اسلامیات

احکام کے اعتبار سے پانی کے اقسام

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (23) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-05-1919_00-06-1976) نور اللہ مرقدہ

انی پانچ طرح کا ہوتا ہے :
اول: طاہر مطہر غیر مکروہ، یعنی بلا کراہت پاک کرنے والا پانی ۔ اور وہ مطلق پانی ہے جس کا حال اوپر بیان ہوا۔
دوسرا: طاہر مطہر مکروہ ہے، یعنی کراہت کے ساتھ پاک کرنے والا۔ اور وہ بلی وغیرہ کا جھوٹا پانی ہے ، اس لیے کہ قاعدہ کے مطابق بلی کا جھوٹا نجس ہونا چاہیے، اس لیے کہ بلی کا گوشت نجس حرام ہے۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
السنور سبع۔ (رواہ الحاکم و صححہ)
بلی درندہ ہے۔
اور درندہ حرام ہے ، لہذا بلی حرام ہے اور حرام گوشت سے جو لعاب پیدا ہوتا ہے، وہ نجس ہوتا ہے ، اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا:
طھور الاناء اذا ولغ فیہ الھر ان یغسل مرۃ او مرتین۔ (رواہ دار قطنی و صححہ)
جب برتن میں بلی منھ ڈالے تو ایک دو مربتہ دھونے سے برتن پاک ہوجاتا ہے۔
مگر بلی چوں کہ اکثر گھروں میں رہتی ہے اور بسا اوقات برتنوں میں منھ ڈالتی ہے ، اس لیے دفع حرج کے لیے آپ ﷺ نے فرمایا:
انھا لیست بنجس انھا من الطوافین علیکم ۔ (رواہ مالک و احمد و ترمذی وغیرہ، قال الترمذی حسن صحیح)
بلی کا جھوٹا نجس نہیں ہے ، یہ گھروں میں پھرنے والی ہے ۔
اس لیے طہارت کے ساتھ کراہت کا حکم لگایا۔
تیسرا: طاہر غیر مطہر ہے ، یعنی خود پاک مگر دوسرے کو پاک کرنے والا نہ ہو اور وہ مستعمل پانی ہے ۔ مستعمل وہ پانی ہے جس سے حدث کا ازالہ ہوا ہو یا ثواب حاصل ہوا ہو، جب کہ وہ بدن سے جدا ہوگیا ہو۔ جیسے بے وضو والے کا وضو یا وضو پر وضو ثواب کی نیت سے ۔
اگر پہلے سے وضو ہو اور پھر بغیر نیت کے وضو کرے تو وہ مستعمل پانی نہ ہوگا، کیوں کہ نہ اس سے حدث کا ازالہ ہوا اور نہ ثواب حاصل ہوا۔ حدث کا ازالہ اس لیے نہیں ہوا کہ پاک ہونے کی وجہ سے حدث کا وجود ہی نہیں ہے، جس سے اس کا ازالہ ہوتا۔ اور نیت نہ ہونے کی وجہ سے ثواب بھی حاصل نہیں ہوا، کیوں کہ ثواب کا مدار نیت پر ہے۔ انما الاعمال بالنیات۔ ثواب کا مدار نیت پر ہے، لہذا وہ مستعمل نہ ہوگا۔ مستعمل پانی اس لیے پاک ہے کہ اگر مستعمل پانی ناپاک ہوتا تو آں حضرت ﷺ کے مستعمل پانی کو صحابہ کرامؓ اس طرح نہ لیتے اور اپنے بدن پر نہ ملتے۔ حضرت ابو جحیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو آپﷺ کے لیے وضو کا پانی لایا گیا۔ آپ ﷺ نے وضو کیا تو لوگ آپ ﷺ کے وضو کے پانی کو لینے لگے اور اپنے بدن میں ملنے لگے ۔ (بخاری)
اور بخاری کی ہی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ
اذا توضأ النبی ﷺ کادوا یقتتلون علیٰ وضوۂ۔
جب نبی کریم ﷺ وضو فرماتے تو آپ ﷺ کے وضو کے پانی پر صحابہ کرام ایسا ہجوم کرتے کہ معلوم ہوتا کہ اب لڑ پڑیں گے۔
اس سے واضح ہوگیا کہ مستعمل پانی پاک ہے ، مگر پاک کرنے والا نہیں ہے ۔ وہ اس طرح معلوم ہوا کہ آج تک کسی سے نہیں سنا اور نہ کسی حدیث میں دیکھا گیا کہ صحابہ کرامؓ نے مستعمل پانی سے دوبارہ وضو کیا ہو، یا مستمل پانی کو رکھ چھوڑا ہو اور ضرورت کے وقت کھانے پینے یا وضو کرنے میں کام لایا ہو۔ اگر طاہر مطہر ہوتا تو ضرورت کے وقت ایسا ضرور کرتے ، کیوں کہ سفر میں بسااوقات پانی کی قلت کی وجہ سے مجبور ہوجاتے اور دربار نبوت میں شکایت ہوتی اور پھر معجزات کا ظہور ہوتا۔
چوتھا: نجس پانی ہے
ان الماء طھور لاینجسہ شئی۔
بے شک پانی پاک ہے کوئی چیز اس کو نجس نہیں کرتی
اس حدیث سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پانی خواہ کتنا ہی قلیل ہو نجاست پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو آں حضرت ﷺ یہ نہ فرماتے:
لایبولن احدکم فی الماء الدائم الذی لایجری ثم یغتسل فیہ۔ (بخاری و مسلم)
تم میں سے کوئی رکے ہوئے پانی میں جو کہ بہتا نہیں ہے ہرگز پیشاب نہ کرے ، پھر اس میں نہائے ۔ (یہ حدیث مشہور ہے ، نور الہدایہ)
معلوم ہوا جب کہ پانی جاری نہ ہو تو پیشاب کرنے سے ناپاک ہوجاتا ہے ، اس لیے آپ ﷺ نے اس میں پیشاب کرنے سے سختی سے منع کیا۔اور بھی آپ ﷺ نے فرمایا:
اذا استیقظ احدکم من نومہ فلایغمس یدہ فی الاناء حتّٰی یغسلھا ثلاثا فانہ لایدری این باتت یدہ۔ (بخاری و مسلم)
جب تم میں سے کوئی سوکر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، یہاں تک کہ اس کو تین مرتبہ دھو ڈالے، اس لیے کہ وہ نہیں جانتا ہے کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں کہاں پہنچا ہے۔ (اور یہ حدیث بھی مشہور ہے۔ نور الہدایہ۔ اور مسند بزار میں ہے فلا یغمس یدہ فی طھورہ (اپنا ہاتھ پانی میں ہرگز نہ ڈالے)
اس حدیث سے واضح ہوگیا ہے کہ تھوڑی نجاست بھی پانی کو نجس کرنے کے لیے کافی ہے ، اس لیے کہ ڈھیلے سے استنجا کرنے کے بعد مقعد میں نجاست قلیل ہی رہے گی ۔ پھر اس قلیل میں سے ہاتھ میں جو نجاست لگے گی وہ اور بھی بہت زیادہ کم ہوگی۔ مگر اس کے باوجودچوں کہ وہ بھی پانی کو نجس کرنے کے لیے کافی تھا، اس لیے آپ ﷺ نے سوکر اٹھنے کے بعد پانی میں ہاتھ ڈالنے سے منع فرمایا اور اس کو تین بار دھو ڈالنے کا حکم فرمایا۔ اور اس سے یہ بات بھی صاف ہوگئی کہ پانی میں نجاست کا اثر ظاہر ہو یا نہ ہوپانی ناپاک ہوگا، اس لیے کہ اتنی قلیل نجاست کا اثر جب کہ ہاتھ میں بھی ظاہر نہیں ہورہا ہے تو پانی میں کس طرح ظاہر ہوگا۔
معلوم ہوا تھوڑا پانی جیسے برتن کا پانی اور غیر جاری پانی نجاست کے پڑنے سے ناپاک ہوجاتا ہے۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ رکا ہوا پانی خواہ کتنا ہی ہو نجاست کے پڑنے سے ناپاک ہوجاتا ہے ؛ بلکہ اس سے مراد وہ پانی ہے جو دہ در دہ سے کم ہو۔ اگر دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا پانی پھیلاؤ میں ہو یا اس سے زیادہ ہو اور اتنا گہرا ہو کہ چلو بھرنے سے زمین نہ کھلے تو وہ بڑے حوض اور تالاب میں شمار ہوتا ہے اور وہی پانی کثیر کہلاتا ہے اور اسی پانی کے بارے میں آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
ان الماء طھور لاینجسہ شئی۔
کثیر پانی ایسا پاک ہے کہ اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
انتھیت الیٰ غدیر فاذا فیہ حمار میت فکففنا عنہ حتیٰ انتھیٰ الینا رسول اللّٰہ ﷺ فقال: ان الماء لاینجسہ شئی فاستقینا و اروینا و حملنا (ابن ماجہ)
میں ایک تالاب پر پہنچا تو دیکھتا کیا ہوں کہ اس میں ایک گدھا مرا پڑا ہے ، تو ہم اس سے رک گئے ، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ پھر تو ہم نے پیا ، جانوروں کو پلایااور لاد لیا ۔
اس حدیث میں گرچہ دہ در دہ کا تذکرہ نہیں ہے ، لیکن اتنا معلوم ہوا کہ تالاب کا پانی نجاست کے پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا۔ اور تالاب کا پانی کثیر پانی میں داخل ہے ، کیوں کہ تالاب حوض سے کہیں بڑا ہوتا ہے ۔ اور دہ در دہ کا ثبوت ایک دوسری حدیث سے ہوتا ہے ۔ اور وہ یہ کہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
حریم البئر اربعون ذراعا من جوانبھا کلھا۔ (احمد)
کنواں کا حریم چالیس ہاتھ ہے ہر جانب سے۔
حریم ہر وہ جگہ، جس کی حفاظت واجب ہو، یعنی کنویں کی حفاظت ہر طرف سے دس دس ہاتھ ہونی چاہیے۔ اس کے اندر نہ کوئی دوسرا کنواں کھودے اور نہ نجاست کا گڑھا کھودے ، کیوں کہ دس ہاتھ کے اندر کی چیزوں کا اثر کنویں میں پہنچتا ہے ۔ اس سے معلوم ہو اکہ دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑاؤ میں پانی پھیلا ہوا ہو تو اس میں نجاست کا اثر نہ پہنچے گااور اتنا پانی کثیر کہلاتا ہے ۔ اگر دو مٹکے پانی دس ہاتھ لمبائی چوڑائی میں پھیلا ہوا ہو تو اس میں بھی نجاست کا اثر ہر طرف نہ پہنچے گااور وہ بھی کثیر پانی میں شمار ہوگا۔ لیکن اگر دس ہاتھ لمبا چوڑا پانی نہ ہو تو وہ قلیل پانی ہے اور نجاست پڑنے سے نجس ہوگا ۔ اگر ایسی بات نہ ہوئی تو پھر کنواں کبھی ناپاک نہ ہوتا اور نہ اس کے صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ۔ کیوں کہ اس میں دو مٹکے سے کہیں زیادہ پانی ہوتا ہے ، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے اس کے پاک کرنے کا حکم دیا ہے ، چنانچہ ابن سیرین سے مروی ہے کہ
ان زنجیا وقع فی بئر زمزم یعنی مات فامر بہ ابن عباس فاخرج و امر بھا ان تنزح قال: فغلبتھم عین جاء ت من الرکن، قال فامر بھا فدست بالقباطی والمطارف حتیٰ نزحوھا فلما نزحوھا انفجرت علیھم۔ (رواہ الدار قطنی مرسلا، قال العلامۃ النیموی اسنادہ صحیح و رواہ ابن ابی شیبہ نحوہ و اسنادہ صحیح)
ایک حبشی زمزم کے کنویں میں گرا پھر مرگیا، تو حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ نے پانی نکالنے کا حکم دیا۔ پانی نکالنے لگے تو ایک جھرنے نے جو رکن یمانی کی طرف سے آتا تھا، لوگوں کو پانی نکالنے سے عاجز کردیا، تو کپڑے وغیرہ سے اس کو بند کرنے کا حکم دیا۔ پھر بند کرکے اس کا تمام پانی کھینچا۔ کھینچنے کے بعد وہ جھرنا پھر پھوٹ پڑا۔
اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ
ان حبشیا وقع فی زمزم فمات فامر عبد اللہ بن زبیر فنزح ماؤھا فجعل الماء لاینقطع فنظر فاذا ھی عین تجری من قبل الحجر الاسود فقال ابن الزبیر حسبکم (رواہ الطحاوی و اسنادہ صحیح باعتراف الشیخ تقی الدین بن دقیق العید بہ فی الامام)
ایک حبشی زمزم میں گرا، پس وہ مرگیا تو عبد اللہ بن زبیر نے حکم دیا ، پس اس کا پانی کھینچا گیا ، تو پانی ٹوٹتا نہیں تھا، پھر دیکھا کہ حجر اسود کی طرف سے ایک سوت بہہ رہا ہے ، تو حضرت عبد اللہ بن زبیر نے کہا بس کافی ہے ۔
بات واضح ہوگئی کہ صرف دو مٹکے پانی جب کہ وہ دس ہاتھ میں پھیلا ہوا نہ ہو تو وہ نجس ہوتا ہے اور جہاں حدیث میں ہے کہ دو مٹکے پانی نجاست کو برداشت نہیں کرتا، اس سے وہی مراد ہے کہ اتنا پانی پھیلا ہوا دہ در دہ میں ہو۔دو چار ہاتھ میں مجتمع نہ ہو، ورنہ کنواں صاف کرنے کی حاجت نہ ہوتی اور نہ اس قدر دقت اٹھائی جاتی۔ بئر بضاعہ سے کسی کو دھوکا نہ ہونا چاہیے ، کیوں کہ اس کا پانی جاری تھا۔ چنانچہ واقدی کا بیان ہے کہ
ان بئر بضاعۃ کانت فیہ طریقا للماء الیٰ البساطین فکان الماء لایستقر فیھا فکان حکم ماءھا کحکم ماء الانھار۔ (طحاوی)
بضاعہ کے کنویں میں پانی کا راستہ تھا، جو باغوں کی طرف جاتا تھا، اس لیے اس میں پانی ٹھہرتا نہیں تھا ، لہذا اس کے پانی کا حکم وہی ہوگا جو نہر کے پانی کا حکم ہے۔
چنانچہ بضاعہ کے کنویں کے بارے میں سوال کرنے پرکہ اس میں کتے، حیض کے کپڑے اور گندی چیز ڈالی جاتی ہے، آں حضرت ﷺ نے فرمایا: کہ بضاعہ کا پانی پاک ہے اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ لہذا بضاعہ کی حدیث سے کنویں کے پاک رہنے پر دلیل پکڑنا غلط ہے۔ خلاصہ یہ کہ جاری پانی یا جو جاری پانی کے حکم میں ہے ، یعنی بڑے حوض اور تالاب کا پانی جو کم از کم دہ در دہ ہو ، نجاست کے پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا ہے، جب تک کہ نجاست کا پانی پر اثر ظاہر نہ ہو ۔ جو پانی گھاس تنکے پتے کو بہا لے جائے ، وہ بہتا پانی ہے ، خواہ وہ کتنا ہی آہستہ آہستہ بہتا ہو۔ اثر ظاہر ہونے پر بہتا پانی بھی ناپاک ہوجاتا ہے ۔ چنانچہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
الماء لاینجسہ شئی الا ما غلب علیٰ لونہ او طعمہ او ریحہ۔ (رواہ الطحاوی والدار قطنی مرسلا و صح ابو حاتم ارسالہ)
پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی، مگر یہ کہ اس کے رنگ یا مزہ یا اس کی بو پر نجاست غالب آجائے۔
اور بیہقی کی روایت میں ہے کہ
الماء طھور الا ان یغیر ریحہ او طعمہ او لونہ بنجاسۃ تحدث فیہ۔ (بلوغ المرام)
پانی پاک ہے مگر یہ کہ بدل جائے اس کی بو یا مزہ یا رنگ اس نجاست کی وجہ سے جو اس میں پڑتی ہے۔
پانچواں : مشکوک پانی ہے۔ مشکوک وہ پانی ہے جس کی نجاست اور طہارت دونوں پر دلیل ہو اور کسی ایک دلیل کا رجحان نہ ہو، دونوں دلیلیں برابر ہوں۔ اور وہ گدھے اور خچر کا جھوٹا پانی ہے جو قلیل ہو۔ گدھے کے گوشت کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے ، اس لیے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خیبر میں پالتو گدھے کے گوشت سے منع فرمایا، یعنی پہلے گدھے کا گوشت کھانا حلال تھا جنگ خیبر کے موقع پر آپ ﷺ نے اس کے حرام ہونے کا اعلان کیا۔ اور ہانڈیوں میں جو گدھے کا گوشت ابل رہا تھا ، ان ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: گدھے کا گوشت نجس ہے ۔
عن انسؓ قال: لما کان یوم خیبر امر رسول اللّٰہ ﷺ ابا طلحۃ فنادیٰ ان اللّٰہ و رسولہ ینھا کم عن لحوم الحمر الاھلیۃ فانھا رجس (متفق علیہ، بلوغ المرام)
مگر شک اس کے جھوٹے میں ہے، اس لیے کہ اس کے گوشت کی نجاست اس کے لعاب کے نجس ہونے پر دلالت کرتی ہے ، کیوں کہ نجس گوشت کا لعاب نجس ہوتا ہے ۔ مگر اس کا گھروں میں رہنا اور آنا جانا، برتنوں میں منھ ڈالنا، اس بات کی دلیل ہے کہ دفع حرج کے لیے اس کا جھوٹا بلی کی طرح پاک ہو، مگر چوں کہ اس کا بلی کی طرح کثرت سے گھروں میں آنا جانا اور برتنوں میں منھ ڈالنا نہیں ہوتا ہے، اس لیے اس کے جھوٹے کے طاہر ہونے میں شک ہوجاتا ہے ، اس لیے اس کا جھوٹا مشکوک ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: