زبان و ادب

اردو کے فروغ کی ویب سائٹ ’ریختہ‘ انڈیا میں مقبول کیوں؟

مرزا اے بی بیگ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈیا میں اردو زبان کو عام طور پر مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتا ہے اور اس کی ترقی اور فروغ کو مسلمانوں کی ترقی اور فروغ کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا لیکن حالیہ دنوں میں اردو کی مقبولیت میں خاطر خواہ اضافہ نظر آیا ہے جس میں سرکاری اداروں کے تعاون سے زیادہ مختلف افراد کی کوششیں بھی نظر آتی ہیں۔

اگر صرف دلی کا ذکر کیا جائے تو یہاں اردو کے بہت سے پروگرامز ادبی کیلنڈر کا حصہ بن چکے ہیں۔ شنکر شاد مشاعرہ، دہلی اردو اکیڈمی کا جشن جمہوریہ کا مشاعرہ، مشاعرہ جشن بہار، جشن ریختہ اور جشن ادب، سب کے مختلف شبعہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سامعین اور ناظرین ہیں۔

ان سب کے باوجود آئے دن یہ شور سننے میں آتا ہے کہ اردو زبان مر رہی ہے، اس کے پڑھنے والے کم ہو رہے ہیں، یہ حکومت کی بے توجہی کا شکار ہے۔

اس میں روزگار کے مواقع کم ہیں لیکن پرگتی اروڑہ جیسے بہت سے نوجوان بتاتے ہیں کہ نہ صرف یہ زبان زندہ و جاوید ہے بلکہ نئی نسل کو مسلسل اپنی جانب متوجہ بھی کر رہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پرگتی اروڑہ نے کہا ’کسی نے غلطی سے ٹوئٹر پر مجھے ریختہ کا پروگرام ٹیگ کر دیا اور چونکہ اس دن میں فری تھی اس لیے میں نے سوچا سنتے ہیں کہ اردو میٹھی زبان ہے چلو چل کر دیکھتے ہیں۔ وہاں گئی تو مجھے بہت اچھا لگا۔ میں نے منور رعنا (شاعر) کو سنا اور پھر مجھے پتہ چلا کہ ریختہ ڈاٹ او آر جی پر بہت مواد موجود ہے اور وہاں اردو سکھائی بھی جاتی ہے تو میں نے اردو سیکھنا شروع کیا۔‘

اردو سے قربت کی اس قسم کی سینکڑوں کہانیاں ہیں۔ ٹیکنالوجی کے دور میں اردو کی اس نئی مقبولیت کا سہرا ریختہ ڈاٹ او آر جی کے سر جاتا ہے جس کے بانی سنجیو صراف نے اپنی ’روح کی غذا کی تلاش‘ میں جو سفر شروع کیا تھا اس نے اردو کی مقبولیت کو ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔

کشمیر سے تعلق رکھنے والے فیصل فہمی کا کہنا ہے کہ وہ پیشے کے لحاظ سے انجینیئر ہیں لیکن اردو سے لگاؤ اور محبت نے انھیں ریختہ کے قریب کیا یہاں تک کہ وہ حیدرآباد سے اپنی نوکری چھوڑ کر دلی آ گئے اور ریختہ کے کارواں میں شامل ہو گئے۔

ریختہ ویب سائٹ کا قیام

ریختہ کے بارے میں خود اس کے بانی سنجیو صراف کا کہنا ہے ’میرا بچپن سے اردو سے غائبانہ سا تعارف فلموں کے ذریعے رہا جو کہ سب سے بڑا شعبہ ہے جو لوگوں تک پہنچا۔ پھر غزل کے بڑے گلوکار مہدی حسن، بیگم اختر، فریدہ خانم ان سب کو سنتے ہوئے بڑے ہوئے۔‘

’پہلے تو ہماری جو ذمہ داریاں تھی انھیں پورا کرنے میں وقت لگا پھر ایک دن خیال آیا کہ وہ سب تو ہو چکا ہے اب روح کی غذا کے لیے ہمیں کچھ کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے بتایا ’جب میں نے اردو سیکھنا شروع کی تو یہ احساس ہوا کہ یہاں بہت بڑا خلا ہے، اتنی خوبصورت زبان ہے لیکن انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا میں اس کی مناسب انداز میں پیشکش نہیں ہے۔‘

’جو مواد ہے بھی وہ نہ مکمل ہے اور نہ معتبر۔ اس وقت ہم نے ایک چھوٹی سی ویب سائٹ شروع کی اور پھیلتے پھیلتے آج 200 سے زیادہ ممالک میں ریختہ کے پڑھنے والے اور چاہنے والے موجود ہیں۔‘

اردو لورز واٹس ایپ گروپ

واٹس ایپ پر کولکتہ سے ’اردو لورز‘ گروپ چلانے والے مُدر پاتھیر کا کہنا ہے ’ریختہ کو اردو کے سلسلے میں مجدد (ری جونیویٹر) کے طور پر دیکھتے ہیں اور ناامیدی کے درمیان نئی جان پھونکنے والا سمجھتے ہیں۔‘

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مادہ پرستی کے اس دور میں اردو کی جانب لوگوں کی چاہت میں اضافہ ہوا ہے اور اردو لوگوں کی ’ایسپیریشنل ویلو‘ بن گئی ہے۔

’عام طور پر لوگوں کی زبان اتنی گھٹیا اور غلیظ ہو گئی ہے کہ لوگوں کو اردو زبان معیار کی بلندی لگتی ہے۔ میں تو اس کو سٹیٹس سمبل (اعلی اقدار کی علامت) سمجھتا ہوں۔‘

اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں

اسی گروپ میں موجود بلیئرڈز کے بین الاقوامی ریفری اور ٹی وی کمینٹیٹر عرفان علی مرزا نے انڈیا میں اردو کا دوسرا پہلو واضح کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا ’جن کا یہ خیال ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور پاکستان کی قومی زبان ہے اسے ریختہ ڈاٹ او آر جی پر بھیج دیں جو اردو کا روز افزوں خزانہ ہے اور اس کی بنیاد ایک انڈین ہندو سنجیو صراف نے رکھی ہے۔‘

خیال رہے کہ دلی میں اردو کے جو بھی بڑے ادبی جشن منائے جاتے ہیں سب کی سربراہی ہندوؤں کے سر ہے۔

شنکر شاد مشاعرہ دو اہم ہندو شاعروں شنکر لال شنکر اور لالہ مرلی دھر شاد کی یاد میں منایا جاتا ہے اور اسے ایک بڑی کمپنی ڈی سی ایم سپانسر کرتی ہے۔ جبکہ جشن بہار کی روح رواں ایک ہندو خاتون کامنا پرساد ہیں جبکہ جشن ادب کی آبیاری نوجوان شاعر کنور رنجیت چوہان کر رہے ہیں۔

اسی طرح مختلف موقعوں سے غالب اور میر کے حوالے سے دلی میں بڑے پیمانے پر جشن منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ جس کی میزبانی عام طور پر ہندو تنظیمیں کرتی ہیں۔

دوسری ویب سائٹ سے موازنہ

بہرحال جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں انگریزی زبان کے سابق پروفیسر انیس الرحمان سے جب پوچھا کہ آیا ریختہ جیسی ویب سائٹ آپ کو دوسری کسی زبان میں نظر آئی تو انھوں نے کہا ’میں اردو اور انگریزی کا یکساں طور پر طالب علم رہا ہوں لیکن کہیں بھی مجھے بطور خاص ادب اور شاعری سے متعلق ایسی بھرپور ویب سائٹ نہیں ملی۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’مثال کے طور پر اس کا جو ای بُک سیکشن ہے وہاں ایسی کتابیں موجود ہیں جو دنیا میں اب کہیں بھی دستیاب نہیں ہیں۔‘

’مجھے ایک سیمینار مہابھارت پر ایک پیپر پڑھنا تھا۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ اردو میں مہابھارت کہاں کہاں موجود ہے تو مجھے کسی لائبریری میں تو کوئی حوالہ نہیں ملا لیکن ریختہ کی سائٹ پر مجھے کم از کم ایک درجن ایسی کتابیں ملیں جو انیسویں صدی کی شائع تھیں۔‘

سنجیو صراف نے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو کے دوران ای بکس کے بارے میں بتایا ’اب تک ہم نے 60 ہزار کتابوں کو سکین کرکے انٹرنیٹ پر دستیاب کرایا ہے۔ ہماری 24 مشینیں مختلف یونیورسٹیوں، لائبریریوں، اور ذاتی ذخائر میں مستقل کام کر رہی ہیں اور اوسطاً ہر ماہ ڈھائی ہزار کتابیں ہم انٹرنیٹ پر ڈال رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا: ’اس کے علاوہ ریختہ پر ساڑھے تین ہزار سے زیادہ شعرا کا کلام دستیاب ہے اور ہر لفظ پر کلک کر کے اس کے معنی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ کلام تین رسم الخط میں موجود ہے جس میں اردو تو ہے ہی اس کے علاوہ دیوناگری (ہندی) اور رومن (انگریزی) رسم الخط میں بھی یہ دستیاب ہے تاکہ جو اردو رسم الخط سے واقف نہیں ہے وہ بھی اردو ادب سے متعارف ہو سکے۔‘

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

انھوں نے بتایا کہ ریختہ نے ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا ہے اور وہ سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں۔

ریختہ کے ساتھ منسلک فرح شیخ نے بتایا کہ ریختہ کس طرح اردو کی ترویج و اشاعت میں لگا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا: ’ای بکس سیکشن تو ہمارا ہے ہی لیکن ہم سوشل میڈیا پر بھی سرگرم ہیں۔ ہم وہاں بھی بہت مواد ڈالتے ہیں۔ جیسے ہم شاعروں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ میرا کام سوشل میڈیا سے تعلق رکھتا ہے اس لیے میں انسٹاگرام، فیس بک اور ٹوئٹر پر اردو کے متعلق مواد فراہم کرتی ہوں۔‘

مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا ’ہم بڑے شاعروں کے یوم پیدائش اور یوم وفات کے موقع پر ان کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں اور ان کے چند اشعار کے ساتھ جہاں تک ممکن ہوتا ہے ویڈیوز بھی پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ حال میں ہی ہم نے ایک نئی سیریز شروع کی ہے جس میں شاعروں کی زندگی میں محبت کے بارے ویڈیوز پیش کر رہے ہیں جو کہ ان کو ایک قسم کا خیراج عقیدت ہے۔‘

انڈین حکومت کی کوششیں

ایسا نہیں کہ ریختہ واحد ویب سائٹ ہے جہاں کتابیں ملتی ہیں یا جہاں اردو سکھائی جاتی ہے۔ اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں اردو کی تعلیم کے علاوہ مختلف اکیڈمیز قائم ہیں جہاں ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں نظر آتی ہیں۔

ملک کی مختلف ریاستوں میں اکیڈمیز ہیں اور وہاں اردو کی کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی معاونت دی جاتی ہے اور وہاں سے جرائد و رسائل بھی نکلتے ہیں۔

انڈیا میں حکومتی سطح پر سب سے بڑا ادارہ ’نیشنل کونسل برائے فروغ اردو زبان‘ ہے جس عرف عام میں کونسل کہا جاتا ہے۔ اس کا سالانہ بجٹ تقریباً نوے کروڑ ہے جس میں سے نوے فیصد رقم مختلف شعبوں میں اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں صرف کی جاتی ہے۔

یہاں بھی آن لائن کتابیں دستیاب ہیں لیکن یہاں صرف وہ کتابیں ہیں جو کونسل نے شائع کی ہیں اور ان کی تعداد چند سو میں ہے اور ویب سائٹ بھی بہت زیادہ انٹیرایکٹو نہیں ہے۔

لیکن یہاں سے ہر سال بہت ساری کتابوں کی اشاعت میں مالی تعاون فراہم کیا جاتا ہے مقامی سطح پر اردو سکھانے کے لیے استاد کو رقم دی جاتی ہے اور اس کے ساتھ کتابت یعنی فن خطاطی کے سکھانے کا بھی نظام ہے۔

جشن ریختہ

اردو میں لوگوں کی دلچسپی ناقابل یقین حد تک روز بروز بڑھتی نظر آتی ہے اور اس کا اظہار ریختہ کے سالانہ جشن میں ہوتا ہے۔ جشن ریختہ کی کنوینر اپرنا نے بتایا کہ ہر بار جگہ چھوٹی پڑ جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پہلی بار انھوں نے جہاں جشن کیا تھا وہ جگہ بڑی تھی لیکن وہاں ان کی امید سے زیادہ لوگ آئے۔ پھر انھوں نے جگہ بدلی جہاں مزید لوگ شامل ہوئے۔ جب وہ جگہ چھوٹی محسوس ہوئی تو اب دو سال سے یہ جشن دلی کے نیشنل سٹیڈیم کے احاطے میں منعقد ہو رہا ہے۔

جہاں دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ شرکت کی غرض سے آتے ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: