مضامین

اراکین شوریٰ دارالعلوم دیوبند کا عمدہ انتخاب

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی خادم التدریس جامعہ نعمانیہ، ویکوٹہ، آندھرا پردیش

دوچار روز سے شوشل میڈیا پر یہ خبر برابر گردش میں تھی کہ دارالعلوم دیوبند میں شوریٰ کی میٹینگ ہونے والی ہے، جس میں چند اہم چیزوں کے بارے میں غور و خوض کیا جائے گا، خصوصاً استاذ محترم رئیس المحدثین حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری قدس سرہٗ کا دار غرور سے دار سرور جانے سے آپ کی جگہ خالی چل رہی تھی،آپ رح بیک وقت دو عہدے پر فائز تھے ”شیخ الحدیث، و صدرالمدرسین“ ان دونوں عہدے پر عہدے کے مناسب لائق و فائق شخصیت کی ضرورت تھی، اور مادر علمی میں کئی ایسی شخصیتیں موجود ہیں جن کے بارے میں قیاس آرائیاں بھی ہورہی تھیں۔
اس خبر کی گردش کی وجہ سے فضلاء دارالعلوم ومحبان دارالعلوم کے درمیان بھی خوب چہ می گوئیاں تھیں، ہر ایک اپنی اپنی رائیں پیش کر رہے تھے، "شیخ الحدیث” کے لئے کئی نام پیش کئے جارہے تھے، حضرت الاستاذ علامہ قمرالدین صاحب دامت برکاتہم گورکھپوری (شیخ ثانی، دارالعلوم دیوبند) حضرت مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی دامت برکاتہم (مہتمم، دارالعلوم دیوبند)بحرالعلوم حضرت مولانانعمت اللہ صاحب اعظمی دامت برکاتہم، حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم (صدر جمعیۃ العلماء ہند، الف) حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی دامت برکاتہم، حضرت مفتی یوسف صاحب تاؤلی دامت برکاتہم، حضرت مفتی امین صاحب پالن پوری صاحب دامت برکاتہم، آخرالذکر کے بارے میں غالباً کبھی حضرت الاستاذ مفتی سعید صاحب قدس سرہٗ نے بھی اپنی رائے دی تھی۔
اسی طرح "صدرالمدرسین” کے عہدہ کے بارے میں بھی مختلف رائیں تھیں۔
آج اراکین شوریٰ نے دونوں عہدوں کے لئے جن دو بزرگوں کا انتخاب کئے ہیں وہ دونوں ہی اس کے لائق و مستحق ہیں، "شیخ الحدیث ” حضرت الاستاذ مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب دامت برکاتہم (مہتمم دارالعلوم دیوبند) اور "صدرالمدرسین” حضرت الاستاذ مولانا ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم (صدر جمعیۃ العلماء ہند) بنائے گئے ہیں، اللہ تعالی ان دونوں بزرگوں کا سایہ ہم پر عافیت کے ساتھ تادیر قائم رکھے، (آمین)
الحمدللہ! کاتب السطور کو مذکورہ بالا تمام اساتذہ کرام سے زانوئے تلمذ تہ کرنے کی شرفیابی حاصل ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے "شیخ الحدیث” کے عہدہ پر حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم کا انتخاب بہت ہی موزوں ہے، حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم "بخاری شریف "کی تدریس کا تجربہ بھی رکھتے ہیں، آپ کے علاوہ علامہ بحرالعلوم دامت برکاتہم بھی تجربہ رکھتے ہیں، لیکن حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم کا درس بخاری کچھ انوکھا ہی ہوتا ہے، راقم السطور کو حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم سے ” ترمذی شریف "کے ساتھ ساتھ ” بخاری شریف "پڑھنے کا بھی موقع ملا ہے، 2014/ء، میں حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری قدس سرہٗ کی طبیعت بعد رمضان متصلاً علیل ہوئی اور بغرض علاج حضرت قدس سرہٗ ممبئی تشریف لے گئے، علاج میں تاخیر ہوئی تو حضرت قدس سرہٗ نے ممبئی سے ہی حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم سے درخواست کی کہ ہمارے واپسی تک آپ ہی” بخاری شریف "پڑھائیں، تاکہ طلبہ کا نقصان نہ ہو، اس کے بعد ہی حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم” بخاری شریف "کا درس دینے لگے اور ” کتاب العلم ” کا مکمل درس دئیے۔
الحمدللہ! فدوی کو چھ اساتذہ کرام سے "بخاری شریف” پڑھنے کا موقع ملا ہے:
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ،میں تین اساتذہ کرام۔
(1) حضرت مولانا سید عبداللہ حسنی ندوی رحمہ اللہ
(2) حضرت مولانا عبدالقادر صاحب پٹنی ندوی دامت برکاتہم (نائب مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)
(3)حضرت مولانا رشید احمد ندوی صاحب دامت برکاتہم
اور دارالعلوم دیوبند میں بھی تین اساتذہ کرام۔
(1)حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری قدس سرہ
(2) حضرت مولانا شیخ عبدالحق صاحب قدس سرہ (شیخ ثانی)
(3) حضرت مفتی ابو القاسم نعمانی صاحب دامت برکاتہم
ان چھ اساتذہ کرام کا درس بخاری میں حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم کا درس بخاری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم "حدیث بالتفسیر یا حدیث بالحدیث” پڑھاتے تھے، ہر حدیث کے ذیل میں کوئی نا کوئی آیت یا حدیث جو اس کے نظائر ہوں وہ ضرور پیش کرتے تھے، یہ اتنی بڑی اور عظیم خصوصیت ہے جو اس زمانہ میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔
اور "صدرالمدرسین” کے لئے بھی عمدہ انتخاب ہے، یہ تو زبان زد ہے کہ جب حضرت الاستاذ مولانا ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم جب ناظم تعلیمات تھے اس دور میں تعلیمی معیار بہت بلند تھی، نیز تمام اساتذہ کرام وطلبا عظام سب کے سب تعلیمی سلسلے میں چاک و چوبند رہا کرتے تھے، اب جب کہ حضرت الاستاذ مولانا مدنی دامت برکاتہم "صدرالمدرسین” کے باوقار عہدہ پر فائز ہوئے ہیں، اور تعلیم اسی عہدہ کے ماتحت ہوتی ہے تو پھر ماضی کا دور دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے، اخیر میں احقر العباد اپنے دونوں اساتذہ کرام کا اس منصب جلیل عہدہ پر متمکن ہونے پر دل سے مبارک باد پیش کرتا ہے، اور باری تعالیٰ عز وجل سے دعا گو ہے اے رب کریم ہمارے مادر علمی دارالعلوم دیوبند کو تا قیام قیامت آباد و شاداب رکھنا۔ (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: