زبان و ادب

اردو زبان میں تعلیم

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

ملک کو آزاد ہوئے نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے ، قوموں کی زندگی میں اتنی مدت کچھ کم مدت نہیں ہوتی ، اس نصف صدی سے زیادہ کے عرصہ نے جہاں ہمیں محرومی کی داستانیں دی ہیں ، وہیں ہم نے بہت کچھ پایا بھی ہے ، ہم نے جو کچھ پایا ہے ان میں سب سے اہم چیز تعلیم کی ضرورت اور اس کی اہمیت کا احساس ہے ، کسی صالح انقلاب کے لئے سب سے پہلی ضرورت یہی ہوتی ہے کہ انسان اپنی کوتاہی کا احساس کرے اور اس کے اندر اس خیر کی طلب ؛ بلکہ تڑپ پیدا ہو جائے جو زندگی کو سنوارنے اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کا ذریعہ ہو ، اس لئے بچوں کو تعلیم دلانے کا یہ عمومی رجحان بھی ایک بہت بڑی کامیابی ہے !
ایک زمانہ تھا کہ علم کو مخصوص خاندان کی جاگیر سمجھا جاتا تھا، کچھ زمیندار اور وڈیرے اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے تھے ، لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھا دی گئی تھی کہ صرف یہی لوگ پڑھنے پڑھانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں ، عام لوگ اپنے بچوں کے بارے میں تعلیم دلانے کا تصور بھی نہیں کرتے تھے اور نچلے درجے کے کاموں پر قانع تھے ، متوسط درجہ کے لوگ اگر اپنے بچوں کو پڑھاتے بھی تو چھوٹے اور معمولی اسکولوں میں ہی پڑھا سکتے تھے ، معیاری درس گاہیں نوابان ، رؤساء اور جاگیر داروں کے لئے مخصوص تھیں ، عام لوگوں کے بچے ان درس گاہوں میں تعلیم نہیں پا سکتے تھے اور ظاہر ہے کہ یہ اس ہندوانہ فکر و تہذیب کا اثر تھا ، ذات پات کی تفریق جن کے عقیدہ کا جزو ہے اور جن کے لئے اس فکر سے آزاد ہو کر سوچنا ممکن نہیں ہے ۔
یہ اللہ کا شکر ہے کہ جمہوری نظام نے ان بند دروازوں کو کھولا ، تعلیم کے مواقع سے فائدہ اُٹھانے کا سبھوں کو موقع میسر آیا اور یہ سوچ عام ہوئی کہ تکلیف اُٹھاکر اور پیٹ کاٹ کر بچوں کو تعلیم دلانی چاہئے ؛ لیکن ملک کے موجودہ نظام تعلیم کے تانے بانے ان بدیشی آقاؤں کے بنے ہوئے ہیں ، جن کا اصل مقصد تعلیم کو وسیلہ بنا کر رعایا کو اپنی فکر اور اپنی تہذیب و ثقافت کا اسیر بنانا تھا ، وہ چاہتے تھے کہ ہندوستان اپنے تمدن میں مغرب کا عکس ہو جائے ، ان کا منصوبہ تھا کہ ان کے دماغ مغربی فکر کے سانچے میں ڈھل جائیں ، ان کی کوشش تھی کہ وہ اپنی زبان بھول جائیں اور ان کا اصل ہدف یہ تھا کہ رعایا اپنے مذہب و عقیدہ کے بارے میں بھی حکمراں کی متبع ہو جائے اور اگر اتنا نہ ہو تو کم سے کم ان کے دلوں میں اپنے مذہب کی بابت شکوک و شبہات کے کانٹے چبھ جائیں ۔
انگریز رہنما اس پالیسی پر کتنی منصوبہ بندی کے ساتھ عمل پیرا تھے ؟ اس کا اندازہ اس خط کے اقتباس سے کیا جاسکتا ہے جو میکاؤلے نے ۱۸۳۶ء میں اپنے والد کو لکھا تھا کہ :
ہمارے انگریز اسکول دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ طلبہ کے لئے گنجائش نکلنی مشکل ہے … اس تعلیم کا بہت زیادہ اثر ہندوؤں پر ہورہا ہے ، کوئی ہندو انگریزی پڑھنے کے بعد اپنے مذہب پر فی الواقع ایمان نہیں رکھ سکتا ، مجھے پورا اعتماد ہے کہ اگر ہماری تعلیمی پالیسی کامیاب ہوئی تو بنگال میں کوئی بت پرست باقی نہ رہے گا ، یہ سب فطری طور پر ہوگا ، بغیر کسی مذہبی وعظ اور مداخلت کے ۔(B.C.Rai History of Indian Education p:135 ، بحوالہ : طرز تعلیم : ۷۔)
اسی لئے اُردو زبان کے دو مشہور شعراء — جو مشرق اور مغرب دونوں کے بادہ خواروں میں تھے اور انگریزی زبان اور مغربی علوم پر ماہرانہ نظر رکھتے تھے ، نے — مسلمانوں کو للکارا اور اس جدید نظام تعلیم کے فتنہ سے ان کو باخبر کرنے کی کوشش کی ، میری مراد اکبر اِلٰہ آبادی اورڈاکٹر اقبالؒ سے ہے ، یہ کوئی مولوی اور دینی مدارس کے فیض یافتگان میں نہ تھے ؛ بلکہ ان کی پوری تعلیم اسی درس گاہ میں ہوئی جو اس زمانہ میں مغرب کی نمائندہ تھی؛ بلکہ اقبالؔ نے تو یورپ کے قلب میں پہنچ کر علم حاصل کیا اور اس نظام تعلیم کو سر کی آنکھوں سے دیکھا اور کہہ اُٹھے :
اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین ومروت کے خلاف
ایک موقعہ پر اقبال نے کیا تیکھی تنقید کی ہے :
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
روشِ مغربی ہے مدِ نظر
وضعِ مشرق کو جانتے ہیں گناہ
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین ؟
پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
غالباًاقبالؔ زندہ ہوتے تو وہ اعتراف کرتے کہ پردہ اُٹھ چکا ہے اور جس الحاد کا انتظار تھا وہ اب نگاہوں کے سامنے پوری طرح بے لباس ہے ۔
جن لوگوں نے اس نظام تعلیم پر تنقید کی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ وہ تحقیق و سائنس کے خلاف ہوں ، سائنس تو کائنات میں چھپی ہوئی حقیقتوں سے پردہ اُٹھا تی ہے ، اگر اس سے لوگوں کو نفع پہنچے تو کوئی سمجھدار شخص کیسے اس کی مخالفت کر سکتا ہے ؟ اصل یہ ہے کہ ہر قوم کا نظام تعلیم اس کے افکار اور سماجی ماحول سے ہم آہنگ ہونا چاہئے ، وہ علم کے ساتھ ساتھ اسے اپنے عقیدہ پر پختگی دے ، اپنی تہذیب و ثقافت سے اس کی وابستگی کو بر قرار رکھے ، وہ اپنے بارے میں احساس کمتری کا شکار نہ ہو ، ہندوستان کو جو نظام تعلیم اپنے مغربی آقاؤں سے ملا ، وہ اس خصوصیت سے محروم ہے ، وہ ہندوستانیوں کو اپنی زبان ، اپنی تہذیب ، اپنے ادب اور اپنی سماجی قدروں کے بارے میں احساس کمتری میں مبتلا کرتا ہے ، اور اس کی اہم وجوہ میں ایک یہ ہے کہ ہم نے انگریزی زبان کو ایک زبان کی حیثیت سے پڑھنے کے بجائے اسی کو ’’ ذریعہ تعلیم ‘‘ بنالیا ، کہ ہمارے بچے اپنی الف ، ب سے ہی انگریزی میں بولنا ، انگریزی میں لکھنا اور انگریزی میں سوچنا شروع کردیں ۔
انگریزی کی عظمت کچھ اس طرح ہمارے دل و دماغ پر مسلط ہوئی کہ ہم نے اس کو علم کی معراج سمجھ لیا ، اور اس چیز نے ہمارے بچوں کو ذہنی اعتبار سے بھی اور صحت جسمانی کے اعتبار سے بہت نقصان پہنچا یا ہے ، غور کیجئے کہ ابتداء ہی سے انگریزی ذریعہ تعلیم قرار پائی، ہندوستان میں قومی زبان کی حیثیت سے اسے ہندی بھی پڑھنی ہے ، اور چوںکہ یہ ایک ’’مختلف لسانی ‘‘ خطہ ہے اس لئے ہر علاقہ کی اپنی اپنی زبانیں اس کے سواء ہیں ، طالب علم اسے بھی پڑھے گا ، اگر ہندی ریاستوں میں کوئی اور مقامی زبان نہیں تو اب قوم پر سنسکرت مسلط کی جارہی ہے ، ان کے علاوہ مسلمانوں کو اپنے سماجی رابطہ اور مذہبی ورثہ سے وابستگی کے لئے اُردو بھی پڑھنی ہے ، اس طرح ہمارے مسلمان بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی چار چار زبانوں کا بوجھ اُٹھانا پڑتا ہے ۔
طبّی اعتبار سے نو عمر بچوں کے لئے یہ ایک بار گراں ہے، بالخصوص ان حالات میں کہ فی زمانہ چار سال کی عمر سے ہی بچوں کی تعلیم شروع کرادی جاتی ہے اور ابھی زبان کا تلفظ بھی درست نہیں ہوتا کہ کتابوں کا ضخیم بستہ پشت پر رکھ دیا جاتا ہے ، دوسرے کسی بھی انسان کے اندر اپنی زبان کو بے تکلف سمجھنے اور ادا کرنے کی جو صلاحیت ہوتی ہے ، اجنبی زبان کو اس طریقہ پر پڑھنا پڑھانا دشوار ہوتا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ اصل مضمون کو سمجھنے اور اس میں فکری ترقی حاصل کرنے کے بجائے اس کا ذہن چند انگریزی فقروں کے گرد گھومتا رہتا ہے، اصل فن پر اس کی توجہ کم ہوتی ہے، اسی لئے دنیا کی جتنی ترقی یافتہ قومیں ہیں، انھوں نے علوم و فنون کو اپنی مادری زبان کا جامہ پہنایا ہے ، اور وہ اپنے بچوں کو اسی زبان میں تعلیم دیتے ہیں ، فرانسیسی اور جرمن جغرافیائی اعتبار سے برطانیہ سے کتنے قریب ہیں ؟ لیکن ان کے یہاںذریعہ تعلیم فرانسیسی اورجرمنی ہے ، چین اور جاپان دنیا کے ترقی یافتہ اور معاشی اور صنعتی اعتبار سے طاقتور ترین ممالک میں ہیں ؛ لیکن ان کے یہاں ذریعہ تعلیم چینی اور جاپانی ہے ، روس میں جب کمیونسٹ انقلاب آیا اور اس نے ترقی کی نئی کروٹ لی ، تو سب سے پہلے مغربی علوم کو روسی زبان میں منتقل کیا ؛ لیکن ہمارے ذہنوں پر انگریزی کا ایسا سحر چھایا ہوا ہے کہ ہم اپنی قومی زبانوں میں عصری تحقیقات کو منتقل کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے اوربجائے اس کے کہ ہم دوسرے علوم کو اپنی زبان کا جامہ پہناتے ہم نے خود اپنی زبان سے منھ پھیر لیا ۔
مسلمان جب فاتحانہ یورپ تک پہنچے اور یورپ میں ان کو حکمت و دانش کا ورثہ ملا تو نہایت بے تعصبی کے ساتھ اسے گلے لگایا اور سر آنکھوں پر رکھا ؛ لیکن جلد سے جلد اس علمی سرمایہ کو عربی زبان میں منتقل کر لیا ، عباسی دور میں اس سلسلہ میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے گئے وہ کسی صاحب ِعلم کے لئے محتاج اظہار نہیں ، ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے مادری زبان سے محرومی کا ایک اور بڑا نقصان یہ ہے کہ ہمارے دینی علوم و معارف کا بہت بڑا حصہ اُردو زبان میں ہے ، انگریزی یا دوسری مقامی زبانوں میں اسلام پر جو کچھ کام ہوا ہے ، وہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں ، ان حالات میں اگر ہماری نسلیں اردو زبان سے ناواقف رہیں تو یہ براہِ راست دین وایمان سے ان کا رشتہ کاٹ دینے کے مترادف ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اُردو ذریعہ تعلیم کے معیاری مدارس قائم کریں ، بچوں کو مادری زبان میں کم سے کم میٹرک تک تعلیم دیں اور انگریزی کو بھی ایک زبان کی حیثیت سے پڑھائیں ؛ تاکہ وہ اصل فن میں آگے بڑھ سکیں اور جو صلاحیت محض سمجھنے اور سمجھانے میں صرف ہوتی ہے ، وہی صلاحیت اصل مضمون میں استعمال ہو ، یہ انشاء اللہ ان کی تعلیمی ترقی کا ضامن ہوگا ، ہر سال اگر رینک لانے والے طلبہ و طالبات کا جائزہ لیا جائے تو یہ وہ ہیں ، جنھوں نے مادری زبان میں تعلیم حاصل کی ہے ، پڑوسی ریاست مہاراشٹر میں بحمد اللہ کئی سال سے مسلم طلبہ اور طالبات اُردو سے تعلیم پا کر امتیازی رینک لاتے ہیں ۔
انگلش میڈیم کا جو طوفان اس وقت آیا ہوا ہے اور غالباً مسلمان اس کے زیادہ شکار ہیں ، وہ جہاں معاشی اعتبار سے متوسط خاندان کے لوگوں کی کمر توڑ رہا ہے ، وہیں یہ بات بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ بہت سے بچوں کے لئے یہ تعلیم ایسا بوجھ ثابت ہوتی ہے کہ وہ چند قدم چل کر تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنا تعلیمی سفر مکمل نہیں کرپاتے ، اس کے علاوہ اُردو زبان سے ناواقفیت انھیں سماج سے بھی کاٹ دیتی ہے ، وہ اپنے خاندان کے بزرگوں سے کسی اہم موضوع پر مؤثر گفتگو نہیں کر سکتے ، اگر وہ باہر سے خط لکھیں تو ان کا خط پڑھا نہیں جاتا اور دین و مذہب سے جو ان کا رشتہ کمزور ہوتا ہے وہ نقصان تو سب سے سوا ہے ، اس لئے اُردو ذریعۂ تعلیم کی درس گاہیں قائم کرنا ، اپنے تعاونِ عمل سے انھیں مستحکم کرنا اور ان کوتقویت پہنچانا وقت کی نہایت اہم ضرورت ہے اور اسی میں ہمارے مذہب اور تہذیب و ثقافت کی حفاظت ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: