اسلامیات

اجتماعی طور پر نفلی روزہ رکھنا بدعت ہے؟

مفتی محمد سفیان القاسمی
مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی گڈا جھارکھنڈ

آج کل شوشل میڈیا پر ایسی تحریک چل رہی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے موجودہ یا ممکنہ مسائل و پریشانیوں کے حل کے لئے ایک مقررہ دن میں اجتماعی طور پر روزہ رکھ کر دعا کی جاءے، اس کے فوائد یہ بتاءے جا رہے ہیں کہ جب ہندوستان کے مسلمانوں کی پوری آبادی جو کروڑوں میں ہے، ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں دعا کرے گی اور وہ بھی روزہ کی حالت میں، تو ضرور دعا قبول ہوگی اور ظالم حکمرانوں سے اللہ تعالیٰ راحت نصیب فرمائیں گے، اس قسم کا میسج آج کل شوشل میڈیا پر خوب گردش کر رہا ہے

بظاہر یہ بات بڑی اچھی اور معقول لگتی ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ ایسے میسج کو خوب فارورڈ کر رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا اجتماعی طور پر نفلی روزہ کا اہتمام کرنا شرعی اعتبار سے درست ہے یا نہیں؟

جب اس کی تحقیق کے لیے کتابوں سے مراجعت کی گئی اور کئی اہل علم سے معلوم کیا گیا تو اس سلسلے میں جو خلاصہ سامنے آیا وہ یہ ہے کہ انفرادی طور پر اگر کوئی ہر مہینے تین چار دن نفلی روزے رکھتا ہے یا ہر جمعہ کو روزے رکھتا ہے تو یہ درست ہے اور بہتر یہ کہ جمعہ کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کو بھی شامل کر لیا کرے لیکن اجتماعی طور پر کسی ایک دن کو مقرر کر کے نفلی روزہ کا اہتمام کرنا بدعت ہے اور ظاہر ہے کہ جو عمل بدعت ہو اس سے اللہ تعالیٰ کیسے راضی ہوں گے اور جس عمل سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوں گے تو پھر اس عمل کی بدولت دعا کیسے قبول کریں گے؟ اس لئے اس طرح کے اجتماعی طور پر نفلی روزہ رکھنے کا اہتمام کرنا درست نہیں، اور ایسی بدعت کو فروغ دینے کے لئے تحریک چلانا تو بدرجہء اولی درست نہیں، اس لئے لوگوں کو چاہیے کہ اس قسم کے اجتماعی روزہ کی اپیل والا میسیج فارورڈ نہ کریں

اجتماعی طور پر نفلی روزہ کی ممانعت کی دلیل یہ ہے کہ حضور اکرم ص نے فرمایا جو ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز داخل کرے وہ قابل رد ہے ( من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد) چنانچہ ظالموں کے شر سے نجات کے لئے اجتماعی طور پر اس طرح نفلی روزہ رکھنے کا حکم نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں اور نہ ہی اس کی کوئی نظیر حضور اکرم کے زمانے میں ملتی ہے اور نہ صحابہ کے دور میں، حالانکہ اس وقت بھی مسلمانوں کے ساتھ پریشان کن حالات پیش آءے مثلاً غزوہء خندق اور غزوہء تبوک کے موقع پر، اسی طرح بئر معونہ کے واقعہ میں اڑسٹھ صحابہ کو دشمنوں نے دھوکہ دے کر شہید کردیا مگر آپ ص نے دشمنوں کے مظالم سے نجات یا ان کی ہلاکت کے لئے اس طرح کا کوئی حکم نہیں دیا بلکہ صحابہ کے بعد تابعین اور تبع تابعین اور ان کے بعد بھی ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی اس لئے ایسی نئی چیز کو ایجاد کرنا بدعت ہے لہذا جو لوگ اس طرح کی بدعت کو فروغ دینے کا کام کر رہے ہیں ان کو اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنا چاہئے،

اس موضوع پر ایک سوال کے جواب میں برادر مکرم مفتی شکیل منصور صاحب قاسمی کی تحریر آپ کی خدمت میں نقل کی جاتی ہے

َ،، مسلمانوں پہ پریشان کن حالات آج نہیں ، ہر دور میں آتے رہے ہیں ۔
مشکل ترین حالات میں نماز اور دعائوں کے اہتمام وکثرت کی نظائر تو ہمیں ملتی ہیں ؛ لیکن اجتماعی روزے کی کوئی نظیر عہد رسول و صحابہ میں نظر نہیں آتی ۔
بئر معونہ میں اڑسٹھ قراء صحابہ شہید اور دو گرفتار ہوگئے ، یوں کہ لیں : اصحاب رسول میں بالکل “کِریم “ اور “ہیرا “ جماعت کو دغا بازی اور دجل وفریب کے ذریعہ اُچک کر ختم کردیا گیا
یہ انتہائی مشکل اور دل فگار اجتماعی حادثہ تھا جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو جھنجھوڑ کے رکھدیا
لیکن اتنے بڑے حادثہ سے دوچار ہوجانے کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجتماعی روزوں کے ذریعے دعائیں کرنے کی تجویز نہیں دی ،بلکہ دعائیں کرنے کی عملی ہدایت پیش فرمائی۔
عبادات میں اصل “اتباع “ ہے ۔ “اختراع “ نہیں ۔
اس لیے حالات کتنے بھی پُر خطر کیوں نہ ہوجائیں ، جس چیز کی کوئی نظیر واصل عہد صحابہ میں دستیاب نہ ہو اس کے جواز کی کوئی گنجائش مستنبط کرنا بدعتی سعی ۔ یعنی سعی نا محمود کہلائے گی ۔
جن عبادتوں کی اجتماعی ہیئت کے ساتھ ادائی شرع سے ثابت ہے یا جس کی اجتماعی ہیئت کی کوئی نظیر ملتی ہو
وہاں ہیئت اجتماعیہ جائز ہوگی ۔
جہاں ایسا کچھ نہ ہو وہاں اجتماعی ہیئت کے ساتھ عبادت کی ادائی دین متین میں نئی اختراع شمار ہوگی ۔
مسلمان اگر کہیں سخت پریشان حال ہوں تو نماز ، توبہ ، استغفار ، دعاء واذکار اور انابت الی اللہ کے ذریعہ خدا قادر مطلق سے نصرت طلب کریں ۔
پورے ملک میں اجتماعی روزہ رکھ کر مشکلات کے دفعیہ کے لئے دعائیں کرنا نو ایجاد چیز ہے ، جس کی بنیاد ڈالنا شرعا جائز نہیں ۔ واللہ اعلم
*شکیل منصور القاسمی*
،،
امید ہے کہ علماء کرام اس جانب توجہ مبذول فرمائیں گے اور ایک نئی بدعت کا آغاز ہونے سے پہلے ہی اس کا قلع قمع کریں گے کیونکہ جب کسی بدعت کی شروعات ہو جاتی ہے تو وہ ایک نظیر بن جاتی ہے اور اس کو روک پانا زیادہ مشکل ہوتا ہے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: