مضامین

اترپردیش میں "گینگ ریپ” کے عزائم آخر اتنے بلند کیوں؟

ز قلم۔محمد اشفاق عالم نوری فیضی رکن۔مجلس علماے اسلام مغربی بنگال شمالی کولکاتا نارائن پور زونل کمیٹی کولکاتا۔136 رابطہ نمبر۔9007124164

ریاستِ اتر پردیش ان دنوں اخبارات،نیوزچینلوں، سوشل میڈیا،اور فیس بک کی سرخیوں میں گردش کر رہی ۔جس اتر پردیش میں ہزاروں مدارس و مساجد, ،منا در وچرچ اور کلیسا کے ساتھ ساتھ ہزاروں بڑے بڑے اسکول،کالج اور یونیورسٹیاں ہیں، جس کی وجہ سے اتر پردیش ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے مد مقابل امن وشانتی،بھائی چارگی ،سماجی ہم آہنگی ،مساوات،تہذیب وثقافت، اور گنگا جمنی جیسی محبت کا گہوارہ ہے اور جہاں کا ذیادہ تر طبقہ تعلیم یافتہ ہے۔ آج وہی اترپردیش ہے کہ جب سے ہندوستان میں مودی اور اترپردیش میں مارچ 2017 میں یوگی گورنمنٹ برسراقتدار آئی ہے ۔ نہ ہندوستان سلامت ہے اورنہ ہی اترپردیش سلامت ہے. آے دن کچھ نہ کچھ حادثات و واردات، مڈبھیڑ، انکاؤنٹر اور خواتین کی عصمت دری جیسی گھٹنائیں ہو تی رہتی ہیں ۔اور گورنمنٹ تماشائی بنے دیکھتی رہتی ہے جس طرح کسی دیوار پہ لکھا رہتا ہے ” یہاں پیشاب کرنا سخت منع ھے”کم از کم یوگی جی کو تو ہندوستان کی دیگر ریاستوں کو بھی دیکھ کر سبق لینا چاہیے تھا. جیسے کہ اسکا پڑوسی ریاست بہار کو جنا ب نتیش کمار جی نے بد معاشوں، غنڈوں اور گینگ ریپ کو ختم کر کے اور چند کو جیل کی سلاخوں میں قید کر کے آج بہار کو امن وسلامتی ،بھائی چارگی ،ترقی یافتہ اور صاف ستھرا بنادیا ہے ۔اسی طرح اترپردیش کو بھی بنا نا چاہیے۔بلا شبہ یوگی آدتیہ ناتھ جیسے وزیر اعلیٰ اگر کسی صوبہ کو مل جائیں تو یقیناً ان کی سرپرستی میں بد معاشوں ،غنڈوں اورگینگ ریپ کو مزید حوصلہ افزائی حاصل ہو جائے. اوپر سے یوگی کا لبادہ اوڑھ لینے سے کوئی یوگی نہیں ہوسکتا جب کہ وہ اندر سے خود یوگی جیسی صفات سے متصف نہ ہو۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ یوگی نہیں بلکہ ڈھونگی ہیں۔

معلوم ہو کہ اتر پردیش میں ضلع پاتھر کے تھانہ چند پا میں اپنی شب و روز گزارنے والی ایک دلت لڑکی مسمٰی منیشا گزشتہ 14 ستمبر2020ء کو کسی کام سے جا رہی تھی کہ گاؤں کے اونچے طبقے سے تعلق رکھنے والے چار لڑکوں نے مل کر متذکرہ لڑکی کا اغوا کرلیا اور قریب ہی ایک کھیت میں لے جا کر اس کی عصمت دری کی اور جی ہاں! عصمت دری بھی ایسی کہ ان لوگوں نے ساری حدیں بھی پار کردیں جیساکہ بتایا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے متذکرہ لڑکی کے اعضاے مخصوصہ کو کافی نقصان پہنچایا بے شرمی،بے حیائی اور درندگی سے بھی اوپر اٹھ کر لڑکی کے دونوں پاؤں اور کمر توڑ ڈالے ان میں کچھ بولنےکی بھی سکت نا تھی انھوں نے اشاروں ہی اشاروں میں اپنا بیان پولس کو لکھائی اس طرح ان درندوں نے اپنی درندگی کا ثبوت پیش کر کے اتر پردیش کے باب جرائم میں ایک بھیا نک جرم کا اضافہ کردیا۔آہ! لکھتے ہوئے ناچیز کا کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ اس لڑک نےجس گاؤں میں جنم لیا تھا نا جانے اس کے دل میں بھی کتنے ارمان ہونگے دوسروں کو دیکھنے کے بعد ان کے ضمیرنےبھی کتنے آرزوں نے انگڑائیاں لی ہونگی۔ انکے والدین نے کتنے تمناؤں اور آرزؤں سے پروش کرکے انکو آگے کی دنیا دکھائی ہوگی انھیں کیا پتہ تھا کہ ہمارے بیچ صبح و شام گزارنے والے کچھ لوگ انسانی شکل وصورت میں رہ کر بھیڑیے جیسی درندہ صفت لیۓ ہمارے ہی شکار کے لئے مستعد ہیں۔
میں حکومت یوگی اور حکومت مودی سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ” بیٹی بچاؤ،بیٹی پڑھاؤ ” کا نعرہ لگانا بند کریں اس لیے کہ جب بیٹی کی زندگی کی حفاظت نہیں کرسکتے تو نعرہ لگانا بھی بند کردیں۔ہر آے دن بیٹیوں کی عزتیں لوٹیں جارہی ہیں لیکن آپکو اسکی فکر نہیں اگر فکر ہے تو ہر مہینہ کسی نا کسی شاہرہ کسی نا کسی مخصوص چیزوں کے نام کی تبدیلی ،ان چیزوں کو چھوڑیے اور بیٹیوں کی عزت و ناموس کی حفاظت کے تعلق سے سخت قانون بنائیے تاکہ مستقبل میں ہماری بہنوں،بیٹیوں کی حفاظت ہوسکے۔اور یاد رکھیے انکاونٹر جیسی واردات کو انجام دیکر خواتیں کےخلاف جرائم کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔آپ نے اس سے قبل بھی انکاؤنٹر کروایا لیکن خواتین کے خلاف جرائم کم کیوں نہیں ہوے۔
آخر منیشا کی نعش کو اس طرح سے راتوں رات جلا دینا کئی سوالات کھڑا کر رہا ہے گینگ ریپ کو سلاخوں کے پیچھے ڈال کر متاثرہ لڑکی کے گاؤں میں کسی میڈیا والوں کو جانے نا دینا اور اسکے گاؤں کو پولیس کی چھاؤنی میں تبدیل کردینا اور پولیس کی اپنی من چاہی کارروائی کرنا اور اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی سازباز ایک طرح سے تعجب خیز بھی ہے۔

ان سارے واقعات میں کتنی سچائی ہےیہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ابھرے ہوے سوالات کا جواب کون دیگا ؟کاش کے متاثرہ زندہ ہوتی تو درجنوں سوال کھڑا ہوتا۔ لیکن یاد رکھنا چاہیےکہ” پاپ اپنے باپ کو بھی نہیں چھوڑتا”۔اتر پردیش میں آخر ایسے گینگ ریپ پر یو گی جی نے شروع سے کاروائی کیوں نہیں کی. اس طرح کی واردات،گھٹنا ئیں اور گینگ ریپ آخر کب تک ہوتے رہیں گے۔ جن چیزوں پہ انھیں CONTROL کرنا تھا تو کیا کیوں نہیں؟
بس اگر انھیں سوجھی تھی تو صرف اور صرف اتر پردیش کے مسلمان کیلئے نظر حیات تنگ کر دینا کبھی گئو کشی پر پابندی لگا نا تو کبھی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعتراض تو کبھی اعظم خان اور اسکی بنائی ہو ئی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی پر حملہ تو کبھی بیف کا بہانہ بنا کر مسلمانوں کو قتل کر نا تو کبھی ریلوے اسٹیشن کا نام تبدیل کر کے اپنی مرضی کے نام کا انتخاب کر نا۔تو کبھی مآب لنچنگ کرا کے مسلمانوں کو خو فزدہ کرناتو کبھی گوندا راج دکھا کر ڈاکٹرکفیل کے اوپر الزام عائد کرکے جیل کے سلاخوں کے پیچھے ڈالنا جیسے کا رناموں کو انجام دینا آتا ہےاس سلسلے میں کسی نے کیا ہی اچھا شعر قلمبند کیاہے ۔

” ظلم وہ ظلم ہے جو ابھرے گا تو دب جائے گا
اور خون وہ خون ہے جو ٹپکیگا تو جم جاۓ گا”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: