اہم خبریں

اتر پردیش میں سرکاری مظالم، پولیس کے ذریعہ تشدد اور عوامی تنظیموں کو نشانہ بنانا بند کرو

نئی دہلی کے ویمنس پریس کلب میں مختلف تنظیموں، پارٹیوں اور سول سوسائٹی جماعتوں کے لیڈران و نمائندگان کی جانب سے بلائی گئی مشترکہ پریس کانفرنس میں جاری بیان

سی اے اے -این آر سی کے خلاف پورے اتر پردیش میں جاری احتجاجات کو روکنے کی ریاستی بی جے پی حکومت کی متکبرانہ روش اور سازش کی ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یوپی حکومت ریاست بھر میں سڑکوں پر اترے مظاہرین کے ساتھ حد درجہ تشدد کا رویہ اپنارہی ہے اور انہیں فرضی مجرمانہ مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ ہمیں مختلف مسلم اکثریتی علاقوں سے پولیس کی زیادتیوں کے متعلق کئی خبریں موصول ہوئی ہیں،کہ پولیس پُرامن احتجاجی پروگراموں میں رکاوٹ ڈالتی ہے، گھروں، دکانوں، دفاتر حتیٰ کہ مساجد میں گھس کر توڑ پھوڑ کرتی ہے، گاڑیوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور بے قصوروں پر گولیاں چلاتی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت احتجاجات کو کچلنے اور اقلیتوں سے انتقام لینے کے اپنے اصل مقصد کے تحت ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول پیدا کر رہی ہے۔
ریاست کی بی جے پی حکومت موجودہ حالات کو اچھا موقع تصور کرتے ہوئے سنگھ پریوار کے تفریقی ایجنڈے کے خلاف تمام مخالفت کی آوازوں اور عوامی اقدامات کو دبانا چاہتی ہے۔ اس کے لئے مختلف مقامات سے سماجی کارکنان، صحافیوں، وکیلوں اور ملّی قائدین کو حراست میں لے کر ان کے خلاف نیشنل سکیورٹی اور انسداد دہشت گردانہ دفعات کے تحت سنگین قسم کے مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔
پاپولر فرنٹ آف انڈیا ایک ایڈہاک کمیٹی کے تحت یوپی کے کچھ حصوں میں کھلے طور پر کام کر رہی ہے اور ریاست میں کہیں بھی اس کے ممبران کے متعلق اب تک کسی بھی تخریبی سرگرمی میں شامل ہونے کا کوئی رکارڈ نہیں ہے۔ لیکن یوپی حکومت تنظیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے اس کے لیڈران کو گرفتار کرکے ان کے اوپر دہشت کا ٹھپّہ لگانا چاہتی ہے تاکہ عوام کے درمیان تنظیم کی تصویر کو خراب کیا جا سکے۔ پاپولر فرنٹ کی ریاستی ایڈہاک کمیٹی کے کنوینر وسیم احمد اور ممبران قاری اشفاق و محمد ندیم کو پہلے لکھنؤ سے گرفتار کیا گیا، پھر ان پر سنگین قسم کے مقدمات لگائے گئے اور انہیں میڈیا کے سامنے تشدد کے ماسٹرمائنڈ کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان میں سے دو کو پولیس نے ان کا چہرہ ڈھک کر میڈیا کے سامنے پیش کیا تاکہ اس پورے معاملے کے پیچھے دہشت گردانہ ماحول تیار کیا جا سکے۔ پولیس کی یہ کاروائی دراصل ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کے بے بنیاد الزام کی ایک کڑی ہے، جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ تمام ناخوشگوار واقعات کے پیچھے پاپولر فرنٹ کا ہاتھ ہے۔ لیکن اپنی سطح پر براہ راست چھان بین کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ لکھنؤ یا کسی بھی جگہ پر ہوئے کسی بھی پُرتشدد واقعے میں ان میں سے کوئی بھی شامل نہیں رہا ہے۔ یہ بڑی مضحکہ خیز بات ہے کہ ’ماسٹر مائنڈ‘ ہونے کا درجہ صرف مذکورہ پاپولر فرنٹ کے لیڈران پر ہی نہیں تھوپا گیا، بلکہ پولیس کے ذریعہ گرفتار شدہ کئی دیگر سماجی کارکنان کو بھی ماسٹرمائنڈ بتایا گیا ہے۔
آج لوگ تفریقی و امتیازی قانون سی اے اے اور ملک بھر میں این آر سی کے نفاذ کے منصوبے کے خلاف بلاتفریق ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔ صرف بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں ہی عوام کو پولیس کی بربریّت اور ظالمانہ کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یوپی میں انٹرنیٹ وغیرہ بند ہونے اور حکم امتناعی نافذ ہونے کی وجہ سے کئی گاؤں کی حقیقی صورتحال سے باہری دنیا اب تک ناواقف ہے۔
مختلف ذرائع سے ملی رپورٹ کے مطابق، صرف اتر پردیش کے اندر ایک8 سالہ معصوم سمیت اب تک کل 27 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، ان میں سے اکثر کی موت پولیس کی گولی لگنے سے ہوئی ہے۔ ریاست سے آنے والے ویڈیو اور دوسرے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ توڑ پھوڑ کرنے میں پولیس ہی سب سے آگے رہی ہے اور انہوں نے پُرامن مظاہرین کے خلاف اندھا دھند تشدّد کا رویہ اپنایا ہے۔ اور اب عوام کی توجہ کو بھٹکانے کے لئے وہ بے قصوروں کو ملزم بناکر پیش کر رہے ہیں۔

ہم اترپردیش حکومت سے درج ذیل مطالبات کرتے ہیں:
– سی اے اے -این آر سی کے خلاف ہونے والے پُرامن و جمہوری مظاہروں میں رکاوٹ ڈالنا بند کیا جائے۔
– عوامی تنظیموں اور کارکنان پر الزام عائد کرنے کا گندا کھیل کھیلنا بند کیا جائے۔
– کرفیو، چھاپے ماری اور حراست جیسے تمام ظالمانہ طریقوں اور پولیس کی زیادتیوں کو روکا جائے۔
– تمام جھوٹے مقدمات کو واپس لیا جائے، تمام حراست میں لئے گئے افراد کو رہا کیا جائے۔
– مقتول اور زخمی افراد کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔
– ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف فوری کاروائی کی جائے، اور
– فائرنگ کے واقعات سمیت ہر طرح کے مظالم میں پولیس کے کردار پر عدالتی تفتیش کا حکم دیا جائے۔
ساتھ ہی ہم تمام شہریوں اور آگے بڑھ کر ان احتجاجات کی قیادت کرنے والی تمام سول سوسائٹی کی جماعتوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس بات پر پوری نظر رکھیں کہ خواہ باہری دخل اندازوں یا پولیس کے ذریعہ ان کے احتجاجات تشدد کا رخ نہ اپنانے پائیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: