مضامین

ادائے فرض کی صورت(۶):نصاب کی کتابیں

مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ

یہ تمام صورتیں جو اوپر پانچ نمبروں میں بیان کی گئی ہیں، ان کی کامیابی اس پر موقوف ہے کہ:
(۱) دینیات کی کتابیں ایسی آسان، جامع اور مختصر ہوں کہ دین کی تمام ضروری باتیں ان کے ذریعہ معلوم ہوجائیں اور ان کے پڑھنے پڑھانے کے لیے ایک گھنٹہ کافی ہوسکے۔
(۲) بچوں کی نفسیات کالحاظ کرتے ہوئے تعلیم و تربیت کا ایسا دل چسپ طریقہ اختیار کیا جائے، جو بچوں میں دینی تعلیم کا شوق پیدا کردے اور اس مکتب سے ان کو ایسا لگاؤ اور تعلق ہوجائے کہ سرکاری اسکولوں سے چھٹی کے وقت ان کو یہاں آنا ناگوار نہ ہو۔
کتابوں کا مسئلہ بفضلہ تعالیٰ جمعیۃ علماء ہند اور دینی تعلیمی بورڈ طے کرچکے ہیں۔دینی تعلیم کے رسالے جو جمعیۃ علماء ہند نے مرتب کرائے اور دینی تعلیمی بورڈ نے ان کو منظور کیا، وہ بفضلہ تعالیٰ جہاں پہنچ رہے ہیں، عام مقبولیت حاصل کررہے ہیں، کیوں کہ وہ اختلافی مسائل سے بالا، دین کی تمام ضروری باتوں پر مشتمل ہیں۔ جس طرح ان کی زبان سلجھی ہوئی، ادبیت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی، دُھلی دھلائی، صاف اور عام فہم ہے۔ جس طرح ان میں محاورات کے موتی اس طرح ٹانک دیے گئے ہیں کہ یہی کتابیں اردو انشا اور املا کے لیے بھی کافی ہوسکتی ہیں۔ اور جس طرح رفتہ رفتہ ترقی کا بھی ان میں یہاں تک لحاظ رکھا گیا ہے کہ جب بچہ پانچ سالہ نصاب سے فارغ ہو، تو اس میں یہ صلاحیت اور قابلیت پیدا ہوچکی ہو کہ اخبارات اور اردو کی عام علمی کتابیں آسانی سے پڑھ سکے اور سہولت سے سمجھ سکے۔
اسی طرح وہ ایسی جامع بھی ہیں کہ صرف عقائد و عبادات ہی نہیں؛ بلکہ ”دین“ کے ہمہ گیر معنیٰ کا لحاظ کرتے ہوئے، ان کتابوں میں اسلامی اخلاق اور اسلامی تہذیب کو بھی عقائد و عبادات جیسی اہمیت دی گئی ہے۔ اور ساتھ ساتھ آں حضرت ﷺ اور خلفائے راشدین کی سیرت ِ مقدسہ کے اہم اور ضروری اجزا بھی اس گلدستہ میں سجا دیے گئے ہیں۔ مختصر یہ کہ ہر سال کی نصابی کتابوں میں یہ پانچ مضامین پانچ بابوں میں بچوں کی نفسیات کا لحاظ کرتے ہوئے بہت ہی عمدگی اور خوبی کے ساتھ جمع کیے گئے ہیں:
(۱) عقائد
(۲) عبادات
(۳) سیرت ِ مقدسہ آں حضرت ﷺ اور درجہ پنجم میں سیرت ِ خلفائے راشدین و ائمہ و مجتہدین وغیرہ۔
(۴) اسلامی اخلاق
(۵) اسلامی تہذیب۔
اس جامعیت کے ساتھ ایسے مختصر بھی ہیں کہ اگر رخصتوں اور تعطیلات کو منہا کرنے کے بعد تعلیم کے دن پورے سال میں صرف ۰۸۱ (چھ ماہ) قرار دیے جائیں، تو اسباق کا اوسط یہ ہوتا ہے:
سال اوّل: ایک تہائی صفحہ یعنی تقریباً ۴/ سطر یومیہ۔
سال دوم:نصف صفحہ سے کچھ زائد تقریباً ۰۱/ سطر یومیہ۔
سال سوم: سوا صفحہ تقریباً ۱۲/ سطر یومیہ۔
سال چہارم: دوصفحہ یومیہ سے کچھ کم تقریباً ۵۳/ سطر یومیہ۔
سال پنجم: دو صفحہ تقریباً ۲۴/ سطر یومیہ۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر اعتماد کرتے ہوئے یہ دعویٰ پورے وثوق کے ساتھ کیا جاسکتا ہے کہ اگر ان رسالوں کے مضامین بچوں کے ذہن نشین کردیے جائیں، تو ان کے دل و دماغ (ان شاء اللہ) ان تمام جراثیم سے محفوظ رہیں گے، جو کلچر، تہذیب قدیم یا نیشنلزم وغیرہ کے نام پر فضا میں پھیلائے جار ہے ہیں۔ (واللّٰہ علی مانقول وکیل وھو ولی التوفیق و علیہ التکلان)
بہر حال جہاں تک ابتدائی درجات میں دینیات کی کتابوں کا تعلق ہے، جمعیۃ علماء ہند یہ رسالے اور ان سے متعلق چارٹ اور نقشے وغیرہ مرتب کراکر اس مسئلہ کو حل کرچکی ہے (و للہ الحمد والمنۃ) آپ یہ کتابیں الجمعیۃبک ڈپو سے طلب فرمائیں۔ اور ان باتوں کی تصدیق فرمالیں۔
البتہ طریقہئ تعلیم اور ترتیب مکاتب کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا، جب تک حضرات اساتذہ اور معلم صاحبان اور مکاتب و مدارس کے ذمہ دار حضرات توجہ نہ فرمائیں۔ جہاں تک اصول کا تعلق ہے، طریقہئ تعلیم اور ترتیب ِ مکاتب کے چند کار آمد اور مفید اصول آنے والے ابواب میں پیش کیے جار ہے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ ان سے مفید نتیجہ اسی وقت برآمد ہوسکتا ہے، جب ان پر عمل ہو۔ توجہ دلانے کے لیے اتنی گزارش اور ہے کہ مذہبی اور دینی تعلیم کو غیر منفعت بخش تو اسی وقت سے سمجھا جارہا ہے، جب سے مادہ پرستی کا آغاز ہوا اور یورپ کی سنہری روپ والی تہذیب نے ایشیا کی نورانی روحانیت کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ سیکولر دور ِ حکومت میں اس مذاق کی اصلاح، ظاہر ہے بہت ہی مشکل ہوگئی ہے۔ اس دشواری کے ساتھ ساتھ بہت ہی خطرناک صورت ِ حال یہ ہے کہ ترقی پذیر ہندستان میں تعلیم کو زیادہ سے زیادہ دل چسپ بھی بنایا جائے گا اور ترغیب و تحریص کی صورتیں بھی زیادہ سے زیادہ اختیار کی جائیں گی۔ مثلاً جدید طریقۂ تعلیم میں یہ اصول تو قطعی طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے کہ تعلیم کا ایسا طریقہ اختیار کیا جائے، جس میں خوف اور دہشت کے بجائے بچوں کے لیے کھیل اور تفریح کا سامان ہو، مزید براں دیہاتی حلقوں میں بچوں کو دودھ بھی دیا جاتا ہے۔ کھلونے اور مٹھائیاں بھی تقسیم کی جاتی ہیں اور بہت ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں ان کو اسکول کی مقرر کردہ پوشاک (وردی) بھی دی جایا کرے۔
ترغیب و تحریص کی ان تمام صورتوں کے ساتھ، اگر ہمارے طریقہئ تعلیم میں وہی پرانی پیوست باقی رہی، وہی روکھا؛ بلکہ کھردرا طریقہ رائج رہا، تو اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ دینی تعلیم اور دینی مذاق کو ایک طرف زمانہ کے رجحانات ختم کریں گے،تودوسری طرف ہم خود اپنے طرز ِ عمل سے ان کا گلا دبا کر فنا کردینے میں کوتاہی نہ کریں گے۔ (معاذ اللہ)
پس ہمدردی دین و ملت کا بہت ہی ضروری مطالبہ ہے کہ ہم اپنے طریقہئ تعلیم میں تبدیلی پیدا کریں۔ بے شک دودھ اور مٹھائیاں تقسیم کرنا یا وردی بنا کر بچوں کو پہنانا ہمارے لیے مشکل ہوگا مگر میٹھا طریقہ اور شیریں طرز ِ عمل تو ہم جب بھی چاہیں اختیار کرسکتے ہیں۔ اور اسی سے دودھ اور مٹھائی کا کام لے سکتے ہیں۔ اس کے چند اصول آئندہ صفحات میں پیش کیے جا رہے ہیں، جو ان شاء اللہ ”کم خرچ بالا نشیں“ ثابت ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق بخشے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: