مضامین

استاذدارالعلوم دیوبند حضرت مولانامنیرالدین صاحب ساموقطعہ مدظلہ العالی

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

ولادت 15دسمبر1967……فاضل دیوبندء

کون نہیں جانتاکہ دارالعلوم دیوبندبرصغیرکاسب سے بڑا اورعظیم الشان دینی درسگاہ ہے،اسکے فارغین دوسری درسگاہوں کے فارغین پرفوقیت کے حامل ہیں اوریہاں کی مدرسی تومہارت علم کی سندہے۔
حضرت مولانامنیرالدین صاحب اس ہماپروازی میں سرخیل علاقہ ہیں،انہوں نے غالبا1986ء میں دارالعلوم دیوبندسے دورہ حدیث میں دوم نمبرسے کامیابی حاصل کی اوراپنے فضل وکمال کی بناء پردوسال تک اس مادرعلمی میں معاون مدرس کے مقام پرفائزرہے،علاقائی علماء میں اب تک یہ برتری کسی اورکوحاصل نہیں ہے۔
1989ء میں دارالعلوم تاراپورگجرات میں بخاری شریف پڑھانے کے لئے شیخ الحدیث منتخب ہوئے اورایک سال تک بڑی دیدہ وری کے ساتھ درس بخاری شریف دیتے رہے،صرف بائیس سال کی عمرمیں یہ عہدہ علیاقابل رشک ہے،پھرکسی وجہ سے وہ دارالعلوم حیدرآبادمنتقل ہوگئے وہاں اس وقت استاذحدیث ہیں۔
علاقے میں تصنیفی ذوق کے میدان میں افسردگی تھی مولانانے اردواورعربی میں گراں قدرتصنیفی شاہکارفراہم کیا،اردومیں ”اسلامی زندگی“اورادب عربی میں ”تاریخ الادب العربی“آپکی تصانیف ہیں جوابھی تک زیورطبع سے آراستہ نہ ہوسکیں ہیں،اسکے علاوہ آپ ایضاح البخاری شرح بخاری شریف کی ترتیب وتزمین میں حضرت مولاناریاست علی صاحب استاذدارالعلوم دیوبند کے شریک کارہیں۔آپکی تصانیف کے کچھ شہپارے راقم کے سامنے ہیں اس سے اندازہ ہوتاہے کہ آپکی انشاء پردازی اورادب شناسی کاذوق بہت بلندہے اوراردو،عربی دونوں میں آپکویکساں قدرت حاصل ہے۔
آپ کہنہ مشق حافظ قرآن بھی ہیں،پڑھنے میں بڑی روانی اورچاشنی ہوتی ہے،اسمیں تجوید کی آمیزش سے حسن صوت دوبالاہوجاتی ہے ؎
صدیوں میں کہیں پیداہوتاہے حریف اسکا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: