”محرم اسرار”تھا”
اورمولاناعبدالحکیم اوگانوی ؒکےالفاظ میں:
"مولاناجامع العلوم تھے”
عصر حاضر کے مشہورعالم اورناقد مورخ حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ کی شہادت ہےکہ :
"میرے محدود علم میں ان کاجیسادقیق النظراورعمیق النظرعالم دوردورنہ تھا
،فقہ بالخصوص اصول فقہ پران کی نظربڑی گہری تھی،سیاست وتمدن اور
تاریخ کابھی انہوں نے گہری نظرسے مطالعہ کیاتھا،خاص طورپر قانونی اور
دستوری باریکیوں اورہندوستان کےدستوراورسیاسی نظاموں سےوہ گہری
دلچسپی رکھتے تھے،اور ان کاانہوں نے بنظرغائر مطالعہ کیاتھا” ۔
اردواورعربی کےممتازادیب اورمصنف مولانامسعودعالم ندویؒ نےمولاناکی علمی اورشخصی جامعیت کےبارے اپناذاتی تجربہ تحریرکیاہےکہ:
"اب تک جن لوگوں سےملا،دوچارمستثنیات کوچھوڑکرتعلقات کی
زیادتی سے بدگمانی ہی بڑھی،بڑے بڑے عالموں کی مجلس میں جاکر
بیٹھا، بعضوں کےنام سن کردوردرازکےسفربھی کئے،پرنزدیک جاکر
معلوم ہوا کہ”ہرچمکتی ہوئی چیزسونانہیں ہوتی”لیکن مولاناکاحال اس
سے بالکل جدا تھا ،ان سےپہلی نظر میں بُعدمحسوس ہوتاتھا، دو چار
ملاقاتوں میں جاکران کےذہن و دماغ کی بلندی کاصحیح احساس ہوپاتا
،اوراگر کہیں انہوں نے اپنا دل کھول کررکھ دیا،پھرتوبےاختیارجی
چاہتاکہ علماء وزعماء کی ساری جماعت اس فرد واحد پر نچھاورکردی
جائے” ۔
سحبان الہندحضرت مولاناحافظ احمدسعیددہلوی ؒحضرت مولاناکی شان میں ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتےہیں:
"مولانامرحوم کےفضائل اس قدرکثیرہیں کہ ان کےتذکرےکے
لئے دفتر کے دفتربھی ناکافی ہیں، ایک صحیح انسان میں جوخوبیاں اور
کمالات ہونے چاہیئں اللہ تعالیٰ نےمولاناؒکی ذات میں وہ سب جمع
کردئیے تھے” ۔
حضرت مولاناؒکےمشہورسیاسی ناقدعلامہ راغب احسن صاحب نےبھی باوجودفکری وسیاسی اختلافات کےآپ کی ہمہ جہت شخصیت کااعتراف ان الفاظ میں کیاہے:
"مولاناسجادغالباًعلماء ہندمیں واحد شخص تھےجوایک یورپین ڈپلوماٹ کا
تدبر،ایک ہندوستانی زمیندارکےکارپردازکی ماہرانہ کارپردازی،اورایک
عاشق صادق کی عقیدت و عزم راسخ ،اور ایک سالک راہ سلوک کی
کمال یکسوئی اوراستقلال کےاوصاف اپنی سیرت میں جمع رکھتے تھے” ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: