اہم خبریں

ادب اَطفال

اچھے بچے

علامہ جلال الدین سیوطی ;231; نے اپنی کتاب ’حسن الحاضرہ،(مجلس کا ادب) میں اچھے بچّوں کی صفات لکھی ہیں جن کے متعلق اہل علم کی رائے یہ ہے کہ وہ صفات بے شک بچوں کے لئے لکھی گئی ہیں لیکن وہ اتنی عمدہ اورقیمتی ہیں کہ ہربڑے آدمی کوبھی ان کو اپنے اندرپیداکرلیناچاہیئے جن میں (۱)صفت ہے :بچہ اپنی روزی روٹی کی کبھی فکرنہیں کرتابلکہ اپنی روزی کاذمہ داراپنے ماں باپ اوربڑوں کوسمجھتاہے تواسی طرح ہم کوبھی اپنی روزی کابھروسہ اسی رب پرہوناچاہئے جوسب کاپالنہار ہے(۲)بچہ جب بیمارہوتاپڑتاہے تووہ کسی سے ا پنی بیماری کا شکوہ شکایت نہیں کرتا، بلکہ خاموش اورصبرکے ساتھ پڑارہتاہے ،اپنے طورپرکسی ڈاکٹریاحکیم کوبھی نہیں چنتابلکہ اس فکرکووہ اپنے ماں باپ پرہی ڈالدیتا اورپڑارہتاہے،تواسی طرح ہم کوبھی اپنے مرض اورشفاکامعاملہ اسی حکیمکے سپردکردیناچاہئے جوسب سےبڑاحکیم اورشافیَ مطلقہے ۔ (۳)بچے علاحدہ علاحدہ ہوکر کھانانہیں کھاتے بلکہ کئی کئی بچے ایک ساتھ اورایک ہی برتن میں کھاناکھالیتے ہیں ،وہ کسی کے ساتھ کھانے میں جھوٹ، چھوت، چھات اورگھِن کاخیال تک بھی اپنے دل میں نہیں لاتے،اس لئے ہم کوبھی آپسی میں اونچ نیچ کے بھیدبھاوَ سے پرہیزکرناچاہیئے(۴)جب بچہ کوڈرلگتاہے تواس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسوآتے ہیں ،وہ بے اختیاررونے اوربِلکنے لگتاہے،توہم کوبھی اسی اللہ کے سامنے روناچاہیئے جوسب کاغم خواراورہمدردہے(۵)بچے جب آپسی میں لڑتے ،جھگڑتے ہیں تووہ اپنے دل میں کسی کی طرف سے کینہ، کپٹ اورحصد وغصہ کی چنگاری دباکر نہیں بیٹھے رہتے بلکہ تھوڑی ہی دیر میں آپسی لڑائی،جھگڑے کوبھو ل جاتے اورایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں ،توہم کوبھی آپس میں اپنے دلوں کو کینہ کپٹ سے پاک صاف رکھناچاہیئے ۔

اگریہ بچوں کی پانچوں صفات ہم بڑے لوگوں میں بھی ہوجائیں توپھرہم بڑے کام کے آدمی بن جائیں گے ۔ مرزاغالب;207; کاشعر ہے

عشق نے غالب;207; نکمّالردیا;47;

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے ۔

مگراس کوتھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ یوں بھی پڑھکے دیکھئے توشایدلطف آجائے

’’ڈھیل نے غالب;207; نکماکردیا;47;

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے ۔

جب کام کے نہیں رہے تونکمے اوربیکارہوگئے ، لوگوں کے کام نہیں آتے،

ایک تمثیلی کہانی ہے کہ پرانے زمانے میں ایک آدمی تھاجوبہت ہی غریب تھا، اتناغریب تھاکہ کبھی اس کوپیٹ بھرکر روٹی بھی میسّرنہیں ہوئیتھی، اس نے ایک رات خواب میں کہ ایک بڑاخوبصورت آدمی ہےجس کالباس بھی بڑاچمکتادمکتا اورقیمتی تھا،اس نے ایساخوش لباس آدمی کبھی اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھاتھایہ اس سے بولا: بھائی جان آپ کون ہیں ;238;کیا آپ کہیں کے بادشاہ ہیں یاکوئی شہزادے ہیں ;238;اس نے جواب دیا: میں میں وہفرشتہ ہوں جولوگوں کوروزی پہنچانے کے کام پرمقرّرہوں ، یعنی خداکی طرف سے وزیرخوراک ہوں ۔ اس غریب آدمی نے اس ے پوچھا:اچھاتویہ بتاوَ کہ میری روزی میں اتنی تنگی کیوں ہے;238;فرشتے نے کہا:یہ توخداہی جانے کہ تمہاری روزی میں اتنی تنگی کیوں ہے ;238;مگر میں رجسٹردیکھ کریہ بتاسکتاہوکہ اب تمہاری کتنی روزی باقی ہے;238;

اس آدمی نے کہا:ٹھیک ہے، چلویہی بتادومجھے کچھ توتسلیّ ملے گی ۔

فرشتہ نے رجسٹردیکھ کربتایا:کہ اب تمہارے حساب میں صرف 10ہی روٹیاں باقی ہیں ، مگرہاں ! تم کویہ اختیار بھی حاصل ہے، چاہے وہ ساری روٹیاں ابھی لے لو یا ایک ایک کرکے10 دن میں پوری کرلو،پھرآگے کچھ نہیں ملے گا ۔

اس نے اپنے دل میں سوچا: پوری زندگی میں کبھی میں نے میں نے پیٹ بھرکریا جی بھرکاکھانا نہیں کھایا ،اس لئے پوری دس روٹیاں ایک ہی ساتھ مانگ لوں ، آج ایک دن توپیٹ بھرکرکھاہی لوں گا،اگرخداکوزندہ رکھناہے تواورروزی دے گا ورنہ مرجاؤں گا، مگرآج پیٹ توبھرہی لوں ۔ فرشتے نے اس کواس کی پوری دس روٹیاں ایک دفعہ میں لاکردیدیں ،اس سے ان میں سے صرف دوہی روٹی ہی کھائی گئیں باقی اس نے شام کے لئے اٹھاکررکھدیں ،کیونکہ اللہ ایک کے بدلے دس دیتاہے،اس لئے 8روٹیوں کے بدلے کو شام کو اس کے لئے80 روٹیاں آسمان سے اُتریں ،اس کے پاس روٹیاں رکھی ہوئی تھیں

ایک شخص ادھرسے گذرا،اس نے اس سے پوچھا:بھائی ! میں بھوکاہوں کیاتمہارے پاس کچھ کھانے کے لئے ہے;238;

اس نے اس میں سے کچھ روٹیاں اس کے سامنے لاکررکھدیں کہ ایک اوربھوکا آدمی آیا، اس نے اس کوبھی بٹھالیا،اسی طرح لوگ آتے رہے اوراس کے پاس کھاناکھاتے رہے، اللہ تعالیٰ نے یہ کیاکہ اس کے پاس ایک کھاناختم نہیں ہوتاکہ دوسرآجایاکرتا،،اب مستقل لنگرچلنے لگا، اس نے سوچاکہ میراکھاناتوختم ہوچکاتھا اب میں خود بھی ان ہی کی برکت سے کھارہاہوں اس لئے یہ چلتارہناچاہیئے ،ایک دن اسی فرشتے کا ادھرسے گذرہواتودیکھا کہ بہت سارے لوگ اس کے پاس کھاناکھارہے ہیں دسترخوان لگاہے، لنگر چل رہاہے ۔

فرشتہ اس کے پا آکربولا، توابھی کیسے زندہ ہے;238;تیراتورزق پوراہوچکاتھا تعجب ہے ۔ فرشتہ نے جاکراللہ سے پوچھا:اے للہ! یہ کیاہوا;238;اس بندے کاتورزق پوراہوچکاتھا، اوروہ ابھی تک زندہ ہے ،اورصرف زندہ ہی نہیں بلکہ اس کے دسترخوان سے دنیاکھارہی ہے یہ کیامعاملہ ہے;238;اللہ نےفرشتے کوجواب دیا:جومیری مخلوق پررحم کرے میں اس پررحم کرتاہوں ،شایدآپ نے سناہوگاکہ فرعون بادشاہ خدائی کادعوے دارہونے کے باوجود اپنے دسترخوان سے بھوکوں اورغریبوں کوکھلاتاتھا، جس پراللہ نے یہ فرمایاتھاجب تک یہ شخص اپنادسترخوان میری مخلوق پرکھلارکھے گا میں اس کوہلاک نہیں کروں گا،لہٰذا اللہ نے اس کوجب تک ہلاک نہیں کیاجب تک اس نے لوگوں پر اپنادسترخوان وسیع رکھا ۔

سچ بات ہے اللہ کے نبیﷺ نے ایک دن اپنے صحابیوں سے فرمایا:کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اچھاکون ہے اوربراکون ہے;238;اللہ کے نبیﷺ نے یہی بات تین باردوہرائی اورپھرفرمایا:تم میں اچھاوہ ہے جس سے بھلائی کی امیدرکھی جائے،اورا سکے شرسے لوگ خودکومحفوظ سمجھیں اوربراوہ ہے جس سے بھلائی کی امیدنہ رکھی جائے،اورا سکے شرسے لوگ خودکومحفوظ بھی نہ سمجھیں (ترمذی)

ڈاکٹرراحت مظاہری

9891562005

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: