مضامین

اب مجھے کون کہے گا کہ شاعر صاحب! کچھ ارشاد فرمائیے

محمد یاسین جہازی 9891737350

اب مجھے کون کہے گا کہ شاعر صاحب! کچھ ارشاد فرمائیے
محمد یاسین جہازی 9891737350

مولانا نور عالم خلیل امینی نور اللہ مرقدہ(18/ دسمبر1952-03/مئی 2021)

درجہ عربی سوم سے دارالعلوم دیوبند میں تلمذ کا شرف حاصل ہوا تھا۔ مولویت کی سند تک پہنچنے کے لیے نو سالوں میں یہ چوتھا سال ہوتا ہے۔ ان چار سال میں سے تین سال تک کے درجات میں عربی زبان سیکھنے کے لیے ”نحو و صرف“ کی کتابیں بنیادی نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہیں؛ کیوں کہ نصاب کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ طالب علم عربی زبان کو پڑھنا اور سمجھنا سیکھ جائے، تاکہ آگے کے درجات میں قرآن و احادیث کے افہام و تفہیم کی صلاحیت پید اہوسکے۔ لیکن ناچیز کے لیے پریشانی یہ تھی کہ تین سال تک مسلسل عربی زبان کے قواعد پڑھنے اور ازبر یاد کرلینے کے باوجود سمجھنے سے قاصر تھا۔ جب دارالعلوم دیوبند نے اپنی آغوش تربیت میں قبول کیا، تو سب سے پہلے یہی خیال ستانے لگا کہ جب مولویت کے مکمل کورس کا دارومدار عربی قواعد و زبان سمجھنے پر موقوف ہے، تو کیوں نہ اس خامی کو دور کرنے کے لیے کچھ اضافی محنت کی جائے۔ چنانچہ مولانا محمد فاروق اعظم صاحب جہازی قاسمی کی رہنمائی نے ناچیز کو ان کے شریک فی الحجرہ ساتھی مولانا محمد اشرف عباس صاحب قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند(جو اس وقت: 2000ء میں تکمیل ادب عربی کے متعلم تھے) سے خارجی اوقات میں مشق و تمرین کا سبق لینے کا پابند بنایا۔ تقریبا ایک ڈیڑھ مہینے تک تمرین لیتا رہا؛لیکن عربی گرامر سمجھنے کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں آسکی۔ ایک دن مولانا مدظلہ نے عصر کے بعد کے بجائے -جو بالعموم تمرین دکھانے اور لینے کا وقت ہوا کرتا تھا اور مولانا کے پاس بڑی تعداد میں طلبہ آیا کرتے تھے-مغرب کے بعد آنے کے لیے کہا۔ چنانچہ حسب الحکم حاضر ہوا، تو پہلے خوب ڈانٹا اور اس کے بعد معلم الانشا سے، حروف مشبہ بالفعل کی بحث کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ دیکھو مبتدا خبر کا جملہ ان حرفوں کے آنے سے کیسے تبدیل ہوگیا۔
خدا جانے اس ڈانٹ میں کونسی کیمیائی طاقت تھی، جس نے راقم کے ذہن و فکر کے بند دریچے کو اچانک وا کردیا اور ایسا لگا کہ پہلے تاریکی چھائی ہوئی تھی اور اب اچانک چاروں طرف روشنی پھیل چکی ہے۔ یہاں سے عربی زبان و قواعد کی سمجھ کا آغاز ہوا۔ پھر تمرین لکھنا میری زندگی تلازمہ بن گیا تھا۔ جس دن کچھ صفحات اردو سے عربی یا عربی سے اردو کی مشق نہیں کرلیتا، اس دن مجھے کسی پہلو چین نہیں ملتا تھا۔ اس شوق نے مجھے درجہ چہارم کے آواخر تک، ان اکثر کتابوں کے مطالعہ سے گذار دیا، جو تکمیل ادب عربی میں پڑھائی جاتی تھیں۔ جب مولانا اشرف عباس صاحب قاسمی دامت برکاتہم،ترجمہ کے طریقے اور عربی زبان کے متنوع اسالیب پر گفتگو کیا کرتے تھے، تواس میں بار بار حضرت الاستاذ مولانا نور عالم خلیل امینی نور اللہ مرقدہ کی باتوں کو کوڈ کیا کرتے تھے۔ اور یہی وہ ابتدائی وجہ تھی، جس نے شاگردی کا رشتہ قائم ہونے سے بہت پہلے ہی،مولانا امینی نور اللہ مرقدہ سے عقیدت و محبت کا رشتہ گہرا کردیا تھا۔
حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ صاحب، دارالعلوم کے اساتذہ میں اس اعتبار سے بھی منفرد شان رکھتے تھے کہ وہ اپنی رہائش افریقی منزل سے احاطہ دارالعلوم میں، ہفتہ میں صرف پانچ دن اور وہ بھی صرف دو گھنٹے کے لیے تشریف لاتے تھے۔ان کی تشریف آوری کی شان بھی منفرد اور نرالی ہوا کرتی تھی۔ خواہ کوئی بھی موسم ہو، دیوبندی ٹوپی، علی گڑھی شیروانی اور نعلین پہن کر ایک خاص وضع کے ساتھ آتے تھے۔ اس وضع میں شان وضع داری اور عقیدت کا رعب نمایاں نظر آتا تھا۔ جس طالب کی بھی حضرت پر نظر پڑتی تھی، وہ احترام و عقیدت کا سراپا بن جاتا تھا۔
چوں کہ حضرت احاطہ دارالعلوم میں بہت کم تشریف لاتے تھے، اس لیے بہت سے طلبہ سالوں تک حضرت کا دیدار نہیں کرپاتے تھے۔ چوں کہ راقم ابتدائی دو سالوں میں ثانوی درجات میں تھا، اس لیے حضرت کے دیدار کا شرف حاصل نہیں ہوسکا۔ ثانوی درجات کی تعلیم کے بعد ششم ثانیہ درجہ میں پہنچا، تو حضرت سے ”دیوان متنبی“ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔
وقت کی قدرو قیمت، تحفظ اورپابندی کے حوالے سے حضرت استاذ محترم بہت متشددانہ نظریہ رکھتے تھے اور جولوگ، ادھرادھر گھومنے پھرنے، جلسے جلسوس اور غیر ضروری کاموں میں وقت ضائع کرتے ہیں، ان کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ یہ بے شعوری کی بنیادی دلیل اور خدا کی عطا کردہ انمول نعمت کی ناقدری کا مظاہرہ ہے اور لوگ اتنی مختصر سی زندگی میں اپنے قیمتی وقت کو ضائع کرنے کی حماقت کیسے کرتے ہیں، یہ واقعی قابل تعجب ہے۔ چنانچہ جب ظہر کے بعد درجہ ششم میں دیوان متنبی پڑھانے کے لیے تشریف لاتے تھے،تووقت کی پابندی کا یہ عالم تھا کہ متعینہ وقت سے نہ ایک منٹ پہلے آتے تھے اور نہ بعد میں۔ گھڑی اپنی گردش میں غلطی کرسکتی تھی؛ لیکن کسی عوارض کے بغیر حضرت استاذ محترم ایک منٹ کے لیے بھی آگے پیچھے ہوجائیں؛ ایسا شاید ممکن نہیں ہوپاتا تھا۔ جس طرح حضرت خود وقت کے پابند تھے، ایسے ہی اپنے طالب علم کو پابند دیکھنا چاہتے تھے،چنانچہ جو لوگ حضرت کی تشریف آوری کے بعد درس گاہ میں آتے تھے، انھیں وقت کی ناقدری کی سزا دیتے ہوئے پورا گھنٹہ کھڑے کھڑے ہی پڑھنے کا پابند بناتے تھے۔ اور آج ناچیز کے لیے یہ فخر کا مقام ہے کہ حضرت کی اسی تادیب نے شاہراہ حیات میں وقت کی قدر اور اس کے مثبت استعمال کی تربیت دی ہے۔
پھر 2006میں دورہ حدیث سے فراغت کے بعد ”تکمیل ادب عربی“ میں داخل ہوا، تو یہاں حضرت استاذ محترم سے شعوری استفادہ کا دور شروع ہوا۔ حضرت ظہر کے بعد کے دوسرے گھنٹے میں ”المختارات العربیہ (النثر الجدید)“ کا درس دیا کرتے تھے، جس میں اخباری زبان و اسلوب کے سمجھنے اور ترجمے کے نئے نئے مناہج پر خصوصی گفتگو کیا کرتے تھے۔ حضرت کے درس کا ایک امتیاز یہ بھی تھا کہ وہ صرف درسی کتابوں کی بات نہیں کیا کرتے تھے؛ بلکہ شاہراہ حیات کی پرخار وادیوں میں خوش اسلوبی کے ساتھ گذرنے کے علاوہ اپنی زندگی کو دوسروں، انسانیت اور ملک و قوم کے لیے کس طرح نافع بناسکتے ہیں، مدرسہ کی زندگی کے بعد عملی زندگی میں ایک انسان کا کیا کردار ہونا چاہیے، جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی مثالی اور آئیڈیل بن سکے اور صرف خود کے لیے جینے کے بجائے، دوسروں کی زندگی کو بسانے کے لیے ہمارے کیا نظریات اور عملی اقدامات ہونے چاہیں، اس طرح کی باتوں کو ہمیشہ بتایا کرتے تھے۔ مولانا کی باتوں سے زندگی کوبڑا حوصلہ ملتا تھا اورمایوسیوں کو ہمیشہ کے لیے شکست مقدر ہوجایا کرتی تھی۔
تکمیل ادب کی طالب علمی کے ساتھ راقم بہار، جھارکھنڈ اور اڈیشہ کی بڑی انجمن”سجاد لائبریری“ کا بھی ذمہ دار تھا۔ بڑی انجمن ہونے کی وجہ سے تدریسی سرگرمیوں کے علاوہ لائبریری کے کاموں میں بھی بہت وقت صرف ہوتا تھا۔ اس انجمن سے عملی وابستگی نے لیڈر شپ کے اسرار و رموزسیکھنے میں بڑی مدد فراہم کی۔ چنانچہ عربی زبان کی تحصیل کے شوق کے ساتھ ساتھ لائبریری کے حوالے سے مشورہ کے لیے حضرت استاذ محترم کی خصوصی ”ملاقاتی نشست“ میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ یہ نشست عصر کے بعد ہوا کرتی تھی۔ راقم ہفتہ میں ایک دن بروز ہفتہ حاضر خدمت ہوا کرتا تھا۔اس محفل میں استاذ محترم طالب علم کے فطری ذوق کے مطابق گفتگو فرمایا کرتے تھے۔ ان دنوں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بی۔اے بھی کر رہا تھا، تو عربی کے ساتھ ساتھ اردو زبان و ادب کا مطالعہ بھی میرے ذوق جستجو کا حصہ تھا۔ اس خصوصی مجلس میں اردو شعر و ادب پر بات چھیڑ تی تھی، تو استاذ محترم بڑے بڑے نامور ادیبوں اور شعرا کے کلاموں کو تسلسل کے ساتھ سنایا کرتے تھے، کبھی کبھار ناچیز بھی کچھ پیش کردیا تھا۔ ناچیز کی اسی ادبی ذوق کی وجہ سے مجھے”شاعر صاحب“ کہا کرتے تھے۔ کبھی کوئی شعر خود سناتے، پھر فرماتے کہ شاعر صاحب اب آپ کی باری ہے، ارشاد فرمائیے۔بعد میں جب کبھی حضرت مجھے مخاطب فرماتے، یہی جملہ استعمال فرماتے۔ کسی ہفتہ معمول کے مطابق خصوصی ملاقات میں شریک نہیں ہوپاتا، تو ساتھیوں سے میرے متعلق یہی پوچھتے کہ آج شاعر صاحب کیوں نہیں آئے، طبیعت خراب تو نہیں ہے۔ حضرت کے اس جملہ میں کتنی شفقت تھی، یہ وہی جان سکتا ہے، جس کا جس کے ساتھ رسمی نہیں؛ بلکہ دل سے گہرا رشتہ ہو۔
ناچیز اردو زبان و ادب کے مطالعہ کے دوران حاصل مطالعہ کو”رہ نمائے اردو ادب“ کے نام سے کتابی شکل دیتا رہا۔ تکمیل کے بعد حضرت کی خدمت میں پیش کیا، تو خوشی کا اظہار فرمایا۔ چہرے پر مسرت دیکھ کر تقریظ کی درخواست کی۔ حضرت نے کہا کہ ایک نسخہ میرے پاس چھوڑ دو، میں پڑھنے کے بعد ہی لکھنے نہ لکھنے کا فیصلہ کروں گا۔ دو تین ہفتے بعدحضرت نے خود ایک تقریظ عنایت فرمائی، جو تقریبا ڈیڑھ صفحے پر مشتمل تھی۔ اتفاق ایسا ہوا کہ تقریظ ملنے کے بعد ایک دو ہفتے ملاقات کے لیے حاضر نہیں ہوسکا، تو کسی ساتھی سے پوچھا کہ شاعر صاحب نہیں آرہے ہیں، کیا بات ہے۔ جب مجھے حضرت کی یاد آوری کی اطلاع ملی، تو اگلے دن ہی حاضر خدمت ہوا۔ سلام و دعا کے بعد مزاحا فرمایا کہ ”میں نے سمجھا کہ میں نے مختصر تقریظ لکھ دی ہے، اس لیے تم ناراض ہوگئے اور آنا چھوڑ دیا۔“ ناچیز نے عرض کیا کہ حضرت آپ نے اس پر نگاہ کرم ڈالی، یہی ناچیز کے لیے سب بڑی تقریظ ہے۔ اس پر لکھ کر جو احسان فرمایا، اس کے شکریے کے لیے الفاظ کے دامن میں گنجائش نہیں ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کی اس تقریظ کو آپ کی خدمت میں پیش کردوں۔
دعائیہ کلمات
علم و ادب کے پیکر، فکر وفن کے بحر ناپید، اسلامی اہل قلم
جناب حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؔ مد ظلہ العالی
(ایڈیٹر انچیف الداعی عربی و استاذادب عربی دار العلوم دیو بند)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مولوی محمد یاسین گڈاوی قاسمی کی کتاب ”رہ نماے اردو ادب“ میں نے اِدھر اُدھر سے دیکھی۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ نو جوان فاضلِ دار العلوم نے، اِس کتاب کی تیاری میں بہت محنت کی ہے۔ اردو زبان وادب کے تعلق سے نو آموزوں اور رہ روانِ شوق کو جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، اُنھیں اِنھوں نے سلیقے سے یک جا کردیا ہے۔ کسی کتاب، یا مقالے کی قدر وقیمت دو باتوں سے متعین کی جاسکتی ہے: (الف) سلیقہئ نگارش یا لیاقتِ تألیف۔ (ب) مُؤلّف یا اہلِ قلم نے کتاب یا مقالے کے لیے کتنی محنت کی ہے؟ کتنے مصادر ومراجع سے فائدہ اٹھایا ہے؟ اور کتنا وقت موادکی جمع وترتیب اور عناصر کو یک جا کرنے میں صرف کیا ہے؟ دوسرے لفظوں میں ایک صفحہ لکھنے کے لیے کتنے صفحات کامطالعہ کیا ہے؟۔
پہلی بات کے حوالے سے تو بالیقین مؤلف عزیز نو آموز ہیں؛ اس لیے وہ پختہ کاری اور بانکپن جو کہنہ مشق مُؤلِّف اور اہلِ قلم کا امتیاز ہوتا ہے، اِس کتاب میں تلاش کرنا بے سود ہوگا؛ لیکن دوسری بات کے تعلق سے نوآموز مُؤلِّف نے بڑی کام یابی حاصل کی ہے اور کتاب کے دامن کو متعلقہ مواد سے مالا مال کر دیا ہے۔ ادب وزبان کے مسافرانِ نو کو بہت سی کتابوں کی ورق گردانی کی زحمت اٹھانے سے بچالیا ہے۔ صرف اِس ایک کتاب کا مطالعہ، بہت سارے مآخذکے مطالعے کی بہ خوبی قائم مقامی کر سکتا ہے۔
اِس طرح یہ کتاب انتہائی گراں قدر ہے۔ توقع ہے کہ یہ درسی کتابوں، اُن کی شرحوں، تعلیقات وحواشی اور درسیات کی تفہیم کی اَن گنت کوششوں کی طرح نہ صرف طلبہئ مدارس؛ بل کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے اسٹوڈینٹس کے معاشرے میں بھی، خاطر خواہ پذیرائی کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی، نوجوان مُؤلِف کو اِس سے حوصلہ ملے گا اور وہ تحریر وتألیف کے پایدار میدان میں، ثابت قدمی کے ساتھ سر گرمِ عمل رہنے کی ہمت پاکر، آیندہ اچھی اچھی اور نفع بخش تخلیقات وتالیفات کے ذریعے، دینی سعادت اور دنیوی نیک نامی حاصل کر سکیں گے۔
دنیا کے کسی سعی وعمل کی مقبولیت اور پایداری کے دو بنیادی اسباب ہوتے ہے: (الف)سعی وعمل، اللہ کی افضل ترین مخلوق: انسانوں کے لیے کتنا مفید ہے؟ اُن کے لیے جتنا مفید ہوگا اُسی قدر پایدار، زندہ جاوید اور حیاتِ دوام کا مستحق ہوگا۔ افادیت کے پہلو کی قلت کے بہ قدر، وہ نا پایدار اور نالایقِ التفات ہوگا۔ (ب) سعی وعمل کے انجام دہندہ نے اِخلاص، اللہ کی مرضی، رب کی رضا اور اس کے ثواب کی کتنی امیدیں اُس سے وابستہ کی ہیں؟۔ کسی سعی وعمل کے تعلق سے، جس درجہ مخلوق سے بے نیازی اور خدا سے نیاز مندی اور اس سے اجر جوئی کی خواہش پائی جائے گی، اُسی درجہ وہ اللہ پاک کی نگاہ میں محبوب ہوگا اور بالآخر مخلوق کے لیے بھی باعثِ کشش ہوگا کہ خدا کی پسند فرمودہ شے، خلقِ خدا کی نگاہ میں بھی پسندیدہ ہوجاتی ہے۔
ہمارا جو سعی وعمل اِن دونوں باتوں سے عاری ہوتا ہے، وہ نہ تو پائیدار ہوتا ہے اور نہ مقبول۔ اگر ہمیں اپنی کسی جدّ وجہد میں یہ دونوں ناپسندیدہ صفات محسوس ہوں تو ہمیں، کسی شکوے سے پہلے، اپنے کام کے اِفادی پہلو اور اپنی نیتوں کا جائزہ لینا چاہیے اور اگرہماری کوشش وکار دونوں مثبت صفات کی حامل ہوں تو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اُس نے ہمیں اِس سعادت کی توفیق بخشی۔
دعا ہے کہ ربِّ کریم مولوی صاحب موصوف کو مزید اچھے اچھے کام کرنے کی توفیق ارزانی کرے اور اُن کے اِس کارِ اولین کو لائقِ رشک مقبولیت ومحبت سے نوازے۔
12/ بجے صبح، سہ شنبہ 29/ صفر 1428ھ نور عالم خلیل امینی
20 / مارچ 2007ء ایڈیٹر انچیف الداعی عربی
واستاذ ادب عربی دار العلوم دیوبند
20/ رمضان المبارک 1442مطابق ۳/ مئی 2021بروز سوموار صبح ساڑھے تین بجے یہ اندوہناک خبر ملی کہ حضرت اس دنیا میں نہیں رہے۔ بیماری کی خبر پہلے سے آئی ہوئی تھی۔ کبھی افاقہ اور کبھی اضافہ ہوتا رہا۔ افاقہ کی خبر آنے سے کچھ اطمینان ہوا تھا کہ پھر اچانک وفات کی خبر آگئی۔ خبر سن کر کان سن ہوگیا۔ دل پر عجیب سا دھچکا لگا، ایسا لگا کہ کسی نے کچوکے لگادیے۔ ذہن و فکر پر کچھ دیر کے لیے لاشعوری کیفیات طاری ہوگئیں۔ جگرپارہ پارہ ہوگیا۔آنکھوں نے آنسووں کے دامن میں پناہ لینے کی کوشش کی؛ لیکن سکون نہیں ملا۔ زبان بے ساختہ پکار اٹھی انا للہ و انا الیہ راجعون۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
حضرت کا انتقال، صرف ایک شخصیت کا انتقال نہیں؛ بلکہ ایک رجال کار شخصیت سے پوری امت مسلمہ کی محرومی ہے۔ عربی اور اردو زبان و ادب، مثالی تدریس اور طلبہ کی علمی،فکری اور سماجی تربیت میں حضرت مولانا وحید الزماں کیرانوی ؒ کے بعد،حضرت مولانا مرحوم آخری کڑی تھے۔افسوس کہ اب حضرت کا کوئی جانشین نظر نہیں آتا۔
یادیں بہت ہیں اور باتیں بھی۔ لیکن اب اس مضمون کو حضرت ہی کے اس ارشاد کے ساتھ مکمل کروں گا کہ ”دنیا میں اللہ تعالیٰ نے لاکھوں کروڑوں انسان پیدا کیے ہے۔ لیکن یہ خدائی قدرت کا ہی کرشمہ ہے کہ ان میں بعض لوگوں کو کچھ ایسی مخصوص اور پرفیکٹ صلاحیت سے نوازا ہے کہ اگر وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں، تو کروڑوں انسانوں میں ہزاروں اس جیسی صلاحیت رکھنے والے انسان اس ایک آدمی کے خلا کو پر نہیں کرسکتے۔“ حضرت کے انتقال کے بعد ہم سب اس کے عملی تجربے سے گذر رہے ہیں کہ آپ کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کو پر کرنا مشکل ہے۔ناچیز کے لیے ایک مشکل اور ہے کہ اب مجھے کون کہے گا کہ ”شاعری صاحب! کچھ ارشاد فرمائیے“۔ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کو اپنی شایان شان اجر عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے سرفراز کرے۔آمین، اللھم آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: