زبان و ادب

اردو ادب کے امین مدارس دینیہ

الطاف جمیل ندوی

کچھ ماہ قبل ہی ایک فون کال وصول ہوئی سلام دعا کے بعد صاحب نے تعارف دیا ساتھ میں فرمایا کہ میں مدارس اور اردو کے نام سے ایک کتاب لکھ رہا ہوں آپ تعاون دیں میری بدقسمتی کی اپنی تحریر نہ دے سکا عزیز محترم نے اصرار بھی کیا پر شومئے قسمت میںری مشغولیت آڑے آتی رہی اور میرا مضمون پڑا ہی رہ گیا جس کے لئے کچھ سطور لکھ بھی دی تھیں اب بھی پڑا ہی ہے مطلب میری کام کے تئیں بےحسی اب کچھ روز قبل پھر سے کال آئی کہ میں آپ کو کتاب دینا چاہتا ہوں تو شرمندگی ہوئی عزیز محترم نے آج کتاب بھیج دی تشکر کے لئے دل نے کہا تو کچھ الفاظ لکھ رہا ہوں

موصوف کا مختصر تعارف

اسم گرامی”””” ڈاکٹر فیض قاضی آبادی
تعلیمی :::: قابلیت ایم اے اردو بی ایڈ پی ایچ ڈی نیٹ
پیشہ :::: اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ہائرایجوکیشن جموں و کشمیر
جو کتابیں شائع ہوچکی ہیں

صحبت صالحین فکر اقبال کی روشنی میں
تفھیم اقبال
لفظ لفظ خوشبو
آہ سحرگاہی
پروفیسر بشیر احمد نحوی نظر نظر میں

جو زیر اشاعت ہیں
آدمی مسافر ہے
رنگ رقص کریں
اقبال اور انسانیت
موصوف ساتھ ساتھ وادی کشمیر اور ہندوستان کے مختلف رسائل و جرائد سے منسلک ہیں اور ان میں ان کی تحریریں معیاری اور معلومات سے بھر پور شائع ہوتی رہتی ہیں ان کی زیادہ مضبوط پکڑ افسانہ نگاری پر ہے جس میں یہ اکثر رنگ بھرتے رہتے ہیں انتہائی ملنسار شفیق و مہربان ساتھی اسلامی وضع قطع رکھنے والے موصوف ہندواڑہ کے کالج میں اس وقت اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں سوپر ناگہامہ کی بستی کا یہ شاہین صفت نوجوان علم و ادب کے افق پر اپنی محنت و لگن سے رنگ بکھیر رہا ہے
ان کی اردو زبان و ادب کے تئیں محبت و عقیدت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت یہ بھی ہے کہ موصوف مسلسل اسی زبان میں لکھ رہے ہیں اور اس زبان کے فروغ کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اردو زبان و ادب اپنے اندر جس محبت و اخوت کا جذبہ لئے ہے وہ شاید ہی کسی زبان میں موجود ہو یہ ایسی زبان ہے جس نے فارسی عربی کو اپنے دامن میں شامل کیا ہے اس زبان میں برصغیر پاک و ہند کا ایک بہت بڑا حصہ موجود ہے ہندو مسلم سکھ عیسائی بودھ جو اس زبان سے تعلق رکھنے والے ہیں والہانہ اس زبان سے تعلق بنائے ہوئے ہیں اس زبان کو استعمال کرنا ہر کسی بولنے والے کے لئے آسانیاں پیدا کردیتا ہے چاہئے کہ اس کی کوئی سی بھی زبان ہو پچھلے کچھ عرصہ سے اس زبان کے تئیں برصغیر میں سوتیلا سا برتاؤ ہونے لگا اور اس کا گلہ گھونٹ دینے کی کوشش ہونے لگئی اور اب حالت یہ ہے کہ اردو زبان و ادب میں ڈگریاں حاصل کرنے والے بھی اس زبان کو روز مرہ استعمال کرنے سے شرماتے ہیں اتنا ہی نہیں اردو زبان و ادب کے فروغ کے اشتہار بھی اب انگریزی زبان میں دئے جاتے ہیں اس طرح سے اردو کی خدمات انجام دی جارہی ہے کہ اس کے نام پر روزی کمانے والے بھی اس سے استعمال کرنے کی سد بد نہیں رکھتے ہاں یہ اور بات ہے کہ انگریزی اور اردو کے مکسچر الفاظ کے ساتھ تھوڑی بہت بول بھی سکیں تو بولنے میں شرماتے نہیں بلکہ اپنی اس الٹ پھیر پر خوب مسکراتے ہیں زبان و ادب کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا پر یہ اہم ہے کہ کس کا کتنا علمی و ادبی سرمایہ ہے اور کس زبان میں ہے اس پر ہر مذہب و مسلک کو متفکر رہنا لازم ہے یہی معاملہ اب اردو زبان کا ہے کہ امت مسلمہ برصغیر خصوصا اس سلسلے میں منہ نہیں پھیر سکتی کہ اس کا ایک بہت بڑا علمی و ادبی لسانی تہذیبی معاشرتی سیاسی تمدنی حصہ موجود ہے اور وہ اسی زبان میں موجود ہے اس لئے اس کے فروغ و اشاعت کا فریضہ اب بھی اسی قوم کے لئے موجود ہے جس سے فرار کا مطلب ہے کہ اپنی تہذیب و ثقافت کو درگور کرکے نئی نسل کو تباہی اور بربادی کے حوالے کردینا

جو لوگ اس زبان کی اونچ نیچ سے واقف ہیں وہ اس وقت بھی اس زبان کے تئیں انتہائی فکرمند ہیں اور اس کی حفاظت اس کی نشر و اشاعت کے لئے کوشاں ہیں کشمیر کے تہذیبی ثقافتی افق پر جو لوگ موجود ہیں انہوں نے بھی اس زبان کی ترویج کے لئے بے بہا خدمت انجام دی ہیں اور مسلسل دے رہے ہیں انہیں کہنہ مشق صاحبان قلم میں عزیزم فیض قاضی آبادی صاحب کا اسمگرامی بھی اب شامل ہونے جارہا ہے جن کا قلم اس زبان کی بقاء کے لئے اپنی نوک سے جواہر بکھیر رہا ہے اسی سلسلے میں انہوں نے ایک کوشش کے بطور یہ کتاب مدارس دینیہ اور اردو نامی ایک کتاب جو مختلف صاحبان قلم کے تجربات و معلومات کا خزانہ ہے منظر عام پر لا کر مدارس دینیہ کے تئیں اپنی محبت و عقیدت کے ساتھ ساتھ مدارس دینیہ میں اردو کے تئیں کی گئی خدمات کا اعتراف اور اظہار کیا ہے اس سلسلے میں مناسب ہے کہ اس کتاب کو زیر مطالعہ لا کر اس کتاب کو اپنے اپنے حلقہ احباب میں متعارف کرایا جائےاس کتاب میں

مدارس دینیہ اور اردو کے تئیں خدمات کے بارے میں انتہائی اہم اور ضروری معلومات فراہم کی گئی ہیں کتاب ھذا میں جہاں تک کتاب کے مطالعہ کا تعلق ہے تو ایک بات عیاں ہوجاتی ہے کہ علماء امت ہی اس زبان کے اصل امین و محافظ ہیں یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اردو کسی خاص مذہب یا نظریہ کی امین نہ تھی مگر اب جب کہ اس زبان کی سانسیں بند ہونے جارہی ہیں تو امت مسلمہ کے لئے لازم ہے کہ اس زبان کی ترویج و اشاعت اس کی بقاء کے لئے کوشاں رہیں کیوں کہ اردو ہی اب ہمارے کل کی امین ہے اس زبان کے لئے شیخ تھانوی رحمہ اللہ کا فتوی ہے کہ

اردو زبان کی حفاظت چونکہ دین کی حفاظت ہے اس بناء پر اس زبان کی حفاظت حسب استطاعت واجب ہوگئی اور باوجود قدرت کے اس میں غفلت اور سستی کرنا مصیبت بھی ہوگئی اور موجب مواخذہ آخرت بھی ہوگا ( امداد الفتوی)

اردو واحد ایک ایسی زبان ہے جو برصغیر پاک و ہند میں اپنی آن بان شان سے رواں دواں ہے پر اس کی ترویج س اشاعت میں جو کردار مدارس دینیہ کے فضلاء نے ڈالا اس سے انکار ممکن ہی نہیں ہے برصغیر پاک و ہند ہی نہیں بنگلہ دیش افغانستان بخارا تاشقند افریقہ جیسے ممالک میں بھی علماء نے اس زبان کو فروغ دیا اور اس کا استعمال کیا ہے جس کے لئے آپ کو تفصیلات اسی کتاب میں میسر ہوں گئیں اسی لئے شاید مرحوم وہاب اشرفئ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ
ملک میں بکھرے ہوئے مدارس دراصل اردو کے فروغ کی بے بہا خدمت انجام دے رہے ہیں کالجوں سے اردو غائب ہوتی جارہی ہے مدارس میں عربی فارسی کے علاوہ اردو کی کتابیں مسلسل پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں جس کا نتیجہ یہی ہوا کہ اردو زبان و ادب کے جو بڑے نقاد اور قلم کار ہیں وہ انہیں مدارس دینیہ کے فارغ التحصیل طلبہ ہیں جن کی اس زبان پر پکڑ مضبوط ہے جیسے کہ دارلعلوم دیوبند نے اپنی ادبی صحافتی سفر میں جہاں لاتعداد افراد پیدا کئے وہیں اسی گلشن ادب و صحافت میں ایک شجر علم و ادب صحافت و نقد مولانا عامر عثمانی رحمہ اللہ ہیں جنکی ذات محتاج تعارف نہیں وہ اپنے وقت کے امام صحافت بے باک مبصر لاجواب شاعر اور ناقد تھے اسی طرح ان مدارس ہی نے مولانا مملوک العلی جو اپنے زمانے میں اردو زبان و ادب کے امام کہلائے شیخ احمد رضا خان سید مودودی ڈپٹی نذیر احمد علامہ ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ سید سلمان ندوی مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللہ سلطان القلم مولانا مناظر احسن گیلانی مفتی کفیل الرحمن نشاط عثمانی علامہ انظر شاہ شیخ الادب مولانا اعزاز علی مفتی شفیع صاحب جیسے ادیب و دانشور علماء جنہیں بجا طور پر علم و ادب کے بے لاگ مبصر و محافظ کہہ سکتے ہیں اس زبان کے تئیں جب تک علماء کرام کم توجہ دیتے تھے تب مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے قلم کی نوک کو استعمال کرکے علم کا ایک بڑا ذخیرہ برصغیر کے لوگوں کے لئے مرتب کیا جس کے منصئہ شہود پر آتے ہی علامہ کشمیری بھی اس زبان کے شیدائیوں میں شامل ہوئے جو کبھی اردو زبان کے فروغ کے لئے سوچ بھی نہیں سکتے تھے اپنے تئیں انہیں اس کی فکر تک نہ تھی پر جوں کہ شیخ تھانوی رحمہ اللہ کی کتب دیکھیں تو اس زبان کی اور مائل ہوئے اور اس کی بقاء کے لئے کوشاں

ہم یہ نہیں کہتے کہ علماء کے سوا اس زبان کی خدمت کسی نے نہیں کی ایسا نہیں ہے بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ علماء نے اپنی طرف سے ایک بہت بڑا حصہ ڈالا ہے اس زبان کی ترویج و اشاعت میں زبان و ادب کی بات کریں تو ماننا پڑے گا کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جیسے کہ اردو زبان و ادب ہے کہ یہ اپنی وسعت و محبت کے سبب اپنے ساتھ سو سوا سو زبانیں بولنے والوں کو اپنے ساتھ لئے چل رہی ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ اس کی ضرورت امت مسلمہ برصغیر کو ہی ہے کیونکہ علم و ادب کا ایک بہت بڑا حصہ اسی زبان میں موجود ہے جس کے جاننے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں اگر ہم اس زبان سے تعلق بنائے نہ رکھ سکے تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے پاس کھونے کے لئے کچھ نہ بچے گا اور ہماری داستان علم و ادب دفن ہوکر رہ جائے گئی جیسا کہ ہماری تہزیب و تمدن اندلس و غرناطہ و قرطبہ میں منظر سے غائب ہوگئی

اس سب سے واقف ہونے کے لئے آپ مدارس دینیہ کا مطالعہ کرسکتے ہیں جہاں آپ کو علم و ادب کے افق پر برجماں شہسوار نظر آئیں گئے یہ کتاب جہاں اسلامی مدارس کے لئے مفید و کار آمد ہوسکتی ہے اسی قدر اردو زبان و ادب کے شوقین حضرات کے لئے بھی اس کا مطالعہ کافی اہم ہے پہلی بار جب میں نے اردو کے حوالے سے یہ کتاب جب ہاتھ میں لی تو ورق گردانی کرتے کرتے کچھ ایسی باتیں بھی دیکھیں جن کے بارے میں بلکل بھی خبر نہ تھی مجھے یہ کہنے میں بلکل بھی کوئی عار نہیں کہ اس کتاب کے مطالعہ نے مجھے بہت کچھ دیا جس کے بارے میں مجھے علم نہ تھا جیسے کہ ورق گردانی کرتے ہوئے میںنے یہ جانا کہ

میرے ایک استاد محترم ہیں جن کے بارے میں پہلی بار علم ہوا کہ وہ شاعری بھی کرتے ہیں اور وہ بھی بہترین اور خوبصورت انداز میں جیسے کہ ان کی ایک نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اسی کتاب میں پڑھنے کو ملی جسے پڑھ کر بے ساختہ دل خوشی و مسرت سے شادماں ہوا ختم نبوت کے سلسلہ میں ان کا ایک جذباتی کلام بھی نظر میں آیا جس میں ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں محبت و عقیدت کا تعلق نظر آیا اللہ کرے کہ موصوف اس میں مزید ترقی کی منازل طے کر کے ہمارے لئے ذخیرہ علم و ادب بناتے رہیں اور وہ ہماری اور پوری ملت اسلامیہ کے کام آجائے

اس کتاب کے صفحات پر آپ کو

مدارس دینیہ کے حوالے سے دارلعلوم دیوبند مظاہر العلوم سہارنپور ندوہ العلماء کشمیر میں اردو کے حوالے سے ہورہا کام اور مصنف حضرات جو یہ خدمات انجام دے رہے ہیں جموں میں مدارس دینیہ کے حوالے سے ایک بہترین خاکہ علوم اسلامیہ اور اردو زبان کے حوالے سے کچھ معلومات دارلعلوم بانڈی پورہ المصطفوی بارہمولہ یا کشمیر میں ہفتہ روزہ اخبارات یک ماہی رسائل و جرائد سہہ ماہی جرائد کے حوالے سے کافی معلومات کتاب ھذا میں موجود ہیں
قابل ذکر ہے کہ موصوف نے کہنہ مشق اساتذہ کے مضامین اس کتاب میں شائع کئے ہیں جن کی اردو ادب میں قابل رشک خدمات موجود ہیں اور ان صاحبان کے قلمی کاوشوں نے کتاب میں چار چاند لگا دئے ہیں
اللہ تعالی موصوف کی یہ خدمت اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے لئے اس کتاب کو باعث خیر بنائے میں دلی طور پر موصوف کا انتہائی مشکور ہوں کہ انہوں نے نا چیز کو اس کتاب کا ایک نسخہ عنایت کیا جو میرے لئے باعث فخر و مسرت ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: