زبان و ادب

اسلامی ادب کے تنقیدی اصول

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ

================================================
عام طور سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ تنقید سب سے آسان کام ہے۔ اس کے لیے کوئی متعین اصول نہیں ہے؛اور پڑھنے والے کے عقل ودماغ پر ادب پارے نے جو اثرات چھوڑے یا اثر آفرینی میں جو کمی رہ گئی اور جس وجہ سے رہ گئی اس کا ذکر تنقید کہلاتا ہے، اور چونکہ قاری ہر قسم کے ہوتے ہیں، وہ فن پاروں کی توضیح وتشریح اپنے اپنے انداز میں کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک تخلیق کسی کے نزدیک قابل قدر ہوتی ہے اور کسی کے نزدیک اس کا مقام ومرتبہ انتہائی گر جاتا ہے۔ یہ ادبی تنقید نہیں ہے؛ بلکہ اپنے ذہن ودماغ کا سانچہ ہے، یہ اپنا اپنا ذوق ہے۔ جو قدر وقیمت کی تعیین کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی تخلیقات ’’جوادب برائے ادب‘‘ کے نقطۂ نظر سے لکھی گئیں، ترقی پسندوں کو نہیں بھاتیں۔ ادب برائے زندگی کے قائلین اسے پسند نہیں کرتے۔
اسلامی ادب کے ترجمان ادب کو صرف زندگی نہیں مابعد الموت کی حیات سے بھی جوڑتے ہیں۔ اس لیے ان کی پرکھ اور پسندیدگی کا پیمانہ کچھ اور ہے۔ تحریک ادب اسلامی کے بانی سید عروج قادری نے ’’اسلامی ادب‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’اسلامی ادب ایک ایسا سدا بہار گلشن ہے، جو توحید کی زمین پر اگتا، وحیٔ الہی کی پاکیزہ بارش سے سیراب ہوتا ہے اور آخرت کی لازوال خوشبو سے مہکتا ہے‘‘۔
ممکن ہے کہ اسلوب اور ہیئت کے اعتبار سے دونوں میں بڑا فرق سمجھ میں نہیں آتا ہو؛ لیکن جب ہم مواد، مقصدیت اور خود شاعر وادیب کے مزاج ومنہج کا مطالعہ کریں گے۔ اس کی ذات ، اس کے مشاہدات، اس کی داخلی کیفیات، اس کے تجربات اور شعور کے عرفان کو سامنے رکھیں گے تو دونوں کے انداز واسلوب ، کہنے کے طریقے، ہیئت کے تجربے میں واضح اور نمایاں فرق محسوس ہوگا۔ اسی فرق نے ادب میں تنقیدی روایات کو جنم دیا۔ اور حالی سے لے کر کلیم الدین احمد اور اس کے بعد تک کہنا چاہیے کہ اردو تنقید تجربات کی ایک داستان ہے۔ اور تجربات کا یہ کارواں آج بھی آگے بڑھتا جارہا ہے۔اور انہیں تجربات کے درمیان اسلامی ادب نے اپنے وجود کو تسلیم کروایا ہے، جو لوگ مقصدی شاعری پر بخاری شریف نظم کرنے کی بھپتیاں کسا کرتے تھے، آج اس کو تسلیم کرنے لگے ہیں۔ اور اصلاحی افسانے جن کو ملا کی وعظ نظر آتے تھے، اب فن پارے نظر آنے لگے ہیں، یہ ایک اچھی بات ہے؛ لیکن ادب کا تنقیدی رویہ اسلامی ادب کے ساتھ آج بھی پہلے جیسا ہی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تنقیدیں اصول سے عاری اور خود ساختہ طریقوں سے گھری ہوئی ہیں۔ ظاہر ہے یہ بہت زیادتی کی بات ہوگی کہ ہم رومانی شاعری سے ترقی پسند شاعری اور جدید شاعری کا موازنہ مابعد جدیدیت سے کرنے لگیں۔ ممکن ہے ان میں نکتۂ اشتراک نکل آئے؛ لیکن ہمیں اس بات کو اچھی طرح جاننا چاہیے کہ ہر ادیب وشاعر اپنے دور کی پیداوار ہوتا ہے۔ وہ اسی فضا میں جیتا اور سانس لیتا ہے؛ جو فضا اسے حال میں میسر ہے اور ماضی سے جو اسے ورثہ میں ملا ہے۔ وہ حال کا پیامبر ہوتا ہے؛ مستقبل کا نہیں؛اسی اصول سے اسلامی ادب کا افشا کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ تینوں زمانوں کو محیط ہے؛ بلکہ اس کے دائرے میں مبدا ومعاد بھی سماتے ہیں۔ اس لیے اسلامی ادب پر تنقید کرتے ہوئے ہمیں اس بات کو ملحوظ رکھنا ہوگا، ہم مسدس حالی کو یہ کہہ کر آگے نہیں بڑھ سکتے کہ یہ قوم کا مرثیہ ہے۔ ہمیں اس کے اسباب وعلل کا حالی کے زمانہ میں جاکر تجزیہ کرنا ہوگا۔ شاہنامہ اسلام کو ہم سیر وتواریخ اسلامی کہہ کر گزر نہیں سکتے؛ بلکہ اس نے جس طرح پورے ایک دور کو متاثر کیا اور جس طرح ہمارے حال کو ماضی سے جوڑا، اس کی تعیین بھی ضروری ہوگی۔
تنقید پرکھ کا نام ہے۔ لیکن یہ پرکھ تخلیق کی تشریح، حکم اور تعیین مراتب کے ساتھ ہونی چاہیے، تنقید نگار کو مصنف کے ذاتی حالات کا بھی علم ہونا چاہیے اور شاعر کی شخصیت کا بھی۔ اور یہ علم تخلیق کی تنقید کے وقت کاغذ پر بھی منتقل ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اسلامی ادب میں مواد، ہیئت اسلوب کے ساتھ ادیب اور فنکار کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اس کے ذاتی اخلاق وکردار کی واقفیت بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے شاعری کی مذمت نہیں کی ہے، شعراء کی مذمت کی ہے، اور انہیں غاوون کا متبع اور وادیوں میں بھٹکنے والا قرار دیا ہے۔ اور قول وعمل کا تضاد اس کی مذمت کا سبب بنا ہے۔ اس لیے اسلامی ادب کی تنقید میں ادیب، شاعر، افسانہ نگار اور تخلیق کار کی زندگی کا بھی مطالعہ کیا جائے گا اور یہ دیکھا جائے گاکہ اس کے قول وعمل میں کتنی مطابقت اور ہم آہنگی ہے، ایک تخلیق کار اسلامی معتقدات اور افکار کو شعر وادب میں ڈھال رہا ہے؛ لیکن اس کا اپنا عقیدہ اور عمل اس کے خلاف ہے۔ تو وہ مواد وہیئت کے اعتبار سے ادب پارہ ہوسکتا ہے؛ لیکن ہم اسے اسلامی ادب کے خانے میں نہیں رکھ سکتے؛ کیونکہ جو بات اس نے کہی ہے اس میں وہ جھوٹا ہے اور جو جھوٹ ہو وہ سارے ادبی تقاضوں کو پورا کرنے کے باوجود اسلامی ادب نہیں ہوسکتا۔ قرآن کریم میں اس کی واضح مثال منافقین کے بارے میں ہے؛ ارشاد ربانی ہے: ’’إِذَا جَائَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ قَالُوْا نَشْھَدُ إِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ أَنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ وَاللّٰہُ یَشْھَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَکَاذِبُوْنَ‘‘ وہ گواہی دیتے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیںاور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں؛ لیکن اللہ گواہی دیتے ہیں کہ منافقین جھوٹے ہیں؛ کیونکہ ان کے معتقدات ان کے قول کے مطابق نہیں ہیں۔ قول وعمل کے اس تضاد کو بڑا گناہ قرار دیا گیا اور ارشاد فرمایا گیا۔ ’’کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہ أَنْ تَقُوْلُوْا مَالَا تَفْعَلُوْنَ‘‘ یہاں پر اللہ تعالی کے اس قول: ’’أَتَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَکُمْ‘‘ کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔
اس اصول کا اثر یقینا ان تمام اصناف پر پڑے گا جو خالص اسلامی موضوعات کے حامل ہیں؛ لیکن ان کے تخلیق کار قول وعمل کے تضاد کے شکار ہیں؛ ایسی تمام تخلیقات نقادوں کی نظر میں اعلی ادب ہوسکتا ہے؛ لیکن اسلامی ادب اسے نہیں کہا جاسکتا۔
دوسرا مرحلہ تشریح کا ہے جو تخلیق ہے اس کے معنی ومفہوم کیا ہیں؟نقاد کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ استعارہ، کنایہ اور تلمیحات جو استعمال کئے گئے؛ اس کا پس منظر کیا ہے اور وہ کس حد تک تاریخی اور ادبی اعتبار سے صحیح ہیں؛ کیونکہ تاریخ کا صحیح ادراک تنقید نگاری میں بہت معاون ہوتا ہے۔ مے کدہ جام ومینا، عشق ومستی، جذب وکیف کے معنی حقیقی لیے گئے ہیں یا مجازی اور پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس کا ادراک ہمیں ان مقاصد سے دور تو نہیں کررہا ہے۔ جو انسانی اقدار واخلاق کا اسلامی ہدف ہے۔ اگر اس مرحلہ میں ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ تخلیق انسان کو اس کے تخلیقی مقصد سے دور لے جانے کا سبب بن رہی ہے تو ہم اسے اسلامی ادب کے دائرہ میں نہیں رکھ سکتے؛ کیونکہ وہ ہمارے ہدف کو پورا نہیں کرتا ہے۔ اس مرحلہ میں نقاد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ سارا زور معنی کی گرہیں کھولنے میں لگادے تاکہ تخلیق کی تشریح صحیح طور پر ہوسکے۔
اس مرحلہ پر پہنچ کر نقاد، تخلیق پر حکم لگانے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔لیکن ہمارا نقاد عموماً حکم لگاتے وقت گروہ بندی کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے گروپ اور اپنی جماعت کی حقانیت اور اپنے ذاتی میلان اور انفرادی ذوق سے اس قدر متاثر ہوتا ہے کہ وہ منصفانہ رائے قائم نہیں کر پاتا ہے۔ اسلامی ادب کی تنقید میں انصاف بنیادی چیز ہے؛ کوئی ذاتی طور پر پسند آئے تو اسے آسمان پر چڑھا دینا اور ناپسند ہے تو اس کے بخیے ادھیڑنا، اسلامی ادب کے نقاد کو زیب نہیں دیتا۔ اس کا اخلاقی ہی نہیں اسلامی فرض بھی ہے کہ وہ منصفانہ انداز سے محاسن ومعائب کا تجزیہ کرے۔ اوراس تجزیے میں اظہار حقیقت کے علاوہ کوئی اور جذبہ اس کے اندر کار فرما نہ ہو۔ اس لیے بہتر نقاد وہ ہوتا ہے؛ جو عام علمی مذاق رکھتا ہو، کسی خاص فن یا موضوع سے اس کی گہری وابستگی اور دلچسپی نہ ہو کیونکہ گہری وابستگی بھی انصاف کے راستے میں رکاوٹ ہوا کرتی ہے۔
یہاں ہمیں یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہیے کہ ادب ذریعہ تبلیغ ضرور ہے؛ لیکن ہر قسم کی تحریر جو ہمارے ہدف کو پورا کرے؛ اسلامی ادب تو کیا؟ مطلق ادب کے خانے میں بھی اسے ہم نہیں رکھ سکتے، یہیں سے سوال اسلوب کا پیدا ہوتا ہے۔ تنقید کا یہ اہم پہلو ہے؛ جس کا تجزیہ کرکے ہم کسی عام تحریر سے ادب کو ممتاز کرسکتے ہیں۔
اس لیے جب ہمیں کسی تخلیق کے مقام ومرتبہ کی تعیین کرنی ہوگی تو اسلوب کے حوالہ سے بھی ادیب کی انفرادیت کا جائزہ لینا ہوگا؛ کیونکہ اس کے بغیر ہم اس کا مقام ادب میں متعین نہیں کرسکتے۔طریقۂ اظہار کی ذاتی انفرادیت ہی کسی مصنف کی تخلیق کو دوسرے سے ممتاز کرتی ہے۔ غالبؔ اور میرؔ کی شاعری میں فرق اسی وجہ سے سمجھ میں آتا ہے۔ ڈپٹی نظیر اور راشد الخیری کی کہانیاں اسی اسلوب کی وجہ سے ممتاز ہوتی ہیں۔ یہ امتیاز اتنا واضح ہوتا ہے کہ یہ نئے لسانی تجربوں، اسلوبیاتی جدتوں نیز پیرایہ بیان یا طرز اظہار کے لیے نئے سانچے کا کام کرتاہے، جس سے زبان میں تازگی، تنوع، نیاپن اور انوکھا پن پیدا ہوجاتا ہے۔البتہ اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کے نتیجہ میں بے قاعدگی اور اصول وقواعد کی شکستہ وریخت تو نہیں ہوئی ہے۔ آج کل لفظیات کی تشکیل کی ایک وبا ہمارے نئے لکھنے والوں میں آئی ہے اور بے جوڑ اور لغوی اعتبار سے بے معنی الفاظ کی تشکیل کا فیشن سا چل پڑا ہے۔ یہ کام انفرادی طرز اظہار کے نام پر کیا جارہا ہے اور مہمل الفاظ کی ایک ڈکشنری تیار ہوتی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے ترسیل وابلاغ میں دشواریاں پیدا ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی یہ دشواری ایہام کا روپ دھارن کرلیتی ہے اور نثر میں تو کم شاعری میں یہ چیستاں بن جاتا ہے۔ بسا اوقات شاعر بھی اس کے معنی سے نابلد ہوتا ہے۔ اور ساختیات کا حوالہ دے کر اس سے پیچھا چھڑا لیتا ہے، ایسے میں پس ساختیات کی ایک ٹولی سامنے آتی ہے اور اس لفظ کے ایسے ایسے معنی بیان کرتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے، مثلا خیالاب، لفظاب، چہرانیے وغیرہ مثالیں بہت ساری ہیں، یہ چند مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زبان جامدشی ہے اور اس میں نئے تجربے نہیں کرنے چاہیے۔ اور اظہار کے نئے وسیلے تلاشنے نہیں چاہیے۔ ضرور تلاشنے چاہیے، اس سے زبان میں جدت اور ندرت کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ اسے زبان وادب کے قواعد کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ جب ہم کسی تخلیق کا اسلوبیاتی مطالعہ یا اسلوبیاتی تنقید کریںگے تو ان امور کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔ اور اسلوب کی موضوعاتی تقسیم کرنی ہوگی۔ مثلا داستانی اسلوب، طنزیہ ومزاحیہ اسلوب، تمثیلی اسلوب، خطیبانہ اسلوب، سوانحی اسلوب، تحریری اسلوب اور ملفوظاتی اسلوب۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ جمالیاتی تاثر کو مجروح کرنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ کسی بھی تخلیق کا لسانی واسلوبیاتی تجزیہ اس کے حسن کو پامال، اس کی لطافت کو زائل اور اس کے استعجاب کو کم نہیں کرتا، اس سے تخلیق کا حسن کھل کر سامنے آتا ہے۔ اور کھرے کھوٹے کی پرکھ ہوتی ہے۔ البتہ اس پرکھ کو سنجیدہ ہونا چاہیے۔ کسی تخلیق پر جملہ بازی کرنا، فقرہ کسنا، فن کار کی پگڑی اچھالنا اسلامی اصولوں سے انحراف، ادبی بد مذاقی اور غیر سنجیدگی کا مظہر ہے۔
تنقید میں تخیل کی آمیزش کو نقادوں نے جزء اعظم لکھا ہے۔ اس کے سہارے ہم تخلیق کار کے دماغ میں گھس کر اس کی ذہنیت، شخصیت اور تجربات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؛ لیکن اسلامی ادب کے نقاد کو خصوصیت سے تخیل پر قابو رکھنا چاہیے، اس لیے کہ اگر تخیل کو بے لگام چھوڑ دیا گیا تو تخلیق پیچھے چلی جائے گی۔ اور تخیل کا سرپٹ دوڑ رہا گھوڑا بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دے گا۔ اور ممکن ہے کہ نکتہ بعد الوقوع کے طور پر یہ ایسی تشریح کر بیٹھے جو خود تخلیق کار کے حاشیہ خیال میںبھی نہیں تھا۔ یہ انداز کافیہ، سلم پڑھاتے وقت تو ٹھیک ہے؛ لیکن کسی تخلیق کی تنقید کرتے وقت کسی طرح موزوں نہیں۔ کیونکہ اس سے تخلیق کار کی منشا فوت ہوتی ہے اوریہ انصاف پسندی کے بھی خلاف ہے۔
تنقید نگار کو کسی درجہ میں محقق بھی ہونا چاہیے؛ اس لیے کہ جو خیالات پیش کئے جارہے ہیں، اس کی تحقیق بھی ضروری ہے۔ ایسا تو نہیں ہے کہ تخلیق کار نے اپنی تخلیق کی بنیاد کسی مفروضے پر رکھ دی ہے۔ حالی اسے اصلیت سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کے نزدیک اصلیت پر مبنی ہونے سے یہ بھی مقصود نہیں ہے کہ بیان میں اصلیت سے سر مو تجاوز نہ ہو۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ زیادہ تر اصلیت ہونی ضروری ہے۔ میں اس پر صرف اتنا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ تجاوز اس قدر نہ ہو کہ اس کے سرے مبالغہ کے اس سرے تک پہنچ جائیں، جسے ہم جھوٹ کہتے ہیں۔
مختصر یہ کہ اسلامی ادب کے کے تنقید نگار کو اسلامی ادب، اس کی ماہیت اس کے اغراض ومقاصد کو جانچنے اور پرکھنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ وہ کسی فن کا ماہر نہ ہو تو بھی قوت تمیزی مضبوط ہونی چاہیے۔ اسے تخلیق کار کی شخصیت، اس کے افکار وعادات اور فن کو ان اصولوں کی روشنی میں جانچنااور پرکھنا چاہیے، جن کا ذکر اختصار کے ساتھ اس مضمون میں کیا گیا ہے۔ میرے اپنے مطالعہ کی حد تک ان اصولوں کا انطباق حضرت مولانا علی میاںؒ کی نقوش اقبال میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مولانا عامر عثمانی کے کھرے کھوٹے بھی اسلامی تنقیدی اصولوں پر پورے اترتے، اگر وہ جماعت اسلامی کے مخالف لٹریچر پر تنقید کرتے ہوئے غیر جانب دار ہوتے۔ ماہر القادری کے تبصرے میں بھی یہی کمی راہ پا گئی ہے۔ مولانا عبد الماجد دریابادی کی تنقیدیں اتنی مختصر ہیں کہ انہیں تنقید سے زیادہ رائے کہنا زیادہ مناسب ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: