اہم خبریںبین الاقوامی

اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کرپشن مقدمات کے باوجود اقتدار میں رہنے کے لیے پرعزم

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے اپنے خلاف رشوت، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے تین مختلف مقدمات قائم ہونے کے باوجود اقتدار میں رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے ان الزامات کو اپنے خلاف ’تختہ الٹنے کی کوشش‘ قرار دیا۔

اپنی ایک تقریر میں انھوں نے کہا کہ ’میں جھوٹ کو جیتنے نہیں دوں گا۔‘

نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انھوں نے دولت مند کاروباری شخصیات سے تحفے قبول کیے اور میڈیا میں زیادہ مثبت کوریج حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو نوازا۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’قانون کے مطابق ملک کی قیادت کرنا جاری رکھیں گے۔‘

اپنی 15 منٹ طویل تقریر میں نیتن یاہو نے عدلیہ، پولیس اور دیگر پر ان کے خلاف ’سیاسی‘ الزامات کے ذریعے سازش کرنے کا الزام عائد کیا۔

انھوں نے تفتیش کاروں پر گواہوں کو جھوٹ بولنے کے لیے رشوت دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’اس داغدار مرحلے میں تفتیش کار سچ کی تلاش میں نہیں بلکہ میرے پیچھے تھے۔‘

اس سے قبل اٹارنی جنرل اویخائی مینڈلبلیٹ نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ ’بھاری دل کے ساتھ لیا‘مگر اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’قانون کا نفاذ کوئی انتخاب نہیں ہے۔ یہ دائیں یا بائیں [بازو] کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ سیاست کا معاملہ نہیں ہے۔‘

یہ اعلان اپریل اور ستمبر میں دو بے نتیجہ عام انتخابات کے بعد ہونے والی سیاسی رسہ کشی کے درمیان آیا ہے۔

بدھ کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نیتن یاہو کے مخالف بینی گینٹز نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں اکثریت کے ساتھ حکمران اتحاد بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس سے قبل نیتن یاہو کے ناکام ہونے کے بعد انھیں کوشش کرنے کے لیے دعوت دی گئی تھی۔

صدر ریووین ریولین نے جمعرات کو قانون سازوں سے 21 دن کے اندر وزارتِ عظمیٰ کے لیے امیدوار پر متفق ہونے کے لیے کہا تاکہ ایک سال میں تیسری مرتبہ انتخابات نہ ہوں۔

 

نیتن یاہو کے حامی ان کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر جمع ہو کر مقدمات قائم کیے جانے کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں

الزامات کیا ہیں؟

اٹارنی جنرل مینڈلبلیٹ نے فروری میں کہا تھا کہ وہ تین مقدمات کیس 1000، کیس 2000 اور کیس 4000 کے سلسلے میں نیتن یاہو پر فردِ جرم عائد کرنا چاہتے ہیں۔

ان کیسز کی حتمی سماعتیں بالآخر گذشتہ ماہ ہوئی ہیں۔

کیس 1000: اس مقدمے میں نیتن یاہو پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے کئی بیش قیمت تحائف بشمول پنک شیمپین اور سگار وصول کیے اور اس کے بدلے ایک دولت مند دوست پر مہربانیاں کیں۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ دوستی کے تحفے تھے اور انھوں نے ان کے بدلے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ اسی طرح ان کے دوست بھی کسی غلط کام کے الزامات کا انکار کرتے ہیں۔

کیس 2000: اس مقدمے میں بھی نیتن یاہو پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے مثبت کوریج کے بدلے میں ایک بڑے اخبار کے پبلشر کے ساتھ معاہدہ کیا تاکہ اس اخبار کو کمزور کرنے والا ایک قانون لایا جا سکے۔

ان پبلشر پر رشوت دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم کی طرح انھوں نے بھی کسی غلط کام کرنے سے انکار کیا ہے۔ دونوں ہی افراد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ملاقاتوں میں زیرِ بحث آنے والے معاملات کو آگے بڑھانے کی نیت نہیں رکھتے تھے اور مذکورہ قانون منظور نہیں ہوا تھا۔

کیس 4000: یہ نیتن یاہو کے خلاف سب سے سنگین کیس تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں نیتن یاہو پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے ساتھ ساتھ رشوت کا الزام بھی ہے۔ الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ایسے ریگولیٹری فیصلوں کو فروغ دیا جن سے ایک صفِ اول کی ٹیلی کام کمپنی کو رعایتیں حاصل ہوئیں جبکہ اس کے بدلے میں انھیں کمپنی کی ایک ویب سائٹ سے مثبت نیوز کوریج حاصل ہوئی، اور یہ سب کمپنی کا کنٹرول رکھنے والے شیئرہولڈر کے ساتھ معاہدے کے تحت ہوا۔

وزیرِ اعظم نے زور دیا ہے کہ ماہرین نے ان ریگولیٹری فیصلوں کی حمایت کی تھی اور یہ کہ انھیں اس کے بدلے میں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ جن شیئرہولڈر پر رشوت دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے انھوں نے بھی کوئی غلط کام کرنے کا انکار کیا ہے۔

کیا انھیں اقتدار چھوڑنا پڑے گا؟

اس سب کا نیتن یاہو کے مستقبل کے لیے مطلب غیر واضح ہے۔ جب تک کہ انھیں مجرم ثابت نہیں کر دیا جاتا تب تک وہ بے گناہ ہیں اور اس وقت ان کے وزارتِ عظمیٰ پر برقرار رہنے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔

ان مقدمات کو ضلعی عدالت تک آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور اگر انھیں سزا ہو بھی جاتی ہے، تب بھی نیتن یاہو کو تب تک اقتدار چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ وہ اپیلوں کے تمام آپشن استعمال نہ کر لیں جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

مگر دوسری جانب میڈیا نمائندوں کے مطابق کئی لوگ سوال اٹھائیں گے کہ کیا وزیرِ اعظم عدالت میں اپنا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ ریاستی امور بخوبی چلا پائیں گے؟

غیر سرکاری تنظیمیں شاید سپریم کورٹ میں نیتن یاہو کو استعفے پر مجبور کرنے کے لیے درخواست دائر کریں۔ اس سے قبل عدالت فیصلہ دے چکی ہے کہ اگر کابینہ کے کسی وزیر پر جرم کا الزام عائد ہو تو انھیں خود دفتر چھوڑ دینا چاہیے ورنہ انھیں ہٹا دینا چاہیے۔

ایسی صورت میں سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا اس قانون کا اطلاق وزیرِ اعظم پر بھی ہوتا ہے یا نہیں۔

پارلیمنٹ میں نیتن یاہو کے اتحادی شاید ایسی قانون سازی کرنے کی کوشش کریں جس سے وہ وزارتِ عظمیٰ پر رہتے ہوئے مقدمات کا سامنا کرنے سے بچ سکیں اور قانون سازوں کو اس استثنیٰ کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا اختیار حاصل ہو سکے۔

Tags
مزید دکھائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close