اسلامیات

اسلام سے کیا مراد ہے؟

پرنس غازی بن محمد بن طلال، اردن

میں جو ہوں اللہ ہوں۔ کسی کی بندگی نہیں سوا میرے۔ سو میری بندگی کر اور نماز قائم رکھ میری یاد کے لئے۔ (طٰہٰ 14 : 20 )
لفظ ‘‘اسلام ’’کے مختلف معنی ہیں اور لوگ اس وجہ سے شبہات شکار ہوجاتے ہیں ۔ ‘‘اسلام’’ کے عربی زبان کی رو سے ایک لغوی معنی ہیں۔ علاوہ ازیں اسلام ایک مذہب کا نام ہے جو اصولی طور پر قرآن اور حدیث کے مطابق ہے۔ مسلمان اسی اسلام پر ایمان رکھتے ہیں اور یہی ان کوکرنا چاہیے۔ اسلام اللہ اور محمد ؐ کے فرامین، اقوال اور افعال کے مجموعے کا نام ہے ۔ اس کے علاوہ اسلام کے زیر اثر تاریخ کے متعدد ادوار میں تہذیب اور تمدن کا فروغ ہوا۔ یہ مسلمانوں کے اقوال اور افعال پر مشتمل ہے۔ اس تہذیب اور تمدن میں مسلمانوں کے موجودہ اعمال بھی شامل ہیں اس سے قطع نظر کہ یہ صحیح ہیں یا غلط۔اسلام کی ان متعدد تعریفوں کے درمیان امتیاز کرنا ضروری ہے، ورنہ یہ عین ممکن ہے کہ اسلام کو ان امور کے لئے مورد الزام ٹھہرایا جائے جن کی وہ مذمت کرتا ہے۔ غرضیکہ چند افراد کے اسلام کے غلط استعمال کے لئے تمام مسلمانوں کی شہرت داغدار ہوتی ہے۔

لفظ ‘‘اسلام’’ کے معنی
عربی میں لفظ ‘‘اسلام’’ کے معنی ہیں : اپنے آپ کو کسی امر کی جانب متوجہ کرنا، اپنے عجز کا اعتراف کرنا اور اپنے آپ کو اتباع کے لئے پیش کرنا۔ اسلام کے یہ معنی ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اس قرآنی اقتباس میں بالکل واضح ہیں:

یاد کرو جب اس کے رب نے اس سے کہا فرماں برداری کرو تو اس نے کہا : میں تمام عالم کے پروردگار کا فرماں بردار ہوں۔ (البقرہ 131 : 2 )
اسلام سہ حرفی مادہ ‘‘س۔ل۔م’’ سے مشتق ہے۔ ‘‘سلم’’ کے دو بنیادی معنی ہیں : (۱) کسی بھی عیب سے پاک ہونا بالفاظ دیگر تحفظ اور بہترین حالت اور (۲) امن۔ لفظ ‘‘سلم’’ کے یہ دو بنیادی معنی مذہب اسلام کے تصور میں پیوست ہیں۔
(۱) اسلام بمعنی حفاظت کا حوالہ محمد صلہ اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں ملتا ہے جس میں آپ ؐ نے حقیقی مسلم کی مندرجہ ذیل تعریف کی ہے: ‘‘مسلمان وہ شخص ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہتے ہیں’’۔ (نسائی، ابن ماجہ، مسند احمدابن حنبل)۔
(۲) اسلام بمعنی امن اور سلامتی اسلام کے خصوصی شعار سلام میں عیاں ہے ‘‘السلام علیکم’’ (تم پر سلامتی ہو)۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے: جب کبھی اپنے گھروں میں جانے لگو تو اپنے لوگوں پر سلام کہو۔ یہ اللہ کی طرف سے نیک اور پاک دعا ہے’’۔ (النور 61 : 24 وغیرہ)۔ قرآن میں یہ دعا صرف اہل ایمان کی نہیں ہے (النساء 94 : 4 ) بلکہ ماقبل اسلام کے انبیاء کی بھی یہی دعا تھی (مریم 15 : 19 وغیرہ)، ملائکہ کی (النحل 32 : 16 ) اور خود اللہ تبارک و تعالیٰ کی (یاسین 58 : 36 )۔ اس دعا سے رحمت الٰہی کا اظہار ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن سے واضح ہے:
جب تمہارے پاس ہماری آیتوں کے ماننے والے آئیں تو کہہ دیجئے: سلام ہے تم پر، تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ لیا ہے۔ تم میں جو کوئی ناواقفیت سے برائی کرے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور نیک ہوجائے تو اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔(الانعام 54 : 6 )
‘‘السلام’’ اللہ کا ایک اسم الٰہی بھی ہے (الحشر 23 : 59 )۔ جنت کو قرآن میں دار السلام سے تعبیر کیا گیا ہے (یونس 25 : 10 )۔ مراد یہ ہے کہ مسلمان وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیتا ہے اور باطنی امن اور سلامتی (سلام) سے سرفراز ہوتا ہے۔
یہ نکتہ قابل غور ہے کہ لفظ اسلام ایک دوسرے لفظ ‘‘استسلام’’ سے مختلف ہے جس کے معنی ہیں : ‘‘ترک کردینا، تبدیل ہوجانا’’۔ اسلام کے لغوی معنی صرف یہ ہیں کہ وہ شخص جو برضا و رغبت اسلام کو اختیار کرے اور اپنی انا کو اللہ واسطے قربان کردے وہ محفوظ اور مامون ہوجا تاہےاور دوسرے لوگ اس سے محفوظ رہتے ہیں اور وہ باطنی سکون اور سلامتی سے بھی ہم کنار ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو محو نہیں کرتا بلکہ اس کے برخلاف وہ اپنے حقیقی وجود کو پالیتا ہے۔

اسلام بطور تہذیب اور تمدن
اسلامی تاریخ اور تمدن کے مطالعہ سے اس معروف نکتے کا اعادہ ہوتا ہے کہ اسلام کی ابتداء 610 ء میں مکہ میں ہوئی۔ مکہ عرب کے مغرب میں واقع ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے خانوادے کے ایک شریف عرب کو 40 سال کی عمر میں اللہ کی جانب سے وحی موصول ہوئی۔ اس وقت آپ ؐ تنہا خلوت میں تھے۔ آپ ؐ نے وحیٔ الٰہی پر مشتمل پیغام کی تبلیغ کی لیکن آپ ؐ کی بت پرست قوم کی اکثریت نے ابتداء میں آپ ؐ کے پیغام کو مسترد کردیا۔ مکہ میں ۱۳ سال ظلم و ستم کا شکار رہنے کے بعد آپ ؐ نے شمال میں واقع مقام یثرب ہجرت کی۔ وہاں آپ ؐ کا خیر مقدم ہوا۔ یثرب کا نام بعد میں مدینہ پڑا۔ یہ واقعہ تاریخ اسلام میں ہجرت سے موسوم ہے اور اسی سے اسلامی تقویم کا آغاز ہوا۔ اہل مدینہ اور اہل ایمان پر مشتمل آپ ؐ نے ایک نئی امت کو تشکیل دیا۔
اہل مکہ اور ان کے حلیفوں نے مدینہ میں بھی آپ ؐ کو تنگ کیا اور آپ ؐ کے خلاف جنگ کی۔ دس سال بعد آپ ؐ کی وفات ہوئی۔ البتہ اس وقت تک زیادہ ترملک عرب دائرہ اسلام میں داخل ہوچکا تھا۔ آپ ؐ کو موصول ہونے والی وحیٔ الہی قرآن سے موسوم ہے۔ آپ ؐ سے یہاں مراد محمد ابن عبد اللہ ہیں۔ تاریخ عالم میں آپ ؐ جیسی بااثر شخصیت نہیں گزری ہے۔
محمد ؐ نے جس مذہب کو پیش کیا وہ اسلام کے نام سے معروف ہے۔ ماضی میں انبیائے کرام نے جس موحدانہ مذہب کی تبلیغ کی تھی اسی کی حتمی شکل کا نام اسلام ہے۔ توحید پر مبنی اس مذہب نے تاریخ کی ایک عظیم تہذیب کی بنیاد رکھی۔ 100 سال کے عرصے میں اسلام مشرق وسطی ایشیا اور افریقہ کے زیادہ تر علاقے میں اور یورپ کے کچھ حصوں میں جاری و ساری ہوگیا۔ گزشتہ 1300 سال سے یہ علاقے کم و بیش اسلام ہی کے زیر اثر رہے ہیں اور مسلمان آج دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہیں۔ تاریخ عالم میں اسلام دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے اور دور حاضر میں یہ سب سے زیادہ فروغ حاصل کرنے والا مذہب ہے۔ مزید برآں، دنیا کے تمام مذاہب میں اسلام ہی پر سب سے زیادہ عمل کیا جاتا ہے اور دیگر مذاہب کے پیروؤں کی بہ نسبت مسلمان اپنے مذہب کے زیادہ پابند ہیں۔
انیسویں صدی کے آغاز اور جدید مغربی سائنس کے اثر و نفوذ سے قبل اسلامی تہذیب بنیادی طور پر قرآن سے متاثر تھی۔ قرآن میں وحی کا سب سے پہلا لفظ ‘‘اقرء’’ ہے (العلق 1 : 96 ) جس سے مراد پڑھنا ہے۔ لہٰذا اسلامی تہذیب علم اور تدریس سے عبارت تھی۔ حصول علم صرف مذہبی علوم تک محدود نہ تھا۔ اسلامی تہذیب نے کلاسیکی یونانی اور دیگر تہذیبوں کو بھی ترجمے کے ذریعہ محفوظ رکھا اور آئندہ نسلوں کو منتقل کیا۔ نبی اکرم محمد ؐ کا قول ہے: ‘‘حکمت اہل ایمان کی گمشدہ میراث ہے وہ جہاں بھی ملے ان کا اس پر حق ہے’’۔ (ترمذی اور ابن ماجہ)۔ اسلامی تہذیب کے زیر اثر قرآنی تصور حیات اور علم کائنات کا فروغ ہوا اور دیگر مفید علوم کی بھی ترویج ہوئی مثلا فلکیات، ریاضی الجبرا (جو فی نفسہٖ عربی لفظ ہے) طب، علم الادویہ، علم المناظر، زراعت، حیاتیات، جغرافیہ، کیمسٹری، موسیقی، شاعری، سماجیات، نفسیات، تاریخ، قانون اور دیگر علوم و فنون۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
کیا اہل علم اور جاہل برابر ہوتے ہیں؟ جن کو عقل ہے وہی غور و فکر کرتے ہیں۔ (الزمر 9 : 39 )۔
قرآن کی تلاوت اور تفہیم کے لئے اسلامی تہذیب نے متعدد علوم اور فنون کو ترقی دی، مثلاً علم المعنی، اشتقاق، تفسیر، بلاغت۔ منطق، نحو، صوتیات، تجوید، تناسب، قرأت، تحریر خطاطی، مسودے، کتابت، مصوری، ان علوم کے ثمرات دنیا کے عجائب خانوں میں بیش قیمت ذخائر کے طور پر محفوظ ہیں۔ قرآن سے متعلق فنون لطیفہ کی بھی اسلامی تہذیب میں ترقی ہوئی۔ اسلام میں فنون لطیفہ کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں : خطاطی اور فن تعمیر۔ اول الذکر کا مقصود قرآن کو تحریری طور پر بہترین انداز میں محفوظ رکھنا تھا۔ مؤخر الذکر کا مقصد یہ تھا کہ تلاوت قرآن اور نماز کے لئے بہترین عمارتیں تعمیر ہوں۔ بالفاظ دیگر مساجد کی تعمیر کے لئے یہ فن عام ہوا۔ اس کے علاوہ نبی اکرم ؐ کے اقوال کی حفاظت اور مطالعے کے لئے متعدد علوم اور فنون رائج ہوئے مثلاً تاریخ، دستاویز کی تیاری، ادبی تنقید اور سوانح نگاری وغیرہ۔
چونکہ قرآن نے مندرجہ ذیل امور اور علوم کی تاکید کی : قانون، تجارت تحریری دستاویز، طہارت اور نظافت، داد و دہش، سادگی اور توکل، دفاعی جنگ وغیرہ، اسی لئےاسلامی تہذیب میں تنظیم اور ترتیب، نظم و ضبط، صفائی، خیراتی اداروں اور سادہ روحانی اور ساتھ ساتھ میں عسکری زندگی پر بھی اصرار ملتا ہے۔ اسلام میں صفائی کی اتنی اہمیت ہے کہ ہر مسلم شہر میں عوامی حمام تھے۔ چونکہ قرآن کی رو سے (الحجرات 49 : 10 ) تمام مسلم مرد اور عورت دینی بھائی اور بہن ہیں لہٰذا اسلامی معاشرے میں باضابطہ طبقات کا وجود نہیں تھا۔ قرآن کے مطابق نظری طور پر سارے مسلمان ایک امت ہیں (البقرہ 143 : 2 )، اسی لئے مسلم تاریخ میں ہمیشہ یا کم از کم1924 ء تک سارے سنّی مسلمانوں کا واحد قائد یا خلیفہ تھا گو کہ بسا اوقات اس حکمراں کی حیثیت محض علامتی ہوتی اور بعض صورتوں میں اس معاملے میں تنازعے بھی برپا ہوتے۔ چونکہ حج کی ادائیگی کے لئے مسلمانوں پر مکہ تک سفر لازم تھا لہٰذا عالم اسلام میں سفر کا عام رواج رہا۔ اسی طرح چونکہ اسلامی تہذیب کی مشترک زبان عربی تھی یہ ترسیل اور ابلاغ کے لئے ہر جگہ مستعمل تھی اور دور دراز کے علاقوں میں بھی رسل و رسائل کے کبوتر اور بری اور بحری طریقے رائج تھے۔ غرضیکہ اسلامی تہذیب علم اور تدریس، نظم و ضبط، استحکام اور معیاری مندرجات کے لحاظ سے مشہور رہی۔
1798ء میں مشرق وسطیٰ میں نپولین کےحملے اور پھر نو آبادیاتی دور کے نتیجے میں روایتی اسلامی تہذیب میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ درحقیقت یہ ایک یکسر مختلف دنیا تھی۔ نپولین کی فوج نے دنیا کو اسی طرح تاراج کیا جیسا کہ اس سے 2 ہزار سال قبل سکندر اعظم کی فوج دنیا میں تبدیلی لائی تھی لیکن انسانی تہذیب کے 6 ہزار سالوں میں اتنی بنیادی تبدیلیاں نہیں آئیں جتنی گزشتہ دو سو سال میں واقع ہوئی ہیں۔ چند نمایاں انقلابات یہ ہیں: بجلی، تصاویر، تار برقی، ٹرین اور ریل کے کارخانے، مشینیں، کثیر تعداد میں پیداوار، دخانی جہاز، تباہ کن اسلحے، مشین گن، ریڈیو، فلم، ٹیلی ویژن، کار، ہوائی جہاز، ایٹم بم، راکٹ، زیر آب کشتیاں، غرضیکہ سائنس کے ہر میدان میں انکشافات اور اکتشافات، طبعیات، توانائی، زراعت اور طب کے شعبوں میں غیر معمولی تحقیقی ترقی ہوئی ہے۔ یہ انکشافات جدید تعلیم کے مرہون منت ہیں اسی کے جلو میں یہ حقائق بھی ہیں، سیکولر سیاسی ثقافت عالمی سطح پر سرمایہ داری، عوامی ثقافت، مغربی ملبوسات، مشروبات اور جلد تیار ہونے والی غذا، عوامی موسیقی، ہالی ووڈ کی فلمیں اور مغربی کھیل و کود کی عالمی سطح پر پذیرائی۔ بیسویں صدی کے اختتام تک مندرجہ بالا فہرست میں یہ مزید اضافے ہوئے۔ کمپیوٹر، خلائی مسافت، انٹرنیٹ، روبوٹ، سپر کنڈکٹر حیاتیاتی انجینیرنگ، زود یاب فواحش، ذاتی کمپیوٹر اور سیٹیلائٹ کی مدد سےرسل و رسائل۔ اکیسویں صدی کے ابتدائی ۱۵ سالوں کے یہ تحفے ہیں: آئی فون، سماجی ذرائع ابلاغ، ماحولیات میں زوال، ڈرون، اعلیٰ ترین ٹیکنولوجی سے تیار مصنوعی اعضاء، فیس بک، ٹوئیٹر، یوٹیوب، عالمی ثقافت، ملبوسات سے متعلق ٹیکنولوجی اور بے شمار نئی ایجادات، ان سب کے باعث اب مسلمانوں کی تہذیب روحانی اعتبار سے خالصتاً اسلامی نہیں رہ سکتی اور اس کے مندرجات یکسر اسلامی نہیں ہوسکتے، خواہ اس باب میں مسلمان اور غیر مسلم کچھ بھی کہیں۔ موجودہ ثقافت قرآن سے ماخوذ نہیں ہے اور علم نافع کے اسلامی تصور کی عکاس نہیں ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ تہذیب بہر کیف اسی عالمی ثقافت اور ٹیکنولوجی کا جزو ہے۔ اسلامی تہذیب ہمیشہ اس لحاظ سے عالمی رہی کہ مسلمانوں نے سب کے ساتھ تجارتی معاملات کئے اور علوم و فنون میں سب کو شراکت دار بنایا البتہ اب مسلمان ایسی عالمی ثقافت کا جزو ہیں جس پر ان کا اختیار نہیں کیونکہ انھوں نے اس کو تشکیل نہیں دیا ہے۔
اسلام بطور مذہب
اپنے ایک معروف قول میں نبی اکرم ؐ نے اسلام کی تعریف جبرئیل علیہ السلام کے حوالے سے کی ہے۔ یہ حدیث ‘‘حدیث جبرئیل علیہ السلام’’ کے طور پر موسوم ہے۔اس کی روایت خلیفہ ثانی عمرابن الخطاب نے ان الفاظ میں کی ہے:
ایک دن ہم مدینہ میں رسول اللہ ؐ کی مجلس میں موجود تھےکہ ایک شخص وہاں آیا اس کے کپڑے غیرمعمولی سفید اور اس کے بال انتہائی سیاہ تھے۔ اس شخص پر سفر کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ہم اس سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ گھٹنے جوڑ کر رسول اللہ ؐکے سامنے بیٹھا اور اپنے ہاتھ آپ ؐ کی ران پر رکھے اور کہا: ‘‘یا محمدؐ مجھے بتائیے کہ اسلام کیا ہے؟’’ رسول اللہ نے اسے جواب دیا: ‘‘اسلام سے مراد یہ شہادت دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز ادا کرنا، زکواۃادا کرنا، رمضان میں روزے رکھنا اور اگر استطاعت ہو تو کعبہ میں حج ادا کرنا’’۔ اس شخص نے کہا: ‘‘آپ ؐ نے سچ فرمایا’’۔ ہم اس پر حیران تھے کہ کیسے اس نے یہ سوال کیا اور پھر آپ ؐ کے جواب کی تصدیق کی۔ پھر اس نے کہا : ‘‘مجھے بتائیے کہ ایمان کیا ہے’’؟آپ ؐ نے جواب دیا : ‘‘اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے پیغمبروں اور روز آخرت پر یقین رکھنا کہ خیر و شر صرف اسی کے حکم سے ہیں’’۔ اس شخص نے کہا: ‘‘آپ ؐ نے سچ فرمایا’’۔ پھر اس نے کہا : ‘‘مجھے بتائے کہ احسان کیا ہے’’؟آپ ؐ نے جواب دیا : ‘‘اللہ کی اس طرح عبادت کرنا گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو یہ یقین رکھنا کہ اللہ تم کو دیکھ رہا ہے’’۔ اس شخص نے پھر کہا: ‘‘آپ ؐ نے سچ فرمایا’’۔ پھر وہ اجنبی شخص رخصت ہوگیا۔ اور اس کے جانے کے بعد میں کچھ دیر آپ ؐ کے پاس ٹھہرا رہا۔ آپ ؐ نے دریافت کیا: ‘‘اے عمر ؓ تمہیں علم ہے کہ یہ سوال کرنے والا شخص کون تھا’’؟ میں نے جواب دیا :‘‘اللہ اور اس کے رسول کو اس کا بہتر علم ہے’’۔ آپ ؐ نے فرمایا : ‘‘وہ جبرئیل علیہ السلام تھے اور وہ تم کو تمہارا دین سکھانے کے لئے آئے تھے’’۔ (صحیح البخاری، صحیح مسلم)۔
مختصراً اسلام کی بطور مذہب تین سطحیں ہیں: اسلام، ایمان (جس کو علماء قلبی کیفیت اور تصدیق سے تعبیر کرتے ہیں) اور احسان (بہترین طرز عمل اور صفات)۔ البتہ عملی لحاظ سے اسلام کے ۵ ستون ہیں۔ نبی اکرم ؐ کا قول ہے:
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: یہ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں اور یہ کہ محمد ؐ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکواۃ ادا کرنا، حج کرنا اور ماہ رمضان میں روزے رکھنا۔ (بخاری)
شہادت کا فريضہ مشروط ہے۔ یہ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں اور محمد ؐ اللہ کے رسول ہیں۔ ایمان کی یہ شہادت اسلام کی اصل ہے۔ دیگر ستون بھی لازمی ہیں، البتہ ان کی ادائیگی مال اور صحت سے مشروط ہے۔ یہ صراحت لازم ہے کہ نماز کی ادائیگی معذوری کی حالت میں اشارے کے ذریعہ ہونا چاہئے، حالانکہ اسلامی شریعت کے قوانین، قرآنی احکام اور سنّت رسول کی تعداد خاصی ہے لیکن ایک مخلص اور متقی شخص کو کم از کم اسلام کے پانچ ارکان پورے کرنا چاہئے۔ نبی اکرم ؐ سے متعلق منقول ہے:
الجھے بالوں کا ایک شخص نجد سے رسول اللہ ؐ کے پاس حاضر ہوا۔ ہم نے اس کی اونچی آواز سنی لیکن یہ سمجھ نہیں سکے کہ وہ کیا کہہ رہا تھا پھر وہ قریب آیا اور ہم کو علم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق دریافت کررہا تھا۔ رسول اللہ ؐ نے اس سے کہا :‘‘تم کو شب و روز میں پانچ مرتبہ نماز ٹھیک سے ادا کرنا چاہئے’’۔ اس نے دریافت کیا کہ ‘‘کیا اس کے علاوہ بھی نماز ہے’’؟ رسول اللہ ؐ نے جواب دیا: ‘‘نہیں، البتہ اگر تم نوافل پڑھنا چاہو تو تم ایسا کرسکتے ہو’’۔ رسول اللہ ؐ نے اس سے مزید کہا: ‘‘تم کو ماہ رمضان میں روزے رکھنا ہوں گے’’۔ اس نے دریافت کیا : ‘‘کیا اس کے علاوہ بھی روزے ہیں’’؟ آپ ؐ نے جواب دیا:: ‘‘نہیں، البتہ اگر تم چاہو تو نفل روزے رکھ سکتے ہو’’۔ پھر رسول اللہ ؐ نے اس سے کہا : ‘‘تم کو زکواۃ ادا کرنا ہوگی’’۔ اس نے دریافت کیا :‘‘کیا زکواۃ کے علاوہ بھی ادائیگی ہے’’؟ آپ ؐ نے جواب دیا : ‘‘نہیں، اگر تم چاہو تو صدقہ، خیرات دے سکتے ہو’’۔ پھر وہ شخص یہ کہتے ہوئے رخصت ہوگیا :‘‘بخدا میں اس سے کم یا زیادہ نہیں کروں گا’’’۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا : ‘‘اگر یہ اپنے قول میں سچا ہے تو یہ کامیاب ہوگا’’۔ (یعنی اسے جنت عطا ہوگی)۔ (بخاری)
ایمان کے 6 ارکان ہیں (۱) اللہ (۲) فرشتوں (۳) نازل شدہ کتب (۴) انبیاء اللہ (۵) یوم آخرت اور (۶) تقدیر الٰہی پر ایمان رکھنا۔ ایمان اور اسلام میں یہ فرق ہے کہ اسلام سے مراد عمل ہے جبکہ ایمان قلبی کیفیت ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:
دیہاتی عرب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ آپ کہئے تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو ہم مسلمان ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں نہیں جاگزیں ہوا ہے۔ اللہ اور اس کا رسول تمہارے اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کریں گے۔ اللہ مغفرت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ (الحجرات 49 : 14 )
احسان سے مراد بہترین کردار ہے۔ احسان مشتق ہے سہ حرفی لفظ ح۔س۔ن۔ سے جس کا لغوی معنی حسن ہے۔ عربی میں حسن کے لئے دو الفاظ ہیں جمال اور حسن۔ جمال سے مراد حسن کی ایک مخصوص قسم ہے جبکہ احسان کئی اقسام کے لئے مستعمل ہے۔ غرضیکہ احسان سے مراد باطنی حسن ہے جو متعدد اقسام کو محیط ہے۔ اس میں عبارت کی حسن ادائیگی بھی شامل ہے۔ باطنی حسن ایک اہم صفت ہے جس کا تعلق خیر سے ہے۔ اس سے مراد دوسروں سے حسن سلوک بھی ہے۔ اللہ ایسے افراد کو محبوب رکھتا ہے جو دوسروں کے ساتھ نیکی کا برتاؤ ممکنہ حد تک کرتے ہیں۔ اللہ کا قول ہے:
اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (البقرہ 195 : 2 )۔
مراسم اسلامی کے باطنی معنی
اسلام، ایمان اور احسان کے تقاضے غیر منطقی نہیں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے مخصوص، باطنی معنی ہیں اور یہ تینوں ایک دوسرے کا تکملہ کرتے ہیں۔ اللہ نے انسان کو مشغول رکھنے کے لئے ان کو مرتب کیا ہے۔ ان پر عمل درآمد کی بدولت انسان کی روحانی قلب ماہیت ہوتی ہے۔
قرآن کی رو سے ہر شخص جسم کا مالک ہونے کےساتھ ساتھ اپنی مخصوص انفرادی روح کا بھی حامل ہے جس کی انا اور شعور بھی ہوتے ہیں۔ ہر انسان اس روح اللہ سے بھی سرفراز ہے جس کو اللہ نے آدم کے قالب میں پھونکا تھا (السجدہ 32 : 9)۔ روح کی بعض صفات ہیں مثلاً عقل، مرضی، احساس، قوت گویائی، تخیل اور حافظہ۔ ہر شخص کے جسم میں قلب واقع ہے جو دوران خون کا اہتمام کرتا ہے اس کے علاوہ انسان ایک روحانی قلب کا بھی مالک ہے جس سے وہ روحانی حقائق کا ادراک کرتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
کیا انھوں نے زمین کی سیر نہیں کی؟ اگر ان کے دل ہوتے ہیں جن سے وہ سمجھتے یا کان ہوتے جن سے وہ سنتے۔ کچھ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن وہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔ (الحج 46 : 22 )۔
(۱) شہادتین سے مراد اللہ کا اقرار ہے۔ یہ شہادتیں انسان کی مرضی اور عقل پر حاوی ہوجاتی ہیں اور اسے اللہ کی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ رسول اکرم ؐ کا قول ہے: ‘‘میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو اللہ کا بندہ اللہ کے پاس ان دونوں شہادتوں کے ساتھ حاضر ہو اور اس کے دل و دماغ میں اس باب میں کوئی شک و شبہ نہ ہو تو وہ جنت سے محروم نہیں رہے گا’’۔ (مسلم)۔
(۲) پنج وقتہ نماز کے باطنی معنی تعلق باللہ ہے۔ نماز انسان کے جسم، حرکات، قوت گویائی، تخیل اور حافظے کے ذریعے انسان کو اللہ کی جانب متوجہ کرتی ہے بالخصوص دوران نماز میں تلاوت قرآن کے ذریعے۔ رسول اکرم ؐ کا قول ہے : ‘‘نماز مذہب کی بنیاد ہے اور جو کوئی نماز ترک کرتا ہے وہ اپنے دین کو تباہ کردیتا ہے’’۔ (بخاری اور مسلم)۔ نماز کا لازمی جزو وضو ہے جو کہ نماز کی ادائیگی سے قبل کیا جاتا ہے۔ وضو اعضاء کی طہارت کے ذریعہ انسان کو اللہ کی جانب متوجہ کرتا ہے اور اس کی انا اور ماقبل کے گناہوں سے منقطع کردیتا ہے اور انسان کے ضمیر کو اللہ سے منسلک کردیتا ہے۔ رسول اکرم ؐ نے فرمایا: ‘‘طہارت نصف ایمان ہے’’۔ (مسلم)۔
(۳) زکوٰۃ کے باطنی معنی دنیا سے بے تعلقی ہے اور اس کا تعلق انسان کے احساسات اور جذبات سے ہے۔ نبی اکرم ؐ کا قول ہے : "نصف کھجور بھی خیرات کرکے اپنے آپ کو دوزخ سے محفوظ رکھو”۔ (بخاری)۔
(۴) ہر سال ماہ رمضان میں روزے رکھنے کا مقصود بھی ترک لذات ہے اور اس کا تعلق بدن اور انا سے ہے۔ حدیث قدسی میں اللہ فرماتا ہے۔ (حدیث قدسی میں اللہ متکلم ہوتا ہے اور رسول اللہ کے ذریعہ اس کی ترسیل ہوتی ہے): ‘‘انسان کے تمام افعال اس کے اپنے لئے ہیں۔ البتہ روزہ صرف میرے لئے ہے اور میں اس کو اس کا اجر دوں گا’’۔ (بخاری اور مسلم)۔
(۵) کعبہ، مکہ میں حج کرنے کے باطنی معنی اپنے روحانی قلب اور اللہ کی جانب مراجعت ہے کعبہ مکہ کے وسط میں سیاہ پردے میں مستور مربع عمارت ہے۔ حدیث کی رو سے یہ بیت اللہ ہے(مسلم)۔ یہ روئے زمین پر سب سے پہلی عبادت گاہ تھی (آل عمران 96 : 3)۔ ملائکہ اور آدم نے یہاں حج ادا کیا (بیہقی، سنن الکبری)۔ بعد میں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام نے اس کی دیواروں کو بلند کیا (البقرہ 127 : 2 )۔ یہ روحانی قلب کی کائنات اصغر کی علامت ہے۔ غالباً اسی باعث نبی اکرم ؐ نے فرمایا : ‘‘مقبول حج کا صلہ صرف جنت ہے’’۔ (بخاری اور مسلم)۔
جہاں تک ایمان کا تعلق ہے یہ انسان کے قلب میں پیوست ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا قرآنی اقتباس میں ایمان کے دل میں داخل ہونے کا ذکر ہے (الحجرات 49 : 14 )۔ ایمان روح کو بہتر اور برتر بناتا ہے۔ نبی اکرم ؐ کا قول ہے : ‘‘مومن پسندیدہ شخص ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا اس کا مطلب ہے کہ اس میں خود خیر نہیں اور اسی باعث دوسرے بھی اسے پسند نہیں کرتے’’۔ (احمد)۔
۵۰ سے زائد مقامات پر قرآن میں ‘‘یا ایھا الذین آمنوا’’ (اے لوگو جو ایمان لائے) اور ‘‘و عملوا الصالحٰت’’ (جو نیک عمل کرتے ہیں) دونوں فقرے متصل آ ئے ہیں بالفاظ دیگر ایمان کی بدولت روح میں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ یہی ایمان کے باطنی معنی ہیں۔ نبی اکرم ؐ کی ایمان کی تعریف حفاظت سے عبارت ہے۔ آپ ؐ کا قول ہے : ‘‘مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و مال کو محفوظ سمجھیں’’۔ (نسائی، احمد، ابن ماجہ، المستدرک للحاکم)۔
احسان کے باطنی معنی اللہ کی عبادت اس طور پر کرنا ہے کہ گویا انسان اللہ کو دیکھ رہا ہو۔ یہ مکمل روحانی تبدیلی ہے۔ اللہ فرماتا ہے : ‘‘دین کے معاملے میں اس سے احسن کون ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردےاور محسن ہو’’۔ (النساء 125 : 4)
مختصراً، اسلام، ایمان اور احسان کے مراسم اور تقاضے انتہائی احتیاط کے ساتھ جمائے ہوئے معمّے کے اجزاء کی مانند ہیں جن میں سے ہر ایک جزو کی اپنی اہمیت ہے ۔ان اجزاء کو یکجا کرنے پر جسم اور روح سے متشکل انسان کی ایک ایسی مکمل تصویر ابھرتی ہے جو مکمل روحانی اور اخلاقی تبدیلی کے بعد ہی ممکن ہے۔
اسلام انسانوں کے لئے ہے اور انسان فی نفسہٖ منفرد اشخاص ہوتے ہیں۔ اسلام انسان کی اصل فطرت سے ہم آہنگ ہے اسی لئے یہ زماں اور مکاں سے ماورا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام میں مذہبی طبقے اور ذات پات کا کوئی مقام نہیں اور اسلام کسی مخصوص ملک، قوم یا نسل تک محدود نہیں۔ یہ لوگوں کی فلاح کا طالب ہے اس سے قطع نظر کہ وہاں کہاں کے باشندے ہیں یا ان کا تعلق کس دور سے ہے۔
قرآن میں وادی طوی میں اللہ کے موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہونے کا تذکرہ ہے:
میں جو ہوں اللہ ہوں۔ کسی کی بندگی نہیں سوا میرے۔ سو میری بندگی کر اور نماز قائم رکھ میری یاد کے لئے۔ (طٰہٰ 14 : 20 )
مذکورہ بالا آیت روح اسلام کی عکاس ہے۔ اس میں اسلام، ایمان اور احسان کے تقاضوں اور مراسم کا بخوبی ذکر ہے۔ ‘‘میرے سوا کسی کی بندگی نہیں’’ توحید الٰہی کا بیان ہے۔ توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو جو یہ ہدایت دی وہ دونوں شہادتوں کے مترادف ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں اور محمد ؐ اللہ کے رسول ہیں۔
‘‘میں جو ہوں اللہ ہوں’’ اس میں تاکید حقیقی معبود پر ہے۔ ایمان صرف اللہ پر ہونا چاہئے۔ قرآن کی اس آیت کا مفہوم بائبل میں بھی ہے کہ اللہ کے رسولوں، کتابوں اور فرشتوں پر ایمان ہونا چاہئے۔ یہ نکتہ دلچسپ ہے کہ صرف اللہ ہی اپنے وجود کا مطلق اثبات کرسکتا ہے۔ کیونکہ انسان اور دیگر مخلوقات فانی ہیں، مبدل ہیں اور ہمیشہ باقی نہیں رہیں گی۔ اسی میں یوم آخرت اور تقدیر الٰہی پر ایمان بھی مضمر ہے۔
‘‘سو میری بندگی کرو’’: اس سے مراد اسلام کے مندرجہ ذیل ۴ ارکان ہیں: نماز، زکواۃ، روزہ اور حج۔ یہ سب عبادت کے مظاہر ہیں۔
‘‘نماز قائم رکھ میری یاد کے لئے’’: یہاں ذکر احسان کا ہے۔ اللہ کی عبادت ایسے کی جائے گویا انسان اللہ کو دیکھ رہا ہو۔ اس میں اسلام کے دوسرے رکن نماز کی تاکید ہے۔
غرضیکہ اس مختصر آیت قرآنی میں اسلام، ایمان اور احسان کے تمام مطالبات کا تذکرہ ہے۔ اس سے مذہب اسلام کی سادگی کا بھی علم ہوتا ہے۔
موسیٰ علیہ السلام کو مخاطب اس آیت میں ایک اور اہم نکتہ پنہاں ہے۔ یہ اعلان ہے کہ اسلام کوئی نیا مذہب نہیں ہے۔ اسلام نے نئے مذہب ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کیا ہے۔ قرآن میں اللہ محمد ؐ کومخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس حکم کے ساتھ کی سوائے میرے کسی کی بندگی نہیں۔ سو میری بندگی کرو۔ (الانبیاء 21 : 25 )۔
اسلام ابراہیمی اسوۂ توحید کی تکرار ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سپرد کردیا تھا۔ یہی اسوہ سب ہی انبیاء کا تھا۔ غرضیکہ اصطلاح ‘‘مسلم’’ کے یہی معنی ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ فرماتا ہے:
ابراہیم نہ یہودی تھا نہ نصرانی۔ وہ حنیف تھا یعنی سب جھوٹے مذہبوں سے بیزار اور حکم بردار۔ وہ مشرک نہ تھا۔ (آل عمران 67 : 3 )۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمان اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر ان کی اصل شکل میں ایمان رکھتے ہیں:
کہئے: ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو کچھ اترا ہم پر اور جو کچھ اترا ابراہیم پر اور اسماعیل پر اور اسحاق پر اور یعقوب پر اور اس کی اولاد پر۔ اور جو ملا موسیٰ اور عیسیٰ کو اور جو ملا سب نبیوں کو ان کے پروردگار کی جانب سے۔ ہم ان میں کسی سے فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ اور جو کوئی چاہے دین اسلام کے سوا کوئی اور دین تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں خسارے میں ہوگا۔ (آل عمران 84-85 : 3 )۔
ایک لحاظ سے اسلام خصوصی مذہب ہے کیونکہ اللہ کا اعلان ہے: ‘‘اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے’’ (آل عمران 19 : 3 )۔ لیکن ایک دوسرے اعتبار سے یہ آفاقی مذہب ہے جو ایمان کے ساتھ اسلام پر عمل پیرا ہیں ان کے لئے اجر ہے۔ قطع نظر اس سے کہ لوگ اس باب میں کیا کہتے ہوں:
نہ تمہاری امیدوں پر مدار ہے نہ اہل کتاب کی امیدوں پر جوکوئی برا کام کرے گا اس کی سزا پائے گا اور اللہ کے سوا کوئی اور حمایتی اور کوئی مددگار نہ پائے گا، اور جو کوئی اچھے کام کرے، خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان رکھتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور اس کا حق تِل بھر بھی ضائع نہ ہوگا۔ (النساء 123-124 : 4 )۔

ان سب کا علم کیوں ضروری ہے؟
متعدد اہم وجوہ کے باعث ان سب کا علم ضروری ہے:
۱۔ اسلام کی اصل مذکورہ بالا صفحات میں بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب کا مقصد اسلام کی وضاحت ہے تاکہ ہر ایک کو یہ علم ہو کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کا مذہب کیا ہے۔
۲۔ اسلام کسی قومی ریاست کا نام نہیں۔ یہ بعض ممالک کے مجموعے کا نام بھی نہیں۔ یہ دنیا کے کسی خطے میں محدود نہیں ہے۔ بیسویں صدی تک کی تاریخ عالم میں مسلمان وہ واحد ملت ہیں جو نسل کی بنیاد پر کوئی تعصب نہیں روا رکھتے کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا قول ہے:
اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور عورت سے بنایا اور تمہاری ذاتیں اور قبیلے بنائے تاکہ آپس میں پہچان ہو۔ اللہ کے ہاں اسی کی بڑی عزت ہے جو تقویٰ میں بڑا ہو۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے۔ (الحجرات 49 : 13 )
مزید برآں، نبی اکرم ؐ کا قول ہے (غالباً تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی نے ایسے اصول کا اعلان کیا):
اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے تمہارے جد (آدم) ایک ہے۔ کوئی عرب کسی عجمی پر فوقیت نہیں رکھتا اور نہ کوئی عجمی کسی عرب سے برتر ہے۔ کوئی گورا شخص کسی کالے شخص سے فائق نہیں اور کوئی کالا کسی گورے سے بہتر نہیں۔ برتری صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ (احمد)۔
غرضیکہ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو رنگ، نسل، قومیت اور علاقے کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں کرتا۔ اسلام کسی خطے میں محدود نہیں اور یہ مرور زمانہ کے ساتھ ازکار رفتہ نہیں ہوتا۔ سائنس اس کی تردید نہیں کرتی۔ ٹیکنولوجی کے باعث یہ متروک نہیں ہوتا۔ یہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ہے۔
۳۔ اسلام کی فہم آسان ہے۔ کوئی بھی شخص اسے بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ یہ ساتویں صدی عرب کے چند معروف مراسم کا نام نہیں، بلکہ یہ بنی نوع انسان کے لئے ایک جامع اور مکمل لائحہ عمل ہے جو ان کی جسمانی، اخلاقی اور روحانی ضروریات کی کفایت کرتا ہے۔ اس کا مخاطب ہر شخص ہے اور یہ ہر ایک کی ہدایت کے لئے ہے۔ یہ انسان کے قلب اور روح کی بھی ہدایت کرتا ہے تاکہ وہ اللہ کی جانب متوجہ ہو۔ ہدایت کا یہ عمل اس دنیا میں فوری طور پر دستیاب ہے۔
۴۔ اسلام مغفرت اور نجات کا پروانہ ہے۔ رسول اکرم ؐ کا قول ہے :‘‘جو شخص اللہ کی رضا کے لئے لا الٰہ الّا اللہ کہہ دے اللہ اس کے لئے دوزخ حرام قرار دیتا ہے’’۔(بخاری)۔ اگر انسان اس کلمہ کو اخلاص کے ساتھ ادا کرے تو اس کے گزشتہ گناہ اس کی نجات میں حائل نہیں ہوں گے۔ غرضیکہ ایک منطقی دینی حقیقت کا اثبات مطلوب ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرسکتے ہیں خواہ ہمارے افعال کا دوسروں پر کیا اثر پڑے۔ نجات کا یہ تصور صحیح نہیں ہے۔ اسلام میں عالم تزکیہ کا تصور نہیں ہے بلکہ یہ تصور ملتا ہے کہ اہل ایمان کو اپنے ان کبیرہ گناہوں کی سزا بھگتنی پڑے کی جن کے لئے انھوں نے توبہ یا کفارہ نہیں ادا کیا۔ مغفرت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ رضا سے مراد ہے کہ انسان ایمان میں مخلص ہو۔ اس اخلاص کے کچھ تقاضے ہیں جن سے انسان کی اخلاقی اور روحانی نشو و نما ہوتی ہے۔ مسلمان کی روح قلب ماہیت ہوجاتی ہے اور وہ اپنی زندگی اپنے آپ کو بہتر بنانے میں صرف کرتا ہے۔ قرآن میں موسیٰ علیہ السلام کا قول درج ہے:
موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں تک میں جب تک پہنچ نہ جاؤں گا میں نہیں ہٹوں گا خواہ اس کے لئے مجھے قرنوں چلنا پڑے۔ (الکھف 60 : 18)۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: