مضامین

*اتحاد امت وقت کی اہم ضرورت…!*

*تحریر ️مولانا فیاض احمد صدیقی انعام وہار سھبا پور دھلی این سی آر :*

                         ______===______
موجودہ دور میں اتحادوقت کی اہم ترین ضرورت ہے قرآن مقدس اور سنت رسول اللہ ﷺ نے جا بجا اس کی تعلیم و تلقین فرمائی ہے، آج پوری دنیا اختلاف وانتشار کی وجہ سے جو حالات پیش آرہے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں. ہمارے آپسی عدم اتفاق کی وجہ سے مختلف مقامات پر مسلمانوں کو ظلم وبربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ 
 اس کی وجہ یہ ہیکہ ہم مسلمان تو ضرور ہیں لیکن عمل سے ہماری زندگی خالی ہے اور تعلیم قرآن و سنت نبوی ﷺ سے ہم بہت دور ہیں، ہماری صفوں میں اتحاد و اتفاق باقی نہیں رہا؛ ہم مسلکی و جزوی اختلافات میں منقسم ہوگئے، ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت غالب آگئی اور دلوں میں رچ بس گئی ہے۔
 جبکہ مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ اتحاد و اتفاق کا درس دیا ہے، دین اسلام میں اختلاف رائے جہاں ممدوح ہے، وہیں لسانیت اور علاقائیت کی بنیاد پر اختلاف کو ناپسند کیا گیا ہے، چنانچہ؛ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مقدس میں بہت سختی سے اختلاف اور تفرقہ بازی سے منع کیا ہے، پہلی آیت سورہ آل عمران کی ہے جس میں ارشاد ربانی ہے۔
 (ترجمہ)
  *’’اللہ کی رسّی کو تم سب مضبوطی سے پکڑے رہو۔‘‘ دوسری آیت سورہ انفال کی ہے، ارشاد باری تعالی ہے: ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف مت کرو کہ تم کمزور ہو جاؤ، اور تمہاری ہوا نکل جائے، اور صبر کرو۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔*
قرآن مقدس کی ان دونوں آیات سے ہمیں یہ صاف اور واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے ہمیں کس اختلاف اور تفرقہ بازی سے روکا ہے، نیز یہ بھی بتلادیا کہ اگر تم نے آپس میں اختلاف کیا تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
  اور وہ نتیجہ مسلمانوں کا کمزور ہوجانا اور ان کی اس طاقت کا جو اتحاد امت کی وجہ سے تھی ختم ہوجانا ہے، تاریخ اس بات پر شاہد ہیکہ قوموں کا عروج و زوال، اقبال مندی و سربلندی، ترقی، تنزلی اور خوشحالی میں اتفاق واتحاد، باہمی اخوت و ہمدردی اور آپسی اختلافات و انتشار اور تفرقہ بازی، اور باہمی نفرت و عداوت بہت اہم رول اداکرتے ہیں ـ چنانچہ تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ بخوبی معلوم ہوجاتا ہیکہ جب تک مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد قائم رہا اس وقت تک وہ فتح و نصرت اور کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوتے رہے اور جیسے ہی مسلمانوں نے اتفاق واتحاد کے دامن کو چھوڑ کر اختلاف و انتشار میں لگے تب سے ہی شکست اور ناکامی اور طرح طرح کے مسائل ان کا مقدر بن گئی، امت مسلمہ کے درمیان اتفاق واتحاد کی دو مضبوط بنیادیں موجود ہیں ـ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: 
*”میں اپنے بعد تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جن کو مضبوطی سے پکڑ لو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت ـ* 
بیشک اتحاد و اتفاق کسی بھی قوم کی ترقی و اعلی اہداف کے حاصل کرنے اور سربلندی و سرخروی کیلیے بہت اہم اور ضروری ہے، یہ بات بھی بجا طور پر کہی جاسکتی ہے کہ اجتماعیت اسلام کی روح ہے، اتحاد اور آپسی محبت کے بغیر مسلمان اسی طرح ہے جیسا کہ بغیر روح کے انسان کا جسم ، رسول اکرم ﷺ کو اتحاد امت کا ہمیشہ بےحد احساس رہتا تھا، چنانچہ آپ کو ایک دفعہ یہ اطلاع ملی کہ قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں کسی معاملہ میں اختلاف و انتشار ہوگیا ہے تو آپ ﷺ حضرات صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین کو لیکر فوراً وہاں تشریف لےگیے، انتشار کی آگ اس قدر پھیل گئی تھی کہ معاملہ سلجھانے میں بہت وقت لگ گیا، جس کی بناء پر نماز کا وقت بھی تنگ ہوگیا، حضور اکرمﷺ اس کے باوجود بھی اس وقت تک وہاں سے نہیں لوٹے جب تک معاملہ کو رفع دفع نہیں کردیا، اس لیے ہم سب کو بھی حتی المقدور اجتماعی کوششیں کرنی چاہیے۔
*ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں*
*ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے*
  اللہ تعالی ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائےاور آپسی اخوت و محبت و ہمدردی اور ملکی وملی اور سماجی وسیاسی اور مسلکی و فروعی اختلافات سے بچائے اور امت واحدہ بن کر رہنے کی توفیق عطاء فرماے، خدا کرے کہ ہمارا کھویا ہوا شاندار ماضی ہم کو دوبارہ مل جائے اور ہم پھر سے ایک بار سربلندی وسرخروی سے اس دنیا میں جیئیں اور جب اس دنیا سے جائیں تو اخروی کامیابی بھی ملیں….
مزید دکھائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close