اسلامیات

اسلام کا تصورِ جہاد قرآن وحدیث کی روشنی میں!

(۱) شمع فروزاں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

جہاد ایک مقدس اصطلاح ہے، جس کا مقصد انصاف قائم کرنا، اپنی خواہشات پر قابو رکھنا اور ظلم کو روکنا ہے؛ اسی لئے ہر مذہب میں اس کی ترغیب دی گئی ہے؛ لیکن اہل مغرب کی طرف سے پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ جہاد کے معنیٰ مارکاٹ کے ہیں، اس کا مقصد غیر مسلموں کو یا تو زور زبردستی سے مسلمان بنانا ہے، یا دنیا کو ان کے وجود سے خالی کردینا ہے، یہی غلط فہمی یوروپ میں اسلاموفوبیا کا سبب بنی ہے، اور ہندوستان کے بہ شمول مشرقی ملکوں میں بھی اسی پروپیگنڈہ کے ذریعہ اسلام اور مسلمان کے خلاف نفرت کی آگ سلگائی گئی ہے؛ اس لئے اس مسئلہ کو صحیح طور پر سمجھنے اور حقیقت تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔
اسلام نے جہاد کا جو تصور دیا ہے، اس کو سمجھنے کے لئے چار نکات پر غور کرنے کی ضرورت ہے، اول یہ کہ جہاد کے معنیٰ کیا ہیں؟ دوسرے: جہاد کی قسمیں کیا ہیں؟ جن کا قرآن وحدیث میں ذکر آیا ہے، تیسرے: جہاد کا مقصد کیا ہے؟ کیا جہاد کفر کو مٹانے کے لئے ہے؟ یا فتنہ وفساد کا خاتمہ کرنے کے لئے ہے، چوتھے:اسلام نے کن لوگوں سے جہاد کا حکم دیا ہے؟ ان نکات کو سمجھنے کے لئے ہمیں براہ راست قرآن وحدیث سے رجوع کرنا چاہئے؛ کیوں کہ قرآن وحدیث ہی دین کا اصل ماخذ ہے، نیز ان چار نکات پر گفتگو کرنے کے بعد ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کیا جہاد کی تعلیم صرف اسلام نے دی ہے، یا دوسرے مذاہب میں بھی دی گئی ہے؟
جہاں تک جہاد کی حقیقت ہے تو یہ عربی زبان کے لفظ”جہد“ سے ماخوذ ہے، جس کو ج کے زبر اور ج کے پیش کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، اس کے معنیٰ طاقت اور مشقت کے ہیں، (مفردات القرآن:۸۰۲) بعض لوگوں نے یہ فرق کیا ہے کہ اگر ج کے زبر کے ساتھ پڑھا جائے تو طاقت کے معنیٰ ہیں، اور پیش کے ساتھ پڑھا جائے تو مشقت کے معنیٰ ہیں، (الملخص: ۴/۹۵، مختارالصحاح:۳۶) اس مادہ سے عربی زبان میں کئی الفاظ ماخوذ ہیں، مجاہدہ، جہاد اور اجتہاد، وغیرہ، مجاہدہ کے معنیٰ عمل میں ہونے والی مشقت کو برداشت کرنا ہے، جہاد کے معنیٰ ظالم کو ظلم سے روکنے کی طاقت بھر کوشش کرنا ہے، اور اجتہاد کے معنیٰ قرآن وحدیث سے احکام شرعیہ کے استنباط میں آخری درجہ کی محنت کرنا ہے، غور کیا جائے تو ان تمام الفاظ میں دو باتیں ضرور پائی جاتی ہیں: ایک:بھر پور کوشش، دوسرے: مشقت برداشت کرنا؛ کیوں کہ جب کسی چیز کی بھرپور سعی کی جاتی ہے تو اس میں جسمانی، ذہنی یا مالی مشقت سے انسان کو گزرنا ہی پڑتا ہے؛ اسی لئے جہاد کی تعریف کرتے ہوئے اہل لغت نے تلوار اور قوت کے استعمال کو اس کا ضروری حصہ قرار نہیں دیا ہے؛ بلکہ پوری طاقت لگا کر اعداء حق کو روکنا، چاہے یہ روکنا زبان کے ذریعہ ہو یا فعل کے ذریعہ، دونوں کو جہاد سے تعبیر کیا گیا ہے؛ چنانچہ عربی لغت کے مانے ہوئے امام علامہ ابن منظور افریقیؒ فرماتے ہیں:
الجھاد محاربۃ الأعداء، وھو المبالغۃ واستفراغ ما فی الوسع من الطاقۃ من قول أو فعل (لسان العرب: ۳/۵۱۱)
جہاد کے معنیٰ دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے ہیں، اور وہ اس طرح کہ اپنی وسعت اور طاقت بھر زبان یا عمل کے زریعہ اس کی کوشش کی جائے۔
عربی لغت کی ایک دوسری بہت ہی معتبر شخصیت علامہ مرتضی زبیدیؒ نے بھی بالکل ان ہی الفاظ میں جہاد کی تشریح کی ہے (تاج العروس: ۷/۷۳۵)معلوم ہوا کہ عربی زبان میں یہ لفظ لڑنے جھگڑنے، قتل وغارت گری مچانے اور مار کاٹ کرنے کے معنیٰ میں نہیں ہے؛ بلکہ اس سے مراد کسی بھی بہتر مقصد کو حاصل کرنے کے لئے طاقت بھر کوشش اور اس سلسلہ میں پیش آنے والی مشقتوں کو برداشت کرنے اور اس پر صبر سے کام لینے کے ہیں۔
قرآن وحدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کی مختلف قسمیں ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
(۱) مال کے ذریعہ جہاد، خود قرآن مجید میں متعدد مواقع پر مسلمانوں کو اس کی ترغیب دی گئی ہے، اور مال سے جہاد کرنے والوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے؛ چنانچہ ارشاد ہے:
لکن الرسول والذین اٰمنوا معہ جاھدوا بأموالھم وأنفسھم وأولئک لھم الخیرات وأولئک ھم المفلحون (التوبہ: ۸۸)
رسول اور جو لوگ رسول کے ساتھ ایمان لائے، وہ اپنے مال سے بھی جہاد کرتے ہیں اور جان سے بھی، یہی لوگ ہیں جن کے لئے بھلائیاں ہیں اور یہی ہیں کامیاب لوگ۔
قرآن مجید میں متعدد مواقع پر جہاد بالمال کا ذکر کیا گیا ہے، (دیکھئے، النساء: ۵۹، الانفال:۲۷، التوبہ: ۰۲، التوبہ۸۸)اسی طرح حدیث میں بھی جہاد بالمال کی ترغیب دی گئی ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جاھدوا المشرکین بأموالکم وأیدیکم وألسنتکم (نسائی، حدیث نمبر: ۶۹۰۳، نیز دیکھئے: مسند احمد، حدیث نمبر: ۵۵۵۲۱)
مشرکین سے مال کے ذریعہ ہاتھ کے ذریعہ اور زبان کے ذریعہ جہاد کرو۔
مال کے ذریعہ جہاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دعوتِ حق کی اشاعت اور ظلم کو روکنے میں پیسوں کا استعمال کیا جائے، جہاں جنگ کا موقع ہو، وہاں جنگ کے آلات ووسائل میں پیسے خرچ کئے جائیں، اور جہاں جنگ کا موقع نہ ہو، وہاں ظالم کے ظلم کو روکنے اور مظلوم کی مدد کرنے کے لئے جو مالی وسائل مطلوب ہیں، وہ فراہم کئے جائیں،جیسے: موجودہ زمانہ میں زیادہ تر وسائلِ ابلاغ پر ظالم قوتوں کا غلبہ ہے، اسرائیل فلسطینیوں کے مکانات زمیں بوس کر دے، مغربی قومیں بغیر کسی سبب کے آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو تہ تیغ کر دیں، تو اس ظلم وبربریت کو وسائل ابلاغ نہیں دکھاتے؛ لیکن اگر فلسطین کے مجبور اور نہتے لوگوں نے دو چار پتھر پھینک دیے تو اس کو دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے، یہی صورت حال برما کی ہے، اور کچھ فرق کے ساتھ اسی صورت حال سے ہندوستان کے مسلمان گزر رہے ہیں، ایسے مواقع پر ذرائع ابلاغ تک رسائی حاصل کرنے یا غیر جانبدار راست گو اور انصاف پسند ذریعہئ ابلاغ کو وجود میں لانے کے لئے پیسے خرچ کرنا یقینی طور پر”جہاد بالمال“ کی ایک شکل ہے، اسی طرح ہمارے ملک میں پولیس کے شعبہ میں فرقہ پرست عناصر کا غلبہ ہوگیا ہے، وہ بے قصور مسلمانوں اور دلتوں کو گرفتار کرتے ہیں، ان پر قانون کی خطرناک دفعات عائد کر دیتے ہیں، ایسے مظلوموں کے لئے قانونی چارہ جوئی میں خرچ کرنا بھی جہاد بالمال کی ایک شکل ہے، موجودہ دور میں کسی فکر کی اشاعت کے لئے کافی سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے؛ تاکہ لٹریچر شائع کئے جائیں، غیر مسلموں کے لئے دعوتی پروگرام رکھے جائیں، دعوتی نقطہئ نظر سے خدمتِ خلق کا کام کیا جائے، ان سب کے لئے کثیر سرمایہ مطلوب ہوتا ہے، یہ سب ”جہاد بالاموال“ کی مختلف صورتیں ہیں، اور آج کے دور میں اسلام کی نشرواشاعت، اسلام کے بارے میں پیدا کی گئی غلط فہمیوں کے ازالہ اور نا انصافیوں کے مقابلہ کے لئے اس کی بڑی اہمیت ہے۔
(۲) جہاد کی دوسری قسم ”جہاد باللسان“ یعنی زبان کے ذریعہ جہاد ہے، قرآن مجید میں صراحتاََ تو اس کا ذکر نہیں آیا ہے؛ لیکن مسلمانوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے، اوراس کو ان کا فریضہ قرار دیا گیا ہے، یہ دراصل جہاد باللسان ہی ہے؛ البتہ حدیث میں صراحتاََ جہاد باللسان (زبان سے جہاد) کی تعبیر استعمال کی گئی ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جاھدوا المشرکین بألسنتکم (مسند احمد، حدیث نمبر: ۵۵۵۲۱)
مشرکین سے زبان کے ذریعہ جہاد کرو۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی روایت سنن نسائی میں بھی نقل کی گئی ہے (دیکھئے: حدیث نمبر: ۶۹۰۳) زبان سے جہاد کا مطلب یہ ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی جائے، غلط پروپیگنڈوں کا مقابلہ کیا جائے، ناروا اعتراضات کا جواب دیا جائے، اور زبان کے ذریعہ اسلام کی دعوت واشاعت کی خدمت انجام دی جائے، حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اس زمانہ کے شعراء میں تھے اور اشعار کے ذریعہ اسلام کا دفاع کرتے تھے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ شعر گوئی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا:
إن المؤمن یجاھد بسیفہ ولسانہ، والذي نفسي بیدہ لکأنما تنضحونھم بالنبل (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر: ۷۹۷۴)
بے شک مؤمن تلوار سے بھی جہاد کرتا ہے اور زبان سے بھی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (جب تم اسلام کی حمایت میں شعر کہتے ہو) تو گویا تم ان پر تیر برساتے ہو۔
یعنی تیر جو اس زمانہ کا سب سے مؤثر اور طاقتور ہتھیار سمجھا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعر کے ذریعہ حق کی ترجمانی کرنے اور باطل کے خلاف آواز بلند کرنے کو اسی کے حکم میں رکھا، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جہاد باللسان جہاد کی کتنی اہم قسم ہے؛ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر جہاد کی اس صورت کو افضل ترین جہاد قرار دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ظالم حکمراں کے سامنے حق بات کہنا جہاد کی سب سے افضل صورت ہے:
أفضل الجھاد کلمۃ حق عند سلطان جائر (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر: ۱۸۰۸)
قلم بھی زبان کے قائم مقام ہے، جیسے زبان کے ذریعہ کسی نقطہئ نظر کا اظہار کیا جاتا ہے، اور مخاطب تک اپنی بات پہنچائی جاتی ہے، اسی طرح قلم کے ذریعہ دور دور تک اپنی بات پہنچائی جا سکتی ہے، جن لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالمشافہ دعوت دے سکتے تھے، ان کو حسب موقع آپ نے انفرادی یا اجتماعی طور پر اسلام کی دعوت دی، اور جو لوگ کافی فا صلہ پر تھے، اور جن کو بالمشافہ دعوت نہیں دی جا سکتی تھی، ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطوط کے ذریعہ دعوت دی؛ اس لئے مضامین، رسائل، پمفلٹس اور کتابوں کے ذریعہ دین کی دعوت دینا یا الکٹرانک ذرائع سے دور دور تک اس مقصد کے لئے اپنی آواز اور اپنی تحریر کو پہنچانا بھی موجودہ وسائل کے اعتبار سے جہاد باللسان میں شامل ہے، اور حدیث کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حالت امن میں یہ جہاد کی سب سے افضل صورت ہے، بالخصوص اُس وقت جب کہ سچائی کے اظہار اور دین حق کی دعوت پیش کرنے میں لوگوں کی مخالفت کا بھی اندیشہ ہو؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ (الحج: ۸۷)
اللہ کے راستہ میں ایسا جہاد کرو کہ جہاد کا حق اد ہو جائے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا:
لا تخافوا فی اللہ لومۃ لائم، فھو حق الجھاد کما تجاھدون فی سبیل اللہ ولا تخافون لومۃ لائم (تفسیر خازن:۳/۶۶۲)
اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو، یہی جہاد کا حق ادا کرنا ہے، جیسا کہ اللہ کے راستہ میں (تلوار سے) جہاد کرتے ہو اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کرتے۔ (جاری)

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: