مضامین

اتحادواتفاق ایثاروقربانی میں مضمر ہے

ابومعاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی خادم التدریس جامعہ نعمانیہ ویکوٹہ آندھرا پردیش

آج ہر کلمہ گو شکوہ سنج ہے کہ ہم مسلمانوں میں اتحادواتفاق کا فقدان ہے ، ہم میں انتشار و خلفشار ہے، ہم بکھرے ہوئے تاروں کے مانند ہیں، ہم میں شیرازہ بندی نہیں ہے، اسی وجہ سے ہمارے ہاں سب سے زیادہ اسی پر گفتگو ہورہی ہے، ہر طرف یہی موضوع سخن ہے، ہر اسٹیج ہر ممبر سے اسی کی دہائی دی جارہی ہے، علماء، خطبا، صلحاء ہر ایک کی عام مجلسوں سے لے کر نجی مجلسوں تک ، صرف اسی پر غور و خوض ہورہا ہے کہ ہم مسلمانوں میں اتحاد کیسے قائم ہو۔
کتاب وسنت کی روشنی میں اتحاد واتفاق کے فضائل اور انتشار و خلفشار کی مذمت کے بارے میں اتنا زیادہ کہا اور لکھا گیا ہے کہ اہل علم اور غیر اہل علم دونوں کی معلومات یکساں معلوم ہوتے ہیں ۔
کسے معلوم نہیں کہ رب کریم نے قرآن مجید میں کہا ہے:
*واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا واذكروا نعمت الله عليكم اذ كنتم اعداء فالف بين قلوبكم فاصبحتم بنعمته اخوانا* (آل عمران:103)
اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔
ہم میں سے کسے پتہ نہیں ہے کہ پروردگار عالم کا فرمان ہے:
*ولاتنازعوا فتفشلوا وتذهب ريحكم* (الانفال:46)
اور آپس میں جھکڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑجاؤگے، اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔
ہمارے معاشرے میں کون ہے جس کی زبان پر اقبال کا یہ مرثیہ نہیں ہے:
*منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک*
*ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک*
*حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک*
*کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک*
*فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں*
*کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں*
اتنی کوششوں کے باوجود ہمارے درمیان اتحاد و اتفاق نہیں بلکہ ہر آئے دن یہ نعرہ پردہ سماعت سے ٹکراتا ہے:
*تیری دیوار سے اونچی میرے دیوار بنے*
اتحاد بین المسلمین کا نعرہ بلند کرنے والی تنظیموں، اداروں اور ان کے ذمہ داروں کو ہی دیکھ لیجئے ، ان میں بے شمار خوبیاں اور اچھائیاں ہیں ، اگر وہاں کسی چیز کی کمی ہے تو وہ اتحاد ہے ، وہاں اتحاد ڈھونڈے سے بھی نہ ملے گا۔
یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ اتحاد و اتفاق ایثاروقربانی میں مضمر ہے، ایثاروقربانی کے بغیر اتحاد و اتفاق خواب و سراب ہے۔
جس دن ہم مسلمان ایثار و قربانی کے زیور سے آراستہ ہوجائیں گے، جس دن ہمارے اندر انصار و مہاجر کے مواخات اور انصار مدینہ کےایثار کا جذبہ موجزن ہو جائےگا، اسی دن ہم اتحاد و اتفاق کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے۔
لکھنے والے نے اتحاد و ایثار پر درست لکھا ہے:
*اتحاد کا لفظ کانوں کو جس قدر بھلا لگتا ہے ایثار کا عمل نفس پر اس سے کہیں زیادہ گراں گزرتا ہے، لیکن جب ایک شخص خدا کا نام لے کر خدا ہی کے لئے ایثار کیاتو اس کٹھن منزل سے بآسانی گزرجاتا ہے پھر وہ شادمانی اور شادکامی کی کیفیتوں کو اپنے لئے مسخر پاتا ہے اور اسے کسی چیز کے کھونے میں وہ لذت ملتی ہے جو اسے پانے میں نہیں ملتی۔*
*ایثار، انتشار کے رفع کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار ہے، جگر گوشہ رسول ﷺ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا عمل اس کی ایک نہایت روشن اور پاکیزہ مثال ہے۔* (نقوش فکر و عمل:292)
اللہ تعالی ہمیں ایثاروقربانی کا جذبہ عطا فرمائے،اور اس راہ سے ہمارے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا فرمائے۔(آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: