مضامین

اتحاداسلامی کےلئےقیام خلافت ضروری ہے

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

اتحاداسلامی کےلئےقیام خلافت ضروری ہے
٭حضرت مولاناؒاتحاداسلامی کےبڑےعلمبردارتھے،وہ چاہتےتھےتمام ممالک اسلامیہ کاایک طاقتوربلاک بنےتاکہ مغربی تہذیب وفلسفہ کےبالمقابل اسلامی تہذیب وتمدن کا احیاء کیاجاسکے،اسی لئےوہ ساری زندگی خلافت کےتحفظ کےلئےبےچین رہے،وہ عالم اسلام کی ترقی واتحاداوراسلامی تمدن کی بقاکےلئےخلافت کوضروری تصورکرتےتھے(جس کی تفصیل تحریک خلافت کی بحث میں آچکی ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۶)
جزیرۃ العرب میں نصاریٰ کوقیام کی اجازت نہ دی جائے
٭اسی ضمن میں وہ یہ بات بھی بہت اہمیت کےساتھ فرماتے تھے کہ جزیرۃ العرب میں نصاری کوقیام کی اجازت نہ دی جائے تا کہ وہ مرکز اسلام میں کوئی سازش نہ کر سکیں،نیز عالم اسلامی کےاتحادکوکوئی خطرہ پیش نہ آئے،مدرسہ انوار العلوم گیا کا سالانہ جلسہ ہوتا تو اس میں یہ کتبے لگواتے تھے:
‘‘اخرجو الیہود و النصاریٰ من جزیرۃ العرب‘‘
(حدیث )
لاتتخذواالیہود و النصاریٰ اولیاء بعضہم اولیاء بعض
(قرآن کریم )
ولن ترضی عنک الیہود والنصاریٰ حتی تتبع ملتھُم
(قرآن کریم ) ۔
نصاریٰ مسلمانوں کےلئےزیادہ خطرناک ہیں
مولاناؒ کاخیال تھاکہ دوسری غیر مسلم قومیں بھی مسلمانوں کی دشمن ہیں ،لیکن نصرانیوں کی عداوت عالمگیراوردائمی ہے،ان کی معاندانہ سازشیں تمام عالم اسلامی میں پھیلی ہوئی ہیں، ایک صاحب نے حضرت مولاناؒ کے سامنے وہ آیت پڑھی جس میں نصاری کویہود اور مشرکین سے بہتربتایا گیا ہے ،مولاناؒ نےجواب دیا کہ سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ تمام نصاریٰ کے لئے یہ حکم نہیں ہے ،کیونکہ اس میں ہے کہ یہ قرآن کی آیتیں سنتے ہیں تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ،اس کےبر عکس آج کے نصاریٰ میں کسی کی آنکھ سے آنسو جاری نہیں ہوتے ، بلکہ یورپ میں انہوں نے اسلام اور محمد ﷺ کے خلاف ان گنت کتابیں لکھی ہیں جن میں جھوٹے اتہامات لگائے گئے ہیں ۔ مولاناؒ نے کہا کہ جلالین میں ،تفسیر مظہری میں اور بعض دوسری تفسیروں میں یہ وضاحت ہے کہ نصاریٰ کی یہ تعریف جو قرآن میں ہے ، خاص نجاشی اور اس کے لوگوں کے لئے ہے، جو قرآن کی آیات سن کر متاثرہوئے اور جنہوں نے اسلام کی تصدیق کی ،وہاں پر یہود سے مراد یہود مدینہ اور مشرک سے مراد مشرکین مکہ ہیں کہ
ان دونوں کے مقابلہ میں نجاشی نے اسلام کی حمایت کی ، نصاریٰ کی مودت کا کیا سوال پیدا
ہوتا ہے ،جب کہ قرآن کہتا ہے کہ(وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ )‘‘یہ تم سے راضی نہ ہوں گے جب تک ان کا دین اختیار نہ کرلو’’ مولاناؒ نے کہا کہ آج جو مسلمانوں میں بے دینی پھیل رہی ہے وہ انہیں نصاریٰ کی حکومتوں کی بدولت ہے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: